میں نے لکھنا کیسے سیکھا۔۔۔۔محمد احمد/قسط3

SHOPPING
SHOPPING

سب سے پہلے شارٹ کورسز کے بارے میں بتاتا چلوں ان کی اہمیت وافادیت کتنی ہے،میری رائے یہ ہے کہ یہ شارٹ کورسز صرف ان ساتھیوں کے لیے فائدہ مند ہیں جو پہلے سے اس فن اور موضوع سے شُد بُد اور نسبت رکھتے ہوں اور انتھک محنت کے عادی ہوں۔
پھر محنت،طلب،جستجو،جدوجھد کے نتیجے میں ان کے لیے منزل کی طرف سفر مشکل نہیں رہتا،دن بدن منزل قریب اور ہدف آسان ہوتا جائے گا۔

یہ کورسز مدارس دینیہ کے طلبہ کے لیے نہایت ضروری ہیں،بالخصوص فاضل حضرات کے لیے کیونکہ جب تک جدید ابلاغیات سے واقفیت نہیں تب تک دعوت دین مفید نہیں۔
کیونکہ ان کورسز میں وقت کم اور مقابلہ سخت ہوتا ہے۔باقی رسمی کورس کر لینے سے کچھ ہاتھ نہیں آتا بلکہ الٹا دل بھر جاتا ہے۔
ہمارا لکھنا بھی شارٹ کورسز کے  مرہوں منت ہے،ہم نے بھی اسی شارٹ شاہراہ سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔

ہمارے اساتذہ اپنے فن کے ماہر،جدید ابلاغیات اور شعبہ صحافت کے شہسوار، ملک بھر کے مذہبی حلقوں کی طرف سے پرنٹ میڈیا میں اکیلے نمائندگی والے حضرات تھے،جو مخلص تھے اور طلبہ کے لیے ان کے دلوں میں درد اور تڑپ بھی تھی،بڑے فکر مند رہتے ہیں کس طرح یہ میراث طلبہ کی طرف منتقل ہوجائے۔

اس کے لیے وہ اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں صَرف فرمارہے ہیں۔
اسباق کی تربیت اس طرح تھی کل چار گھنٹے ہوتے تھے،پہلا گھنٹہ مولانا انور غازی صاحب کا تھا،جو ملک کے نامور مصنف،صحافی،جنگ اخبار کے کالم نگار اور جامعہ الرشید کے شعبہ صحافت کے سربراہ بھی ہیں۔
ہمیں استاد محترم مقالہ نگاری پر لیکچر اور سبق پڑھاتے تھے،انداز بڑا دلچسپ اور اپنی طرف کھینچنے والا تھا،ہمہ وقت سب ساتھی متوجہ رہتے تھے،غفلت کرنے والے احباب کی سخت پکڑ اور سرزنش ہوتی تھی۔
انور غازی صاحب کو اللہ تعالی نے خاص ملکہ  اور بڑی مہارت  عطا فرمائی ہے،وہ طلبہ سے کام لینے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں،ہر سبق کے نوٹس اور ہفتہ بھر کا ہوم ورک دیتے تھے۔
سبق سننے اور کام دیکھنے میں ترش رویہ رکھتے تھے،جس سے طلبہ کو بڑا فائدہ ہوا۔
کورس کے اختتام پر سب کو مقالہ لکھنے کا پابند بنایا تھا،
ہم نے اپنے زندگی کا پہلا مقالہ” اسلام کا عدالتی نظام ایک جائزہ” غازی صاحب کے حکم پر لکھا لیکن جب چیکنگ کیلئے دیا تو اب تلک واپس نہ مل سکا۔
یہ افسوس مجھے ابھی تک ستاتا ہے،اس میں ایک غفلت تو میری تھی کہ مقالہ تاخیر سے پورا کیا۔شب جمعہ رات ایک بجے مقالہ کی تکمیل ہوئی،اب فوٹو کاپی کیسے اور کہاں سے ہو؟ دارالاقامہ بند ہوچکا تھا،صبح فجر پڑھ کر دکانیں بند ہوتی ہیں، ہم سلام پھیر کر روانہ ہوتے تھے،ادھر سے پہلا گھنٹہ غازی صاحب کا ہوتا تھا وہاں بھی کاپی کرانے کا موقع  نہیں مل سکا،مجبوراً اس امید پر کہ واپس تو مل ہی جائےگا ،لیکن جس نالائق کارندے کے پاس مقالہ جمع کروایا،وہ ہم سے بڑھ کر کاہل ،غافل،سست نکلا۔۔
اسکو ماجرہ بھی سنایا، بھائی!اس مقالہ کی فوٹوکاپی کرانا بھول گیا ہوں۔
خدارا!استاد محترم سے چیک کروانے کے بعد حفاظت سے رکھنا،لیکن نالائق نے سنی ان سنی کردی،دوسرے ہفتے مطالبہ کیا اور مانگتا رہا،یاد دلاتا رہا،ظالم ٹس سے مس نہیں ہورہا تھا،بس ٹالتا رہا کہ مدرسہ میں رکھا ہوا ہے،اگلے ہفتے لے جانا،اس طرح وہ بہانے بناتا رہا آخر کورس ختم ہوگیا اس نے مقالہ نہیں دیا،پھر فون پر رابطہ کرکے مقالے  کا مطالبہ کیا تب تو پہچاننے سے انکار کردیا۔
دوسرے گھنٹے میں ڈاکٹر سید عزیز الرحمن صاحب تشریف لاتے تھے، ملک کے معروف اہل قلم حضرات میں انکا شمار ہوتا ہے،زوار اکیڈمی کے روح رواں ہیں،انکی علمی ادبی خدمات کی دنیا معترف ہے۔
انہوں نے بھی تحقیق اور ریسرچ کے اصول وضوابط، تحقیق کے جدید منہج اور معیاروں پر شاندار لیکچرز دیئے تھے،تحقیق کا ذوق رکھنے والے ساتھیوں نے ڈاکٹر صاحب سے بہت خوب فائدہ اٹھایا،حضرت ڈاکٹر صاحب کے پڑھانے کا انداز بڑا دل نشین تھا،طلبہ ہمہ تن متوجہ ہوتے تھے، ڈاکٹر صاحب کا لیکچر دو گھنٹوں پر محیط ہوتا تھا سب ساتھی یکسوئی،توجہ، دلجمعی اور بڑی رغبت سے حصہ لیتے تھے۔یہ حضرت ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کی کشش اور فن پر عبور و مہارت کا نتیجہ تھا۔

دیگر اساتذہ اور گھنٹوں پر بات کریں گے اگلی
نشست میں۔ان شاءاللہ۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *