کشمیر کہانی۔۔۔۔رؤف کلاسرا/2

نہرو نے سوچا بھی نہ تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن اس طرح کا منصوبہ بنا کر بیٹھا ہے جس کے مطابق وہ ہندوستان میں دو نہیں بلکہ درجن بھر آزاد ملک چھوڑ کر جانا چاہتا تھا۔

اس پلان کے تحت لارڈ مائونٹ بیٹن نے طے کیا ہوا کہ پاکستان کے علاوہ بنگال بھی آزاد ملک بنے گا۔ نہرو یہ سوچ کر ہی کانپ گیا کہ وہ بھارت جس کی آزادی کے لیے سب لڑتے رہے تھے اس کا اہم علاقہ ایک آزاد ملک بنے گا؟ بنگال‘ جو ہندوستان کا دل تھا‘ ہمیشہ کے لیے اس کے سینے میں ایک آزاد ملک بن کر پیوست رہے گا۔ بنگال کوکھونا وہ کیسے افورڈ کر سکتے تھے؟ کلکتہ ایک تاریخی ساحلی شہر اور اس کے کارخانے، ملیں، سٹیل ورکرز سب کچھ ہندوستان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پھر کشمیر، جہاں وہ پیدا ہوا تھا وہ اب آزاد ریاست کے طور پر ہندوستان کے ایک کونے میں جنم لے گا اور اس پر ہری سنگھ جیسا راجہ راج کرے گا جس سے وہ نفرت کرتا تھا۔ اور اس سے بڑھ کر لارڈ مائونٹ بیٹن کے پلان میں یہ بھی شامل تھا کہ ہندوستان کے دل میں حیدر آباد دکن کی شکل میں ایک آزاد مسلمان ریاست بنائی جائے گی۔ ان کے علاوہ اس پلان میں چند اور بھی شاہی ریاستیں شامل تھیں جنہیں لارڈ مائونٹ بیٹن پلان کے تحت آزادی ملنا تھی۔
نہرو کو سمجھ آ رہی تھی کہ انگریز جان بوجھ کر ہندوستان کو درجنوں نئے ملکوں میں بانٹ رہے تھے تاکہ وہ کبھی ایک طاقتور ملک کے طور پر نہ ابھر سکے‘ ہمیشہ یہ چھوٹے موٹے ملک آپس میں لڑتے رہیں اور کمزور رہیں۔ انگریزوں نے ہندوستان کو تین سو سال تک ”تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کے اصول پر چلایا تھا‘ اور اب ہندوستان کو چھوڑنے سے پہلے کمزور کرکے جارہے تھے۔ اب انگریزوں کا نیا منصوبہ تھا ”بانٹو اور چھوڑ دو‘‘۔
نہرو نے اپنے ہاتھ میں مائونٹ بیٹن کا دیا ہوا مسودہ پکڑا اور اپنے قریبی معتمد خاص کرشنا مینن کے بیڈ روم میں گیا‘ جو اس کے ساتھ شملہ گیا ہوا تھا۔ انتہائی غصے کی حالت میں نہرو نے وہ مسودہ اس کے بستر پر پھینکا اور بولا ”سب کچھ ختم ہو چکا ہے‘‘۔
لارڈ مائونٹ بیٹن کو اپنے دوست نہرو کے اس سخت ردعمل کا اندازہ اگلی صبح ہوا جب اسے ایک خط ملا جو نہرو نے اسے لکھا تھا۔ اس خط کو پڑھ کر لارڈ مائونٹ بیٹن کو یوں لگا جیسے اس پر کسی نے بم دے مارا ہو۔ وہ یہ توقع رکھے پوری رات سکون سے سوتا رہا تھا کہ اس نے نہرو کو جو پلان پڑھنے کو دیا تھا وہ نہرو کو پسند آئے گا اور نہرو جا کر کانگریس کو بھی اس پلان پر قائل کر لے گا اور یوں وہ یعنی لارڈ مائونٹ بیٹن‘ جسے لندن سے خصوصاً بھیجا گیا تھا کہ اس نے انیس سو اڑتالیس تک ہندوستان کو آزاد کرنے کا پلان منظور کرنا ہے‘ وہ کام جلدی نمٹا لے گا اور دوبارہ سمندری پانیوں میں لوٹ جائے گا۔ وہ کام جو اسے بہت پسند تھا۔ جب مائونٹ بیٹن نے وہ خط پڑھنا شروع کیا تو اسے یوں لگا کہ اس نے پچھلے چھ ہفتوں میں اپنے تئیں بڑی محنت اور عرق ریزی سے جو پلان تیار کیا تھا اور ایک ڈھانچہ بنایا تھا‘ نہرو نے ایک ہی ہلے میں اس کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اسے اپنی ساری محنت اکارت جاتی نظر آئی۔ نہرو نے انتہائی سخت الفاظ میں اس سارے پلان کو مسترد کر دیا تھا۔ نہرو نے لکھا تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن کے اس پلان نے نہ صرف اسے خوفزدہ کر دیا بلکہ اسے یقین ہے کہ اگر وہ کانگریس کے ساتھ یہ شیئر کرے تو وہ اس پلان کو اس سے بھی زیادہ برے طریقے سے مسترد کر دے گی۔
جب لارڈ مائونٹ بیٹن نے نہرو کا وہ خط ختم کیا تو اسے لگا کہ اس نے اب تک جو خود کو اور پوری دنیا کو یہ یقین دلایا ہوا تھا کہ اس کے پاس ہندوستان کی آزادی کا پلان ہے اور اگلے دس دنوں میں وہ سب کو اس پلان پر راضی کر لے گا، وہ سب غلط فہمی تھی۔ نہرو کے سنگین اعتراضات کے بعد مائونٹ بیٹن کو یوں لگا کہ جس پلان کو وہ دنیا کے سامنے لانا چاہتا تھا‘ اس کا تو کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ مائونٹ بیٹن یہ پلان برطانوی وزیراعظم ایٹلی کو بھیج چکا تھا‘ پوری کابینہ اس پلان پر اپنے اجلاس میں بحث کررہی تھی اور اس بارے میں مائونٹ بیٹن وزیراعظم کو بتا چکا تھا کہ وہ ہندوستانیوں کو اس پر راضی کر لے گا۔ اب اسے پتہ چلا کہ پورے ہندوستان کو چھوڑیں وہ تو محض کانگریس کو اس پلان پر راضی نہیں کرسکا تھا۔
تو کیا لارڈ مائونٹ بیٹن کو خود پر ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا کہ اس نے ہندوستان کی آزادی کا پلان بنایا، اسے لندن بھیج دیا اور نہرو کو کل رات اس کی کاپی دے کر رات کو سکون سے سو گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟ اس کا خیال تھا کہ وہ جس کام کے لیے ہندوستان بھیجا گیا تھا وہ مشن پورا ہو جائے گا اور وہ دوبارہ اپنی پرانی زندگی کی طرف لوٹ جائے گا۔ وہ اب تاریخ میں وائسرائے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے جنگ عظیم دوم کے بعد مسائل میں پھنسے برطانیہ کو ہندوستان سے بڑے آرام اور عزت کے ساتھ نکال لیا تھا؟ اس کا نام تاریخ میں عزت سے لکھا جائے گا؟ تو کیا خود پر زیادہ اعتماد لارڈ مائونٹ بیٹن کو لے ڈوبا تھا؟
لیکن لارڈ مائونٹ بیٹن ایک عام انسان نہ تھا جو نہرو کے اس سخت خط کے بعد شدید مایوسی کا شکار ہو جاتا اور کسی کیفے یا بار میں بیٹھ کر کڑھتا رہتا کہ اس کا چھ ہفتے کی محنت سے بنایا ہوا پلان مسترد ہو گیا ہے اور وہ اب برطانوی حکومت اور دنیا بھر کو کیا منہ دکھائے گا کیونکہ اس نے دس دن بعد یہی پلان سامنے لانا تھا جو مسترد ہو چکا تھا۔
لارڈ مائونٹ بیٹن نے مایوسی کا شکار ہونے کی بجائے سب سے پہلے خود کو مبارک باد دی کہ ایک دفعہ پھر اس کا وجدان درست نکلا تھا۔ اس نے سوچا‘ شکر ہے اس نے وہ مسودہ نہرو کو دے دیا کہ وہ پڑھ لے۔ اگر وہ یہ منصوبہ برطانوی حکومت سے منظوری کے بعد سامنے لاتا اور اس کو کانگریس مسترد کر دیتی تو یقینا اسے بہت پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا اور ایک نیا بحران پیدا ہو جاتا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے خود کو سنبھالا اور سوچنے لگ گیا کہ اب فوری طور پر اسے کیا کرنا چاہیے تاکہ جو نقصان ہو چکا تھا اس کا ازالہ کیا جا سکے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کو یہ تسلی تھی کہ اس بم شیل کے باوجود اس کی نہرو سے دوستی بچ جائے گی۔
لارڈ مائونٹ بیٹن نے فوراً ایک پیغام نہرو کو بھیجا کہ وہ فوری طور پر دلی واپس نہ جائے بلکہ ایک رات وہ مزید شملہ میں ٹھہر جائے۔ نہرو ایک رات مزید ٹھہرنے پر رضامند ہو گیا۔ طے ہوا تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن اور نہرو اکٹھے بیٹھ کر اس پلان پر غور کریں گے اور نئے سرے سے پلان بنے گا اور ان خامیوں کو نکالا جائے گا جن پر نہرو کو اعتراض تھا۔ اس نئے پلان کے تحت ہندوستان کی تمام ریاستوں اور صوبوں کو ایک ہی آپشن دیا جائے گا۔ پاکستان یا ہندوستان۔
نہرو اور لارڈ مائونٹ بیٹن اس رات اکٹھے ہوئے۔ دونوں کے درمیان شملہ میں طے ہوا کہ بنگال آزاد نہیں ہوگا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے اس وقت کہہ دیا تھا کہ جناح کے پاس جو دو علاقے یا ریاستیں جا رہی ہیں وہ زیادہ دیر تک پاکستان میں نہیں رہ سکیں گی۔ کچھ عرصے بعد مائونٹ بیٹن نے اپنے دوست راج گوپال کو کہا تھا کہ مشرقی بنگال پچیس سال کے اندر اندر پاکستان سے الگ ہو جائے گا۔ انیس سو اکہتر کی جنگ نے مائونٹ بیٹن کی اس پیش گوئی کو درست ثابت کر دیا تھا۔
ایک دفعہ جب لارڈ مائونٹ بیٹن نے طے کر لیا وہ اب نہرو کے پلان پر چلے گا تو انہوں نے ایک ایسے افسر کو اپنی سٹڈی میں بلایا جو اس پلان کو بیٹھ کر لکھے۔ اس کی ایسی کہانی تھی جس نے لارڈ مائونٹ بیٹن تک کو متاثر کیا تھا۔
وی پی مینن کون تھا؟ اس کے پاس نہ آکسفورڈ یا کیمبرج کی ڈگری تھی نہ ہی وہ انڈین سول سروس کا افسر تھا اور نہ ہی وہ سیاسی خاندان سے تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن جیسا بندہ اس سے متاثر ہوتا؟ اہم سوال یہ تھا کہ وی پی مینن کون تھا جو نئے وائسرائے ہند کا اعتماد جیت کر اب اس کے ساتھ بیٹھ کر شملہ میں ہندوستان کی تقسیم کا نیا پلان لکھ رہا تھا؟

وی پی مینن کی کہانی بہت مسحور کن ہے کہ کیسے ایک عام سا لڑکا وائسرائے ہند کا معتمد خاص بن گیا۔ یہ لڑکا جس عام سے خاندان میں پیدا ہوا‘ وہاں بارہ بہن بھائی تھے۔ جب وہ تیرہ برس کا ہوا تو اسے اپنا سکول چھوڑنا پڑا کیونکہ گھر کے حالات اجازت نہیں دیتے تھے۔ اب اسے تیرہ سال کی عمر میں ہی کمانے پر لگ جانا تھا۔ وہ سکول چھوڑ کر کنسٹرکشن مزدور لگ گیا۔ وہاں کام نہ بنا تو کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرنے لگا۔ پھر ایک فیکٹری میں نوکری تلاش کر لی۔ پھر ریلوے سٹیشن پر مزدوری کرنے لگا۔ وہاں بھی بات نہ بنی تو اس نے کاٹن بروکر بننے کا فیصلہ کیا۔ وہاں ناکام ہوا تو وہ سکول میں استاد لگ گیا۔ ان دنوں ٹائپ رائٹرز ٹیکنالوجی عام ہو رہی تھی‘ تو اس نے سوچا کیوں نہ وہ ٹائپ سیکھ لے کہ چند پیسے اس سے کما لے گا؛ تاہم وہ دس انگلیوں کی بجائے صرف دو انگلیوں سے ہی ٹائپ کرنا سیکھ سکا ۔ اور تو اور اس نے برسوں بعد شملہ میں وائسرائے کی سٹڈی میں بیٹھ کر ہندوستان کی تقسیم کا جو پلان ٹائپ کیا‘ وہ بھی دو انگلیوں سے کیا تھا۔ اسے انڈین انتظامیہ شملہ میں کلرک کی نوکری ملنے کی وجہ بھی یہ دو انگلیاں ہی تھیں‘ جن کی مدد سے وہ ٹائپ کرتا تھا۔
جب 1929ء میں اسے شملہ میں نوکری کا پروانہ ملا تھا تو وہ شملہ جانے کے لیے دہلی پہنچا۔ وہاں اس پر انکشاف ہوا کہ اس کے پاس کرائے اور دیگر اخراجات کے جو پیسے تھے وہ راستے میں کسی نے چرا لیے ہیں۔ وہ اب خالی جیب کھڑا تھا۔ نہ وہ شملہ جا سکتا تھا اور نہ ہی اپنے گھر واپس۔ نوجوان وی پی مینن کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے۔ اسی اثنا میں اس کی نظر ایک بزرگ سکھ پر پڑی۔ نوجوان مینن اس کے پاس گیا اور اپنی ساری کتھا اسے سنائی کہ اس کے ساتھ کیا ہاتھ ہو گیا تھا۔ شملہ میں اس کی نوکری کا سوال تھا۔ مینن نے سکھ بزرگ سے کہا کہ اگر وہ اسے پندرہ روپے قرضہ دے سکیں تو وہ شملہ جا کر تنخواہ سے واپس جس ایڈریس پر کہے گا وہاں بھجوا دے گا۔ اس بزرگ سکھ نے جیب سے پندرہ روپے نکالے اور مینن کو دے دیے۔ مینن نے ان سے ایڈریس پوچھا تو وہ سکھ بولا کہ نہیں‘ تم میرے ساتھ ایک وعدہ کرو‘ مرتے دم تک جب بھی کوئی ایماندار انسان تم سے مدد مانگے گا تم اس کی اسی طرح مدد کرو گے جیسے میں تمہاری کر رہا ہوں۔ یہ پیسے تم پر مرتے دم تک قرض ہیں جو تم نے لوٹاتے رہنا ہے۔
برسوں بعد جب وی پی مینن فوت ہوا تو اس سے چھ ہفتے پہلے اس کے بنگلور میں واقع گھر کے باہر ایک فقیر نے آواز لگائی، تو مینن نے اپنی بیٹی کو بلایا اور اسے کہا: میرا بٹوہ لائو۔ اپنے بٹوے سے اس نے پندرہ روپے نکالے اور بیٹی کو کہا: جائو فقیر کو دے آئو۔ وہ مرتے دم تک اپنا قرض واپس کرتا رہا تھا۔
ان پندرہ روپوں کی مدد سے شملہ پہنچ کر جس محنت اور ذہانت سے وی پی مینن نے نوکری میں عروج پایا وہ اپنی جگہ ایک ایسی کہانی اور ایسا واقعہ تھا جو اس سے پہلے کبھی سروس کی تاریخ میں نہیں ہوا تھا۔ جب ہندوستان اور پاکستان آزاد ہو رہے تھے اور انگریز یہاں سے بوریا بستر لپیٹ رہے تھے تو اس وقت وی پی مینن صرف اٹھارہ برس کی سروس کے بعد شملہ میں ریفارم کمشنر بن چکا تھا۔ یہ سب سے بڑا عہدہ تھا جس پر کسی انڈین کو لگایا گیا تھا۔ اس سے پہلے انگریز ہی اس عہدے کو سنبھالتے آئے تھے۔ اور وہ پہلا انڈین تھا جس نے نہ صرف لارڈ مائونٹ بیٹن کا اعتماد جیت لیا تھا بلکہ بڑی حد تک وائسرائے ہند کی شفقت اور مہربانی بھی جیت چکا تھا۔
وہی وی پی مینن اس وقت وائسرائے کے پاس موجود تھا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے وی پی کو کہا کہ نہرو سے ملاقات کے بعد اب آج رات اسے اس سارے پلان کو دوبارہ لکھنا ہو گا‘ جس کی بنیاد پر انڈیا کو آزادی ملے گی۔ وائسرائے نے اسے رات تک کا وقت دیا تھا جبکہ مینن اپنا کام سورج غروب ہونے سے پہلے مکمل کر چکا تھا۔ ایک تیرہ سال کے لڑکے نے‘ جس نے سکول چھوڑ کر مزدوری شروع کی تھی اور اپنا سروس کیریئر اس نے ٹائپنگ سے شروع کیا تھا، چھ گھنٹے دفتر میں بیٹھ کر پورا پلان ڈرافٹ کیا تھا۔ اس کے سامنے ہمالیہ کی پہاڑیاں تھیں جن پر وہ وقفے وقفے سے نظریں ڈال لیتا تھا۔ اسے احساس تھا کہ وہ ایک ایسا پلان ڈرافٹ کر رہا ہے جس نے دنیا کے نقشے کو بدل دینا ہے۔
جب سارا پلان سامنے آیا تو اس میں سے بنگال اور حیدر آباد دکن جیسی ریاستوں کو آزاد ملک بنانے کا پلان نکال دیا گیا تھا۔ طے پایا کہ ملک صرف دو بنیں گے۔ 565 ریاستوں اور راجوں کو ایک ہی آپشن دیا گیا کہ وہ پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کو جوائن کر لیں۔ پلان ڈرافٹ کرنے کے بعد وی پی مینن کا کام ختم نہیں ہوا تھا بلکہ دراصل شروع ہورہا تھا۔ نہرو، سردار پٹیل اور مینن اب لارڈ مائونٹ بیٹن کو ان ریاستوں کے راجوں مہاراجوں کو ہندوستان کے ساتھ ملانے کے لیے استعمال کررہے تھے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن دراصل سردار پٹیل کے ساتھ کیے ہوئے اس وعدے یا ڈیل کو نبھا رہا تھا کہ اسے ہندوستان کی باسکٹ میں سب پھل چاہئیں تھے۔ (اس ڈیل پر پھر لکھوں گا)۔ مطلب پٹیل کو ساری ریاستیں ہندوستان میں چاہئے تھیں۔
بہت سارے راجوں کے لیے ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے کی دستاویزات پر دستخط کرنا قیامت سے کم نہ تھا۔ سنٹرل انڈیا کے ایک راجے کے سامنے جب یہ دستاویزات رکھی گئیں اور اس نے جونہی دستخط کیے اس کے کچھ دیر بعد اس کا دل کام کرنا چھوڑ گیا۔ دھول پور کے رانا نے لارڈ مائونٹ بیٹن کو آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا: آپ کے انگریز آبائواجداد اور ہمارے آبائواجداد کے درمیان 1765ء میں جو الائنس ہوا تھا وہ آج ختم ہو رہا ہے۔ ایک اور راجہ‘ جس کی ساری زندگی گوروں کو ڈائمنڈ پیش کرتے گزری تھی، الحاق کی دستاویزات پر دستخط کرنے کے بعد وی پی مینن کے گلے لگ کر زاروقطار روتا رہا تھا۔ آٹھ راجوں نے اکٹھے پٹیالہ کے دربار ہال میں ایک عالی شان تقریب‘ جس کا اہتمام سر بھوپندر سنگھ نے کیا تھا‘ میں دستخط کیے۔ بعد میں ایک راجہ نے کہا: اس تقریب میں یوں لگتا تھا جیسے وہ سب شمشان گھاٹ آئے ہوئے ہیں۔
کچھ راجے مزاحمت کر رہے تھے۔ جوں جوں پندرہ اگست قریب آتی جا رہی تھی ان تینوں کا راجوں پر دبائو بھی بڑھ رہا تھا کہ وہ جلد فیصلہ کریں۔ جہاں کانگریس پارٹی موجود تھی ان ریاستوں میں سردار پٹیل نے اپنے ورکرز کو کہا کہ وہ مظاہرے شروع کریں تاکہ راجوں پر دبائو بڑھایا جائے۔ اوڑیسہ کے مہاراجہ کو ہجوم نے اپنے محل کے اندر محصور کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس وقت تک نہیں نکلنے دیا جائے گا جب تک وہ دستاویزات پر دستخط نہیں کرتا۔ ایک ریاست کے طاقتور وزیر اعظم کے منہ پر مظاہرین میں سے ایک نے چاقو مار دیا تھا۔ صدمے کے شکار وزیراعظم نے فوراً الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیے تھے۔ ان تمام حربوں کے باوجود چند ریاستیں ایسی تھیں جن کے راجے مہاراجے اور وزیر اعظم سردار پٹیل، لارڈ مائونٹ بیٹن اور وی پی مینن کا کھیل کھیلنے کو تیار نہیں تھے۔ ان میں سے ایک جودھ پور ریاست کا نوجوان راجہ بھی تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ہی اس کے باپ کا انتقال ہوا تھا۔ نوجوان راجہ کو اپنی تمام تر انسانی کمزوریوں کے باوجود جلدی نہیں تھی۔ اس نے جیسل میر ریاست کے راجہ کے ساتھ مل کر ایک پلان بنایا کہ انہیں جلدی نہیں کرنی چاہیے اور آرام سے بھارت اور پاکستان میں سے اس کے ساتھ ملنا چاہیے جس میں ان کا زیادہ فائدہ ہو۔
ان دونوں نے ایک سیکرٹ پلان بنایا کہ انہیں پہلی ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے کرنی چاہیے۔ ایک خفیہ پیغام جناح صاحب کو بھیجا گیا۔ جودھ پور کے راجہ نے دہلی میں ایک خفیہ ملاقات کا پلان بنایا۔
اب جودھ کا راجہ محمد علی جناح کے سامنے بیٹھا پوچھ رہا تھا کہ اگر جیسل میر اور جودھ پور ریاستیں پاکستان کے ساتھ مل جائیں تو انہیں بدلے میں کیا ملے گا؟
محمد علی جناح اور راجہ جودھ پور جب خفیہ معاملات طے کر رہے تھے تو انہیں علم نہ تھا کہ ان کی اس خفیہ ملاقات کی خبر وائسرائے تک پہنچ چکی ہے اور وی پی مینن اس راجے کو پکڑنے کیلئے وائسرائے ہائوس سے گاڑی لے کر نکل چکا ہے۔ (جاری)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *