لبرل سرمایہ داری تو اچھی ہوتی ہے

لبرل سرمایہ داری تو اچھی ہوتی ہے
مشتاق علی شان
ہمارے ایک لبرل دانشور نے کہا ہے کہ ’’ کمیونزم تو بہت اچھا ہوتا ہے ۔‘‘لیکن ہم ان سے بالکل بھی متفق نہیں ہیں ۔کیوں کہ کمیونزم تو دنیا میں کہیں آیا ہی نہیں پھر ہم کیونکر ان سے متفق ہو سکتے ہیں ۔ شاید ان کی مراد سوشلزم ہے جو سوویت یونین اور مشرقی یورپ کے ممالک سے لے کر ایشیاء ، افریقہ اور جنوبی امریکا کے ممالک میں رائج رہا اور کیوبا وعوامی جمہوریہ کوریا میں اب بھی رائج ہے ۔ ’’ کمیونسٹ مار لبرل مہم ‘‘ میں ہمارے یہ دانشور دوست پروپیگنڈے کے ایک ایسے برق رفتار گھوڑے پر سوار ہیں کہ کمیونزم اور سوشلزم میں فرق جانے بغیر سرپٹ دوڑے جارہے ہیں ۔ بہر کیف ان کی اس کیفیت کا کوئی چارہ ہمیں تو نہیں سوجھ رہاشاید واقفانِ حال کوئی مداوا کر پائیں ۔
ہاں تو ہم کہہ رہے تھے اچھی تو سرمایہ داری ہوتی ہے ۔ لبرل سرمایہ داری ، اس کے بانی مبانی، اور سب سے بڑھ کر موجودہ عہد میں اس کا نمائندہ ’’ امریکا بزرگ ‘‘ یہ سب بہت اچھے ہیں ۔ یہ تو اپنی ابتدا سے ہی اچھے تھے ۔یہ تو اس وقت بھی اچھے تھے جب جنوبی امریکا کے سونے اور چاندی کے ذخائر لوٹنے کے لیے ’’ کمیونسٹوں ‘‘ نے وہاں کے مقامی باشندوں کا اتنے بڑے پیمانے پر قتل عام کیا کہ بعد میں زرخیز زمینوں سے پیداوار کے لیے افرادی قوت کا مسئلہ آن پڑا ۔ اسے پورا کرنے کے لیے 1593سے1700تک 30لاکھ افریقی باشندوں کو جنوبی امریکا’’ روزگار‘‘ کے لیے بھیجا گیا اوراگلے سوسال تک مزید 3ملین افریقی باشندے پر تعیش بحری جہازوں کے ذریعے روانہ کیے گئے ۔1811سے 1870تک کے عرصے میں 109ملین افریقیوں کو اسی طرح کی سہولیات پیش کی گئیں۔یعنی مجموعی طور پر 120ملین افریقی باشندے ایک شاندار زندگی گزارنے کے لیے افریقہ سے روانہ کیے گئے ۔اور جو رہ گئے انھیں اس طرح ’’مہذب ‘‘ بنایا گیا جس کی نظیر نہیں ملتی ۔اب بتائیں سرمایہ داری اچھی ہے کہ نہیں ؟ ۔لیکن ان ناقدین کا کیا کیا جائے جو اس کے ثمرات پہ وارد ہی نہیں ہیں ، وہ اسے غلامی کہتے ہیں ۔ ہے نا بری بات !۔یقیناََ جنوبی افریقہ کا وہ قبائلی سردار بہت برا تھا جس نے کہا تھا کہ ’’ جب گورے یہاں آئے تو ان کے پاس بائبل اور ہمارے پاس زمینیں تھیں ،اب ہمارے پاس بائبل اور ان کے پاس زمینیں ہیں ۔‘‘
یہ سب کمیونسٹوں کی کارستانی ہے ورنہ غلامی اور نسل پرستی اورسرمایہ دارانہ نظام ! نہیں یہ دو مختلف بلکہ متضاد چیزیں ہیں ۔ یہ ریڈ یارڈ کپلنگ بھی تو ’’ کمیونسٹ ہی تھا جس نے کہا تھا کہ ’’سیاہ فام اور رنگ دار اقوام سفید فام انسانوں کے کاندھوں کا بوجھ ہیں۔‘‘ اسی نے محکوم اقوام کو ’’آدھے شیطان اور آدھے بچے‘‘(half devil and half child) قرار دیاتھا ۔ اور پھرمیکڈفے ، یہ بھی ’’ کمیونسٹ ‘‘ تھا جوبرسرِ عام یہ کہتا پھرتا تھا کہ’’ غلامی جمہوریت کے ایوان کا سنگِ بنیاد ہے ،کیونکہ میں اس عقیدے کو فالتو و بیکار سمجھتا ہوں کہ تمام انسان برابر ہیں ۔‘‘1788میں ولیم کوپرنامی ’’ کمیونسٹ ‘‘ شاعر نے کہا تھا؛
’’میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں غلاموں کی خریداری پر اداس ہو جاتا ہوں
اور میں جانتا ہوں کہ ان کی خریدوفروخت کرنے والے بد معاش ہیں
میں غلاموں کی سختیوں ،اذیتوں اور تکالیف کے بارے میں جو کچھ سنتا ہوں
اس سے ایک پتھر سے بھی رحم وتاسف کے جذبات پھوٹ پڑتے ہیں
مجھے ان پر رحم آتا ہے مگر میں خاموش ہو جاتا ہوں
کیونکہ ہم آخر کس طرح بغیر شکر اور رحم کے گزارہ کریں گے۔‘‘
اور ذرا اس برطانوی ڈاکٹر رابرٹ فاکس کو دیکھیے ، کمیونسٹ کہیں کا ،اس نے1850میں’’ انسانی نسلیں‘‘ نامی اپنی کتاب میں لکھا کہ ’’ایک سیاہ فام ،ہوٹن ٹن، یا کافر کی کسے پرواہ ہے؟یہ مسائل پیدا کرنے والی نسلیں ہیں ۔لہٰذا انھیں جتنی جلدی راستے سے ہٹا دیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔چونکہ سیاہ فام اقوام جانوروں کی مانند اپنے وجود کو ایک چھوٹے سے دائرے میں محدود رکھتے ہیں اس لیے اگر انھیں تباہ کر دیا جائے تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔‘‘
’’ کمیونسٹوں ‘‘ کے یہ بیمار خیالات ہی تو تھے جو بعدازاں جنوبی افریقہ ،نمیبیااورروڈیشیا وغیرہ سے لیکر یورپ وامریکا تک میں سیاہ فام اور رنگدار انسانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی بنیاد بنے ۔اور یہ بھی ’’ کمیونسٹ ‘‘ ہی تو تھے جنھوں نے علمِ بشریات ،نظریہ ارتقا اور دیگر سائنسی علوم کو اپنی نسل پرستی کا آلہ بنایا۔ ہٹلر ،مسولینی اور فرانکو جیسے درندوں کو جنم دیا ۔چلیں اب پرانی باتیں جانے دیں ۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے موقع پر ہلاکت خیز ایٹم بم بنانا اور پھر ناگاساکی و ہیرو شیما پر اسے برسانا بھی ہمارے ’’ امریکا بزرگ ‘‘ کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے یہ بھی ’’ کمیونسٹوں ‘‘ کی سازش تھی ۔ امریکا بزرگ ایک لبرل جمہوریت کا پرچارک ہے اور اس کے لیے وہ جہان بھر میں مقدور بھر اپنا کردار ادا کر رہاہے ۔ اس کار خیر میں سارے لبرل دانشور، لکھاری اور صحافی اس کے ہمنوا ہیں ۔
جمہوریت پر امریکا بزرگ کے بے تحاشا احسانات ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ اب شاہ ایران جیسے جمہوریت پسند اور جمہور نواز حکمران کے لیے اگر 1953میں منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کا تختہ الٹا گیا تو اس میں کیا برائی تھی ؟ یہ تو ایک لبرل اقدام تھا ۔اسی طرح 1954میں امریکا بزرگ نے گوئٹے مالا میں جیکب اربینز کی پہلی جمہوری حکومت پرشب خون مارکرکرنل کارلوس کی فوجی آمریت قائم کی اور بعد ازاں رانا اسور یو، جنرل گارشیا، جنرل لوکاس، جنرل ریورس مانٹ، جنرل وکٹر ، جنرل وینی ہو تو انھوں نے خود کو ’’ جمہوریت پسند ‘‘ اور ’’ جمہور کا خادم ہی تو ثابت کیا ہے ۔1961میں اگر امریکا بزرگ اور بیلجیم کی تائید وتوثیق سے کرنل مبوتونے کا نگولی عوام کے پہلے منتخب وزیر اعظم پیٹرس لوممبا کا تختہ الٹ کرانھیں قتل کیا اور پھر 32سال تک کانگو کے سیاہوسفید کا مالک ۔
رہا تو یہ لبرل جمہوری امریکا کا کانگولی عوام پر احسان ہی تو تھااسی طرح1962میں غرب الہند کی جمہوریہ ڈومینکن میں رافیل آمریت کے 31سالہ تاریک عہد کے خاتمے کے بعد پہلے صدارتی انتخابات میں مزدور رہ نما ژوان بوش کا میاب ہوئے تو سات ماہ بعد فوج کے ذریعے ان کا تختہ اُلٹ دیا گیا جس کے بعدوہاں فوج کے دائیں اور بائیں بازو میں جنگ شروع ہوئی تو یہ امریکا بزرگ ہی تو تھا جس نے فوجی مداخلت کر کے اپنی نگرانی میں انتخابات کروائے اور جواکوئن بیلا گوئر کو منتخب کروایا گیاجو1994تک ’’ منتخب ‘‘ ہی ہوتا رہا۔اب بتائیں جمہوریت کی کتنی بڑی خدمت تھی یہ ۔
1964میں امریکا بہادر نے بولیویا کی قومی انقلابی تحریک کے صدر وکٹر پازسورو( جو طویل معاشی وسیاسی بے چینی کے بعد ہونے والے انتخابات میں منتخب ہوئے تھے) کی حکومت کا تختہ فوج کے ذریعے الٹ دیا۔ اس لبرل اقدام سے جنرل بارین توس جیسا جمہوری حکمران بولیویا کو نصیب ہوا ۔
1965میں انڈونیشیا کے پہلے صدر اور تحریکِ آزادی کے ہیرو احمد سوئیکارنو کا تختہ الٹ کر جنرل سوہارتو کی جمہوریت (جسے کمیونسٹ آمریت قرار دیتے ہیں ) کی امریکا بزرگ ہی نے تو رکھی تھی جو1998تک انڈونیشیا میں جمہور اور جمہوریت کی خدمت کرتا رہا ۔اب اس سلسلے میں اگر غیر اشترا کی دنیا کی سب سے بڑی اشترا کی جماعت کچلی گئی اور دس لاکھ سے زیادہ افراد مارے اور دور دراز کے جزائر میں پابند سلاسل کیے گئے تو اس میں کیا برائی تھی ۔اور پھر 1976میں مشرقی تیمور پر سوہار تو کی لشکر کشی کواگرلبرل امریکا سمیت پورے مغرب کی حمایت حاصل تھی جس میں ایک لاکھ’’ شریر ‘‘ انسانوں کا قتلِ عام ہوا تو کیا فرق پڑتا ہے ۔
1966 سے1986ء تک فلپائنی عوام کی سیوا کرنے والے مارکوس کو امریکا کی مکمل تائید وتوثیق حاصل تھی۔ اب بتائیں بھلا کیا مارکوس جمہور نواز نہیں تھا ؟۔ 1966میں گھانا کے پہلے صدر کوامے نکرومہ کا تختہ الٹ کرلیفٹیننٹ جنرل جوزف انکراہ کی سربراہی میں لبرل امریکا نے ایک جمہوریت پسندحکومت ہی توقائم کی تھی ۔1970میں کمبوڈیا کے پہلے صدر نورو ڈوم سہانوک کا تختہ الٹنے والے جنرل لون نال نے بھی جمہوریت کی خوب پرورش کی۔ اب اس کے پانچ سال درخشاں دور میں اگر آٹھ لاکھ انسان قتل ہوئے تو یہ جمہوریت کے لیے قربانی ہی تو ہے ۔1973میں چلی کے پہلے منتخب مارکسسٹ صدر سالوادورالاندے کا تختہ الٹا گیا اور جنرل آگستو پنوشے کی جمہوری حکومت قائم ہوئی ۔اب بھلا ایسا جمہوری حکمران لبرل امریکا کا چہیتا کیوں نہ ہو اور 17سال تک بلا شرکت غیرے چلی کا حاکم کیوں نہ رہے؟۔
1975 1977 میں امریکا بزرگ کی منظوری سے اگرپاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ جنرل ضیاء الحق کی سرکردگی میں الٹا گیا اور اسے لبرل امریکاکی مکمل تائید و توثیق حاصل تھی ۔ اور صرف ضیاء پر ہی کیا موقوف کہ ایوب خان سے جنرل مشرف تک یہاں کے ہر جمہوریت پسند امریکا بزرگ کی منظوری سے ہی خدمتِ عوام کرتے رہے ہیں۔نا صرف پاکستان بلکہ اس پورے خطے میں وہ جمہوریت پھیلائی گئی جس کا مزہ یہاں کے عوام چکھ رہے ہیں ۔ افغانستان اس کی ایک بڑی مثال ہے جہاں لبرل امریکا نے اپنے ہمکاروں کے ساتھ مل کر دنیا بھر کے انتہا پسندوں کو منظم ومسلح کیا اور اب خیر سے وہاں جمہور کی سالاری ہے ۔اسی طرح سعودی عرب، قطر ، بحرین ،متحدہ عرب امارات سمیت خلیج کے سارے جمہوری بادشاہوں اور مذہبی انتہا پسند فکر کی آبیاری بھی اسی لبرل امریکی جمہوریت نوازی کا تحفہ ہے ۔
1979میں نکارا گوا کی انقلابی جماعت سیندی نیستا لبریشن فرنٹ کی طویل جدوجہد کے نتیجہ میں سموزا آمریت کا محل زمین بوس ہوا تو امریکا بزرگ ہی تھا جس نے سموزا جیسے فرزندِ جمہوریت کے حامیوں کو مسلح کر کے وسیع پیمانے پر تشدد کو فروغ دیا۔1980میں ایل سلواڈور کی جمہوریت پر فوج نے امریکا ہی کی سرپرستی میں شب خون مارکر کمیونسٹوں کے بقول عوام کے خلاف اس جنگ کی ابتدا کی جس میں1992تک اسی ہزار کے قریب افراد مارے گئے۔ 1983میں گرینیڈا کی عوامی امنگوں کی ترجمان جماعت نیوجول موومنٹ کے انقلابی وزیرِاعظم مارس بشپ کی حکومت کا فوجی مداخلت کے ذریعے خاتمہ اور ان کا قتل لبرل امریکی جمہوریت ہی کا تو تحفہ تھا ۔1984میں جمہوریہ گنی کی تحریک آزادی کے ہیرو احمد سیکو طورے کی وفات کے فوراً بعدلبرل امریکی سنگینوں کے سائے تلے کرنل لنسانا کانٹے کی جمہوری حکومت قائم ہوئی۔
جائیں ہم اور تفصیلات نہیں بتاتے ۔ مختصر یہ کہ سرمایہ داری اچھی ہوتی ہے ، لبرل جمہوریت اچھی ہوتی ہے ۔ اور یہ جو کمیونسٹ ہے نا یہ سدا کے شرارتی ہیں ۔ الٹے سیدھے اعداد وشمار پیش کرتے رہتے ہیں کہ دنیا میں روزانہ 90لاکھ کے قریب افراد بھوکے سوتے ہیں ، ہر ماہ 9لاکھ بچے ، غربت سے مر جاتے ہیں ،20کروڑ بچے گلیوں ، فٹ پاتھوں یا کچرا گھروں میں سوتے ہیں،25کروڑ بچے جن کی عمریں 13سال سے کم ہے چائلڈ لیبر بننے پر مجبور ہیں اور 10لاکھ بچے ہر سال غربت کے سبب جسم فروشی پر مجبور ہوتے ہیں ۔
سو حاصل نتیجہ کہ لبرل سرمایہ داری اچھی ہوتی ہے ، اس کا فیض عام ہونا چاہیے ، جمہوریت ہونی چاہیے اس کے لیے طالبان ، القاعدہ ، داعش ، بوکو حرام ، الشباب جیسی ’’ جمہور دوست‘‘ تنظیموں کی پرورش اور سرپرستی ہی کیوں نہ کرنی پڑے ۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *