بے ربطی سے بے ربطی تک ۔۔۔عنبر عابر

وہ بستر مرگ پر لیٹا تھا اور اس کے دماغ میں بچپن کی یادیں ابھر رہی تھیں۔ان یادوں میں ایک دھندلی سی یاد ایک ویڈیو کی بھی تھی ۔یہ اس وقت کی ویڈیو تھی جب وہ پہلی بار بولا تھا اور اس کے ماں باپ نے یہ یادگار لمحات ہمیشہ کیلئے محفوظ کرلئے تھے۔وہ جب بھی اس ویڈیو کو دیکھتا تو عجیب سا محسوس کرتا تھا۔اس ویڈیو میں وہ کتنا چھوٹا سا تھا اور ڈگمگاتے ہوئے چل رہا تھا۔اسے اپنے پیروں پر چلنا نہیں آتا تھا۔ساتھ میں وہ اپنی توتلی زبان سے کچھ بول بھی رہا تھا۔الفاظ ناقابل فہم تھے لیکن ماں باپ کی خوشی دیدنی تھی۔وہ یہ نامانوس الفاظ سن کر بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔پھر وہ دھیرے دھیرے نشوونما پاتا گیا اور الفاظ معانی کے جامے پہننے لگے۔

وہ سوجھ بوجھ میں اپنے ہم عصروں پر فائق تھا۔فصاحت اس کے گھر کی لونڈی تھی۔اپنا موقف منوانے اور دوسروں کو دلیل سے قائل کرنے میں بلا کی مہارت رکھتا تھا۔لفظ اس کے منہ سے نکلتے اور مخاطب کے دماغ کے دریچے وا ہونے لگتے۔پیچیدہ گتھیاں عقل کے ناخنوں سے یوں سلجھاتا کہ کوئی الجھن باقی نہ رہتی۔کج فہمی کے اندھیروں میں معانی کے ستارے یوں جگمگاتے کہ لفظ اپنے ہونے پر فخر کرتے…ان دنوں جب کبھی اسے وہ ویڈیو یاد آتی تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ جاتی۔اسے اپنی زبان کی طراری پر فخر محسوس ہوتا۔۔۔
آج وہ بستر مرگ پر پڑا یہی کچھ سوچ رہا تھا۔اس نے اپنی توتلی زبان سے ترقی کا جو سفر شروع کیا تھا وہ اس کی معراج پر پہنچ گیا تھا۔قوتِ نطق ہی اس کی شخصیت کا اہم جزء ثابت ہوئی تھی اور اس کی فصاحت اس کی پہچان بن گئی تھی۔ناگاہ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ سانسیں اکھڑنے لگیں۔آنکھیں بے نور ہونے لگیں۔۔

وہ اپنے آخری الفاظ بولنے لگا۔اس کے رشتےدار نم آنکھوں کے ساتھ اس کے قریب آئے اور اس کے الفاظ سننے اور سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔لیکن ان کے چہروں پر پریشانی تھی۔اسے زندگی کے  ان آخری لمحات میں یہی احساس ہوا کہ ایک بار پھر اس کے الفاظ ناقابل فہم ہوگئے ہیں!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *