خواب کی صورت۔۔۔۔رابعہ الرباء

کچھ پل ہم نے جیتے تھے
کچھ پل ہم نے ہارے تھے
کتنے پل ساتھ گزارے تھے
کبھی تم ماتھے کا جھومر تھے
کبھی آنکھ کے تارے تھے
کبھی کوئی خواب کی صورت تھی
کبھی سراب کی مورت تھی
جیسے کوئی ریل کی پٹڑی تھی
اور
ہم دونوں مسافر تھے
کچھ پل ہم نے جیتے تھے
کچھ پل ہم نے ہارے تھے
کبھی وہ چاندنی راتیں تھیں
کبھی صبح شب راتیں تھیں
کبھی شام کی شفق بھی تھی
کبھی تہجد کا تارا بھی
دل جب ہم نے ہارا بھی
آج تمہارے جنم دن پر
یادوں کے پھول میں لائی ہوں
دیکھو چاند شرمایا ہے
گالوں پہ سورج بھی آیا ہے
لبوں پہ دعاؤں کی لالی ہے
آنکھوں میں سپنوں کا کاجل ہے
آنکھوں نے سپنے سجائے ہیں
سپنے
سپنے تو ٹوٹ بھی جاتے ہیں
وقت سب روٹھ بھی جاتے ہیں
مگر
جو پل ہم نے جیتے تھے
جو پل ہم نے ہارے تھے
بس
وہی ہمارے تمہارے تھے
جو پل ساتھ گزارے تھے
جو پل
ساتھ گزارے تھے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *