• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جنت ارضی سے اٹھتا دھواں ،اُمتِ مسلمہ اور ہماری ذمہ داریاں۔۔۔۔عامر عثمان عادل

جنت ارضی سے اٹھتا دھواں ،اُمتِ مسلمہ اور ہماری ذمہ داریاں۔۔۔۔عامر عثمان عادل

پس منظر کشمیر جنت نظیر بھارتی جبر و ستم اور ظلم و استبداد کے ہاتھوں جہنم سے بدتر ہو چکا ہے، حرماں نصیب اہلِ  کشمیر کی ابتلا ء و آزمائش آج کی نہیں صدیوں پر محیط ہے ،نہتے معصوم بے بس بے گناہ کشمیریوں پر مسلط فوج نے جس انداز میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں ہلاکو اور چنگیز خاں کی روحیں بھی شرما جائیں ۔انسانی حقوق کی جس قدر خلاف ورزیاں اس خطے میں روا رکھی گئی ہیں تاریخ عالم ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے ،ستم در ستم یہ کہ سب سے بڑی جمہوریت اور ایک لبرل ریاست کے نام نہاد دعویدار آزاد میڈیا کو وادی تک رسائی دینے سے قطعی انکاری ہیں کہ اس عمل سے انگار وادی کی خونچکاں صورت حال دنیا کے سامنے آ جائے گی لیکن انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں کڑے پہروں اور سنسر شپ کے باوجود جو تصویریں کبھی کبھار سامنے آ جاتی ہیں وہ نا صرف ضمیرِ عالم کو جنھجوڑتی ہیں بلکہ انسانیت پہ ماتم کناں بھی نظر آتی ہیں، نصف صدی سے جاری بھارتی تسلط کے دوران ہزاروں گھر نذر آتش کر دئیے گئے بستیاں اجاڑ ڈالی گئیں کئی نسلیں اپاہج کر دی گئیں عقوبت خانوں میں نجانے کتنی ماؤں کے لعل بد ترین اذیتیں دے دے کر شہید کر دئیے گئے ،بے بس ،مجبور عفت مآب کشمیری خواتین کی عصمت کی چادریں تار تار کر دی گئیں۔
وادی کی آج کی صورتِ حال اور نسلِ  نوء اپنی آنکھوں سے وحشت بربریت اور درندگی کے مناظر دیکھ دیکھ پروان چڑھنے والی نسلِ  نو آج شعلہ جوالا بن چکی ہے۔ ان کے جذبات کا عالم یہ ہے کہ اس کے پی ایچ ڈی نوجوان یونیورسٹیوں کے استاد انجینئرز بھی ہاتھوں میں بندوق اٹھا چکے ہیں کیونکہ انہیں ذلت کی زندگی اور غیرت کی موت میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا تھا اور لا محالہ ان کا انتخاب ظالم سے ٹکرا کر آبرو مندانہ موت کو گلے لگانا تھا۔

بھارتی جبر نے ستم کے نت نئے انداز ایجاد کر کے اہل کشمیر پر آزما کر بھی دیکھ لئے جب روائتی اسلحہ ناکام ٹھہرا تو پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیاروں کا سہارا لے کر پوری ایک نسل کو اپاہج اور نابینا کرنے کی ٹھان لی لیکن آفرین ہے نہتے کشمیریوں پر ،بھارتی سینا کی گولیاں کم پڑ جاتی ہیں۔مگر آزادی کے متوالے کشمیریوں کے سینے کم نہیں پڑتے۔
آج لہو لہو وادی کے بچے بھی اتنے نڈر ہوچکے ہیں کہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈٹ جاتے ہیں، یہ وہ نسل ہے جس کی بیٹیاں بھی میدان عمل میں نکل آئی ہیں گولیوں کی بوچھاڑ آنسو گیس کی یلغار بھی ان حوازادیوں کے حوصلے کم  کرنے میں ناکام رہتی ہے آج کشمیر کی بیٹیاں بھی میدان میں اپنے مجاہدوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں، یہ وہ نسل ہے جو اب آزادی سے کم کسی شے پر راضی ہونے والی نہیں، جس کا مقابلہ دنیا کی سب سے بڑی فوج جو جدید اور مہلک ہتھیاروں سے لیس ہے سے ہے جس کے مقابلے میں کشمیری بچے اور عورتیں اور کچھ بن نہیں پڑتا تو ہاتھوں میں پتھر لئے سینہ تان کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔
بھارت کا خوف اور ہندو پنڈتوں کی آباد کاری،بھارتی حکومت اور فوج اپنے تمام تر ہتھکنڈوں ظلم و ستم اور کشمیریوں کے قتل عام کے باوجود ان کے جذبہ حریت کو کچلنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اس کے کئی سابقہ آرمی چیف بارہا بھارت سرکار کو باور کرا چکے ہیں کہ طاقت کا استعمال آئے روز کشمیریوں کو بھارت سے دور کرتا جا رہا ہے نسل نو کی بے خوفی ،پڑھے لکھے طبقے کا بندوق اٹھا لینا، ایسے عوامل ہیں جو بھارتی نیتاؤں کی نیندیں حرام کر چکے ہیں ،اس کے بڑے سر جوڑ کر بیٹھ چکے ہیں کہ اگر بیرونی دباؤکے تحت کبھی استصواب رائے کرانا بھی پڑ جائے تو یہاں مسلم اکثریت کا تناسب ہی بدل ڈالا جائے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری اور اپنے اس مذموم ایجنڈے پر مکار بنیا ایک عرصے سے خاموشی سے عمل پیرا ہے ،یہ ایجنڈا دو مراحل پر مشتمل ہے پہلے مرحلے میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی ،قتل عام کے ذریعے ان کی تعداد کم کرنا اور دوسرے مرحلے میں بھارت بھر سے ہندو پنڈتوں کو جموں اور قرب و جوار میں بسا کر عددی اکثریت کا توازن بھارت کے حق میں کرنا شامل ہے تاکہ اگر کبھی کسی مرحلے پر رائے شماری کرنا بھی پڑے تو نتیجہ بھارت کے حق میں ہو۔

بھارتی عدالت کا فیصلہ!

بھارتی سرکار ایک عرصے سے نام نہاد الیکشن کا ڈھونگ رچا کر اور کٹھ پتلی نمائندوں کے ذریعے مقبوضہ وادی پر کنڑول حاصل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے اب اس کی شدید خواہش ہے کہ عدالتی حکم کا سہارا لے کر وادی کو دہلی سے کنٹرول کیا جائے لیکن ہائیکورٹ کے حالیہ تاریخی فیصلے میں معزز جج نے مقبوضہ کشمیر کو ایک الگ تھلگ خطہ قرار دیتے ہوئے بھارت کے دعوؤں کو باطل قرار دے دیا جس پر بھارت سرکار پاگل ہوئی  پھرتی ہے اور اب وہ اسے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے بعد اس فیصلے کو معطل کروا کر اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی مودی کا انکار اور بھارتی خفت!

امریکہ بہادر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنے مخصوص مزاج، کھلے ڈلے لہجے اور اکھڑ پن کیلئے خاصے مشہور ہیں انہوں نے اس وقت پوری دنیا کو یہ کہہ کر چونکا دیا کہ مودی نے ان سے کشمیر کے تنازعے پر ثالثی کی درخواست کی ہے اور یہ انکشاف ٹرمپ نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کے موقع پر کیا جس پر بھارت سرکار ہل کر رہ گئی، خود بھارت سے مودی کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں تو فوری طور پر بھارت کی تردید سامنے آ گئی، لیکن ٹرمپ انتظامیہ ڈٹ گئئ اور بھارت کی اچھی خاصی کلاس بھی لے ڈالی۔

وادی کی موجودہ صور تحال اور بھارتی اقدامات!

ذمہ دار حلقوں کا کہنا یہی ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کے انکشاف نے مودی سرکار کو حواس باختہ کر ڈالا ہے اپنے ہی دیش سے اٹھنے والی مخالف آوازوں نے اس کا ناطقہ بند کر ڈالا ہے اور اوپر سے دگرگوں معیشت, ایسے میں مودی اب اپنی خفت مٹانے کو کسی ایڈونچر کی تاک میں ہے۔

کل سے وادی کی موجودہ صور تحال انتہائی  خطرناک اور تشویشناک ہو چکی ہے ،بھارت نے کئی ہزار مزید فوجی وادی میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے، بھارتی فضائیہ کو ہائی  الرٹ کر کے وادی کو سیاحوں سے فوری طور پر خالی کرا لیا گیا ہے جبکہ تمام تعلیمی اداروں کے ہوسٹلز بھی خالی کر دینے کا حکم صادر کر دیا گیا ہے ان اقدامات سے پوری وادی شدید خوف و ہراس کی لپیٹ میں آ چکی ہے مقبوضہ کشمیر کی مسلمان قیادت نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کرنے کے ساتھ ساتھ مدد کی اپیل بھی  کر دی ہے، جن میں بزرگ حریت پسند رہنما سید علی گیلانی پیش پیش ہیں ان رہنماؤں کو  خدشہ ہے کہ بھارت تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام کرنے جا رہا ہے۔ ادھر کشمیری رہنما یٰسین ملک کے متعلق بھی اچھی خبریں نہیں آ رہیں جو بھارتی قید میں شدید بیمار بھی ہیں اور مسلسل جبر و تشدد کا نشانہ بھی، ان کے اہل خانہ اور اہلیہ کی فریاد سینہ چیرے دیتی ہے ۔

کنڑول لائن پر صور تحال !

بھارت ہمیشہ ایک کمینہ دشمن ثابت ہوا ہے جو بزدلی سے وار کرتا ہے اور نہتے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، کل سے کنڑول لائن پر بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور بمباری کا سلسلہ جاری یے اور تمام تر بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے بھارت نے کلسٹر کھلونا بم بھی مقامی آبادیوں پر پھینکے جس کے نتیجے میں بے شمار لوگ زخمی ہو چکے ہیں ۔

پاکستان کا رد عمل !

آئ ایس پی آر نے بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کلسٹر بم میں ممنوعہ بارود کے استعمال کو جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور بھارت کو واضح پیغام دیا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کی بجائے ہمارا سامنا کرو ۔

پاکستانی حکومت کا ردعمل !

آج وزیر اعظم پاکستان نے سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی جس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سیکرٹری خارجہ وزیر خارجہ اور مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی ،اس اجلاس میں بھارتی جارحیت کی مذمت کی گئی، کشمیری مسلمانوں کو اپنی حمایت کا یقین دلایا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔

اقوام متحدہ کا کردار !

اقوام متحدہ جو طاقتور ممالک کی لونڈی ہے اس سے کسی قسم کے کردار کی توقع رکھنا محض خام خیالی ہے، یہ ادارہ کسی کردار کے قابل ہوتا تو یہاں تک نوبت ہی کیوں پہنچتی، جو ادارہ اپنی ہی قراردادوں پر عمل درآمد نہ کروا سکے اس سے کسی قسم کی توقع رکھنا فضول ہے ۔

عالم اسلام اور امت مسلمہ !

کیسا عالم اسلام اور کونسی امت ؟ جن کا اپنا اتحاد پارہ پارہ ہے کشمیر و فلسطین میں بہتا لہو تباہ حال عراق و افغانستان ملبے کا ڈھیر ،شام اور اس ملبے تلے دبے کیمیاوی ہتھیاروں کا شکار شامی بچوں کے چھلنی لاشے اس امتِ  مرحوم کے نوحے سناتے ہیں ۔عالمِ  اسلام کے ہوس پرست حکمران اپنے اقتدار کو طول دینے میں مگن ہیں انہیں کیا لینا دینا ہے، امت سے یا امت کے مسائل سے ،عالمِ اسلام بے حسی کی چادر اوڑھے بے غیرتی کے بیش قیمت بچھونوں پر دراز ہے،
وادی سے اٹھتی آوازیں اور پاکستان کے نعرے  بھارتی جبر و استبداد کے پنجے تلے دبے کشمیری مسلمان دن رات پاکستان کے نام کی مالا جپتے ہیں، کوئی  تہوار ہو یا عید پاکستان کا یوم آزادی ہو یا کرکٹ میچ میں فتح پوری وادی پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھتی ہے، جس دیس میں پاکستانی پرچم کی نمائش غداری ٹھہرے اس کی فضاوں میں سبز ہلالی پرچم ہر سو لہراتا دکھائی  دیتا ہے، کسی ماں کا لال وادی کا کوئی مجاہد سپوت برہان وانی دھرتی ماں کی حرمت پر قربان ہو جائے تو گولیوں کی بوچھاڑ کی پرواہ کئے بغیر لاکھوں کشمیری گھروں سے نعرہ تکبیر کا ورد کرتے دیوانہ وار نکل پڑتے ہیں پاکستان کا نام ان کے لبوں کیلئے اسم اعظم کی مانند ہے اور اس گھڑی تو وقت بھی تھم جاتا ہے جب اپنی ساری زندگی جدوجہد آزادی کی نذر کر دینے والا بوڑھا مجاہد علی گیلانی اپنی ساری توانائیاں جمع کر کے مجمع پر رقت طاری کر دیتا ہے کہ پاکستان ہمارا ہے ۔

حکومت اور اپوزیشن کا فرض !

اس نازک گھڑی حکومت کا فرض ہے کہ وہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے افواج پاکستان کو ہر طرح کی جارحیت سے نبٹنے کی مکمل آزادی دے اور بھارتی سازش اور مکر و فریب کو اقوام عالم پر آشکار کرنے کی خاطر سفارتی محاذ پر فوری طور پر اقدامات کرے دوست ممالک کو اپنا ہمنوا بنائے اور بھارت کا ناطقہ بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کر گزرے ۔
بیرونی دنیا کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی اور وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کرنے کی خاطر حکومت فوری طور پر ملک بھر کی تمام جماعتوں سے اچھی شہرت اور سوچ کے حامل رہنما منتخب کر کے نمائندہ وفود تشکیل دے جو پوری دنیا کے دورے کر کے عالمی برادری کی حمایت حاصل کر پائیں اس سے یہ تاثر ابھرے گا کہ اس مسئلے پر پورا پاکستان ایک آواز ہے ۔
اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ اس نازک موڑ پر سیاست کو ترک کر کے ملکی سلامتی اور کشمیری مسلمانوں کی مدد کی خاطر تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر ایک جان ہونے کا ثبوت دیں ۔

سمندر پار پاکستانیوں کے فرائض !

پوری دنیا میں پھیلے ہوئے پاکستانی اس اہم مسئلے پر پاکستان کے سفیر ہونے کا مظاہرہ کر سکتے ہیں بہت سے اوورسیز پاکستانی ان ممالک میں بااثر حیثیت رکھتے ہیں اپنی اس حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سب اہل کشمیر کے حق میں آواز بلند کر سکتے ہیں مل کر ان ممالک میں صدائے احتجاج بلند کر کے ضمیر عالم کو بیدار کر سکتے ہیں اور حکومت پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے وفود کی میزبانی سے لے کر ان ممالک کے حکمرانوں پارلیمنٹ اور میڈیا تک رسائی  میں معاون بن سکتے ہیں ۔
میری پاکستانی قوم کیا کرے؟
پیارے پاکستانیو ں
تاریخ ہمیں اس موڑ پر لے آئی  ہے جہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ایک قوم ہیں جسے اپنے وطن کی سالمیت پیاری یے یا پھر بھیڑ بکریوں کی مانند ایک ریوڑ جو ٹکڑیوں میں بٹا ہے جسے کوئی جدھر چاہے ہانک کر لے جائے
یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے
کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ذرا دیر کو تصور کیجئے
وادی کشمیر سے اٹھنے والی صداؤں پہ اپنے کان دھر کر سنیں
جہاں کوئی ماں اپنے لال کوئی بہن اپنے ویر کوئی باپ بڑھاپے کے سہارے کوئی سہاگن اپنے سہاگ کی لاش سامنے رکھے بین کرنے کی بجائے نعرہ بلند کرتی ہے
تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ اللہ
تو پھر آئیے
محض کچھ دن سیاست سیاست کھیلنا بند کر کے اپنے اپنے لیڈر کے دفاع کو ترک کر کے دوسرے کے لیڈر کو گالیاں دینے کی بجائے وادی سے آنے والی ان صداوں پر ہم بھی لبیک کہتے ہوئے
جواب میں نعرہ بلند کریں
تیرا میرا رشتہ کیا
لا الہ الا اللہ
ہم میں سے ہر کوئی اپنا فرض پورا کر سکتا ہے
سوشل میڈیا پر آواز بلند کر کے
بھارتی استبداد کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کیلئے کچھ دن اپنے اکاونٹ وقف کر دیجئے بس
اس چڑیا کی مانند  جو اللہ کے پیارے کو آگ کے شعلوں سے بچانے کی خاطر اپنی ننھی سی چونچ میں پانی بھر بھر لاتی اور آگ بجھانے کی کوشش اور میرے رب کو میرا عمل نہیں میرا اخلاص ہی تو پسند ہے ۔
جنت کبھی ہو سکتی نہیں کفر کی جاگیر
اب بن کے رہے گی تیری بگڑی ہوئی  تقدیر
اے وادی کشمیر اے وادئ کشمیر

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *