میں نے لکھنا کیسے سیکھا۔۔۔۔محمد احمد/چوتھی،آخری قسط

ہم سب نے یہ سن رکھا ہے کہ شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی،اسکا درست اندازہ اور تجربہ ہمیں شارٹ کورس کے دوران ہوا۔
علی الصباح فجر پڑھ کر بغیر ناشتہ کیے نکلتے تھے،دوسری طرف ہفتہ بھر کے کام اس اکلوتی چھٹی کے منتظر ہوتے تھے،دست بدست عرض کرتے پہلے ہمیں نمٹائیں،ادھر سے جسم و دماغ فریادی ہوتے تھے ہفتہ میں ایک دن آرام ہمارا بھی حق ہے۔
ہم نے سب خواہشوں،التجاؤں،اور فریادوں کو پست پشت ڈال کر اپنے خوابوں کی تکمیل کا تہیہ کیے  رکھا۔

سوال ہی پیدا نہیں  ہوتا کہ بندہ محنت اور جدوجہد کرے، رب رحمان اس کی محنت ضائع کردے،بہرحال ہرصورت اسکا نتیجہ اور ثمر ملتا ہے۔ہمیں اپنی غفلت اور کوتاہی کے باوجود اللہ رب العزت نے محروم نہیں فرمایا،بس ضرورت صرف خلوص نیت اور محنت کی ہوتی ہے،ان شرائط کیساتھ کسی کی محنت رائیگاں  نہیں جاتی۔۔

بات چل رہی تھی گھنٹوں کی ترتیب اور اساتذہ کے انداز تدریس کی،تیسرے گھنٹے میں پہلے ہفتے ایک محترم استاذ تشریف لائے تھے،جنہوں نے انٹرویو کی تعریف اور انٹرویو کی اقسام اور طریقہ پر لیکچر دیا تھا،پھر انکی جگہ مولانا عبدالمنعم فائز صاحب نے سنبھالی جو شریعہ اینڈ بزنس کے چیف ایڈیٹر اور روزنامہ اسلام اور ضرب مؤمن کےکالم نگار بھی ہیں۔
نہایت شریف الطبع اور خاموش مزاج لگتے تھے،دھیمے انداز اور آواز میں پڑھاتے تھے۔
اپنے فن کے بڑے ماہر تھے وہ بھی انٹرویو کی اقسام اور طریقہ کار پر لیکچر دیتے تھے،مجھے انٹرویو کے فن سے بیحد دلچسپی ہے،شخصیات میرا پسندیدہ موضوع ہیں ۔
انکے حالات اور انٹرویوز بڑے شوق سے پڑھتاہوں،ان سے بہت کجھ سیکھنے کو ملا ہے۔لیکن مولانا فائز صاحب کے وقت میں طلبہ گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے،سست پڑجاتے تھے،میں خود ڈھیلے پن کا شکار ہوجاتا تھا۔
اسکی بنیادی وجہ جو اس وقت بھی بیان کرتا تھا آج لکھ رہا ہوں۔
عبدالمنعم فائز صاحب بلاشبہ فن کے ماہر اور منجھے ہوئے لکھاری ہیں،لیکن طریقہ تدریس کے اصولوں سے ناآشنا لگتے تھے،ہرمیدان کے شہسوار الگ ہوتے ہیں،فائز صاحب تدریس کے میدان کے آدمی قطعاً نہیں تھے۔اس طرح ایک آدھی مرتبہ عمر فاروق راشد صاحب بھی لیکچر کیلئے تشریف لائے،جو کالم نگار اور مصنف بھی ہیں،بلاشبہ اچھے لکھاری ہیں۔تحریری مقابلہ میں حصہ کیسے لیں اور اسکے کیا گُر ہیں۔یہ انکا موضوع تھا۔
لیکن موصوف نے پہلے لیکچر میں اتنا بور کردیا کہ مقابلہ تو مقابلے  سے رہا ہمیں ان کے  ایک گھنٹے کے لیکچر    کو بھگتنا   بڑا مہنگا پڑگیا۔

درمیان  میں کچھ وقت کیلئے مولانا ندیم الرشید صاحب فیچر نگاری سکھانے کیلئے تشریف لائے تھے۔مولانا صاحب بڑی ظریفانہ طبیعت کے مالک اور ہنس مکھ آدمی تھے،بڑی دلچسپی سے سبق پڑھاتے تھے۔آخری ایک  گھنٹہ مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب کا ہوتا تھا،انکی شخصیت کے بارے اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار پہلی قسط میں کرچکاہوں،تکرار واعادہ مناسب نہیں۔شاہ صاحب کا وقت  ہوتا تو آخری تھا طلبہ تھک چکے ہوتے تھے،لیکن انکے آنے کی دیر ہوتی تھی سب ساتھی ہشاش بشاش اور تازہ دم ہوجاتے تھے،کیونکہ سب کی امیدوں کے مرکز ومحور یہی شاہ صاحب تھے۔سب کی دلچسپی کا سامان انکے پاس تھا،سب کے دردوں کا علاج شاہ منصور صاحب کے پاس تھا،یہ سارے حضرات اس ایک روحانی معالج کے مریض تھے۔کیونکہ جامعہ الرشید کی موجودہ پوری صحافتی ٹیم شاہ صاحب کی محنت کا نتیجہ ہے،ان پودوں کی آبیاری تن تنہا اس مرد مجاہد نے کی ہے۔
حضرت شاہ منصور ہمیں مضمون نگاری اور کالم نگاری سکھاتے تھے۔انداز بڑا سہانہ اور پیارا تھا،تحریر تو انکے گھر کی لونڈی اور فصاحت وبلاغت انکے جیب کی گھڑی ہے۔
طلبہ متوجہ کیے بغیر ہمہ تن متوجہ ہوتے تھے،بس شاہ منصور کا درد دل تھا کوئی ساتھی ایک لمحہ کے لیئے بھی نہیں سوچتا تھا سبق سے اعراض کروں،امت مسلمہ کی فکر ،عالم اسلام کا اتحاد اور مسلمانوں کی کامیابی وکامرانی شاہ صاحب کے خاص موضوعات تھے۔انکو یہ فکر ہر وقت دامن گیر رہتی تھی ہم کس طرح یہ اپنا فن اور علماء کی میراث طلباء میں منتقل کردیں۔

یہ شارٹ کورسز مدارس کے ساتھیوں کیلئے شاہ منصور کی انقلابی سوچ کا نتیجہ ہے۔داغ بیل ڈالنے اور راہ دکھانے والے شاہ صاحب ہیں،اب تو اہل مدارس بیدار ہوچکے ہیں،سلسلہ شروع ہوچکا ہے اللہ کرے یہ میراث ہماری برادری میں منتقل ہوجائے۔

اب رہتا ہے یہ سوال ہمیں کیا فائدہ ہوا؟
اس شارٹ کورس کے بعد ہمیں لکھنے کا جنون لاحق ہوگیا اور دھن سوار ہوگئی۔میری تمنا تھی میں اخبارات میں لکھوں اس کیلئے قسمت آزمانی شروع کی تو کالم کو ٹائپ اور کمپوزنگ کرنا رکاوٹ بن گیا،مدرسہ میں کمپیوٹر کہاں سے آئے ؟اور وقت کہاں سے نکالیں ؟اور بغیر کمپوز کے اخبارات مراسلے قبول نہیں کرتے پھر جب تلک کوئی راستہ نکلے اس وقت تک ہم رکے نہیں بس الٹا سیدھا لکھتے رہے،مشق جاری رکھی۔پھر یہ طریقہ ذہن میں آیا جب تلک راہ ہموار ہو اس وقت تک جرائد ورسائل میں پنجہ آزمائی کرکے دیکھوں،تو سب پہلے مادری زبان میں سندھی رسالوں کو مضامین بھیجنے شروع تو سندھ کے بڑے،قدیم اور مؤقر رسالہ ماہنامہ شریعت نے میرے مضمون کو جگہ دی، ساتھ میں رسالے کے ایڈیٹر، مشہور عالم دین مفتی عبدالوہاب صاحب نے تعریفی کلمات بھی فرمائے،اور دوسرے ماہنامہ رسالہ صراط مستقیم میں کافی مضامین چھپے تھے۔
ادھر مجھے اخبارات میں لکھنے کا شوق ستارہا تھا تو ایک ساتھی کو بڑی مشکل سے راضی کیا وہ میرے مراسلے ٹائپ کرے اور اخبار کو ای میل کردے،
پہلا مراسلہ روزنامہ ایکسپریس کراچی کو بعنوان “شعبہ زراعت کی بہتری اور حکومت کی ذمہ داری”روانہ کیا۔
اللہ کے فضل سے وہ چھپ گیا میری خوشی دیدنی تھی اور جذبہ بڑھ گیا، حوصلے بلند ہوگئے پھر دوسرا مراسلہ” سوشل میڈیا کا مثبت استعمال”(اس وقت ہم صرف نام سے ہی واقف تھے،اسکے استعمال کے حق میں بھی نہیں تھے)بھی چھپ گیا،اس کے بعد میں نے ٹھوس مذہبی موضوع پر ایک آدھے مراسلے لکھے جو نہیں چھپے،جاوید چوھدری صاحب کا بھی رد لکھا لیکن جگہ نہیں ملی۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال ہم نے قلم پکڑنے کے بعد رکھا نہیں چست اور سست رفتار سے سلسلہ جاری رکھا،اسی اثنا میں کافی   موضوعات پر لکھا اور کچھ دوستوں کی طرف اپنے رسالوں میں مستقل لکھنے کی فرمائش بھی کی گئی لیکن روایتی سستی اور کاہلی کی بناء پر حکم کی تعمیل نہ کرسکا۔
میرے پسندیدہ موضوعات جن پر لکھتا رہتاہوں،اصلاح معاشرہ،سیاست ،حالات حاضرہ ،فکری،تعمیری، اور شخصیات ہیں۔
ہمارے سیکھنے کی یہ مختصر روداد تھی،اپنے ساتھیوں کے نام یہ پیغام ہے آپ آگے بڑھیں صحافت کے میدان میں مذہبی فکر کی بڑی ضرورت ہے،جو دلیل کیساتھ جدید پیرائے میں اپنا مدعی عوام کے سامنے رکھیں۔اپنی ذمہ داری کا احساس کیجئے اور یہ خلا پر کریں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *