• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • افغان تنازعہ اور پاکستان کا مستقبل۔۔۔۔اسلم اعوان

افغان تنازعہ اور پاکستان کا مستقبل۔۔۔۔اسلم اعوان

وزیراعظم عمران خان کے امریکی انتظامیہ کے ساتھ اپنے تلخ تعلقات کی بحالی کےلئے مذاکرات اوردونوں مملکتوں کے مابین نیٹو فورسز کی افغانستان سے محفوظ واپسی پہ اتفاق رائے کے باوجود امر واقعہ میں کسی جوہری تبدیلی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں،بلکہ افغان تنازعہ کو جلدی میں نمٹانے کی کوشش اس خطہ میں کئی نئے تنازعات کو جنم دینے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

حالیہ میل میلاپ کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ نیٹو فورسیز کی افغانستان سے واپسی کا فیصلہ کر لینے کے باوجود مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ کی اس تعلّی میں کہ”وہ ہفتہ کے اندر افغان جنگ جیت سکتے ہیں لیکن اس میں دس ملین لوگ مارے جائیں گے“ دراصل ایک سپرپاور کی بے بسی کا اظہار دکھائی دیتا تھا۔اسی لئے خود امریکی دانشوروں کا ایک موثر حلقہ اس” امن معاہدہ“ کو ”پسپائی معاہدہ“(It is a Withdrawal agreement,not a “peace”agreement)سے تشبیہ دے رہا ہے۔

بلاشبہ امریکی تاریخ کی یہ طویل ترین جنگ ایسے سنڈروم کی صورت اختیار کر چکی ہے،فریقین کےلئے جس سے دامن چھڑانا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد چیئرمین آف دی جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل مارک ملّے نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو افغان وار پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ،افغان جنگ سے جلدی میں نکلنے کی کوشش تزویری غلطی ہو گی،انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں یہ جنگ اگرچہ سست رفتار،دردناک،اور سخت ہے لیکن ضروری بھی ہے“۔

جنگی ماہرین کہتے ہیں کہ کسی بھی فریق کےلئے اپنی مرضی سے جنگ میں داخل ہونا تو آسان کام ہے لیکن میدان جنگ سے واپس نکلنا یا من مانے نتائج لینا ناممکنات کے قریب ہوگا۔ہرچند کہ بظاہر یہی دیکھائی دیتا ہے کہ افغان جنگ کے فریقین اور علاقائی طاقتیں اس تنازعہ کا”پرامن“حل چاہتی ہیں،لیکن پھر بھی تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات میں توازن اور جنگ کے بہتے دھارے کو کنٹرول کرنا آسان نہیں ہو گا،جس دن وزیر اعظم عمران خان امریکی انتظامیہ کے ساتھ افغان تنازعہ کے پرامن حل کےلئے بات چیت میں مصروف تھے عین اسکی وقت طالبان کاخراسانی گروپ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ اورڈسٹرک ٹیچنگ ہسپتال کے ٹراما سنٹر میں ہونے والے خودکش دھماکہ کی ذمہ داری قبول کر رہا تھا۔

28 جولائی کی صبح کابل شہر میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق چیف اور اشرف غنی کے ہمراہ نائب صدرات کے امیدوار امراللہ صالح کے چار منزلہ پارٹی ہیڈکوارٹر پہ ہونے والا خودکش حملہ،جس میں 20 سے زیادہ لوگ ہلاک اور پچاس کے لگ بھگ زخمی ہوگئے،صدرٹرمپ کی دس ملین افراد ہلاک کرنے کی تعلّی کا جواب تھا،یہ خودکش حملہ کابل کے قلب میں واقع ایک ایسی کمپلکس عمارت کے چوتھے فلور پہ ہوا جہاں سخت ترین سکیورٹی انتظامات اور نہایت مشّاق محافظ فورس ہمہ وقت چوکس کھڑی رہتی ہے،اگرچہ امراللہ صالح اس جان لیوا حملہ سے بچ نکلے ہیں لیکن اس مہلک حملہ کا پیغام یہی تھا کہ غیر ملکی فورسیز کی موجودگی کے باوجود کابل میں اشرف غنی حکومت کا وجود بتدریج تحلیل ہوتا جائے گا۔

طالبان کے ترجمان شیرمحمد ستانکزئی کہتے ہیں کہ”امریکہ شکست کے دہانے پہ کھڑا ہے،وہ کسی مہمل سے معاہدے  کا سہارا لیکر یہاں سے نکل جائے گا یا پھر نکال دیا جائے گا“۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی فورسیز افغان جنگ کی حرکیات پہ قابو پانے میں ناکام رہی ہیں،امریکی اگر اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کی طاقت رکھتے تو کسی حد تک ان کے لئے میدان جنگ کے میرٹس و مفادات کو اپنے ہاتھ میں رکھنا ممکن ہوتا لیکن نیٹو فورسز کی کمزوری انہیں افغان جنگ کو حتمی نتیجے تک پہنچانے سے پہلے ہی کسی عبوری بندوبست کے ذریعے میدان جنگ سے نکل جانے پہ مجبور کر رہی ہے،بلکہ افغانستان میں عام انتخابات کا التواءبھی امن مذاکرات سے قبل طالبان کی بڑی کامیابی سمجھا گیا۔لہٰذا ایسے ناگفتہ بہ حالات میں امن معاہدات یا انخلاءکے عمل کو امریکی ضرورتوں کے مطابق ڈیزائین کرنا دشوار ہوگا۔

جنوبی ایشیا کےلئے نئی امریکی پالیسی کے تحت افغان تنازعہ کے کسی قابل عمل حل سے قبل صدر ٹرمپ اپنے تزویری مفادات کے تحفظ کی خاطر بلگرام ائربیس سمیت افغانستان میں کچھ مستقل فوجی اڈوں کی موجودگی اورپاکستان میں ایک کوارڈی نیٹنگ آرمی کی فراہمی یقینی بناناچاہتا ہے،اس لئے وہ افغانستان میں طالبان کی بجائے ”عوام“کی نمائندہ ایک ایسی مخلوط حکومت بنانے کا خواہش مند ہے جو فیصلہ سازی کی استعداد اور ریاستی استبداد کی قوت سے عاری ہو،شاید اسی لئے امریکن ہر قیمت پہ پاکستان کو سیٹو،سینٹو سے مماثل معاہدات کی طرف واپس لانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں تاکہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی انہیں جنوبی ایشیا میں ایک مضبوط آرمی کی موثر شراکت داری میسر رہے۔

لیکن اب شاید ان دونوں منصوبوں کو ویسے عملی جامہ پہنانا ممکن نہ ہو جس طرح سنہ 50 کی دہائی میں ایک خاص قسم کی صورتِ حال میں اسے یقینی بنایا گیا تھا،ایک تو طالبان اپنے مقاصد و نطریات سے متضاد کسی ایسے تجویز کو قبول نہیں کریں گے جو انکی طویل جدوجہد اورناقابل فراموش قربانیوں کے ثمرات کو ضائع اور انکی نظریاتی وحدت کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بنے،دوسرے طالبان فوری طور پہ سیزفائر کریں گے نہ افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کو قبول کریں گے،وہ اس تنازعہ کے کسی ایسے سیاسی حل کو بھی نہیں مانیں گے جس میں انکی پوزیشن ثانوی رہ جائے۔

پھر آج کے حالات میں،جب جنوبی ایشیا میں امریکہ کا اثر ورسوخ گھٹ رہا ہے،پاکستان کےلئے بھی پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں واپس پلٹ کے زندہ رہنا ممکن نہیں ہو گا اس لئے برطانیہ و امریکہ کو کوارڈینیٹنگ آرمی کے فرسودہ تصور سے دستبردارہونا پڑے گا۔بلاشبہ اس وقت افغان جنگ کو اپنے فطری انجام کی طرف بڑھنے سے روکنا ممکن نہیں رہا اسلئے اسی خطہ میں اپنی موجودگی یقینی بنانے کی خاطر امریکہ کو یا تو اس جنگ کو جاری رکھنا پڑے گا یا پھر اسے پرامن پسپائی کی ایسی شرائط قبول کرنا ہوں گی جو مڈل ایسٹ کی اسٹرٹیجک حیثیت کو بدل ڈالے  گی۔

اگر ہم جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی کی موجودہ صورت حال پہ نظر ڈالیں تو امریکہ کےلئے چین کی مربوط اقتصادی پیشقدمی سے زیادہ مڈل ایسٹ میں ایران کی جارحانہ پیش قدمی کو کنٹرول میں رکھنے کا مسئلہ زیادہ اہم ہے۔امریکہ کو عراق جنگ کے نتیجہ میں ابھرنے والی ابومصف الزرقاوی کی جماعت التوحید،القاعدہ،جبّة النصر اور داعش جیسی مہلک تحریکوں کا سر کچلنے کی خاطر ایران کی زمینی فورسیز کو عراق اور شام میں داخل کرانے کی حکمت عملی مہنگی پڑی ہے،خوف و ترغیب کے تمام ترہتھکنڈے کا سامنا کرنے کے باوجود ایران اپنی گراونڈ فورسیز کو مڈل ایسٹ سے نکالنے پہ آمادہ نہیں ہو رہا،مغرب والوں کےلئے مڈل ایسٹ میں ایرانی فوج کی موجودگی داعش و القاعدہ کی مزاحمت سے کہیں زیادہ پُرخطرناک اور تباہ کن نتائج کی حامل ہو گی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ ایران پہ حملہ کرنے سے اس لئے ہچکچا رہا ہے کہ ایران اگر جنگ کی لپیٹ میں آیا تو افغانستان سے لیکر شام تک پھیلا پورا مسلم خطہ مہیب خانہ جنگی کے ایسے سیلاب کی لپیٹ میں آ جائے گا جومستحکم عرب ریاستوں سمیت اسرائیل کو بھی بہا لے جائے گا،چنانچہ ابنائے ہرمز اورمڈل ایسٹ کے بحران سے نمٹنے کے لئے انہیں کابل میں فرینڈلی حکومت کے علاوہ جنوبی ایشیا میں کوارڈنیٹنگ آرمی کی ضرورت ہے۔شاید اسی تناظر میں وزیراعظم عمران خان یو ایس اے انسٹیٹیوٹ آف پیس میں گفتگو کے دوران کہا تھا کہ شیعہ مسلم زیادہ بہادر اور جفاکیش ہیں،ان میں شہادت کا جذبہ اور مزاحمت کی بے پناہ قوت پائی جاتی ہے۔بہرحال،اب افغان تنازعہ کاجنگی یا پُرامن حل ہی پاکستان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *