• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • عمیرہ احمد کے ناول والی ہاوس آفیسر (پہلی قسط) ۔۔ ڈاکٹر مدیحہ الیاس

عمیرہ احمد کے ناول والی ہاوس آفیسر (پہلی قسط) ۔۔ ڈاکٹر مدیحہ الیاس

وہ صبح سویرے فجر کیلئے بیدار ہوئی۔ دور کہیں ہد ہد کی آواز آ رہی تھی۔ چڑیاں اپنے رب کی حمد بیان کر رہی تھیں اور کوے دیر سے اٹھنے پر اپنی جیون ساتھیوں کی سرزنش کر رہے تھے۔ اس نے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کی۔ ایک اور کال گزرنے پر رب کے حضور شکرانہ ادا کیا اور وہ فوراً تیار ہو کر مریضوں کی BSR کرنے نکل پڑی۔ ہلکے گلابی لباس پہ سفید اوورآل پہنے دو رنگی گلاب کی مانند بہت شگفتہ لگ رہی تھی وہ۔۔۔ سرجری کے وارڈ ویک کی تھکاوٹ کی ہلکی سی پر چھائی بھی اس کے کومل چہرے پہ عیاں نہیں تھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے وارڈ کے مریضوں اور اٹینڈنٹس کی BSR کر دی اور دودھیا مائل gloves پہنے steel کے ڈونگے اور قینچی لئے post OP bay کا رخ کیا۔ درد کی شدت سے تڑپتے مریضوں کے چہروں پہ اس کی ایک دید سے ہی رونق آ گئی۔ اس نے laparotomy کے مریضوں کے ٹانکے کھول کر abdomen کے کونے کونے کو پانی سے دھو کے خشک کپڑا لگایا اور پھر سے زخم سی دیا۔ پیٹ کے بڑھے ہوئے بالوں کی انتہائی باریکی سے دوبارہ فرنچ کٹ شیو بنائی۔ اب کی بار اس نے ایک نئی طرز کے ٹانکے لگائے تھے۔ وہ ہمیشہ سے ہی اتنی صفائی پسند اور نفیس تھی۔

کولوسٹمی والے مریضوں کے بیگ اس نے خود سرخ جاما ور کے کپڑے سے بنائے تھے اور مزید خوبصورتی کیلئے گوٹا بھی ٹانک دیا تھا۔
پانچ منٹ میں یہ سب کام نمٹا کے اس نے pre OP bay میں جھانکا تو اسے محسوس ہوا کہ ایک بابا جی کی سانسیں منجمد ہیں۔ نہایت نفاست سے trolley سجا کے لے کے گئی اور CPR شروع کیا۔ 45 منٹ کا CPR سات منٹ انسٹھ سیکنڈ میں مکمل کیا۔ ٹھہری ہوئی زندگی دوبارہ چل پڑی تھی۔ atropine اور adrenaline کے ٹیکے ایسے لگائے کہ گویا بغداد کے بازاروں میں گرد سے بچنے کیلئے پانی لگایا جاتا تھا اور تمام پر ستائش نگاہوں کو نظر انداز کر کے سرخرو چال سے bay سے باہر آ گئی۔

ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے وہ یورن بیگ چینج کرتی آپا کا ہاتھ پکڑ کے بولی۔ آپ رہنے دیں میں کر لوں گی! اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام بیگز چینج کر کے پرانے بیگ دھو کے دھوپ میں ڈال آئی۔ پرانے بیگ کو خشک کر کے وہ ان کے سفوس سے ایک خاص پھکی بنایا کرتی تھی جو مریضوں میں بے حد مقبول تھی۔۔۔ اور پیشاب روکاوٹ کے کافی مریض اس سے شفایاب ہوتے تھے۔ وہ ایسی ہی تھی۔ دوسروں کا خیال کرنے والی۔

ابھی مارننگ راونڈ میں تین گھنٹے باقی تھے۔ فارغ بیٹھنا اس کی فطرت کے خلاف تھا۔ چنانچہ اس نے موپ پکڑا اور وارڈ میں لگانا شروع ہو گئی۔ lavender کی خوشبو والے dettol کلینر کی مہک پورے وارڈ میں پھیل گئی۔ مریضوں کو لگا گویا وہ قسطنطنیہ کے شاہی باغات میں مارننگ واک کر رہے ہیں۔ پی جی کو فرشی سلام کرنے کے بعد وہ مریضوں کو خوبانی کی چٹنی اور اونٹنی کے دودھ اور شکر سے بنی چائے دینے لگی۔

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”عمیرہ احمد کے ناول والی ہاوس آفیسر (پہلی قسط) ۔۔ ڈاکٹر مدیحہ الیاس

  1. واہ واہ کیا کہنے ! بھئی میں تو یہ اپنی وال پر لگاؤں گا
    کچے ذہنوں کو خراب کرنے والی تحریریں یہ دو بیبیاں لکھ رہی ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہین ہے حالانکہ پہلے ادب بھی اور ٹی وی ڈرامہ سیریز زندگی کی بنیادی حقیقتوں کی گردا گرد گھومتے تھے مگر اب ۔۔۔۔۔۔۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *