کیا ہم سب بھی لوٹے ہیں ؟۔۔۔عزیز خان

مجھے آج بھی 1970 کے الیکشن یاد ہیں، میرے والد صاحب مرحوم جو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفسر تھے، کی پوسٹنگ ڈیرہ غازی خان  میں تھی، شاید دسمبر کا مہینہ تھا، ہم تینوں بھائی والد صاحب کے پاس ڈیرہ غازی خان گئے  ہوئے تھے ،اُن دنوں سرکاری محکموں میں افسران و ملازمین کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ہم بھائی  بھی الیکشن کے دن والد صاحب کے ساتھ ہی گئے، جہاں وہ ایک پولنگ سٹیشن  پہ بطور پریزائڈنگ افسر ڈیوٹی پر تھے۔

منظور جو کہ ہمارا پُرانا ملازم تھا، ساتھ تھا ۔۔۔اتنی چھوٹی عمر میں وہ الیکشن ہمارے لیے صرف پکنک جیسا تھا۔

پھر اتنا یاد ہے کہ 1971 کی جنگ شروع ہو گئی ۔مجھے یہی یاد ہے کہ ہمارے گھر کا صحن بہُت بڑا تھا ،جس میں ایک خندق کھودی گئی اور جس وقت ہوائی حملے کا سائرن ہوتا تھا ہم سب بھاگ کر خندق میں چلے جاتے تھے۔پھر امریکی بحری بیڑے کی آمد کی باتیں ،فوج کے ہتھیار ڈالنے کی باتیں بھی یاد ہیں۔
یہ بھی یاد ہے کہ کوئی بھٹو ہے جو کہتا ہے کہ ادھر ہم اُدھر تم۔۔۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آئی تھی کہ مشرقی پاکستان تو ہمارے پاکستان کا حصہ تھا، کیوں الگ ہو گیا اور پھر پیپلز پارٹی کی حکومت آگئی ، ذوالفقار  علی بھٹو مُلک کے وزیر اعظم بن گئے۔

میٹرک کرنے کے بعد جب ایس اے کالج ڈیرہ نواب صاحب میں ایڈمشن ہوا تو اپنی آزادی کا احساس ہوا، ماسٹر قدوس صاحب کے ڈنڈوں سے بھی آزادی ملی۔۔۔پڑھائی میں کوئی اچھا نہیں تھا۔سپورٹس میں بیڈ منٹن میری گیم تھی ،پاگل پن کی حد تک کھیلوں سے لگاؤ تھا۔

سیکنڈ ائیر میں کالج کے الیکشن تھے میرے کُچھ دوست جن میں یحییٰ کُلاچی نے مجھے کہا کہ نائب صدر کے لیے میں الیکشن میں حصہ لوں الیکشن ہوئے تو میں الیکشن میں کامیاب ہو گیا، اکبر ترین ہمارے صدر تھے۔۔۔۔ایک دن اچانک اطلاع ملی کہ لاہور میں سٹوڈنٹس پر پولیس نے تشدد کیا گیا ہے جس سے اُس کی موت ہوگئی، کالج میں زبردستی چُھٹی کرا دی گئی  کیونکہ اکبر ترین اُس دن کالج نہیں آئے تھے ،بطور نائب صدر مجھے سٹوڈنٹس کے جلوس کی قیادت کرنی پڑی ،جلوس میں سب سے آگے اور نعرے تھے جو آج بھی مشہور ہیں۔۔۔

لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی
ظالموں جواب دو خون کا حساب دو
گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو

پولیس کی بڑی تعداد جلوس کے ساتھ تھی اور مجھے گھور گھور کے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
4 کلو میٹر چلنے کے بعد جلوس چوک مُنیر شہد پر اختتام پذیر ہوا، دوستوں مجھے فوری طور پر ادھر اُدھر ہونے کا کہا،   کہ پولیس کہیں لیڈر کو گرفتار نہ کر لے اور یوں میں سیاست میں داخل ہو گیا۔

گریجویشن کے دوران پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن کو جوائن کیا ،کیونکہ اس وقت سوائے پیپلز پارٹی کے کوئی اور جماعت تھی ہی نہیں اور میرے سارے دوست پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن میں تھے اور بطور ایکٹو ممبر اس میں کام  کافی کیا ،کیونکہ بھٹو کی طلسماتی شخصیت اور اُن کا تقریر کرنے کا انداز مجھے بہُت پسند تھا جس کی آج کل بلاول زرداری مت مار رہے ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی پولیٹیکل سائنس میں جب ایڈمیشن ہوا تو پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہو چُکی تھی بھٹو کی سزا کی وجہ سے سیشن بھی لیٹ ہو گیا ،بھٹو کی پھانسی پر میں بھی پیپلز پارٹی کے باقی لیڈروں اور کارکنوں کی طرح   دل ہی دل میں رویا اور سوگ بھی منایا مگر باہر نکلنے کی ہمت نہ کی۔۔

مارشل لا ء میں پیپلز پارٹی اور پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن کا نام لینا بھی گُناہ تھا ہم نے ایگلز کے نام سے سٹوڈنٹ پارٹی بنائی اور یونیورسٹی میں بھی سیاست کرتے رہے، جمعت طلبہ اسلام جو تقریباً حکومتی جماعت تھی اس وجہ سے ہمیں یونیورسٹی میں ان سے بہت مار پڑتی تھی۔۔
مگر ذہنی جھکاؤ  پیپلز پارٹی کی طرف ہی رہا۔۔۔ملازمت میں 1982 میں آنے کے بعد کسی بھی پارٹی سے تعلق میرا نہ رہا مگر ہمیشہ بھٹو کا پیرو کار بن کے دل ہی  دل  میں جیے بھٹو کے نعرے لگاتا رہا۔

جنرل ضیا نے 1985 کے الیکشن کے بعد زنگ آلود مُسلم لیگ کو محمد خان جونیجو کے ذریعے کھڑا کیا بڑے بڑے سیاست دان حسب معمول و دستور حکمران پارٹی میں شامل ہو گئے،جنرل ضیا کے طیارے کے کریش کے وقت میں بطور اے ایس آئی تھانہ لیاقت پور ضلع رحیم یار خان تعینات تھا ،شام کو خبر ملی کہ جنرل صاحب گزر گئے ہیں۔بےنظیر واپس آئیں تو دلی مسرت ہوئی،1988کے الیکشن میں بھی میں لیاقت پور ہی تعینات تھا۔
بےنظیر وفاق میں جیت گئیں ،پنجاب میں بھی اُن کی حکومت بن سکتی تھی پر نواز شریف جونیجو کی حکومت میں وزیر خزانہ اور وزیر ایکسائز رہ چکے تھے اور فوج اور بیوروکریسی میں بھی ان کے اچھے تعلقات تھے چنانچہ آپریشن چھانگا مانگا کیا گیا۔

میرے ایس ایچ او طفیل وٹو صاحب تھے ،ہم نے بھی افسران بالا کے حکم پر لیاقت پور سے ایک ایم پی اے کو اُٹھا کر  چھانگا مانگا روانہ کیا اور یوں پاکستان میں سب سے پہلے ہارس ٹریڈنگ کی ابتداء  نواز شریف صاحب نے فرمائی اور وہ وزیر اعلیٰ بن گئے۔

نوازشریف کیونکہ وزیراعظم بننے کا عہدکر چکے تھے لہذا،انہوں نے بے نظیر کو وزیراعظم ماننے سے انکار کر دیا، بی بی اور نصرت بھٹو کی کردارکشی کی انتہا کر دی۔۔۔اور اس طرح بے نظیر کی حکومت ختم کر دی گئی۔

الیکشن پھر ہوئے 1990 کے الیکشن میں نواز شریف صاحب وزیر اعظم بن گئے لیکن اپنی شہنشاہیت کو مضبوط نہ کر سکے اور اس دفعہ فوج اور عدلیہ کی ناراضگی پر نواز شریف کی حکومت ختم ہو گئی،1993کے  الیکشن میں پھر بے نظیر کی حکومت آگئی مگر وہ بھی زیادہ دیر نہ چل سکی۔بے نظیر کی حکومت آصف زرداری کی حرکتوں کی وجہ سے بدنام ہو گئی تھی اور اپنی کرپشن پر عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی تھی ،نواز شریف اپنے بیوروکریٹس اور پیسے کے بل بوتے پر اِن ہو چکے تھے، چنانچہ اس دفعہ 1997 کے الیکشن میں وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔

دماغ پھر خراب ہو گئے، فرعونیت آ گئی، اداروں سے پنگے لینے شروع کر دیے، سب سے زیادہ فوج ان کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی، چنانچہ شہنشائیت کے چکر میں پھر شہید ہو گئے۔۔۔نواز شریف لیڈر کبھی نہ تھے ،حادثاتی حکمران تھے ،ان کو میں نے کبھی لیڈر نہ مانا اور خاص طور پر ان کی اپنے کارکنان کو اکیلا چھوڑ کے سعودیہ جانے والی حرکت مجھے بہت  معیوب  لگی۔

پرویز مشرف کی حکومت آخری لبوں پر تھی 2007 میں میں بطورایس ایچ او صدر رحیم یار خان تعینات تھا الیکشن اناؤنس ہو گئے تھے، نواز شریف جعفر گجر کے گھر رہایش پذیر تھے دوسری دفعہ میں نے انہیں قریب سے دیکھا۔۔۔۔پہلی دفعہ جب بطور وزیر اعلیٰ 1989 میں ان کے ساتھ ڈیوٹی کی تھی وہ بہُت زیادہ بد زبان واقعہ ہوئے تھے مگر اس دفعہ ان کی ذات میں ٹھہراؤ تھا جو مجھے اچھا لگا
بے نظیر کی شہادت اور زرداری کی 2008 کے الیکشن کی حکومت کی کرپشن اور حرکتں دیکھ کر دل پیپلز پارٹی سے اُچاٹ ہو گیا۔

جب 2013 کا الیکشن ہوا تو میرا ووٹ نواز شریف کا تھا مجھے لگا کہ واحد تجربہ کار اور جہاندیدہ سیاستدان ہے، پیپلز پارٹی سے ویسے تنگ آئے ہوئے تھے، عمران خان نہ تجربہ کار لگا۔۔اسی لیے عمران خان کے دھرنا پر ڈیوٹی کرتے ہوئے بھی میں ہمیشہ نواز شریف کی حکومت کو اچھا کہتا رہا حالانکہ میری پوری فیملی عمران خان کو سپورٹ کرتی تھی۔

مگر اس دفعہ پھر نواز شریف اپنی لاڈلی بیٹی مریم صفدر کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے ذلیل ہوئے اور پھر انہی  حرکتوں کی وجہ سے اپنی حکومت کھو بیٹھے اور شاید دُنیا کے واحد بد قسمت شخص ہیں جو اتنی دولت کے باوجود اپنی لاڈلی بیٹی کے ساتھ کرپشن ثابت ہونے پر جیل گئے۔

مگر اس خاندان کی فرعونیت ابھی بھی ختم نہیں ہوئی یہ اب بھی کہتے ہیں دھیلے  کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، کہتے تو درست ہیں، کرپشن تو اربوں کی ہے دھیلے  کی نہیں۔۔۔۔اس دفعہ 2018 کے الیکشن میں میری ساری فیملی اور میں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا ،ملتان میں ہمیں یہ بھی پتہ نہ تھا اُمیدوار کون ہے اور پھر عمران خان جیت گیا۔۔بڑی خوشی ہوئی کہ اب پاکستان ترقی کرے گا مگر عمران خان کے ارد گرد وہی گِدھ موجود ہیں جو مُسلم لیگ (ج) (ق) (ن) اور پیپلز پارٹی میں رہ  کر اس مُلک کا خون چوس چکے ہیں اور اب پھر خود کو کرپشن کے الزام سے بچانے کیلئے حکومت میں شامل ہیں کیونکہ میثاق جمہوریت کی یہی تو خوبصورتی ہے۔

ٹی وی کے چینلز پر بار بار عمران خان کی تصویر والے اشتہار چل رہے تھے ایک اور خبر نے میرٹ کے ساتھ ہمارے دل بھی توڑ دیے کہ زرتاج گُل ایم این اے  نے اپنی بہن کونیکٹا میں ڈائریکٹر لگوا دیا۔۔۔چوہدری فواد نے اپنے بھائی کو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل لگوایا۔۔بُزدار صاحب نے بھی اپنے کزن کو اپنا مُشیر بنا دیا۔۔بے شک یہ پوسٹنگز اور اپائنٹمنٹ میرٹ پر ہوں گی، پر عمران خان کے ساتھیوں کو یہ زیب نہیں دیتا۔

نواز حکومت اور زرداری حکومتیں اقربا پروری اور کرپشن کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لیتی رہی ہیں  اور ایک دوسرے کی کرپشن کو میثاق جمہوریت کے نام پر درگزر کرتی رہی ہیں،مگر عمران خان صاحب پھر قصور تو ہمارا ہے کہ ہم ہر بار دھوکا کھاتے ہیں شاید ہماری تقدیر میں قائد اعظم کے بعد کوئی لیڈر ہی نہیں؟۔۔۔
آپ ایماندار ہوں گے، پر آپ جن گِدھوں کے نرغے میں ہیں آپ کب تک بچیں گے اور ہمیں تو کوئی راستہ ہی نظر نہیں آتا پھر تو آپ کے سیاستدان لوٹا نہیں ساری قوم ہی لوٹا ہے جو ایک کے بعد دوسرے سیاستدان پر بھروسہ کرتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *