بلڈ پریشر۔۔۔۔عزیز خان

بلڈ پریشر ایک ایسی بیماری ہے جو امیر لوگوں ،بیوروکریٹس اور حکمران خاندانوں میں بکثرت پائی جاتی ہے کبھی کبھی ایسے سیاستدان جو کرپشن میں جیل جائیں تو شروع شروع میں ان کا بلڈ پریشر ہائی اور بعد میں low ہو جاتا ہے۔

یہ اُن لوگوں میں بھی زیادہ ہوتا ہے جن کے پاس غربت کے بعد اچانک بے شمار دولت آجائے ان لوگوں کو عرف عام میں نو دولتیا بھی کہا جاتا ہے۔مگر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ یہ بلڈ پریشر ہمیشہ اپنے سے کم تر لوگوں پر زیادہ ہوتا ہےاور جب بھی آپ کا بلڈ پریشر اپنے سے بڑے عہدہ دار یا امیر آدمی پر ہائی ہو گا تو آپ اپنے انجام کے خود ذمہ دار ہوں گے اور اس بات کا مجھے بہُت تجربہ ہے اور اس کی سزا کئی دفعہ ملازمت کے دوران بھگت چُکا ہوں۔

1989 کا واقعہ ہے میری بطور سب  انسپکٹر پروموشن ہوئی تھی اُن دنوں ہمارے SSP ایک رینکر آفسر تھے اور اُن کی ریٹائرمنٹ قریب تھی SSP کو غصہ بہت آتا تھا اور بات بات پہ وہ اپنے ماتحت پولیس ملازمان کی بے عزتی کرنے میں ماہر تھے اور جب اُن سے اتنے غصے  کی وجہ پوچھی گئی تو معلوم ہوا کہ صاحب موصوف کو بلڈ پریشر کی بیماری ہے جس کی وجہ سے وہ ماتحت ملازمین پر غصہ کرتے ہیں۔

ان دنوں نواز شریف وزیراعلی پنجاب تھے وفاق میں بےنظیر کی حکومت تھی اور نواز شریف وفاقی حکوت کو ختم کرنے کے درپے تھے ،اس سلسلہ میں وہ رحیم یار خان ضلع کا طوفانی دورہ کر رہے تھے
میری ڈیوٹی سفید پارچات میں vip کے ساتھ تھی، ہماری ڈیوٹی یہ ہوتی تھی کہ جونہی  vip کی گاڑی رکتی تھی یا vip باہر نکلتے تھے ہم نے اُنہیں  حفاظتی حصار میں لینا ہوتا تھا۔

لیاقت پور میں جلسہ کے بعد وزیر اعلی خان بیلہ کے لیے روانہ ہوئے تو ریلوے پھاٹک بند ملا یہ وہ ریلوے پھاٹک تھا جو اُس وقت 24 گھنٹوں میں 22 گھنٹے بند رہتا تھا۔
جس کی وجہ سے وزیراعلیٰ کا قافلہ رُک گیا ،ہم سب نے فوری طور پر vip کی گاڑی کو حصار میں لے لیا۔

SSP صاحب بھی دوڑ کر گاڑی کے قریب آئے وزیراعلیٰ نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا اور SSP صاحب کی بھر پور عزت افزائی کی
میرا مُنہ حیرت سے کھُلا رہ  گیا کہ بلڈ پریشر کے مریض SSP صاحب کو بالکل غصہ نہ آیا ،نہ ہی بلڈ پریشر ہائی ہوا۔بلکہ یوں لگا اُن کا بلڈ پریشر Low ہو گیا ہے اور اُس دن مجھے انکشاف ہوا اور یقین ہو گیا کہ بلڈ پریشر ہمیشہ غریب آدمی اور ماتحت پر ہائی ہوتا ہے۔

پھر جوں جوں میری ملازمت کی مدت  زیادہ ہوتی گئی ،ان آنکھوں نے اپنے بہت سے افسران کا بلڈ پریشر High اور Low ہوتے دیکھا۔

ایک افسر کو تو اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے سامنے بے ہوش بھی ہوتے دیکھا ،اب شاید نواز شریف کا بلڈ پریشر بھی گھر سے کھانا نہ آنے اور AC نہ ہونے سے ہائی ہے یا Low ہے کوئی خبر نہیں۔۔

بہُت سے محکموں اور اپنے محکمہ کے صو بائی سربراہ کو ان سیاستدانوں حکمرانوں سے گالیاں بھی کھاتے دیکھا۔
پر نہ تو اُن کے مُنہ سے اُف نکلی نہ ہی بلڈ پریشر زیادہ ہوا۔۔۔یہی افسران اپنے آفس کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر عوام کے لیے فرعون ہوتے ہیں۔

اگر یہی افسران عہد کر لیں کہ وہ کسی سیاستدان کی غلط بات نہ مانیں گے ،اپنی پوسٹنگ نہ بچائیں گے، ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی کریں گے تو بہت کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے اور محکموں کی عزت بھی بحال ہو سکتی ہے ۔

پولیس ملازمین اندھے گونگے اور بہرے ہوتے ہیں ،نہ اپنے ساتھ کی گئی زیادتی کسی سے شئیر کر سکتے ہیں اور نہ اپنے سامنے کی گئی کسی افسر سے زیادتی کسی کو بتا تے ہیں، پھر یہ سارا غصہ عوام پر ہی نکالتے ہیں۔

آجکل شہباز شریف ،آصف زرداری ،شاہد خاقان ، حمزہ شہباز وغیرہ کا بلڈ پریشر کافی Low ہے البتہ مولانا فضل الرحمان ، مریم نواز اور بلاول کا بلڈ پریشر بُہت ہائی ہے دیکھیں کتنے دن ہائی رہتا ہے اور یہ قانون نافذ  کرنے والے اداروں پر بھی منحصر ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *