ترش روی حق ہے کچھ کچھ۔۔۔۔ماریہ خان خٹک

پہاڑوں کے پتھر بہت تیز اور نوکیلے ہوتے ہیں ۔جو ذرا سا کہیں پاؤں پھسلے اور گر پڑیں تو چوٹ ایسی دیتے ہیں کہ زخموں کی کاٹ بنا سِیے بھرنے کا تصور بھی نہیں ممکن۔۔۔۔ایسی وادیوں میں جو حصہ باقی زمین سے تھوڑا نیچے کو ہوتا ہے وہاں کے پتھر گول گول اور ایسے خوشنما ہوتے ہیں کہ دل چاہتا ہے کہ ہر پتھر کو کسی قیمتی متاع کی طرح سنبھال کر رکھوں۔
پتہ ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اسی لئے کہ  جب بارش برستی ہے تو پانی کا رستہ اوپری سطح سے ہوکر نیچے کو ہی گزرتا ہے۔وہیں رستے میں جو پُرخار پتھر پانی کے ساتھ ملتے جاتے ہیں وہ پانی کی نرم آغوش کی صحبت میں رہ رہ کر  اپنی خارداری کھو بیٹھتے ہیں اور ایسی گولائی اختیار کرتے ہیں کہ نہ صرف نظروں کو بھلے لگتے ہیں بلکہ ان کا لمس بھی باعث سرور ہوتا ہے۔
کبھی آپ نے سوچا کہ ایک ہی زمین کے ٹکڑے پر ایک ہی وادی میں یہ اونچے اور نیچے رہنے والے پتھر مختلف کیوں ہیں؟۔۔ کیوں کہ انہیں پانی جیسے نرم مزاج دوست کی صحبت نصیب ہوئی، جس کے ساتھ رہ رہ کر اونچائی کے زعم میں بلندی کے مغرور پتھروں کی طرح سورج کی تپش سے جھلستے نہیں، طوفانی جھکڑوں سے لرز کر ایک دوسرے سے ٹکرا کر نوکدار نہیں ہوتے۔بلکہ پانی کی نرم مزاجی سے ان کی اپنی فطری سختی نرمی میں بدل جاتی ہے۔۔

ہم بعض اوقات صحبت ِ دوستاں میں رہ کر بھی خود اپنی خلاف ِ فطرت ساخت بناکر بھی خود سے ناواقف ہوتے ہیں ۔۔۔۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے ہم ایسے دوستوں جن کے ساتھ رہ کر ہمارے لفظوں کے پتھر اس قدر نوکیلے ہوگئے ہیں کہ بہت سے نرم خو لوگ اگر ان سے زخمی ہورہے ہیں تو ان دوستوں کے لئے پانی کا کردار نبھائیں ،انہیں غرور کے زعم کی بلندیوں میں جھلسنے سے بچاکر ان کو پانی کی سی عاجزی سکھائیں ،انہیں زخم بھرنے والے بنائیں، اخلاقی قدروں کے ساتھ جینا سکھائیں ۔۔۔۔۔اگر ہم میں وہ صلاحیت نہیں ہے کہ ہم ندی کی سی روانی میں کسی کو ساتھ لے کر چل سکیں تو کم از کم خود اس ندی کا حصہ بن جائیں جہاں ہم خود نرم خو اور بے ضرر لوگوں میں شمار ہوں ۔ہمارے الفاظ ہمارے رویے ، ہمارے لہجے، دوسروں کے دل پہ ایسی کاٹ نہ چھوڑیں کہ بنا سِیے وہ جڑ نہ سکیں، جڑ بھی جا ئیں تو تاحیات نشانِ زخم تازہ رہے۔

اخلاقی ندیاں بلندیاں دیتی ہیں اگر ان میں خلوص سے شامل ہوا جائے۔جب زمینی عوامل سخت پتھروں پہ اثر انداز ہوسکتے ہیں، ہمارے لئے نرم اور میٹھی گفتگو کے ذریعے اپنے اطراف کے ماحول پہ اثر کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے ۔
مصروف ترین زندگی میں ہم یہ تلخ رویے اپنا کر اسے حق سمجھنے لگتے ہیں کہ سیدھی سچی بات صرف تلخ روی  سے ہی ممکن ہے۔

سوچیے  ،تلخ  لہجے اپنا کر سچ اُگلا جاتا ہے، تھوکا جاتا ہے لیکن انڈیلا نہیں جاسکتا ۔۔۔جب کہ سچ کو اندر   انڈیلنے کی ضرورت ہے ،جو آہستہ آہستہ اپنی چاشنی لئے دل میں اتر کر رگ و پے میں سرائیت کر جاتا ہے اور پھر ذہن کو قائل کرکے آپ کو اور آپ سے جڑے ہوئے تمام رشتوں کو ایذا رسانی سے بچاکر سکون و اطمینان والی زندگی جینے کا پورا حق دیتا ہے ۔کیونکہ بعض اوقات سامنے والا اپنی محبت کے باوجود تلخ لہجے کی بدولت اپنی انا اور ضد میں جان بوجھ کر نقصان قبول کرنے میں راضی رہتا ہے اور یہ میں اور آپ خوب جانتے ہیں کہ   کچھ ہم بھی اصولوں پہ کاربند نہیں رہ پاتے مانو جیسے ترش روی  حق ہے کچھ کچھ ۔۔۔۔

ماریہ خان خٹک
ماریہ خان خٹک
میرا نام ماریہ خان ہے خٹک برادری سے تعلق ہے ۔کراچی کی رہائشی ہوں ۔تعلیم ،بچپن اور دوستوں کے ساتھ سندھ کی گلیوں میں دوڑتی رہی ہوں ۔ کتابوں کے عشق اور مطالعے کی راہداری کو عبور کرکے خود قلم اٹھانے کی لگن ہے ۔طالب دعا ہوں اللہ تعالی قلم کا حق ادا کرنے کی توفیق دے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *