پاکستانی عوام کے جمہوری تصورات۔۔محسن علی

میں سمجھتا ہوں پاکستان میں شخصیت پرستی خاص کر سیاسی شخصیت پرستی کو وہ ملکہ حاصل رہا ہے جو کسی اور کو نہیں یا مُلائیت کو اس کی بنیادی وجہ مذہب اور شاید ہمارا گلیمرائز  کرتا ہُوا ماضی ہے جہاں مسلمانوں کے لئے بہت سے فاتح اور دوسری طرف یہ کہ جو آپ کو کُچھ سکھادے ،اُسکی “عزت “کرو ،عزت کا مقصد یہ لے لیا گیا کہ اُس کی بات جو سمجھ نہ آئے خُود اس کے لئے مثبت سوچ لیا کرو میرے والدین بھی عمران خان کی طرح ایوب خان کے  دور کو  سنہرہ دور کہتے ہیں اور سیاستدانوں کو بُرا بھلا جب کہ جو دوست احباب سیاستدانوں کو لیڈر سمجھتے ہیں وہ اُنکے غلط اقدامات نظر انداز کرکے ایک انسان سے زیادہ  خدائی درجہ دے رکھتے ہیں ، مجھے بھٹو صاحب کبھی  بہت پسند رہے  مگر جوں جوں بھٹو صاحب کو پڑھنا شروع کیا ،ویسے ویسے میں نے بھٹو صاحب کا تقابلی جائزہ مختلف لیڈران سے کرنے کی کوشش کی، تووہ الطاف   حسین اور عمران خان کے زیادہ  قریب  لگے ۔

آپ نے بات کی جمہوری تصور  کی،جو ہمارے یہاں  پایا جاتا ہے وہ ایک یوٹوپیائی قسم کا پایا جاتا ہے کہ ووٹ دیا جمہوریت آگئی ۔ اب اگلے پانچ سال میں سب کے ذہنوں میں ہوتا ہے کہیں نہ کہیں وہ مسائل فوی تیز تر حل ہوجائیں گے،وہ اس پروسیس کو سمجھتے ہی نہیں، سالوں کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے صدیاں لگی ہیں یورپ کو اور نارویجین ممالک کو  کم عرصہ لگا ہے۔ ہاں آج اگر بات کی جائے تو ٹیکنالوجی کے حوالے سے تو جمہوریت کو پنپنے میں کم وقت لگنا چاہیے، ہم میں سے کتنے لوگ جماعت کے منشور پڑھنا گوارا  کرتے ہیں یا ہم جب ووٹ کے دن ہوتے ہیں تو گلی محلے  کی جو میٹنگز ہوتی ہیں اُن میں بیٹھنے کی کوشش کرکے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ہم لوگ بس اخبار و ٹی وی کی دنیا سے سیاست کو دیکھتے ہیں ۔ کوئی جماعت کام کروادے یا نوکری دلوادے تو ہماری اگلی نسل تک اُسی کو ووٹ دیگی کیونکہ ہمارے بڑے سمجھاتے ہیں یہ احسان فراموشی ہے ۔

جب کہ دوسرا تصور یہ ہے کہ ایک بار امام خمینی کی طرز سے کوئی سچا لیڈر آکر کرپشن کرنے والوں کو دھڑا دھڑ پھانسیاں دے تو سیاست صاف ستھری ہوجائے گی اور کرپشن سے پاک  بھی جبکہ یہ ایک فاشسٹ سوچ ہے، جس کا جمہوریت سے کوئی دور دُور تک کا لینا دینا نہیں ۔
جبکہ تیسرا تصور یہ ہے کہ یہ ہمارے صوبے سے ہے ،ہماری بولی سے ہے ،لہذا ووٹ اسی کو دیا جائیگا ،یہی نجات دہندہ ہے، ہمارے یہاں دوسری زبان بولنے والوں کو غدار یا مُلک دُشمن سمجھا جاتا ہے ہمارے یہاں کی عوام کا ایک حصہ اس سوچ کا حامل ہے ۔

یہ سچ ہے سب سے سحر انگیز نعرہ بھٹو کے پاس تھا لیکن میں نے پڑھا ہے جس سیاسی یا مذہبی شخص کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ محض نعرے ہی دے سکتا ہے ۔ پروپیگنڈہ ایک اہم ہتھیار ہے جو ہر پارٹی مختلف طرز سے استعمال کرتی ہے، ن لیگ سوویز کے ذریعے کرتی تھی اُنکا میڈیا سیل پی پی سے اسٹرانگ تھا پی پی فوج کے خلاف کرتی ہے، فوج کی نسبت پی پی کا میڈیا سیل اسٹرانگ رہا، ماضی میں آپ کی بات درست ہے ہمارے یہاں پارٹی سے چیئرپرسن نکل جائے تو خالی چیئر بچتی ہے، اسکی تازہ مثال مُتحدہ کے ساتھ جو ہُوا ،غلط سعی کی بحث کو چھوڑ کر ۔

عوام کی رائے پر اتفاق انتہائی ضروری ہے ہمیں لوگوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ  وہ پارٹی کے منشور کو پڑھیں اور اُنکے عمل پر نظر رکھیں ساتھ اگر وہ کوئی کام کررہے ہیں تو مطلب یہ نہیں کہ احسان کررہے ہیں، نہیں ،وہ اُن کا کام ہے، جو وہ کرہے ہیں ،آپ کے علاقے میں جو زیادہ بہتر طرز سے کام کرے یا کروائے آپ اُس کو ووٹ دے سکتے ہیں ۔سرکاری نوکری اگر کوئی پارٹی آپ کو دلوادیتی ہے یا ملک سے باہر بھجوادیتی ہے اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اُس کے سیاہ کو بھی سفید بتانے کی کوشش کریں ۔

عوامی  رائے پر متفق ہونا ضروری ہے، جمہوری عمل کے لیے مگر کیا ووٹر پارٹیوں کو جمہوری عمل پارٹیوں کے اندر کرنے کی ترغیب دے سکیں گے یا یونہی ہمارے  حصے  میں شخصیت پرستی کی بُنیاد پر پارٹیاں بناتی رہے گی ،اسٹیبلشمنٹ اپنے مفاد کے لئے اور عوام کے لئے جمہوریت، ایک ڈراؤنا خواب بن کر رہ جائیگی؟

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *