خوف ۔۔محسن علی

کیا ہے خوف؟ کیوں ہے خوف ؟ اسکی کیا وجوہات ہیں یا کیا ہوسکتی ہیں ؟
خوف کسی بھی بات سے ڈرنے کا نام ہے پھر چاہے وہ مذہبی حوالے سے ہو ، جادو سے ہو ، یا دُنیا کی کسی بات کو لے کر یہ خوف ہم سب میں کہیں نا کہیں پلتا ہے یا سماج پروان چڑھاتا ہے یا کوئی ایسا واقعہ جو ہمارے اندر خوف بٹھادیتا ہے یا مشاہدہ زندگی کا کُچھ بھی عین ممکن ہے جیسے کُچھ لوگوں کو اکیلے سونے سے یا اندھیرے کمرے سے ڈر لگتا ہے یا کسی کو کُچھ اور چیزوں سے ، کوئی سائے سے ڈرتا ہے کوئی تنہائی سے۔۔کل رات میں زندگی سے مخاطب تھا بارش کی جل تھل اور بجلی کی آنکھ مچولی کے درمیان ۔
باتوں باتوں میں بات نکلی گھروں کی اُسکا ایک خواب ہے برسوں سے کہ وہ غریب لوگوں کو گھر دے سکے میں اُس حوالے سے اُسکو مشورے دے رہا تھا اُسکا اس حوالے سے حوصلہ بڑھا رہا تھا۔
زندگی نے کہا محسن میرا تو اپنا کوئی گھر نہیں وہ گھر بابا کا ،وہ گھر شوہر کا ،یہ گھر کمپنی کی طرف سے رہنے کو ،میرا تو کوئی گھر نہیں ۔
میرے سامنے اُسکی خوف والی بات گھوم گئی کہ میں روز ایک خوف سے لڑتی ہوں اور تُم لوگ مجھے اُس خوف میں دھکیل دیتے ہو ۔ میں اُسکے اس کرب کو کل رات سے محسوس کرہا ہوں جبکہ وہ کہنے کو ایک امیر گھر کی ہے مگر یہ خوف جو اُسکو راتوں کو جگاتا ہے شادی سے پہلے بھی اور بعد بھی۔
میں نے کہا اُس سے تم حاصل کرلوگی بے فکر رہو ۔
زندگی نے کہا یار میں بیہ تارہی ہوں فی الحال میرا کوئی گھر نہیں ۔
میں پھر گہری فکر میں غرق ہوگیا ۔
اور وہ چلی گئی
صبح اٹھا یہی سوچتا رہا ،ایک عورت کا خوف کیا یہی ہوتا ہے ؟
مہناز فیس بک پر آنلائ ن  ہوئیں  تو اُن سے پوچھ لیا۔ ۔کہ کیا عورت کے دو خوف ہیں ؟ ایک  اس کا گھر نہ  ہونا   اور ایک اکیلے سونا اور  خوف کہ  کوئی چھت نہ چھین لے ؟
مہناز کا جواب : بالکل۔۔درست
پھر کچھ وقفے بعد بولیں مہناز، سب سے زیادہ اکیلے ہونا۔۔۔ایک لمحہ رُک کر پھر مخاطب ہوئیں اور کہا  اور بے آسرا ہونا،
میں نے سوال کیا ؟ یہ خوف شادی کے بعد بھی کیوں رہتا ہے آزاد خیال ہونے کے باوجود ؟
مزید بات کو آگے بڑھاتے ہوئے  میں نےکہا  ۔۔ اُسکو شوق تو نہیں اپنا گھر ہو مگر اندر خواہش جنم لیتی ہے اور مرجاتی ہے ۔۔
مہناز جی کا جواب : کیونکہ عورت گھر کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ایک ساتھ بھی چاہتی ہے۔
میں نے درمیان میں بات کاٹتے ہوئے کہا: اور ساتھ ہوکر ۔۔۔احساس نہ ہو  کہ اُسکو اپنا ڈر بتاسکے تو ۔۔جب کہ وہ شخص اُس سے جنون کی حد تک چاہتا ہو تب بھی نہ بتاسکتی ہو ۔۔تو
مہناز کہنے لگیں،یہ حدود یہ ڈر سب انسانی نفسیات کا حصہ ہیں۔۔۔جس طرح زندگی کی پرت در پرت کئی جہتیں ہیں بالکل ویسے ہی محبت اور خواہشات بھی ہمہ جہت ہیں۔۔۔۔ اس ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔۔۔صرف سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔ یہ دنیا ہے۔۔۔یہاں سب کو سب کچھ نہیں ملتا
مہناز مشورہ دیتے ہوئے بولیں: آپ بھی بے خوف ہوجائیں۔۔۔۔کیونکہ واقعی جسکے پاس ڈر اور خواب نہیں تو وہ ایک مضبوط شخص ہوگا ۔
لہذا کوشش کریں بچوں کو خوف سے آزاد رکھیں۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *