سٹیو سمتھ:آج کا بریڈ مین۔۔۔شہزاد فاروق

بین الاقوامی کرکٹ میں ایک سالہ پابندی کے بعد جہاں ڈیوڈ وارنر نے بہترین کارکردگی کے ساتھ دھماکے دار واپسی کی وہیں سٹیو سمتھ نے ورلڈکپ میں ایک نسبتاً کم تر لیکن عمدہ کارکردگی کے ساتھ واپسی کی اور دس میچز میں چار نصف سنچریوں کی مدد سے 379 رنز بنا ڈالے- ٹیسٹ کرکٹ میں سمتھ کی واپسی لیکن بہترین اور دھماکے دار رہی جب سال بھر سے زائد کے عرصے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے سمتھ نے 122/8 کی پوزیشن سے پیٹر سڈل اور ناتھن لائن کے ساتھ کھیلتے ہوئے بہترین سنچری بناتے ہوئے سکور کو 284 تک پہنچا دیا- اس اننگ کے دوران کہیں ایسا نہیں لگا کہ سمتھ ایک سال سے زائد عرصہ سے ٹیسٹ کرکٹ سے دور تھے بلکہ ایسا لگا کہ جیسے پچھلی ایشز دو تین ماہ پہلے کی ہی بات ہو جہاں سمتھ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا- دوسری اننگ میں ایک بار پھر اوپنرز کے جلدی آؤٹ ہونے کے بعد سمتھ نے ایک اور بہترین سنچری بناتے ہوئے آسٹریلیا کو شکست کے دھانے سے فتح کے نزدیک پہنچا دیا-

دوسری اننگ میں سنچری کے ساتھ سمتھ ایشز ٹیسٹس کی دونوں اننگز میں سنچری بنانے والے آٹھویں بیٹسمین بن گئے, ساتھ ہی 25ویں سنچری تک پہنچنے والے دوسرے تیز ترین بیٹسمین بن گئے, پہلے نمبر پر ڈان بریڈ مین موجود ہیں- ایشز سیریز میں زیادہ سنچریز بنانے والوں میں بھی سٹیو سمتھ کا تیسرا نمبر ہے- ایشز سیریز میں سمتھ کے بہترین ریکارڈ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سمتھ پچھلی دس ایشز اننگز میں 1116 رنز بنا چکے ہیں, جس میں سمتھ کی 6 سنچریز شامل ہیں- ڈان بریڈ مین واحد بیٹسمین ہیں جنہوں دس مسلسل اننگز میں سمتھ سے زیادہ 1236 رنز سات سنچریز کی مدد سے بنائے تھے- دوسری اننگ میں آؤٹ ہونے کے بعد سمتھ بیس سے زائد اننگز کھیلنے والے بیٹسمینوں میں اوسط کے لحاظ سے ڈان بریڈ مین کے بعد دوسرے نمبر پر موجود ہیں-

سٹیو سمتھ کو پہلی بار 2010 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک ون ڈے میچ میں ایک باؤلر کی حیثیت سے موقع دیا گیا تھا- اس میچ میں سمتھ کی بیٹنگ نہیں آ سکی اور 78/2 کی کارکردگی نے سمتھ کو مزید مواقع سے محروم کر دیا- اسی سال انگلینڈ میں پاکستان کے خلاف کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز میں لارڈز کے تاریخی میدان پر سٹیو سمتھ نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا- اس ٹیسٹ میں سمتھ کو صرف دوسری اننگ میں باؤلنگ کا موقع ملا جہاں سمتھ نے 51 رنز کے عوض عمران فرحت, کامران اکمل اور عمر گل کی وکٹیں حاصل کر کے فتح میں اپنا حصہ ڈالا, لیکن سمتھ کی اصل کارکردگی دوسرے ٹیسٹ میں سامنے آئی جہاں سمتھ کو باؤلنگ میں تو زیادہ مواقع میسر نہ آ سکے لیکن دوسری اننگ کے دوران جب آسٹریلیا کی 217 پر 6 وکٹیں گر چکی تھیں سمتھ نے ٹیل اینڈرز کے ساتھ مل کر سکور کو 349 تک پہنچا کر باؤلرز کو پاکستان کے خلاف کسی حد تک موقع فراہم کر دیا- اس بہترین اور جرأت مندانہ اننگ کے دوران سمتھ نے جس طرح محمد عامر, محمد آصف, عمر گل اور دانش کنیریا کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اس سے یہ ظاہر ہو گیا کہ سمتھ شاید بطور ایک بیٹسمین کے بہتر کارکردگی دکھائیں گے-

سمتھ کی بہتر کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایشز سیریز میں سمتھ کو چھٹے اور پھر انڈیا کے خلاف ہونے والی سیریز میں پانچویں نمبر پر ترقی دے دی گئی اور ان دونوں سیریز میں سمتھ نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا- سمتھ نے پہلی سنچری اگلی ایشز سیریز کے آخری ٹیسٹ میں اوول کے گراؤنڈ پر بنائی اور پھر اگلی ایشز سیریز اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن سمتھ کی بہترین کارکردگی 2014-15 میں انڈیا کے خلاف ہونے والی سیریز میں سامنے آئی جب چار ٹیسٹ کی سیریز کے ہر ٹیسٹ میں سٹیو سمتھ نے سنچری بنا ڈالی اور چار سنچریوں کی بدولت 128 کی اوسط سے 769 رنز بنا ڈالے- 2015 کے ورلڈکپ کے بعد سٹیو سمتھ کو ون ڈے اور 2015 کی ایشز کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی بھی دے دی گئی-

2017-18 کی ایشز ٹیسٹ سیریز سٹیو سمتھ کے لئے بیٹسمین اور کپتان کے طور پر بہترین ثابت ہوئی جہاں سمتھ نے 137 کی اوسط سے 687 رنز بنائے اور سیریز بھی 4-0 سے جیت لی- جنوبی افریقہ میں کھیلی گئی اگلی سیریز کا پہلا ٹیسٹ بھی آسٹریلیا نے باآسانی جیت لیا لیکن دوسرے میچ میں شکست کے بعد جب تیسرے میچ کے تیسرے دن ایک اور شکست سٹیو سمتھ اور آسٹریلیا کو سامنے نظر آئی تو سمتھ نے کچھ کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر وہ گھناؤنا کھیل کھیلا کہ جس سے نہ صرف سٹیو سمتھ, ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکروفٹ پر ایک سالہ پابندی لگ گئی بلکہ آسٹریلین ٹیم کی پوری دنیا میں بدنامی بھی ہوئی- آسٹریلوی ٹیم کے سب سے جونیئر کھلاڑی کیمرون بینکروفٹ کولنچ کے وقفے کے بعد ٹی وی کیمروں نے بال ٹیمپرنگ کرتے ہوئے پکڑا تو دنیائے کرکٹ حیران رہ گئی- اسی شام کو سٹیو سمتھ نے اعتراف کیا کہ یہ بینکروفٹ کا انفرادی فعل نہیں تھا بلکہ ٹیم کی میدان میں موجود قیادت نے اسے یہ کام کرنے کو کہا تھا-

تیس سالہ سٹیو سمتھ ایک سال پابندی کے بعد میدان میں دھماکہ خیز کارکردگی سے واپس آئے اور کئی ریکارڈز کو تہس نہس کر دیا جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے- 65 میچز میں 25 سنچریاں بنانے والے سمتھ پچھلے 43 میچز میں 21 سنچریاں بنا چکے ہیں- 2023 کے اختتام تک آسٹریلیا نے تقریبا 38 ٹیسٹ کھیلنے ہیں اور اگر سمتھ اپنی اسی فارم کو برقرار رکھتے ہیں تو ٹنڈولکر کی 51 ٹیسٹ سنچریوں کے ریکارڈ کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں- سمتھ کی ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں کارکردگی عمدہ ہے لیکن ٹیسٹ میچز میں اپنی عجیب و غریب تکنیک کے باوجود سمتھ بہترین کارکردگی کے حامل ہیں- سٹیو سمتھ کو اگرچہ اب آسٹریلیا کی قیادت کا اعزاز حاصل نہیں رہا لیکن سمتھ اپنی بہترین کارکردگی سے موجودہ دور کے بہترین ٹیسٹ بیٹسمین ضرور بن سکتے ہیں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *