زبیر لودھی کا ادبی محبت نامہ ڈاکٹر خالد سہیل کے نام

پیارے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب !

آداب میں بہت عرصے سے کچھ لکھنا چاہ رہا ہوں۔کچھ لکھنے سے میری مراد ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے خیالات و نظریات کو قلم بند کروں اور انہیں دوسرے لوگوں کے ساتھ بانٹوں ، کیونکہ اسی طرح سے میرے خیالات کی درستی ہوگی اور ان میں پختگی آئے گی۔

لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی   کہ مجھے لکھنا کیا ہے۔آخر اپنے  بے ربط مطالعہ کو جوڑ کر لکھوں بھی تو کیالکھوں؟اس بھی اہم سوال ہے کہ کیونکر لکھوں؟

میں سائنسی فکر رکھنے والا انسان ہوں۔ میں چاہتاہوں کہ جب میں مر جاؤں تو میرے بعد میری ذات سے منسلک کچھ باقی رہ جانا چاہیے۔جب میں اپنی ذات سے منسلک کچھ باقی رہ جانے کی بات کر رہا ہوں تویہاں میری مراد اولاد ہرگز نہیں ہے۔ خالد سہیل صاحب اگر آپ کو دیکھوں توآپ کا کہنا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میری نظمیں، غزلیں، افسانے، مضامین، تراجم اور انٹرویوز وغیر ہ باقی رہ جائیں گے۔ ان کی بات کسی قدر دل کو لگتی ہے۔ لیکن ایک سوال ہے جو بہت عرصے سے میرے دماغ میں محوِ گردش ہے۔
سائنس کا ماننا ہے کہ یہ دنیابغیر کسی منظم منصوبہ بندی کے ایک دھماکے سے وجود میں آئی ہے۔ اس پورے نظام کے چلنے کے پیچھے ایک ہی اصول کارفرما ہے جسے عمل و ردعمل (ایکشن۔ری ایکشن) کا قانون کہا جاتاہے۔ مزیدبرآں بغیر کسی منظم منصوبہ بندی کی وجہ سے جو نظام وجو د میں آیا ہے اس کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ یہ جس طرح ایک دھماکے سے پیدا ہوا ہے بالکل اسی طرح کروڑوں سال بعد اس کا خاتمہ ہو جائے گا اور پھر سے ایک دھماکہ ہوگا جو دوبارہ کوئی اور نظام ترتیب دے گا۔۔۔۔۔ا سی طرح ہم انسانوں کی جو زندگی ہے یہ کسی خاص مقصد و غرض کے لیے نہیں ہے۔ بس محض نیچرل سیلیکشن کا پراسس ہمیں یہاں تک لیاآیا ہے۔ ایسے میں زندگی کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ہم انسان محض پیدا ہوئے ہیں اور ایک دن ہم نے انسانی نیچرل سٹریکچر میں کسی خرابی کی بنا پر مر جانا ہے اور ہمارے مرنے کے بعد سائنسی نقطہ نظر کے مطابق کوئی حیات بعد از موت کا تصور نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے جسم نے ڈی کمپوز ہو جانا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے جسم تک نے ختم ہو جانا ہے۔ ہمارا گوشت پوست کا ڈھانچہ کیڑوں مکوڑوں کی غذا بن جائے گا۔ ہڈیاں دیر سے سہی لیکن وہ بھی خاک میں خاک ہو جائیں گی۔یعنی میں زبیرلودھی جو ایک مکمل انسان ہے۔اس نے محنت و تندہی کے ساتھ ایم فل کیا،گورنمنٹ جاب حاصل کی، گھر بنایا، سماجی رتبہ کمایا، شادی کی۔۔۔لیکن اس زبیر کا مرنے کے بعد نہ یہ جہاں،نہ وہ جہاں، والا حساب ہوجانا ہے۔کیونکہ مرنے کے بعد یہ دنیا میری رہنی نہیں ہے اورحیات بعد ازمو ت کا کوئی لاجیکل تصور موجو دنہیں ہے۔

تو یہ سب کچھ جو میں کر رہا ہوں کیوں کر رہا ہوں؟ اس سوال کو میں خالد صاحب کی ذات کے ساتھ جوڑ کر پوچھتا ہوں کہ آپ کی نظمیں، غزلیں،افسانے، مضامین، تراجم اور انٹرویوز کس کام کے ہیں؟ آپ کے علاوہ باقی احباب جو علمی، ادبی، سائنسی کاوشیں کر رہے ہیں وہ سب کس کام کی؟ کیونکہ اربوں سال بعد یہ نظام کائنات ہی نہ ہوگا۔کیونکہ بالآخر یہ موجودہ پورا نظام کائنات ہی لپیٹ دیا جانا ہے۔

تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ زندگی میں کوئی مقصد بنائے بغیر “کھاو، پیو اور موج کرو” والے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاری جائے؟بجائے اس کے کوئی مرنے کے بعد زندہ رہنے کے لیے عام انسان اولاد پیدا کر رہا ہے تو کوئی مصنف کتاب لکھ رہا ہے اور کوئی سائنسدان کچھ نئی  ایجا د یا دریافت کرنے کی تگ و دو میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

زبیر لودھی صاحب !
بعض لوگ ساری زندگی بے مقصد گزار دیتے ہیں۔
بعض لوگ ساری عمر اپنے خاندان کا خیال رکھنے میں گزار دیتے ہیں۔
اور بعض لوگ پوری انسانیت کو اپنا خاندان سمجھتے ہیں۔
؎ فکرِ ہر کس بقدرِ ہمت اوست
اگر کوئی شخص۔۔۔کھاؤ پیو موج کرو۔۔۔۔۔کے فلسفے پر عمل کرتا ہے اور
؎ بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
تو یہ اس کی choice ہے۔ اگر وہ دوسروں کو نقصان نہیں پہنچاتا تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
ہر قوم میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں
روایتی اکثریت۔۔۔جو روایت کی شاہراہ پر چلتے ہیں
تخلیقی اقلیت۔۔۔جو من کی پگڈنڈی پر چلتے ہیں اور غیر منصفانہ روایات کو چیلنج کرتے ہیں۔
ان لوگوں میں سائنسدان بھی ہوتے ہیں سکالر بھی شاعر بھی ہوتے ہیں دانشور بھی، ریفارمر بھی ہوتے ہیں انقلابی بھی۔
تخلیقی اقلیت ارتقا کے سفر میں روایتی اکثریت کی رہنمائی کرتے ہیں۔
اب آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے زندگی کیسے گزارنی ہے۔
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ میں ایک لکھاری ہوں اس لیے مجھے لکھتے رہنا ہے اور سماجی شعور کے ارتقا میں اپنا کردار ادا کر نا ہے۔ ایسا کرنے سے میری زندگی بامعنی اور بامقصد بنتی ہے اور میں زندگی سے زیادہ محظوظ اور مسحور ہوتا ہوں۔
میں انسان دوست ہوں میں چاہتا ہوں دنیا میں دکھ کم ہوں سکھ زیادہ ہوں اور ہم مل کر کرہِ ارض پر ایک پرامن معاشرہ قائم کر سکیں۔۔۔چاہے اس کرہِ ارض کی عمر ایک دہائی ہو یا ایک ہزار سال’ ایک لاکھ سال ہو یا ایک کروڑ سال۔۔۔۔
مخلص
خالد سہیل!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *