• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اک ریل کے سفر کی تصویر کھینچتا ہوں۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

اک ریل کے سفر کی تصویر کھینچتا ہوں۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING
speciaal sale
SHOPPING
SALE OFFER

پیوست ہے جو دل میں وہ تیر کھینچتا ہوں
ایک ریل کے سفر کی تصویر کھینچتا ہوں
گاڑی میں گنگناتا مسرور جارہا تھا
اجمیر کی طرف سے جے پور جارہا تھا
(جوش ملیح آبادی کی نظم ریل کا سفر ابتدائی بند)
ریل کے سفر سے ہمارے رومانس کی ابتدا چھوٹی گیج کی ٹرین سے ہوئی۔ حیدرآباد تا کھوکرا پار یہ پاکستانی علاقہ تھا اور مونا باؤ راجھستان سے آگے بھارت ۔اس سے پہلے کراچی ایکسپریس اور ریل کار  کا سفر ہمیں اچھا لگا تھا۔اعلی الصبح اماں جی کے ساتھ چھٹیوں میں ان ریل گاڑیوں میں سوار ہوکر کراچی ماموں کے گھر جوبلی سنیما کے پاس آجاتے تھے۔یہ سن ساٹھ کی دہائی کے ابتدائی برس تھے۔ریل کا یکطرفہ کرایہ چار روپے۔وہ بھنا ہوا گوشت، تھرماس کی چائے، وہ پوریاں، آلو، پراٹھے۔

مونا باؤجوناگڑھ
ایس ایس صابر متی
آمیش گھرانہ
آمیش لوگ
آمش بگھی
آمیش لوگ
آمیش لوگ
پین اسٹیٹ یونی ورسٹی
میری ہم جولیاں رہ گئیں سب وہاں
گائے کے دودھ کا تازہ مکھن

ایک دن اماں جی کو خیال آیا کہ ہمارے جیسی بے تاب روح سے جوناگڑھ، آبائی گاؤں ونتھلی اور والد کے شہر ممبئی کے قصے بیان کرنے کا کیا حاصل اگر اس کو ان مقامات کی Feel ہی نہیں آتی۔پیدائشی پاکستانی،بے اعتباری کے قومی سرکے میں ڈوبا ہوا  یہ تو پرکھوں کی جاگیر، ان کے طمطراق کسی حوالے سے قائل ہی نہ ہوگا۔سو اس کو چچا امیجی پٹیل(نانا)، اماں جی اور دیگر رشتہ داروں سے ملا کر لے آتے ہیں۔سفر یوں ہوگا کہ ممبئی تک ریل اور ممبئی سے واپسی اسٹیمر ایس۔ایس صابرمتی سے کراچی تک کا بحری سفر۔
ریل سے موناباؤ راجھستان سے جوناگڑھ، گجرات تک کا سفر ان دنوں لگ بھگ آٹھ سو میل کاہے کل دورانیہ پورے ایک دن پانچ گھنٹے کا ہے مگر ان دنوں یعنی جولائی سن1963 میں ڈھائی تین دن لگ جاتے تھے۔مون سون کی وجہ سے سفر مزید آہستہ ہوجاتا تھا۔ہمارے ذہن میں اس سفر کی بہت یادیں ہیں۔

آپ کا بچپن اور اس کے کندہ نقوش زندگی کے بہت بنیادی ذائقے اور حوالے بن جاتے ہیں۔امریکہ میں دوران تعلیم پین اسٹیٹ یونی ورسٹی کے آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں ہم نے اپنی دوست سمانتھا ولسن ٹیلر کو کہا ماں دی موم بتیے گھر سے دور ہیں مدھانی کا رڑکا ہوا مکھن کھانے کو دل کرتا ہے۔
ایک دم پلٹ کر پوچھنے لگی ”پہلے کھایا ہے یا مجھے دیکھ کر مستی سوجھی ہے؟“۔ہم نے بتایا کہ”ہم کس اہم میمن گجراتی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں،حویلی میں اپنے اصطبل اور باڑے ہوتے تھے۔روہانسی ہوکر کہنے لگی یہ بچپن کے ذائقے بہت خوار کرتے ہیں۔میں  بارہ برس کی تھی جب ہمارے پڑوس میں رہنے والے ولسن ٹیلر نے مجھے چوما۔ ایسی چس پڑی کہ پھر کوئی مرد اچھا نہیں لگا۔اسی کے پیچھے یہاں یونی ورسٹی چلی آئی اس کی رہائشی گرل فرینڈ ہوں اور تم جیسے لوزر کی دوست  بن گئی۔ہم نے کہا وہ ولسن ٹیلر جواسٹنٹ منیجر ر ہے۔بھوتنی کی وہ تو تجھ سے پورے پندرہ سال بڑا ہوگا،کہنے لگی تمہارے ملک میں کلینڈر دیکھ کر مرد، پپیاں، چومیاں لیتے ہوں گے۔ہمارے سُپر پاور دیس میں ایسا نہیں۔دھیمے مرد مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔پرانی شراب جیسے۔ہونٹ یوں چومتے ہیں گویا فلسطین کے کسی غار سے ملنے والا بائبل کا نایاب نسخہ ہوں۔بہت دن بعد پیار میں جلنے والی ایک اہم شخصیت کی ویڈیو وائرل ہوئی تو ہم نے سمانتھا کو بہت یاد کیا کہ یوں لگا کہ ہمارے ہاں بھی بڑے اہم لوگوں کو قدیم نسخے بھی دستیاب ہوگئے ہیں۔چوم چوم کر انہیں ورق ورق پڑھیں گے ان بڑے لوگوں نے غالب کا اپنی گرل فرینڈ سے شکوہ آئین جواں مردان سمجھ کر یوں اپنا لیا کہ سرکار کے شیروں کو آتی نہیں روباہی(لومڑی والے حربے) والا سبق یاد ہوگیا۔یاد ہے نا غالب نے کہا تھا کہ اپنی کسی چہیتی کو کہا تھا کہ بھوتنی اولاد کی ع
غنچہء ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ  یوں
بوسے کو پوچھتا ہوں میں، منہ سے مجھے بتا کہ یوں

ہمارے ایک دوست نے پوچھا کہ اگر مولانا خادم حسین پین دی سری والے یہ شعر کہتے تو کیا کیا حسین اضافے ہوگئے ہوتے۔

دنیا کے گرد اسی ٹرینوں میں

ششی تھرور کی کتاب

مونیشا راجیش
مونیشا راجیش
مونیشا راجیش
مونیشا راجیش
مونیشا راجیش

امول ساونت کی تصویر
جو ہیگل کی تصویر
مارجی لنگ کی تصویر

بدھ کے دن سمانتھا اپنی پرانی موٹر سائیکل لے کر اچانک ہمیں صبح چار بجے لینے آگئی کہ چلو تمہیں Belleville, لے چلوں۔وہاں امیش لوگوں کا بدھ بازار لگتا ہے۔وہاں مدھانی کا مکھن ہوگا۔ شہد، دیسی انڈوں ،گھر کی ڈبل روٹی کا ناشتہ بھی مل جائے گا۔ہم نے کہا پراٹھا بھی ،تو ناراض ہوکر جانے لگی کہ تم سب مرد ایک جیسے ہوتے ہو۔تھوڑے پر صبر نہیں ہوتا۔ہم نے یوں اچانک آمد کا پوچھا تو کہنے لگی میری رات کو میاں ولسن سے لڑائی ہوگئی۔ میں برہنہ بیٹھ کر Conceptual art پر اسائنمنٹ کرتی تھی کہ آندھیوں کے ارادے  شہوت کے طوفان سے رل مل گیا ۔ میرا انکار، تکرار میں بدلا اور میں اسائنمنٹ مکمل کرکے کچھ دیر سو کر چلی آئی کہ چلو کم از کم دنیا میں ایک مرد تو مجھ سے خوش ہوجائے۔

امریکہ کے آمیش لوگ بہت عجیب ہیں۔جرمن بائبل پڑھتے ہیں جو بہت حد تک زبانی ہے۔انگریزی اور جرمن بولتے ہیں۔میمنوں اور فوج کی طرح اعلی تعلیم کو بُرا سمجھتے ہیں۔تعلیم کا سلسلہ آٹھویں جماعت پر ہمیشہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہوجاتا ہے۔بجلی،بٹن اور کار استعمال نہیں کرتے۔ گھوڑا گاڑی ذریعہ آمد ورفت ہے۔سیدوں کی طرح شادیاں بھی آپس میں کرتے ہیں اس لیے مورثی بیماریاں بھی بہت عام ہیں۔سید اس اعتبار سے ذرا لبرل ہیں کہ ان کی لڑکیاں کم از کم باہر عشق تو لڑالیتی ہیں۔آمیش لڑکیاں سعودی  خواتین کی طرح بہت مغرور ہیں۔ دیگر مردوں کو کم تر جان،مان کر دیکھتی تک نہیں۔عورتوں کو فرحت ہاشمی والے کام کرنے کی اجازت نہیں۔ یوں ان کے ہاں مولانا طارق جمیل تو بہت ہیں ،فرحت ہاشمی ایک بھی نہیں۔کیمرے کا استعمال نہیں کرتے۔سمانتھانے بتایا کہ اگر دوران حمل آمیش عورت کو کسی بات سے خوف محسوس ہو تو یہ خیال غالب آجاتا ہے کہ بچے کے بدن پر کوئی نہ کوئی  برتھ مارک ہوگا۔کہنے لگی میرے بدن پر بھی ایک برتھ مارک ہے مگر وہ دکھانے والی جگہ پر نہیں۔میری لڑائی نے طول پکڑا تو پھر شاید تمہیں دیکھنے کی مہلت مل جائے۔عورتوں کو بھی غصہ آسکتا ہے۔ہم نے بھی کہا کہ ہمیں غصیلی عورتیں ہی اچھی لگتی ہیں۔

بات ریل کے سفر سے شروع ہوئی تھی۔ان دنوں ہمارے زیرِ  مطالعہ Around India in 80 Trains نامی کتاب ہے جس کو لکھنے کا محرک جولز ورن کی کتابAround the World in Eighty Days بنی تھی۔کتاب کی مصنفہ مونیشا راجیش کے ڈاکٹر والدین کا تعلق تامل ناڈو سے تھا۔وہ انگلستان جا بسے جہاں یہ پیدا ہوئیں۔کچھ برس بعد یہ لوٹ آئے مگر جلد ہی انگلستان کی یاد ستانے لگی اور چوہوں نے بہت تنگ کیا تو انگلستان واپس لوٹ گئے۔
مونیشا بہت اہم اداروں سے وابستہ صحافی رہی ہیں۔جن میں ٹائم میگزین، برطانوی اخبارات گارڈین،دی ٹائمز اور اور دی ویک جیسی مطبوعات شامل ہیں۔بھارتی نژاد افراد نے مغرب کو خوب سمجھا اور لوٹا ہے گو ان کے مشہور سیاست دان اور صحافی ششی تھرور  کا کہنا ہے  کہ بھارت کی غربت کی ایک وجہ برطانوی راج میں یہاں سے لوٹ کر لے جائی   گئی دولت بھی ہے۔ان کی کتاب Inglorious Empire: What the British Did to India, کا محرک آکسفورڈ یونی ورسٹی کا ایک مباحثہ تھا۔یہ ایک باقاعدہ مجموعہ افکار بن گیا
وہ اور دیگر جدید بھارتی مفکرین اس بات کو تواتر سے آگے بڑھاتے ہیں کہ انیسویں صدی میں بھارت کی تعمیر میں جو ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی راج کا حصہ ہے وہ دراصل ایک بہت منظم قسم کی لوٹ مار تھی۔برطانیہ کو یہ خزانے بھارت کو واپس لوٹانے چاہیئں۔ششی کا مقابلہ آج سے چند سال پہلے اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل شپ کے لیے بانکی مون سے ہوا تھا۔وہ اب بھی اپنی بین الاقوامی شخصیت کو تسلیم کرانے کے چکر میں لگے رہتے ہیں۔ششی کا کہنا ہے۔۔۔۔بھارت اور چین اس زمانے میں دنیا کے  منظم ترین اور مالدار ترین خطے تھے جنہیں انگریزوں نے لوٹ کر برباد کردیا۔ششی تھرور کی گفتار کمال کی ہوتی ہے۔پاکستانی سیاست دان اور لیڈر تو ان کے آگے میلے پیلے اسکول کے بچے لگتے ہیں۔Niall Ferguson نامی برطانوی تاریخ دان جن کی کتاب Empire: How Britain Made the Modern World (2003) دنیا پر برطانوی راج کے احسانات گنواتی ہے۔ششی تھرور اس کی ضد اور نفی کرتے ہیں۔

مونیشا راجیش کی کتاب کا انتساب ہی جان لیوا ہے بالکل اروندھتی رائے کی The God of Small Thingsکی طرح، ان کی کتاب میں پبلشنگ ایجنٹ کو یوں یاد کیا گیا ہے کہ
David Godw’in,. For making the waters part.
(ڈیوڈ گوڈون۔۔۔۔جن کی وجہ سے سمندر نے پھٹ کر راستہ دیا)۔۔

طالبہ
اویسی صاحب
سدح گرو اور کنگنا رناوت
کنگنا امی ابو کے ساتھ
کنیا کماری تا کشمیر
کنیا کماری تا دی بھرگاہ طویل ترین روٹ
گجراتی گربہ
برصغیر کی پہلی ریل
طویل ترین روٹ کی ٹرین وویک ایکسپریس
دشمنوں سے قربت
دشمنوں سے نفرت سے اجتناب
بھارت کا ریلوے اسٹیشن
ریل کا سفر بھارت میں

مونیشا نے اپنی کتاب اس ننھے منے وجود بے بی راجیش کے نام کی ہے مگر بیان بہت دل گداز ہے کہ
for Baby Rajesh who is still on board… May all your journeys be filled with adventure.
بے بی راجیش کے نام جو میرے اندر سفر میں ہے۔رام کرے ایسا ہوجائے کہ اس کی زندگی کی تمام مسافتیں دلچسپیوں سے بھری رہیں۔

ہم نے ترجمے کی کوشش تو کی ہے مگر still on board ایک ماں کے حوالے سے جو جذبات کی تہہ در تہہ نزاکت ہے اس کا بیان کرنا کوئی آسان کام نہیں۔

مونیشا کا 40,000 کلومیٹر کا یہ ایڈونچر بہت دل چسپ ہے۔ یہ سفر انہوں نے اپنے ایک مرد فرانسیسی ساتھیJean Passe part out کی رفاقت میں کیا۔سچ پوچھیں تو سیاحت اور سفر کا اصل لطف ہی ایک جوڑے کی صورت میں آتا ہے۔ہم نے ساٹھ ملکوں کی سیاحت میں ان سیاحوں کو سب سے پر مسرت اور لطف اندوز پایا جو ایک صورت میں جوڑے کی صورت میں نکلے تھے۔قونیا ترکی میں ہمیں ایک جوڑا ملا تھا۔ تلنگانہ کا بھارتی مرد۔یونی ورسٹی کا انجینئرنگ کا پروفیسر اور اس کی آدھی عمر کی حسین گوری امریکی شاگرد۔اسفنج کے چپل،برمودا، ٹی شرٹ،مسافتوں کا غماز رول آن تھیلا  اور دونوں کے بیک پیک۔اس کے بعد سے ہمارا تنہا مسافت سے تو دھیان ہی اٹھ گیا۔

چار ماہ کی اسیّ ٹرینوں کا یہ سفر نامہ بہت خوب ہے۔دنیا میں بھارت سے زیادہ مست اور چالاک انگریزی بولنے اور لکھنے والے کہیں نہیں پائے جاتے۔دوسروں کا کیا کہیں ہمارے اسد الدین اویسی صاحب صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین جن کی دلیری سے بھارت گھبراتا ہے۔ان کی انگریزی گفتار سنیں۔ لوک سبھا میں بولتے ہیں تو ان کو سن کر  مودی جی کو پسینہ آجاتا ہے۔کہیں بھی غصہ اور بد تہذیبی نہیں کرتے مگر بات ایسی مدلل اور ٹھوک کر کرتے ہیں کہ اثر کرتی ہے۔ان کو سن کر شہباز شریف اور سنجرانی صاحب تو لگتا ہے تو انگریزی اخبار کے قریب بھی نہیں گئے۔ایسا ہی معاملہ اداکارہ کنگنا رناوت کا ہے بہت پڑھی لکھی نہیں مگر جس اعتماد سے اس پیر فرتوت سدھ گرو کو ایک پروگرام میں دھواں دھواں کیا اور بھارت میں انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے مظاہرے کے طور Mob-Lynching(ہجوم ہلاکت) کے بارے میں ان کے مصلحت پسندانہ بزدل طرز فکر کواجاگر کیا اس پر ان کی اخلاقیات اور انسان دوستی کی منافقت پر بڑے سوال اٹھے۔

مونیشا کا لکھنے کا انداز بھی دیگر بھارتی انگریزی صحافی اور مصنفوں جیسا ہے۔اس میں آپ خوشونت سنگھ، کلدیپ نائر، ارون شوری، ایم جے اکبر، برکھا دت اور شوبھا ڈے کا بارہ مسالے والا ذائقہ چکھ سکتے ہیں۔وہ بہت سادہ انداز میں اپنے ہم سفروں کا  مذاق بھی بناتی ہیں اور بھارت کی وہ عام عوامی زندگی جو کنیا کماری سے کشمیر تک پھیلی ہے اس کا ایک اجمالی جائزہ لیتی رہتی ہیں۔مونشا راجیش کی سب سے بڑی خوبی جو اس سفر نامے کو بے حد دل چسپ اور ایک پاکستانی قاری کے لیے انوکھا بناتی ہے وہ انکے سفر کا صحافتی اندازِ  بیان ہے۔اس وجہ سے وہ کہانی کے تمام اہم ترین لوازمات کو چینی شعبدہ باز کی گیندوں کی طرح نچاتی رہتی ہیں۔یہ جزئیات، واقعہ، کردار اور محل ِ وقوع زبان و بیان کی گیندیں ہیں جو ایک دائرے کی صورت میں ایک ہاتھ سے اچھل کر فضا میں ناچتے ہوئے دوسرے ہاتھ میں پہنچ جاتی ہیں۔صحافت کی بنیادی تربیت یہ ہی  ہوتی ہے کہ واقعہ میں خبر کی کھوج لگاؤ اور خبر میں دل چسپی کا مچلتا ہوا پہلو اجاگر کرو، یہ اہم ترین پہلو اس پورے سفر نامے کو کسی بھی جگہ پر بوجھل اور تحقیقی طور پر ثقیل نہیں ہونے دیتا۔ان کا بیان سادہ دل چسپ اور گدگداتا رہتا ہے۔ا س سفرنامے کے مطالعے میں ہمیں ہر وقت   مونیشا کے جملوں  اور الفاظ کی کاٹ میں شوخ اور محتاط دلفریب مسکراہٹ کی وہ جھلک دکھائی دیتی رہی جس کے بارے میں مجروح سلطان پوری نے کہا تھا ع
جھکی جھکی پلکوں میں آکے۔
دیکھو گُپ چپ آنکھوں سے جھانکے
تمہاری ہنسی
ابھی ابھی آنکھوں سے چھلکے
ابھی کچھ کچھ ہونٹوں پہ ڈھلکے
تمہاری ہنسی۔۔۔۔

اس پر یہ بھی بہت کمال ہے کہ 80 مختلف ٹرینوں میں بے شمار قسم کا مختلف ماحول کا احوال ایک گجراتی گربے کا سماں پیدا کرتا ہے۔
انگریزوں کا دعوی تھا کہ جنگِ آزادی سے پہلے ہندوستان جو محض ایک علاقہ تھا ، اسے مملکت کا روپ دے انہوں نے ڈاک ، ریونیو، سول سروس، فوج اور ریلوے سے ایک لڑی میں پرودیا۔ان کی آمد سے پہلے بھارت پسماندہ عیاش راجاؤں اور نوابوں کا ایک خطہء چشمک اور سازشوں کا گڑھ تھا۔ وہ آئے تو حکومت، عدل،قانون تعمیرات کا دور شروع ہوا۔ ان سے پہلے بھارت میں کوئی کالج کوئی جامعہ نہ تھی۔ سن 1632 تاج محل جب بنا تو اس چار سو سال پہلے1209 میں کیمبرج اور اس سے بھی دو سو سال پہلے1096 میں آکسفورڈ کی جامعات وجود میں آچکی تھیں۔ہندوستان کے راجے مہاراجے، نواب،سردار یا تو عورتوں سے کھد بد کرتے حرم بناتے تھے یا مندر،مسجد، شوالے، محل چوبارے، باغات اور مزارات، انہیں درسگاہ بنانے کا خیال کبھی نہ آیا۔

ریل انہوں نے جنگ آزادی سے چار سال پہلے بمبئی میں چلادی تھی۔دو اسٹیشنوں تھانے اور ممبئی کے درمیان پینتیس میل کا سفر تھا۔
مونیشا راج اور ان کے ساتھ جین کا سفر جس کا آغاز سن 2010 میں کنیا کماری (کنیا کماری بھارت کا جنوب ترین شہر ہے)۔ مدراس کے پاس ہوا اور اس کا اختتام کشمیر میں یہ کل چار ماہ پر محیط تھا۔یوں یہ سفر دنیا کے دائرے کے برابر کی مسافت ہے۔ان کی سب سے طویل سفروالی ٹرین تو ھیم ساگر ایکسپریس یعنی ہمالیہ ساگر ایکسپریس کا سفر تھا جو لگ بھگ2750 کلو میٹرتھا اب ہیم ساگر ایکسپریس کو  ان کی ویویک ایکسپریس نے پانچ سو کلو میٹر سے پیچھے چھوڑدیا ہے۔
کتاب مطالعے کے دوران آپ کو یوں لگتا ہے کہ بھارت ہماری طرح کئی صدیوں میں جیتا ہے۔ہمارے ہاں تو کسی ادارے میں بھی آپ کو مکمل طور پر بیسویں صدی کی علامات بھی کامل انداز میں نہیں دکھائی دیتیں مگر بھارت جسے دنیا بھر میں سیاحت کے اعتبار سے مشہور تو مانا جاتا ہے مگر سیاحوں کی وہ نمبر ون منزل نہیں۔خود ایشیائی ممالک میں بھی بھارت ساتویں نمبر کی مملکت برائے سیاحت ہے۔

جب اعداد و شمار کی بات ہو تو وہاں ہانگ کانگ سے بھی آدھے اور کراچی میں ڈیفنس جتنے علاقے کے برابر ملک سنگاپور سے صرف چالیس لاکھ زیادہ، یعنی سالانہ کل ڈیڑھ کروڑ سیاح آتے ہیں۔
مونیشا کا بیانیہ آخر میں آن کر آپ کو چمکیلے مزاح سے بھرپور ایک ایسا ڈرامہ لگتا ہے جس میں فساد اور ہنگامے سے بچ بچا کر اپنے سفر پر دھیان دیا گیا ہے۔ اس کی پہلی مثال تو وہ ہے جب مدراس سے ان کے ساتھ بیٹھے ادھیڑ عمرمسافر پربھاکر رات کے اندھیرے میں ان کی ٹانگوں پر ہاتھ پھیر تے ہوئے کمبل کے اندر سے گریباں کی تلاشی لینے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان سے الجھنے کی بجائے اپنے رفیق سفر کی بالائی نشست پر جاکر دراز ہوجاتی ہیں اور عین اس لمحے ان کی نگاہ
Harassing women passenger is punishable offence
والے بورڈ پر پڑتی ہے(کہ خواتین مسافروں کو ہراساں کرنا ایک قابل سزا جرم ہے)جسے وہ مسکراکر پڑھ کر آنکھیں موند لیتی ہیں۔مونیشا کو حیرت ہوتی ہے کہ یہ بھارت کے مسافر خاندان کے خاندان، کتے،بکریوں، چولہوں سمیت ٹرین میں چڑھ جاتے ہیں۔وہاں ہر قسم کا گھریلو منظر نامہ بھی ہوتا ہے اور اتنی بھیڑ بھاڑ میں ہر قسم کی اچھی بری وارداتیں بھی دھڑلے سے جاری رہتی ہیں۔
ہم دوستوں سے کہتے ہیں بھارت پر رج کر نظر رکھیں۔ان کے بارے میں جو بھی ملے پڑھیں، جو کچھ بھی سیکھنا ہے ان سے سیکھیں۔آپ نے گاڈ فادر تو دیکھی تھی نا ،اس کی دو باتوں کو کم از کم اپنے دشمنوں کے حوالے سے تعویز بنا کر گھول کر پی لیں۔۔۔
پہلی بات
Keep your friends close, but your enemies even closer.”–
اپنے دوستوں کو قریب مگر دشمنوں کو قریب تر رکھیں۔
دوسری بات

SHOPPING

Never hate your enemies.It affects YOUR JUDGMENT
اپنے دشمن سے کبھی نفرت نہ کریں اس سے آپ کی قوت فیصلہ مسخ ہوجاتی ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *