بنکاک نہیں شام چلتے ہیں۔۔۔عارف خٹک

بنکاک تھائی لینڈ میں ہے اور تھائی لینڈ ایشیاء میں ہے۔ بچپن سے لے کر آج تک سُنتے آئے تھےکہ بنکاک عیاشیوں کا اڈہ ہے۔ لہٰذا جوانی تک پُہنچتے پُہنچتے ماسکو، فِن لینڈ، پولینڈ، اٹلی، یوکرائن، ڈنمارک، ترکی، ایران، ارمینیا، سوئزر لینڈ، آسٹریا، اُزبکستان اور دبئی گھومتے گھومتے بال سفید ہوگئے،مگر ہمیشہ ایک ہی طعنہ سُنتے رہے  کہ بنکاک نہیں دیکھا تو کچھ نہیں دیکھا۔

ہمشہ خود پر لعن طعن کرتے رہے کہ یار واقعی ڈوب مرنے کا مقام ہے جو ابھی تک ہم نے بنکاک نہیں دیکھا۔ عمر ِ رفتہ بڑھتے بڑھتے جب چالیس کے پیٹے میں آگئی  اورمحبوباؤں کے بچے ماموں بول اور بنا کر کالج میں داخلے کی سفارشیں ہم سے کروانے لگے، فیس بُک پر چالیس سالہ حسینائیں جب لالہ لالہ پکارنے لگیں اور گھر میں بیوی کو باجی کہنے کا دل کرنے لگا،تو سوچا کہ چل خٹک اب تیرا بنکاک سے مُستفید ہونے کا وقت آگیا ہے۔ بنکاک کی بچیاں لازماً آپ کو خوش آمدید کہیں گی۔

کراچی سے بنکاک کی طرف رواں دواں ہوا تو جہاز ادھیڑ عمر جوانوں اور پان کی کھیپیوں سے بھرا پڑا تھا۔ میرے ساتھ کراچی کے کچھ نوجوان جو چالیس سے اُوپر اور ساٹھ سے نیچے کے پیٹے میں چل رہے تھے۔سفید پتلون کےساتھ لال چمکیلے شرٹس پہنے براجمان تھے۔ اور اندھیری رات میں کالے چشمے لگاکر کہہ رہے تھے،کہ نیٹ پر تیرہ سال کی بچیاں بُک کی ہوئی ہیں۔ ایک بابے کے ہاتھوں میں تو باقاعدہ ویاگرا کی ڈبی تک دیکھ لی۔
خیر آس پاس اس قسم کے عجیب وغریب نظارے دیکھتے ہوئے جہاز نے اُڑان بھری۔ائیر ہوسٹس جب ڈرنکس سرو کرنے لگیں  توکراچی والے مُفت کی شراب پر ٹوٹ پڑے۔ جب پورا جہاز ماسوائے میرے اور کپتان کے مدہوش ہوگیا۔تو مُجھے اپنا آپ بُہت برا محسوس ہوا کہ ایسے کافروں کے بیچ بیٹھے مسلمان کے لئے پشتو میں ایک بہت بُرا لفظ ہے۔ سو غیرت میں آکر نسوار نکالی  اورچونڈی ڈال کر خود کو بھی دنیا و مافیہا سے بیگانہ کرڈالا۔
بنکاک ایئر پورٹ سے نکلا تو ایسا لگا کہ میں کراچی سے لاہور آگیا ہوں۔ لاہور میں مرد دھوتی پہنتے ہیں،وہاں عورتیں سکرٹ پہنتی ہیں۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک تین گھنٹے لگے۔ ٹریفک کا وہ اژدھام جو مجھے قطعی بُرا نہیں لگا۔بلکہ میں بنکاک میں ایم اے جناح روڈ کو یاد کرکے آبدیدہ ہو گیا۔ تنگ سڑکیں، رکشوں کی بھرمار اور ہر طرف سڑک کنارے کھانے پینے کے ٹھیلے۔اگر پشاور کا گُل خان اور گُل مرجان یہاں آجائیں۔تو بے ساختہ مُنہ سے نکلے گا۔
” وئی دا خو پیخور دے۔
دہ خو BRT دہ”۔
بنکاک شہر میں بدبُو کے شدید بھبھکوں نے جو والہانہ استقبال کیا،باخدا پانچ دن روزے سے رہا۔ہر طرف سڑی ہوئی مچھلی کی بساند اور کچے کھانے کی بدبُو جو طبعیت کو بوجھل کرکے رکھ دے۔دنیا کا پہلا فائیو اسٹار ہوٹل بھی دیکھا۔جہاں نازنینوں کو کچی مچھلی، مگرمچھ اور سُور کا کچا گوشت کھاتے اور ان کا خون پیتے دیکھا۔
شام ایک رائل ڈنر میں مدعو کیا گیا۔جہاں آدھے گھنٹے تک کچھ کھانے کو تلاشتا رہا اور بالآخر معلوم ہوا کہ گائے کا گوشت حلال ہے اور اس کا باربی کیو باہر لان سے مل سکتاہے۔ پلیٹ بھر کر گوشت کے پارچے اپنی میز پر لےکر آیا۔فرطِ شوق میں پورا ٹکڑا منہ میں ڈال دیا۔ جیسے ہی گوشت چبانا شروع کیا،مُجھے زبان پر الگ ذائقہ محسوس ہوا۔ ہونٹوں کو ہاتھ لگایا،تو لال خون دیکھ کر فوراً واش روم بھاگا۔ اب یہ مت پوچھنا کہ اُلٹیاں آئیں یا دست کہ بندے کی اپنی ایک پرائیویسی بھی ہوتی ہے۔
کھانے کے نام پر اس قسم کے لوازمات کے لئے اہلِ بنکاک لاجک دیتے ہیں  کہ آگ یا تیل میں پکی ہوئی چیزوں کا پروٹین ضائع ہوجاتا ہے۔

رات کو گھومنے نکلا تو وہی بدبُو اور عجیب سا تعفن۔رکشہ روک کر جیسے ہی اندر بیٹھا۔ ڈرائیورنے پوچھا کہ گوگو؟ میں نے کیا یس Go مطلب جاؤ۔ اس نے البم نکالا اور لڑکیاں دکھانے لگ گیا۔ میں نے غصے میں آکر کہا Go Goمطلب جاؤ یار۔ کمینے نے ایک کنجر خانے کے سامنے اُتار دیا۔
بنکاک والے انگریزی سے اُتنے ہی نابلد ہیں جتنے ہمارے والے دانشور اُردو سے۔ اشاروں کی زبان چلتی ہے۔ اگر آپ کو انڈرویئر چاہیے تو اپنے اعضائے ضعیفہ کو ہاتھ لگالیں۔ سیلز گرل سمجھ جائیں گی،مگر آس پاس دو تین خواتین آکر ضرور کھڑی ہوجائیں گی کہ 3000 بھات دے دو تو ساتھ چلتے ہیں۔
بنکاک کی ایک خوبی یہ اچھی لگی،کہ بنکاک میں کوئی مخصوص ریڈ لائٹ زون (کنجرخانے) نہیں ہے۔ بلکہ پورے بنکاک میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جو ریڈ لائٹ زون نہ ہو۔
ہر گلی میں آپ کو دس بارہ کنجر خانے مل جاتے ہیں۔جن کے دروازوں پر بکنی پہنے نیم برہنہ لڑکیاں بیٹھ کر آپ کو اندر بلا رہی ہوں گی۔ ہر لڑکی کے دس دلال ہوتے ہیں۔ اسی حساب سے ایک چوتھائی بنکاک آپ کو اسی روزگار سے ہی وابستہ ملے گا۔
بنکاک رُخصت کرنے سے پہلے صہیب جمال نے بتایا تھا۔کہ لالہ خواتین کی گلے کی ہڈی نہیں ہوتی۔ لہذا مول تول کرتے وقت گلے کی ہڈی ضرور دیکھ لینا،ورنہ عورت کے رُوپ میں چُھپا مرد آپ کو ہڈی پکڑوا بھی سکتا ہے۔ سو جو بھی خاتون یا لڑکی اچھی لگی۔ اُس کی گلے کی ہڈی ہی نظر آئی۔
بنکاک جانے والوں کو میری ایک نصیحت ہےکہ سڑک چھاپ سستے کنجرخانوں سے بچیں۔ کیونکہ سو بھات میں آپ سے سودا کریں گے۔اور اندر لے جاکر آپ کو دس ہزار بھات سے محروم کر دیاجائے گا۔انتہائی مُنّظم جرائم پیشہ عناصر ان ریکٹس کو چلاتے ہیں۔اگر پیسے نہیں دیئے تو ماردھاڑ الگ سے ہوتی ہے۔ پولیس آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گی۔
ہمارے ایک حاجی دوست جو الحاج بھی ہیں۔ عمرہ کی تھکن اتارنے فوراً  بنکاک پہنچ گئے۔ جسم کو مساج کی ضرورت تھی۔ تین سو بھات پر ایک بنکاکی حسینہ سے پورے جسم کا سودا ہوگیا۔ حاجی صاب بتاتے ہیں۔ کہ انسان غلطی کا پتلا ہے۔ لہذا وہ اپنی اولاد کو بھی یہی نصیحت مرتے دم تک کریں گے  کہ تنہائی میں عورت کیساتھ بیٹھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مبادا وہ آپ کا مساج کریں۔ ان سے بھی یہی غلطی ہوگئی  کہ مساج کے بعد ایک “ہیپی اینڈنگ” ان کو دس ہزار بھات میں پڑ گیا۔ چاروناچار عزت بچانے واسطے پیسے دے دیئے۔ ہم نے سوال کیا پھر کیا ہوا؟۔ آنکھوں میں نمی لاتے ہوئے جواب دیا۔ پھر ایک اور عمرہ کی ادائیگی فرض ہوگئی۔ ہم نے اس کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے مزید پوچھا کہ مساج کیلئے کیا کرنا چاہیے جواب دیا اپنی بیوی کو پانچ سو دے دینا چاہیے۔

بنکاک کے لوگ انتہائی بدتمیز اور دھوکے باز ہیں۔ پانچ بھات کی چیز آپ کو سو بھات میں زبردستی دیں گے۔اگر آپ غصہ کریں،تو باقاعدہ ہاتھاپائی پر اُتر آتے ہیں۔

بنکاک کی خواتین ہماری اداکارہ ریشم سے بھی گئی گزریں ہیں۔ ریشم تو کم از کم فوم کا کچھ پہن کر پاکستانیوں کے جذبات تھوڑا بہت اٹھا دیتی ہیں مگر وہاں کی خواتین تو ہماری فیمنسٹوں کی طرح بالکل فلیٹ اور بے کردار ہیں۔
مجھے تو ان کے بچوں پر ترس آرہا تھا کہ بیچارے کیا پی کر بڑے ہورہے ہیں۔لیکن ایک طرح سے اچھا ہے۔کم از کم ہماری طرح صبح شام اماں سے یہ تو نہیں سنیں گے کہ “جا منحوسہ تجھے اپنا دودھ نہیں بخشوں گی”۔
مردوں کی بابت کیا کہوں ان کی گلے کی ہڈی ہی ان کیلئے کافی ہے۔

یہاں آسٹریلین اور یورپین آتے ہیں۔ کیونکہ موسم سال کے بارہ مہینے گرم ہوتا ہے۔ اور یہ موسم ان کو مرغوب ہے۔ساتھ میں نو سال سے لے کر بارہ سال تک کی بچیوں کے ساتھ ہم بستری بھی کرتے ہیں۔ جس کے لئے باقاعدہ انٹرنیٹ پر ان کی بُکنگ کی جاتی ہے۔ بچوں کے حقوق کا جتنا استحصال بنکاک میں ہوتا ہے۔شاید ہی کسی اور ملک میں ہوتا ہو۔بدقسمتی سے یہ سب وہاں حکومت کی زیرِ نگرانی چلتا ہے۔انسانی حقوق اور بچوں کے حقوق کے علمبردار ممالک پورا سال بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرتے کرتے جب تھک جاتے ہیں۔تو اسی ملک میں آکر اپنی تھکن کسی دس سالہ بچی کےساتھ اُتار دیتے ہیں۔اور تازہ دم ہوکر پھر سے بچوں کے حقوق پر تقاریر،پالیسیاں اور دیگر چائلڈ پروٹیکشن پراجیکٹس شروع کردیتے ہیں۔
یاد رہے، بنکاک میں حکومت مکمل طور پر فوج کے زیر اثر ہے۔اور امریکہ یا اقوام متحدہ کو تھائی فوج سے فی الحال جمہوریت کےلئے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کیونکہ بادشاہ سلامت کو وہاں بُدھا کا اوتار سمجھ کر پوجا جاتا ہے۔اور ماشااللہ وہاں کوئی معاذ بن محمود یا عامر ہزاروی بھائی جیسے دانشور ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔ کہ ریاست کیلئے اسٹیبلشمنٹ سب سے بڑا خطرہ قرار دیں۔ الحمداللہ سارے کے سارے دانشور اپنے عاصم اللہ بخش اور عامر خاکوانی صاحب کی طرح محب وطن ہیں۔جو فوج کو ریاست کیلئے بہت اہم گردانتے ہیں۔ البتہ خال خال علی سجاد شاہوں کا ظہور ہونے لگا ہے۔جو فوج سے تو دور رہتے ہیں مگر سیاستدانوں کی ماں بہن ایک کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

میرا مشورہ ہے کہ بنکاک جانے سے بہتر ہے کہ آپ شام چلے جائیں جہاں صبح شام کردہ ناکردہ گناہوں کی کفارہ ادا ہوتا رہیگا۔اور انسانیت کا درد بھی محسوس ہوگا۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *