ہماری لاحاصلیت کے سو برس۔۔۔عدیل عزیز

30 جولائی 1933 کو امرتسر کے ایک سینما میں ہندوستانی فلم “حُورحرم”” نمائش کے لیے پیش کی گئی.. اس فلم کے ایک سین میں مسلمان بادشاہ کے دربار میں ایک نیم برہنہ لڑکی کا رقص شامل تھا اور بادشاہ کا لڑکی کو اپنے حرم میں داخل کرنے کا حکم دینا اور اسے لونڈی بنانا بھی دکھایا گیا تھا. اس فلم کی اطلاع جب مقامی احراریوں کو ملی تو انہوں نے سینما مالکان سے اس کی نمائش روکنے کا مطالبہ کیا جو کہ سینما مالکان نے رد کردیا۔
اس سے مسلمانان امرتسر کی رگِ حمیت جاگ اٹھی, مقامی احرار کے آئین کو توڑ کر اس کی جگہ “وار کونسل” قائم کی گئی. اور اسکے پہلے سالار “ڈکٹیٹر” مولانا عبدالقادر غزنوی کو مقرر کیا گیا. مجلس احرار نے سینما ہال کے باہر خوب احتجاج کیا، قانون ہاتھ میں لیا تو پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج شروع ہوا جس کے نتیجے میں عبدالکریم نامی جوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا.اور سالار موصوف کو چھ مہینے کی قید ہوئی. جب کہ چار سو سے زائد احرار کارکن گرفتار کر لیے گئے.اس تحریک کے دوران امرتسر کا کاروبار اور فرقہ ورانہ امن متاثر ہوا جس پر  بلآخر مذکوہ فلم سے وہ سین کاٹ دیے گئے. ( بحوالہ کاروان احرار جلد اول) اور احرار کو شہید میسر آگیا..

ایک معمولی سی فلم کے عام سے مناظر پر مذہبی جماعت احرار نے ہنگامہ کیا حالانکہ اس وقت سینیما گھر عام نہ تھے اور مسلم اکثریت اسے پہلے سے ہی فتنہ سمجھ کر اس سے دور رہتی تھی. پھر مسلمان بادشاہوں کے وسیع حرم کی کہانیاں تو اب تک زبان زد عام ہے. اور یہی اس فلم میں دکھایا گیا تھا،مگر اس پر خوب ہنگامہ کھڑا گیا, اسے کفر و اسلام کی جنگ بنایا گیا, شہر کا امن برباد ہوا اور ایک نوجوان اس لاحاصل جھگڑے کی بھینٹ چڑھ گیا.

اس ایک واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے سو سال سے مسلمانان برصغیر کس طرح کے ذہنی انتشار کا شکار ہیں. مذہبی سیاسی جماعتوں نے انہیں اس قدر احساس کمتری کا شکار بنادیا ہے کہ انہیں حقیر سے حقیر بات پر بھی اسلام خطرے میں نظر آتا ہے. نتیجتاً جذباتی نوجوان اسلام پر مرمٹنے کے لئے سڑکوں پر آتے ہیں اور کبھی لاٹھی اور گولی تو کبھی جیل کی تاریک کوٹھڑیاں ان کا مقدر بنتی ہے. جبکہ مذہبی قائدین آگ بھڑکا کے اس پر اپنی سیاست چمکاتے اور مذہبی اجاراداری مضبوط کرتے ہیں.
آپ پچھلے سو برس کی تاریخ کھنگالیں ہر موقع پر ان کی یہی روش رہی ہے. سندھ پر محمد بن قاسم کے قبضے کے علاوہ برصغیر ایک دن بھی خلافت کے زیر سایہ نہیں رہا. نہ ہی اسلامیان ِہند کو کبھی اس کی تمنا رہی. مگر جنگ عظیم اول کے اختتام ہر ہم نے تحریک خلافت زور و شور سے چلائی.. ہزاروں جیل گئے اور سینکڑوں شہید ہوئے اس دور میں کچھ اشعار مسلمانوں کی زبان پر عام تھے

غازی مصطفیٰ کمال پاشا وے
تیریاں دور بلاواں
کر یونانی بکرے حلال
دے بیبا وانگ قصائیاں

َبد قسمتی دیکھیے اسی مصطفی کمال پاشا نے اقتدار سنبھال کر سب سے پہلے خلافت کا خاتمہ کیا. تحریک خلافت کے دوران یہ شعر بھی ہر مسلمان کی زباں پر تھا..

بولیں اماں محمد علیؔ کی
جان بیٹا خلافت پہ دے دو
ساتھ تیرے ہیں شوکتؔ علی بھی
جان بیٹا خلافت پہ دے دو.

شفیق رامپوری کی اس جذباتی نظم کے نتیجے میں سینکڑوں بچوں نے ناصرف جان دی،بلکہ بڑوں کے کہنے پر تحریک ہجرت کی داغ بیل بھی ڈالی اور بیسیوں ہزاروں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر افغانستان چل دیے. سینکڑوں خاندانوں نے راستے کی سختیاں جھیلتے ہوئے کسمپرسی میں جان  دی اور جو چند ہزار افغانستان پہنچے وہاں ان کے پاس غازی امان اللہ خان کی دلجوئی و ہمدردی کے سوا کرنے کا کوئی کام نہ تھا. آپ اس دور کے مسلم زعماء کا ذہنی انتشار دیکھیے، اسی امان اللہ خان کے خلاف جب بچہ ثقہ نے انگریزوں کے ایماء پر بغاوت کی  تو مولانا شوکت علی نے غازی امان اللہ کے خلاف فتویٰ دیا اور بچہ ثقہ کی حمایت کرتے ہوئے فرمایا۔۔

“باغی افغانستان میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ اسلام کی عزت ہے  اور مغربی تہذیب کے خلاف شرعی جہاد ہے اور غازی امان اللہ کو اس کی بے دینی کی وجہ سے تخت سے علیحدہ کیا گیا ہے” (بحوالہ رئیس الحرار)۔
گویا تحریک خلافت و ہجرت کے قائدین جن میں خود مولانا شوکت علی سب سے نمایاں تھے,انہوں نے اسلامیان ہند کو ایک بے دین حکمران کے پاس جانے کی تلقین کی تھی..
ہماری بد اعمالیوں کی تاریخ بہت وسیع ہے اور افسوس اس امر کا ہے کہ ہم نے کبھی ماضی سے عبرت حاصل نہیں کی.
مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا تھا
“جس قوم کی ذہنی فضا نفرت کی آب و ہوا سے تیار ہوگی اس میں ایک متمدن قوم کی آب و تاب کا پیدا ہونا ناممکن ہے.”
اسی لئے آج سو برس بعد اٹھانوے فیصد مسلمان ہونے کے باوجود بھی ہمیں پاکستان میں اسلام خطرے میں محسوس ہوتا ہے اور ہمارے مذہبی راہنماء آج بھی اقتدار میں شراکت و سیاسی حریفوں کو زیر کرنے کے لئے مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں کبھی تحریک نظام مصطفیٰ (ص) چلاتے ہیں جس پر قدرت اللہ شہاب جیسا صوفی منش شخص کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس تحریک کے دوران بے پناہ مالی بے ضابطگیاں ہوئیں. تو کبھی دفاع اسلام و دفاع حرمین کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں. پوری ملت اسلامیہ کا غم ہمیں کھائے جاتا ہے. مذہبی قائدین کے فرمان عالی پر افغانستان کے گرم محاذوں سے لے کر کشمیر کی برف پوش وادیوں اور کوہ قاف کے طلسماتی پہاڑی سلسلوں سے بوسنیا تک ہم پہنچے اور قربان ہوئے ، مگر آج بوسنیا و ہرزیگوینا میں کسی ‘مجاہد’ کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے, عام افغانی ہم سے نفرت کرتا ہے اور جہاد کشمیر کے دور عروج میں کشمیریوں نے ککے پارے کی قیادت میں اخوان المسلمین بنا کر پاکستانی جہادیوں کو چن چن کر مارا بھی اور مخبریاں کرکے مروایا بھی. کبھی اپنی حالتِ  زار پر غور و فکر کریں ہم، تو پچھلے سو برس میں لاحاصلیت کے سوا کچھ دکھائی نہ دے گا.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *