راستے خون پیتے ہیں۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے اقتباس

راستے اکثر “راستہ” ہو کر بھی راستے میں ہی “راستہ” ڈھونڈنے والوں کو بھٹکا دیتے ہیں۔”راستہ” تو اصل میں راستے کو خود کا “راستہ” بھی نہیں دیتا۔راستے کو بھی کہاں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔۔۔ کہاں پہ ختم  اور اسی راستے پر شروع سے اختتام تک نہ جانے کتنے لوگ , کتنی خواہشیں , کتنی زندگیاں, کتنی امیدیں, کتنے ہی وعدے, دم توڑتے چلےجاتے ہیں،مگر راستہ قائم رہتا ہے۔۔۔ کسی کے آنے سے, کسی کے گزر جانے سے اور کسی کے بھٹک جانے سے راستوں کو کبھی بھی فرق نہیں پڑتا۔ ہر قدم پہ راستہ اور ہو یا ہر قدم اسی ایک راستے پہ پڑے، دونوں ہی صورتوں میں “راستہ” مستقل رہتا ہے۔ جس راستے کو خود اپنا آغازاور انجام نہ معلوم ہو وہ کہاں کسی کے”آغاز” کو “انجام” تک لائے گا۔ راستے منزلوں سے بے خبر ضرور ہوتے ہیں،بھٹکا دیتے ہیں، مگر راستے بہت حوصلہ مند  بھی ہوتے ہیں۔۔۔نہ جانے کتنے بھٹکتے قدموں کی ضربیں سہتے ہیں۔پھر بھی کسی کے قدموں کو منجمند نہیں کرتے۔نہ جانے کتنے لوگ ان راستوں سے ہوتے ہوئے گناہوں کی منزل تک جاتے ہیں۔پھر بھی راستے ہر بار ان قدموں کو برداشت کرتے ہیں۔۔۔نہ جانے کتنے ظلم ان راستوں کو اپنے سامنے دیکھنے پڑتے ہیں۔پھر بھی راستے قائم و دائم رہتے ہیں،کبھی خون میں نہاتے ہیں۔کبھی آنسووں میں بھیگتے ہیں،کبھی خزاؤں کے خشک پتوں کا رقص دیکھتے ہیں،مگر راستہ قائم رہتا ہے،راستے منزلیں سمیٹے ہوئے مگر منزلوں سے بے خبر رہتے ہیں۔

یونہی تو کچھ بھٹکتے لوگ محبت کے شروع اور اسکے اختتام سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ نہ وہ کسی کی منزل ہوتے ہیں، نہ کسی کی منزل بنتے ہیں، نہ کسی کو منزل تک پہنچاتے ہیں۔ہر قدم پہ وعدے ,خواہشیں , امیدیں توڑتے یا تو اسی جگہ بار بار قدم رکھتے ہیں یا ہر بار جگہ بدلتے ہیں۔کبھی کہیں کسی ایسے رستے پہ قدم رکھتے ہیں کہ نہ واپسی کا راستہ ملتا ہے نہ منزل کا نشاں۔وہیں   راکھ ہو کر نشان چھوڑ جاتے ہیں۔پھر راستے ان عبرت کے نشانوں کو مٹا دیتے ہیں،تا کہ آنے والے کہیں یہ نشان دیکھ کر نصیحت حاصل نہ کر لیں۔یہاں راستوں کی سفاکیت عروج پکڑتی ہے۔انسانوں نے نصیحت حاصل کر لی،یا انسانوں نے منزل کا پتہ لے لیا تو لوگ اکثر ہی ان راستوں پر بھٹکنا چھوڑ دیں گے۔راستے تنہا ہونے سے ڈرتے ہیں۔۔۔راستوں کو بھٹکتے ہوئے لوگوں کا ہجوم چاہیے،جن کے بھٹکتے قدم کرب اور اذیت میں انہی راستوں پر بار بار پڑیں اور راستے محظوظ ہوں،راستے جانتے ہیں کہ انسانوں کو کئی سہارے ہیں،محبت، چاہت, ساتھی, کاروبارِ دنیامگر راستوں کا کوئی ساتھی نہیں۔۔۔راستے تنہائی مٹانے کو خون سے آبیاری کرتے ہیں،راستے گمراہ کرتے ہیں۔۔۔نہ منزل تک پہنچاتے ہیں نہ ٹھکانے تک لے جاتے ہیں،راستے انسانی خون پیتے ہیں،یہ راستے انسان کو منزل سے بھٹکا کر  تا عمر اپنا  مسافر بنا لیتے ہیں۔ انسان انہی راستوں پر بھٹکتا تڑپتا دم توڑ دیتا ہے،مگر راستے پھر بھی منزل کا نشان نہیں دیتے۔راستے ہر قدم کے نشاں مٹاتے جاتے ہیں،نسانوں کو کھاتے جاتے ہیں۔نگل جاتے ہیں۔۔۔ان راستوں پر بھٹکتے ہوئے , ختم ہوتے وجود کو بھی راستے راکھ بنا کر خود پر بکھیرنا چاہتے ہیں،خودکو ہر دم ان بکھرے وجودوں سے خوش کرنا چاہتے ہیں،راستے اذیت کے مارے مسافروں کی بے بسی کے آنسوؤں میں نہاتے ہیں۔پاؤں میں پڑے چھالوں کو دیکھ کر ہنستے ہیں ،راستے قاتل ہوتے ہیں۔۔۔ راستے خون پیتے ہیں۔۔۔

ہم بھی انہی راستوں کے مسافر ہیں۔۔۔ہمارے خون سے اپنی زمین کو رنگ کر یہ راستے نشان مٹا کر نئے شکار کی تلاش میں بیٹھ جائیں گے،میرے بھی خون کے نشان راستوں کے سینے پر ملیں گے،میرے پاؤں میں پڑے چھالے مجھے زیادہ دیر ان راستوں کے خونی کھیل سے بچا نہیں سکتے،میرا خون بھی یہیں  کہیں بکھر کر ایک دن مٹ جائے گا،یہ راستے مجھے نگل جائیں گے،میرا نشان  نہیں ملے گا،کسی کو بھی کسی کا نشان نہیں ملے گا۔۔۔مسافر ہمیشہ بھٹکتے رہیں گے۔۔۔۔کیونکہ راستے خون پیتے ہیں۔۔۔

ظہر عنایتی نے کیا خوب کہا ہے۔

اس راستے میں جب کوئی سایہ نہ پائے گا

یہ آخری درخت بہت یاد آئے گا

بچھڑے ہوؤں کی یاد تو آئے گی جیتے جی

موسم رفاقتوں کا پلٹ کر نہ آئے گا

تخلیق اور شکست کا دیکھیں گے لوگ فن

دریا حباب سطح پہ جب تک بنائے گا

ہر ہر قدم پہ آئنہ بردار ہے نظر

بے چہرگی کو کوئی کہاں تک چھپائے گا

میری صدا کا قد ہے فضا سے بھی کچھ بلند

ظالم فصیل شہر کہاں تک اٹھائے گا

تعریف کر رہا ہے ابھی تک جو آدمی

اٹھا تو میرے عیب ہزاروں گنائے گا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *