کوڑے کا ڈھیر۔۔۔۔عنبر عابر

اس نے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کی طرف دیکھا تو حیران رہ گیا۔۔۔وہاں نت نئے کھلونے اور کھانے پینے کی اشیاء پڑی تھیں۔۔اسے یقین نہیں آیا اور جلدی جلدی سر گھما کر آس پاس دیکھنے لگا۔۔۔اس کے گردو پیش وہی غافل چہل پہل تھی۔وہی لاپرواہ رونقیں تھیں جو اس کا منہ چڑاتی تھیں۔اس کا دل اوب گیا اور دوبارہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کی طرف دیکھنے لگا۔۔وہ سوچنے لگا۔۔۔
“ہونہہ۔۔۔ان ساری چیزوں سے تو یہ میرا اچھا دوست ہے“
وہ کوڑے کے ڈھیر کے قریب گیا۔سامنے آئس کریم رکھی تھی،وہ اسے اٹھانے لگا۔ناگاہ ایک کرخت آواز ابھری۔۔۔
“اوئے چھوٹے رکھ۔۔۔یہ تیرے لئے نہیں“ یہ اسی ہوٹل کے مینیجر کی آواز تھی جہاں وہ کبھی کبھار جاتا اور چوری چپکے کھانے کی چیزوں پر ہاتھ صاف کرتا ۔۔
اس نے گھبرا کر آئس کریم واپس رکھی اور آواز کی سمت دیکھنے لگا۔۔وہاں کوئی نہیں تھا۔۔اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی۔۔وہ سمجھ گیا کہ یہ اس کے اندر کا ڈر تھا۔۔
اس نے دوبارہ آئس کریم اٹھائی اور مزے سے بیٹھ کر کھانے لگا۔۔۔جی بھر کر آئس کریم کھانے کے بعد اس نے سوچا۔۔۔
“ہونہہ۔۔۔آج پھر امی کو بھول گیا۔۔۔وہ یونہی تو روز نہیں کہتی کہ تم کھانے کے وقت مجھے بھول جاتے ہو۔۔“

آئس کریم تھوڑی سی بچ گئی تھی اور وہ اسی شش وپنج میں تھا کہ باقی ماندہ بھی کھا لے یا امی کیلئے رکھ دے۔۔بالآخر فیصلہ امی کے حق میں ہوا۔۔
اب کھلونوں کی باری تھی۔۔۔اس نے ایک چھوٹی سی ریل گاڑی اٹھائی اور قہقہوں کی برسات میں چھک چھک اسے چلانے لگا۔۔۔اسے شازم یاد آیا جو اپنے ابو کے ساتھ پارک میں بیٹھا تھا اور کھلونا ریل گاڑی سے کھیل رہا تھا۔۔جب وہ بوری تھامے کھانے پینے کے ان ڈبوں کی طرف گیا جو انہوں نے ابھی ابھی خالی کی تھیں تو شازم بولا۔۔
“ابو گندا بچہ دیکھو۔۔میں تمہاری بات مانتا ہوں۔۔۔ ان کے ساتھ نہیں کھیلتا میں“
“ہاں بیٹا! ان سے دور رہو“ شازم کے ابو نے شازم کو بانہوں میں لے لیا۔۔
شازم اسے دیکھنے لگا اور اپنی ریل گاڑی دکھا کر اسے چڑانے لگا۔۔۔

یہ سوچنے کے بعد اس نے کوڑے کے ڈھیر سے اٹھائی وہ ریل گاڑی اپنے قریب رکھ دی تاکہ واپس گھر جاتے ہوئے اسے لے جانا نہ بھولے۔۔وہ بڑبڑایا
“ہونہہ۔۔گندا بچہ وہ ہوگا خود۔۔آج پارک جاکر یہ ریل گاڑی اسے دکھاؤنگا“
وہ دوبارہ کوڑے کے ڈھیر پر نظریں دوڑانے لگا۔۔۔

ایک طرف سکول کی نئی یونیفارم پڑی تھی۔۔ایک بستہ اور اس کے ساتھ ایک پنسل بکس بھی رکھا تھا۔۔اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔۔اس نے اپنا گندا لباس اتارا اور اسے دور پھینک دیا۔۔سکول کی یونیفارم پہنی۔پنسل بکس بستے میں ڈال کر بستہ کاندھوں سے لٹکایا اور سرخوشی میں کوڑے کے ڈھیر پر دائرے کی صورت میں دوڑنے لگا۔۔۔اس کے منہ سے ناقابل فہم آوازیں ابھر رہی تھیں جسے وہ خود بھی نہیں سمجھ پارہا تھا۔یک بیک وہ رک گیا اور کوڑے کے ڈھیر کو عجیب نظروں سے گھورنے لگا۔۔۔شاید وہ کچھ سوچ رہا تھا۔۔اس کا سانس تیزی سے چل رہا تھا۔۔۔یکدم اس نے اپنے دونوں بازو پھیلائے۔۔۔بالکل شازم کے ابو کے بازوؤں کی طرح۔۔۔اور پھر سجدے کی حالت اپنا کر کوڑے کے ڈھیر کو چومنے لگا۔۔۔جس اچانک تیزی سے اس نے یہ حرکت کی تھی اسی تیزی سے وہ رک بھی گیا۔۔۔وہ بڑبڑایا۔۔۔

“ہونہہ۔۔۔کیسا دوست ہے میرا۔۔۔سکول تو ہے نہیں تیرے پاس۔۔۔“ یہ کہہ کر وہ منہ پھلا کر بیٹھ گیا۔۔۔چند لحظے وہ روٹھا بیٹھا رہا۔۔۔پھر اسے یاد آیا۔۔۔۔اسے ناراض نہیں ہونا چاہیے۔۔۔جب بھی وہ روتا ہے تو ابو اسے ڈانٹتے ہیں ویسے بھی امی کہتی ہے
“جو ملے اس پر شکر ادا کرو۔۔“
“میں کس کا شکر ادا کروں؟“۔۔۔وہ پریشان لگ رہا تھا تھوڑی دیر بعد وہ کسی فیصلے پر پہنچا اورکوڑے کے ڈھیر کا شکریہ ادا کرنے لگا۔۔۔اسے شکریہ ادا کرنا آتا تھا۔۔۔اس کے ابو کے ہاتھ پر جب کوئی نوٹ رکھتا تو وہ اس شخص کے ہاتھ پر بوسہ دیتا اور اسے دعائیں دینے لگتا۔۔۔وہ بھی کوڑے کے ڈھیر کو دعائیں دے رہا تھا۔۔۔

سورج مغرب کی طرف جھکنے لگا تھا اور شام کے سائے پھیلنے لگے تھے۔۔ایسے وقت اسے بہت ڈر لگتا تھا۔۔۔اس نے ایک ہاتھ میں ریل گاڑی اٹھائی دوسرے میں آئس کریم دبائی اور واپس جانے کا ارادہ کیا کہ کچھ سوچ کر رک گیا۔۔
“ذرا دیکھوں۔۔شاید پیسے ہوں۔۔ابو نہیں ڈانٹیں گے ۔۔۔مجھے دعائیں دینگے۔۔۔پیسے ضرور ہونگے۔۔۔یہ میرا جگری دوست ہے“
اس کی امید بر آئی۔۔۔سامنے کڑکڑاتے نوٹ پڑے تھے۔۔۔اس نے وہ نوٹ اٹھائے اور جیب میں ٹھونس کر سکول یونیفارم میں اترا اترا کر گھر کے راستے پر دوڑنے لگا ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ گھر کے دروازے سے داخل ہورہا تھا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ امی کو آئس کریم دیتا۔۔۔ابو کو پیسے دیتا۔۔بستے سے کتابیں نکال کر ان میں نقش تصویریں دیکھتا۔۔۔کہ اس کی امی کی تیز آواز اس کے کانوں میں پڑیں۔۔
“ناس ہو تیرا۔۔۔آج پھر کپڑے اس منحوس ڈھیر پر چھوڑ آئے۔۔۔۔خدا غارت کرے تمہیں“
اس کی کمر سے بوری لٹکی تھی۔۔۔ایک ہاتھ میں کوئی سلاخ تھی اور دوسرے میں ایک ٹوٹا پھوٹا شیشہ تھا۔۔وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ان اشیاء کو دیکھ رہا تھا!!!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *