فسادات کاعہد اور منٹو۔۔۔۔محمد جاوید خان

فن پارے کو سمجھنے کے لیے اس دور کے معروضی حالات کو سمجھنا ضروری ہے۔جس دور میں وہ فن پارہ تخلیق ہواتھا۔سارے سندیسے ایک دم غیب سے نہیں آتے۔زمانی حالات منعکس ہو کر ادب بن جاتے ہیں۔اسی لیے کافکا کے ”میٹا مورفوسس“ میں کافکا کی زندگی اوراس کا قرب وجوار دکھتا ہے۔اُس کے ناول ”مقدمہ“میں رشوت ستانی،بینکوں اور دفتروں میں فائلوں کے انبار میں بیٹھے عمررسیدہ،عینکوں والے کلرک،ناانصافیاں،معاشی اورنفسیاتی الجھنیں نظر آتی ہیں۔مارکیز کی تحریروں میں اس کابچپن،علاقائی خدوخال،دریا،سڑکیں اور گلیاں ہیں۔منٹو ۲۱۹۱؁ ء کو پیدا ء ہوا۔تب یہاں انگریزمسلط تھے۔برصغیر تقسیم نہ ہواتھا۔ترقی پسندوں کے چرچے تھے۔گورگی،چیخوف،ٹالسٹائی اور وکٹر ہیوگو جیسے لوگ پڑھے جارہے تھے۔انقلاب،سرمایہ دار،زمین دار موضوع بحث تھے۔منٹو کا ”نیاقانون“،”ٹوبہ ٹیک سنگھ“، ”ٹیٹوال کا کتا“، ”آخری سیلیوٹ“فسادات و تقسیم کاعہدہیں۔اور یہ عہد منٹو کا عہد ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پاگل کردار یہ نہیں جانتے کہ تقسیم کیا ہے۔؟پاکستان کیا ہے۔؟اور ہندوستان کیا ہے۔؟یہ سب اپنی اپنی دنیا کے مالک اور خالق ہیں۔ یہ پریشان ہیں کہ انھیں ان کے پاگل خانوں سے دوسری جگہ کیوں منتقل کیا جارہا ہے۔منٹو نے تقسیم پر افسانے ہی نہیں لکھے،لطیفے بھی لکھیں ہیں۔مثلاً ایک لطیفہ ”پٹھانستان“ کے نام سے ہے۔”خو ایک دم جلدی بولو،ٹم کون اے۔؟
”مَیں مَیں“
خو شیطان کا بچہ جلدی بولو“
”اِندو اے یا مسلمین“
”مسلمین“
ایک اور لطیفہ ”جوتا“ کے نام سے ہے۔
”ہجوم نے رخ بدلا اور سرگنگا رام کے بت پر بل پڑا۔لاٹھیاں برسائی گئیں۔اینٹیں اور پتھر پھینکے گئے۔ایک نے منھ پر تارکو ل مل دیا۔دوسرے نے بہت پرانے جوتے جمع کیے اوران کاہار بنا کر بت کے گلے میں ڈالنے کے لیے آگے بڑھا۔مگر پولیس آگئی اور گولیاں چلناشروع ہو گئیں۔جوتوں کا ہار،پہنانے والا زخمی ہو گیا۔چنانچہ مرہم پٹی کے لیے اسے سر گنگا رام ہسپتال بھیج دیا گیا۔“
منٹو نے تقسیم کے دوران جو نفسیات مشاہدہ کیں۔وہ اس کے ناولوں،افسانوں،مکالموں اور لطیفوں میں نطر آتی ہے۔”لوٹا ہوامال برآمد کرنے کے لیے پولیس نے چھاپے مارنے شرو ع کیے۔لوگ ڈر کے مارے لوٹا ہو امال رات کے اندھیرے میں باہر پھینکنے لگے۔کچھ ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنا مال موقع پاکر اپنے سے علیحدہ  کر دیا تاکہ قانونی گرفت سے بچے رہیں۔ایک آدمی کو بہت دقت پیش آئی اس کے پاس شکر کی دوبوریاں تھیں جو اس نے پنساری کی دکان سے لوٹی تھیں۔ایک تو وہ جوں جوں رات کے اندھیرے میں پاس والے کنویں میں پھینک آیا۔لیکن جب دوسری اٹھا کر اس میں ڈالنے لگا تو خود بھی ساتھ چلا گیا۔شور سن کر لوگ اکھٹے ہو گئے،کنویں میں رسیاں ڈالی گئیں۔دوجوان اترے اور اس آدمی کو باہر نکالا۔لیکن چند گھنٹوں بعد وہ مرگیا۔دوسرے دن جب لوگوں نے استعمال کے لیے اس کنویں میں سے پانی نکالا تو وہ میٹھا تھا۔اسی رات اس آدمی کی قبر پر دیے جل رہے تھے۔“ان چند سطروں میں برصغیر کی مجموعی نفسیات نظر آتی ہے۔
اس کے ایک لطیفے ”خبردار“ جس کی کل چار سطریں ہیں،میں بلوائی مالک مکان کو باہر گھسیٹ کر جب قتل کرنے لگتے ہیں۔تو و ہ دھاڑتا ہے۔”تم مجھے مار ڈالو لیکن خبردار میرے روپے کو ہاتھ لگایا“ان چار سطروں میں وہ انسانی نفسیات کا ایک دفتر بند کردیتا ہے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انسانی محبت کا عکس بھی نظر آتا ہے۔بھائی چارہ،جو انسان کی پہچان ہے۔افسانے کے آخری پیروں سے پہلے ایک پیرے میں فضل دین،بُشن سنگھ سے مخاطب ہو تا ہے۔”اب سنا ہے تم ہندوستان جارہے ہو۔بھائی بلبیر سنگھ اور بھائی ودھاوا سے میرا سلام کہنا اور بہن امرت کو ر سے بھی،بھائی بلبیر سنگھ سے کہنا فضل دین راضی خوشی ہے۔دو بھوری بھینسیں جو وہ چھوڑ گئے تھے،ان میں سے ایک نے کٹا دیا ہے۔اور دوسری کے کٹی ہوئی تھی پر وہ چھ دن کی ہوکے مرگئی۔اور میرے لائق جو خدمت ہو،کہنا میں ہروقت تیار ہو ں اور یہ تمہارے لیے تھوڑے سے مرنڈے لایا ہوں۔“
منٹو کشمیر کو اور فسادات کو اپنے لاشعور سے کبھی نہ نکال سکا۔برصغیر کی تقسیم میں عجلت تھی یا کوئی اور خلا۔؟ حیوانیت نے انسانیت کو بے بس کر کے رکھ دیا۔انسانیت پر جو زخم لگے ہیں۔ان میں بڑا زخم یہ ہے کہ ایک زمین پرصدیوں تک رہنے والے باسیوں نے ہی ایک دوسرے کاخون کیا،آبروریزیاں کی اور مال و اسباب لوٹا۔مذہب کے نام پر انتہائی بے مذہب لوگوں نے،جن کامذہب ہوس،لالچ،حرص زمین اور دوسروں کامال تھا۔اپنے جیسے انسانوں پر حیوان بن کر ٹوٹ پڑے۔منٹو نے ان زخموں کو اپنے دل پر لگا محسوس کیا اور پھر یہ محسوسات موت کی وادی تک اس سے الگ نہ ہوسکے۔

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *