عقلوں، شکلوں، رقموں کا رونا ۔۔۔۔حسن نثار

یہ ایک سو فیصد غیر سیاسی کالم ہے سو جنہیں صرف ’’سیاست‘‘ سے دلچسپی ہے وہ بور اور بیزار ہوں گے اس لئے جس گائوں نہیں جانا اس کا رستہ ہی نہ پوچھیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ زیر نظر کالم غیر سیاسی ہی نہیں، سراسر فلمی بھی ہے۔ریلیکس اور ان وائینڈ کرنے کے لئے پرانی فلمیں اور گیت میرے لئے تریاق اور اکسیر کا سا درجہ رکھتے ہیں۔ پرانے گیت اور موویز کی کشش اپنی جگہ، مجھ جیسے ناسٹیلجیا کے مریض کی بہت سی یادیں بھی ان کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں مثلاً ہمارے گھر کی ایک روایت یہ بھی تھی کہ ہر دو ڈھائی مہینے بعد باقاعدہ ’’بوکس‘‘ ریزرو کرایا جاتا اور والد مرحوم پوری فیملی کو فلم دکھانے لے جاتے۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ لاتعداد فلمیں جو گھر والوں کی رسمی اجازت کے بغیر میں نے ٹین ایج کے بہت ہی پیارے دوستوں صفدر سعید، خلیل، ایاز، پیجی (نصرت فتح علی)، اعجاز کے ساتھ دیکھیں اور میری کم نصیبی ملاحظہ ہو کہ آج ان میں سے کوئی ایک بھی موجود نہیں، چھوٹی عمروں میں ہی میرا ساتھ چھوڑ گئے اور آج جب میں ان کے ساتھ مل کر دیکھی ہوئی فلمیں تنہائی میں دیکھتا ہوں تو میرا رب جانتا ہے کیسے روتا ہوں اور پھر اپنے ہی کندھوں پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں۔۔صبیحہ سنتوش کی فلمیں قاتل، گمنام، وعدہ، سات لاکھ، موسیقار، دربار، مکھڑا، عشق لیلیٰ، شام ڈھلے….. سدھیر کی باغی، آخری نشان، کرتار سنگھ، یکے والی، ساحل، بغاوت، اسلم پرویز کی پینگاں، پلکاں، مٹی دیاں مورتاں، نیند، درپن کی باجی، سہیلی، قیدی، گلفام، نائلہ، نور اسلام۔ ناموں کا ایک ہجوم مرے آس پاس ہے۔ کمال کی ’’توبہ‘‘ ہی مان نہیں۔پھر وحید مراد، محمد علی، شاہد اور ندیم کا دور شروع ہوا تو وحید مراد کی ’’ارمان‘‘ سے لے کر محمد علی کی ’’آگ کا دریا‘‘ تک، ندیم کی ’’چکوری‘‘ سے لے کر شاہد کی ’’امرائو جان ادا‘‘ تک ایک سے ایک بڑھ کر ایک کہانی، سکرین پلے، ڈائریکشن، گیت، موسیقی، گلوکاری۔65کی جنگ تک بھارتی فلمیں بھی عام تھیں۔ آن، داغ، دیدار، ترانہ، آوارہ غرضیکہ نہلے پہ دہلے آتے اور پاکستانی فلمیں ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتیں۔میں فلم کا طالب علم نہیں، کبھی عام معمولی سا فلم بین رہا ہوں اور جانتا ہوں کسی نے آسکر نہیں لیا لیکن عقلیں شکلیں اپنی ارتقائی منازل کے اعتبار سے اعلیٰ ترین تھیں۔ آج بھی ان فلموں کے چہرے، منظر، مکالمے، گیت، سچویشنز ہانٹ کرتی ہیں۔ بیسیوں فلمیں ایسی ہیں کہ آج بھی دیکھیں تو’’کبھی کبھی میں میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں۔‘‘ فرنگی، شہید اور عجب خان جیسی مضحکہ خیز فلمیں بھی انٹرٹینمنٹ کے شہکار تھے لیکن آج کچرے کا کچرا ہے۔یہ ان پڑھ، ان گھڑ اور دیہہ جماعتاں پاس ڈائریکٹ حوالدار ٹائپ کالم صرف اس لئے ’’لکھ‘‘ نہیں ’’بک‘‘ رہا ہوں کہ اوپر نیچے دو تحریریں پڑھیں۔ ایک تو اخباری مضمون جس کا عنوان تھا’’پاکستانی فلمیں بزنس کرنے میں ناکام کیوں‘‘ذیلی سرخی ملاحظہ فرمائیں’’رواں برس فلموں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی۔ ملک بھر میں ایک بار پھر سینما گھر بند ہونا شروع ہو گئے‘‘دوسری خبر عبرتناک تھی جس کے مطابق عید پر ایک ’’عظیم فلم‘‘ ریلیز ہو گی اور فلم کا نام، عنوان ہو گا ’’پیشی گجراں دی‘‘۔ ان گنت ’’پیشیاں‘‘ بھگتنے کے بعد بھی باز نہ آنے والوں کو کیا کہا جائے؟ دنیا میں بدترین لوگ وہ سمجھے جاتے ہیں جو ایک سا کام بار بار پرفارم کر کے ہر بار یہ سوچتے ہیں کہ اس بار نتیجہ مختلف ہو گا حالانکہ پنجابی زبان کا ایک معروف محاورہ ہے کہ آوارہ کتے کو بھی کسی جگہ زور دار پتھر لگ جائے تو اول یہ کہ وہ رستہ ہی چھوڑ دیتا ہے اور اگر نہ بھی چھوڑے تو اگلی بار وہاں سے بہت چوکس اور چوکنا ہو کر گزرتا ہے تاکہ ایکشن ری پلے سے بچ سکے۔میں نے تو 70کی دہائی کے بعد پاکستانی، بھارتی کیا، مغربی فلمیں بھی تقریباً ترک کر دیں کیونکہ ان میں فلم کم ٹیکنالوجی بتدریج بڑھتی گئی جبکہ میں مارا ہوا ’’دی ہنچ بیک آف ناٹرے ڈیم‘‘، ’’سمر آف 42‘‘ اور “GONE WITH THE WIND”کا ،نہ وائے کنگ بھولے نہ سپارٹکس نہ کلو پیٹرا نہ کریمر vsکریمر۔میں نے اوپر کہیں ’’کچرے کا کچرا‘‘ جیسی اصطلاح برتی تو بالی وڈ کی وجہ سے جو ہالی وڈ کا کچرا ہے۔ ہم نے پیشیوں، کھڑاکوں، گنڈاسوں سے جان چھڑائی تو نقالوں کی نقالی شروع کر دی اور کسی کم بخت نے یہ بھی نہیں بتایا کہ نقل کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔دور کیا جانا میں پاکستانی سینما کے ابتدائی تیس پینتیس سالوں کے سینکڑوں ایسے گیت یاد دلا سکتا ہوں جو سدابہار اور لازوال ہیں جبکہ ان جدیدیوں کا ایک گیت بھی ایسا نہیں جو ست ماہا نہ مر گیا ہو، ایک مکالمہ ایسا نہیں جو محاورہ سا بن گیا ہو۔ جن کے حسن کے قصے اخباروں میں دیکھے، تصویریں دیکھیں تو ناکیں پھڈی، ہونٹ چپٹے، جنہیں ہینڈسم کہتے ہیں انہیں دیکھ کر ہاسا نہیں رکتا۔ چند ایک کے سوا سب ایک جیسے لگتے اور لگتی ہیں، PRESENSEنام کی کوئی شے کسی کو نصیب ہی نہیں جبکہ ان زمانوں کا تو اسلم پرویز بھی اپنی نوعیت کی لاکھوں میں ایک عجیب پیشکش تھی۔ ثبوت بہت سادہ کہ تب نہ سینما ہائوسز گنے جاتے تھے نہ ان میں فلم بینوں کی تعداد۔ ’’کھڑکی توڑ‘‘ کی اصطلاح عام، ٹکٹیں بلیک ہوتیں کہ سینما مالکان خود بلیکئے پالتے، فلم کا افتتاح ہوتے ہی انتظار شروع ہو جاتا۔ آج نہ کوئی پاٹے خان نہ پھنے خان نہ نیلا پربت، ’’پیشی گجراں دی‘‘ سے ہی باز نہیں آتے تو بھلے دن کیسے واپس آئیں گے؟عرض کرنے کا مقصد یہ کہ جوانی پھر نہیں آنی ون، ٹو، طیفا ان ٹربل، پرواز ہے جنون ٹائپ کام پر فوکس کیا جائے تاکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری پھر سے سنبھل کر ماضی جیسا وقار اور اعتبار حاصل کر سکے۔ صرف ’’لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ ہی نہیں ’’لیجنڈ آف کرتار سنگھ‘‘ اور ’’لیجنڈ آف سرفروش‘‘ پر بھی توجہ دی جائے۔ سنگیتا تو سنا ایکٹو ہے ہی پرویز کلیم، حسن عسکری اور سید نور جیسے ’’بزرگوں‘‘ کی ڈینٹنگ پینٹنگ بھی بہت سودمند ہو سکتی ہے۔ آج کے بابا چشتی، رشید عطرے، خواجہ خورشید انور، اے حمید، قتیل شفائی، کلیم عثمانی، احمد راہی، حزیں قادری، اختر یوسف، حمایت علی شاعر، خواجہ پرویز کہاں ہیں؟ باقی شعبوں کی طرح اس میدان میں بھی عقلوں شکلوں کے علاوہ رقموں کی شدید ضرورت ہوتی ہے تو سرمایہ کاری کے لئے روایتی طریقوں سے ہٹ کر آئوٹ آف بوکس تھنکنگ سے کام لینے میں کیا پرابلم ہے۔ سوچ اور اپروچ میں تھوڑی سی تبدیلی سے سرمایہ کی کمی کا علاج کیا جا سکتا ہے لیکن فنکاروں کے لئے فائنانشل مینجمنٹ یقیناً مسئلہ ہو گا۔ پروفیشنلز سے رابطے کریں تو اندرون کیا بیرون ملک سے کافی فائنانشل سپورٹ حاصل کی جا سکتی ہے۔ بھوکی ننگی گورنمنٹ ہے تو چیل کا گھونسلہ جس سے ماس نہیں ملتا لیکن کچھ مراعات ضرور مل سکتی ہیں۔ مطلب یہ کہ ہر حربہ آزمائیں تاکہ یہ تو نہ سننا پڑھنا پڑے کہ ملک بھر میں ایک بار پھر سینما گھر بند ہونا شروع ہو گئے

بشکریہ روزنامہ جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *