چاچا گجر ملک شاپ۔۔۔سلمان نسیم شاد

السلام علیکم چاچا۔
وعلیکم السلام پتر کیسے ہو؟

الحمد اللہ چاچا آپ سناؤ۔ اور کیا ہورہا ہے۔

بس پتر شکر ہے۔ ہونا کیا ہے۔ 11 بج گئے ہیں دودھ کے ٹرک کا انتظار کررہا ہوں۔ نہ جانے کمبخت کہاں رہ گیا۔ مال ختم ہوچکا ہے۔ گاہک پریشان ہورہے ہیں۔ مال آئے تو شٹر اٹھاؤں۔ یہ تو اچھا ہوا تُو پرلے دروازے سے آگیا ورنہ وہ بھی بند ہی کرنے والا تھا۔

خیریت چاچا آج گاڑی لیٹ کیوں ہوگئی؟

پتر اصل میں شہر میں بکرا منڈی کا بہت ہجوم ہے جس کی وجہ سے ٹریفک پھنسی ہوئی ہے۔ ابھی باڑے فون کیا تھا تو معلوم ہوا گاڑی تو کب کی نکلی ہوئی ہے۔

بس اب آتی ہی ہوگی پتر۔

اتنے میں پچھلے دروازے سے ہارن بجاتی ہوئی دودھ کی گاڑی نمودار ہوئی اور چاچا کی جان میں جان آئی۔

لوڈرز گاڑی سے دودھ کے کین اتار چکے تو چاچا نے پچھلا دروازہ بند کرتے ہوئے اوپر سوئے ہوئے ملازموں کو آواز لگائی اوہ بشیرے، نذیرے نیچے آ۔۔ دودھ آگیا ہے، مال تیار کر۔

اوپر سے آنکھ ملتے ہوئے ملازم نیچے اترے اور دودھ کے کین کھول کر اس کو بڑے سے ٹب میں بھرنے لگے۔

اور پتر سنا سیاست میں کیا چل رہا ہے؟

کیا چلنا ہے چاچا بس چل رہی ہے ہماری گلی سڑی سیاست۔۔

پتر ان نواز شریف و زرداری کا تو بیڑا غرق ہو سارا ملک بیچ کر کھاگئے۔ ان کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا پتر۔ ساری زندگی حرام کھاتے رہے۔ عوام کو دھوکا دیتے رہے۔ مرنے کے بعد اللہ کو منہ کیسے دکھائیں گے۔

بے ایمانی و ایمانداری پہ ابھی چاچا کا لیکچر جاری ہی تھا کہ بشیرے نے آکر کہا چاچا مال بھر گیا ہے آجاؤ۔

چاچا اپنی جگہ سے تیزی سے اٹھتے ہوئے، آجا پتر تو بھی آجا پرلی طرف مال تیار کرنا ہے۔

اور وہ چاچا کے ساتھ دوکان کے پچھلے احاطے میں پہنچ گیا۔۔۔۔

چاچا نے آواز لگائی نذیرے پائپ تیرا پیو لگائے گا؟
چاچا کے غصے سے سہما نذیرا تیزی سے دوڑتا آیا اور نلکے پر پائپ فٹ کرکے چاچا کو تھماتے ہوئے کہا اے لو چاچا لگا دیا۔

چاچا نے اس کے ہاتھ سے پائپ لیا اور نلکا کھولتے ہوئے دودھ سے بھرے آدھے ٹب میں پانی ملانا شروع کردیا۔

وہ بڑی حیرانی سے چاچا کو دیکھ رہا تھا جو اب سے کچھ دیر پہلے نواز شریف و زرداری کی بے ایمانی پر ان کو کوس رہا تھا۔

اس کی حیرانی کو دیکھتے ہوئے چاچا نے کہا پتر کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔ تو جانتا ہے پتر مہنگائی کا دور ہے۔ بچوں کا ساتھ ہے۔ بچوں کے لیے کرنا پڑتا ہے۔ اور خالص دودھ تو لوگ پی بھی نہیں سکتے پتر۔۔ کیونکہ سب پانی والے دودھ کے عادی ہوچکے ہیں۔ اور چاچا اپنے اس فعل کی بھونڈی دلیلیں دینے لگا۔

اچھا پتر چھوڑ، یہ بتا!
سنا ہے ابھی مریم و بلاول بھی جیل جائیں گے؟ پتر میں تو دعا کرتا ہوں ان ساروں کو سر عام پھانسی ہوجائے کوئی نہ بچ پائے۔ حرام خور ہیں سارے۔ ہمیں تو پتر معلوم بھی نہیں تھا یہ کمینے کتنے حرام خور ہیں وہ تو اللہ بھلا کرے عمران  خان کا اس نے ہمیں بتایا کہ یہ سب چور اور بے ایمان ہیں۔ جنھیں اللہ رسول کا بھی خوف نہیں ہے۔

وہ چاچا کی بات سن کر مجبوراً سر ہلاتے ہوئے کھڑا ہوا ہے اور کہا: اچھا، چاچا بہت دیر ہوگئی ہے، اب اجازت دو پھر آوں گا۔۔۔۔

ٹھیک پتر چل خیر ہے، چل جا۔

ملاوٹ کرنے کے بعدایک بڑا سا بورڈ اٹھائے چاچا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور بشیرے کو آواز لگائی۔ “بشیرے شیٹر کھول اور یہ بورڈ لگا باہر۔۔۔
بورڈ پہ بڑے بڑے حروف میں درج تھا،

“ہمارے اپنے باڑے کا سو فیصد خالص دودھ، ملاوٹ ثابت کرنے والے کو 5 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے۔”

آج ملک میں ہر کوئی کرپشن کا رونا رو رہا ہے۔ ہر کسی کی زبان پر یہی جملہ ہے کہ فلاں سیاستدان بہت کرپٹ ہے، فلاں سیاسی جماعت کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے۔ مگر اپنے گریبان میں کوئی نہیں جھانکتا۔ بدقسمتی سے ہمارا سارا معاشرہ ہی کرپشن میں ڈوب چُکا ہے۔ سرکاری اداروں کے افسران بالا سے لے کر نچلے درجے کے ملازمین تک اپنی پوزیشن کے مطابق کرپشن کرتے ہیں۔ دکاندار ناپ تول میں کرپشن کرتا ہے۔ دودھ بیچنے والا دودھ میں پانی ملا کر کرپشن کا مرتکب ہوتا ہے۔ طالب علم پڑھائی کو وقت نہ دے کر کرپشن کرتا ہے۔ والدین بچوں کی اچھی تربیت نہ کر کے کرپشن کا ارتکاب کرتے ہیں۔ لہٰذا دوسروں کو کرپشن کا ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے معاشرے سے اس لعنت کے خاتمے کیلئے ہر کسی کو اپنے تئیں کوشش کرتے ہوئے اپنی کرپشن کو ختم کرنا ہو گا۔

سلمان نسیم شاد
سلمان نسیم شاد
سلمان نسیم شاد کراچی فری لانس جرنلٹس رائٹر و بلاگر بائیں بازو کی سوچ اور ترقی پسند خیالات رکھنے والی شخصیت ہیں ایک علمی و ادبی گھرانے سے وابستگی رکھتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *