کمراٹ۔۔۔۔توصیف ملک/قسط5

آبشار کی غلطی :

جاز بانڈہ پہنچ کر ادھر ادھر دیکھا تو کچھ ہوٹل اور ان کے پاس خیمے لگے ہوئے نظر آئے ، چلتے ہوئے بائیں ہاتھ پر پہلا ہوٹل آتا تھا جس کی طرف بے اختیار قدم بڑھ گئے ، ایک بیس بائیس سال کا لڑکا ” ہوٹل ” کے باہر صف بچھا کر تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ،ایک دو بچے پاس کھیل رہے تھے ، ہم نے کمرے کے متعلق پوچھا تو اس نے افراد کی تعداد پوچھی جس پر ہم نے کہا کہ ہم صرف دو لوگ ہیں۔۔

یہاں کوئی بھی ہوٹل پکا نہیں تھا سب ہوٹل لکڑی کے فریم پر لوہے کی باریک ٹین کی شیٹ سے دیواریں اور مخروطی چھت تعمیر کی گئی تھی ، اور پھر اس ” عمارت ” کو چار پانچ کمروں میں تقسیم کر دیا گیا تھا ،ہر کمرے میں چار چھوٹے میٹرس جو قریب ڈھائی فٹ چوڑے ہوتے لیکن آرام دہ اور نئے تھے اور ساتھ پولیسٹر کی رضائیاں تھیں جو کہ صاف ستھری اور گرم تھیں جبکہ پانچویں بندے کی جگہ مجبوری میں ایڈجسٹ کی جا سکتی تھی.

اس بندے نے جو کہ ہوٹل کا مالک تھا بلکہ یہ دو بھائی ہوٹل چلا رہے تھے اور یہ والا چھوٹا تھا ، اس نے بارہ سو روپیہ ایک دن کا بتایا اور جب ہم جانے لگے تو ہزار روپیہ کہہ دیا ، ہمارے پاس تھل کے فقیر محمد صاحب کا دیا یوا ایک نمبر موجود تھا جس نے جاز بانڈہ میں ہوٹل دلوانے کا کہا تھا ، ہم چلتے جا رہے تھے اور نمبر ڈھونڈ رہے تھے ، قریب ہی ایک ہوٹل تعمیر ہو رہا تھا ،یہ مجھے پکا ہوٹل لگ رہا تھا کیونکہ اس کے شہتیر موٹے تھے اور وہاں پر ان موٹے شہتیروں کے درمیان ایک ہی سائز کے بڑے پتھر چّن دئیے جاتے ہیں ، اسی دوران اجمل خان صاحب کا اس بندے سے رابطہ ہو گیا ،ہم سمجھے تھے کہ اس کا وھیں ھوٹل وغیرہ ھو گا لیکن اس نے بھی ھمیں اسی ہوٹل والے سے بات کروانے کو کہا جس سے ہم پہلے ہی بات کر چکے تھے ، اس کا نام ذاکر اللہ تھا اور اچھا بندہ تھا ، جب اس سے فون پر بات کروائی تو فون والے بندے نے دوبارہ ہم سے بات کی اور کہا کہ ہزار روپیہ مناسب ہے آپ دے دیں لیکن ہم تو لاہوری تھے اور تھوڑی سی بحث کے بعد آٹھ سو میں بات طے ہو گئی
اس سب کاموں کے دوران تین بج چکے تھے ، ہمیں بھوک بھی کم تھی اور ہوٹل والے کھانا صرف آرڈر پر تیار کرتے تھے ، بھنے ہوئے چنے اور کھجور سے اپنی توانائی بحال کی ، وضو اور نماز سے تازہ دم ہو گئے
ایک مسئلہ تھا کہ پورے ہوٹل کے لئے صرف ایک واش روم تھا اور وہ بھی اتنا چھوٹا کہ اگر کوئی گوجرانولہ کا پہلوان نما بندہ وہاں تک پہنچ جائے ( جو کہ ناممکن ہی ہے ) تو پہلی دفعہ میں ہی اس کا دروازہ یا کوئی دیوار وغیرہ توڑ کر ہی واپس آئے ۔

پانی تو ویسے یہاں چشموں کا ہوتا ہے اور بہت ٹھنڈا اور وافر ہوتا ہے لیکن ہوٹل والوں نے ایک سائنس لڑائی ہوئی تھی ، اوپر ایک حوض بنا رکھا تھا جو چشمے کے ساتھ تھا اور پھر ایک نالی کے ذریعے نیچے ہوٹل تک پانی لائے تھے ، حوض کی وجہ سے پانی تھوڑا سا گرم ہو کر قابل برداشت ہو چکا تھا جبکہ رات اور صبح میں یہی پانی چیخیں نکلوا دیتا تھا
نماز ہم نے ظہر کی قصر پڑھی کیونکہ یہاں جمعہ نہیں ہو سکتا ، نماز کے بعد آدھا گھنٹہ آرام کیا اور ذاکر اللہ سے پوچھا کہ ہم فارغ نہیں رہنا چاہتے ،قریب کوئی ایسی جگہ ہے جہاں ہمیں جانا چاہیے ، اس نے کہا کہ قریب ہی جاز بانڈہ کی آبشار اور سانپ دریا موجود ہے اور ہاتھ سے ایک طرف اشارہ کیا کہ اس طرف ہے ، ہم نے اسی طرف جانے کا فیصلہ کیا اور یہ سمجھے کہ جہاں اشارہ کیا ہے اسی طرف جانا ہے اور یہ ہماری بہت بڑی غلطی تھی۔
وہ ایک پہاڑ کی ڈھلوان تھی ، ہم جب پہاڑ کے قریب پہنچے تو ہلکا سا نیچے اترنے کا راستہ نظر آیا ، یہ ایک عمودی ڈھلوان تھی جس پر کہیں کہیں ٹریک کے نشان تھے ، دو لڑکے بھی اسی راستے پر ہم سے پہلے جا رہے تھے اور پیچھے ایک دو لوگوں سے بھی پوچھا تھا کہ یہی راستہ ہے تو انہوں نے مبہم جواب دیا ، دراصل ان کو بھی نہیں پتا تھا ( تھوڑی دیر کے بعد نیچے جانے والے لڑکے بھی واپس اوپر آ رہے تھے )
اب ہم نے نیچے اترنا شروع کر دیا ، تقریباً بیس پچیس فٹ تک نیچے تو آسانی سے اتر آئے اور اس کے بعد امتحان شروع ہو گیا ، میں نے سوچا کہ شاید تھوڑی دیر کے بعد صحیح راستہ شروع ہو جائے گا لیکن وہ راستہ نہ آیا ، آتا بھی کیسے ؟


وہ تو نیچے جانے کا راستہ ہی نہیں تھا ، مقامی لوگ بھی اس راستے سے نہیں جاتے تھے کیونکہ اس راستے سے واپسی نہیں ہو سکتی ، اس پہاڑ پر چھوٹے چھوٹے کنکر جا بجا بکھرے ہوئے تھے جس پر جوگرز وغیرہ بھی پھسل جاتے تھے ، اب مجھے ڈر لگنے لگا ،واپس مڑ کر دیکھا تو کافی نیچے آ چکا تھا اور واپسی ناممکن تھی ، اللہ کا نام لے کر پھر نیچے کو آہستہ آہستہ چلنے لگا ، کبھی پتھروں کا سہارا لے کر نیچے اترتا اور کبھی زمین پر گھسٹ کر آگے بڑھتا ، عجیب کشمش تھی ،یہاں ذہنی طور پر حاضر رہنا بہت ضروری تھا ، مجھے ایک بات کا احساس ہوا کہ مجھے بھی ہائیٹ فوبیا ہے جس کی وجہ سے میں نیچے دیکھنے سے کترا رہا تھا ، پہاڑ میں دو تین جگہ چھوٹے چھوٹےغار بھی موجود تھے اور دور دور تک نہ بندہ نہ بندے کی ذات !

آخر ایک گھنٹے کے بعد نیچے پہنچ ہی گئے اور بہت مشکل سے پہنچے ، اجمل خان بھائی کو بھی مشکل ہوئی تھی ، آ بشار ہمارے بائیں طرف تھی ، ہم اس طرف بڑھنا شروع ہو گئے ،جب آبشار پر پہنچے تو دریا کے دوسری طرف کچھ لوگ نظر آئے جہاں ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم تو غلط راستے پر آ چکے ہیں اور یہاں سے واپسی نہیں ہو سکتی
اب ہم پریشان ہو گئے کہ نہ اوپر جا سکتے تھے اور دوسری طرف تیز بہاؤ کا دریا تھا ، ایک چیڑھ کا درخت نظر آیا جو کہ پل کا کام دے سکتا تھا لیکن جب اس کو دیکھا تو ہل رہا تھا اور اس کا تنا بالکل گول تھا ، تنے پر پھسلنے کا شدید خطرہ تھا کیونکہ تنے کے ساتھ موٹی موٹی شاخیں بھی موجود تھیں ،پہلے ہم نے ٹرائی کرنے کا سوچا لیکن یہ کام ہمارے بس سے باہر تھا، کیونکہ اس درخت سے پھسلنے کی صورت میں دریا میں گرنا بہت خطرناک تھا ، اب دن ڈھل رہا تھا اور اس جنگل بیابان میں ہم اکیلے تھے اور یہاں سردی میں رات گزارنا بہت خطرناک ہو سکتا تھا ، پانچ بج چکے تھے اور ہم اب زیادہ پریشان ہو گئے ،پھر مشورہ کیا تو یہی سوجھا کہ دریا کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں شاید کہیں کوئی پل یا پتھر یا ایسی جگہ نظر آ جائے کہ ہم دریا پار کر سکیں
کافی دور چلنے تک نہ پل نظر آیا اور نہ ہی کوئی درخت نظر آیا ۔

جاز بانڈہ کی رات :

ہم دریا کے ساتھ چلتے جا رہے تھے کہ ایک جگہ ایسی نظر آئی جہاں دریا کی چوڑائی تھوڑی زیادہ تھی ، ہم نے غور سے دریا کے پاٹ کا جائزہ لیا کہ ہم اس کو پار کر سکتے ہیں ؟
یہاں دریا کی گہرائی بھی کم تھی اور رفتار بھی چوڑائی کی وجہ سے کم ہو چکی تھی ، دراصل دریائے پنجکوڑہ مختلف آبشاروں ، چشموں اور برساتی نالوں کی وجہ سے وجود میں آتا ہے ، جہاں سے ہم نے گزرنا تھا یہ آبشار تھی اور بڑی آبشار تھی ،اس کا پانی آگے جا کر بڑے دریا سے مل جاتا تھا لیکن اس کو بھی مقامی لوگ دریا ہی کہتے تھے
ہم پانچ منٹ تک سوچتے رہےاور اندازہ لگاتے رہے کہ کیا ہم اس کے پار جا سکتے ہیں ؟
آخر ہم نے فیصلہ لے لیا اور میں نے پہلے دریا میں اترنے کا کہا ، ایک مسئلہ اور بھی تھا کہ دریا کا پانی بالکل برف کی مانند ٹھنڈا تھا
میں اپنے جوگر اتارے اور اس کے تسمے آپس میں باندھ کر ایک ہاتھ میں پکڑ لیا ،اسی دوران نیچے پانی کے کنارے جبڑے کی ہڈی نظر آئی ، ایک جبڑا پانی سے کچھ باہر تھا اور ایک پانی کے اندر تھا ،تجسس کی وجہ سے میں نے ان کو پکڑ لیا اور غور سے دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کرنے لگا کہ یہ کس جانور کا جبڑا ہو سکتا ہے ، اس کے سامنے کے دانت نوکیلے تھے ، ایک دم دماغ کی بتی جلی کہ یہ ہو نہ ہو کسی چیتے یا اس کی نسل کے کسی جانور کا ہے ، جبڑے کو اچھی طرح دھویا اور جیب میں رکھ لیا لیکن پھر پتا نہیں کیا خیال آیا کہ اس کو پھینک دیا ( تصاویر موجود ہیں ) بعد میں ایک دو بندوں کو دکھایا تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی ، آپ بھی دیکھ کر بتائیے گا
کپڑوں کو اچھی طرح اوپر چڑھانے کے بعد ( جہاں تک چڑھائے جا سکتے تھے ) اور ایک موٹی لمبی چھڑی ہاتھ میں پکڑ کر پہلا قدم دریا میں ڈالا اور ٹھیک پانچ سیکنڈ کے بعد بھاگتا ہوا واپس آ گیا ،میرے پاؤں سُن ہو چکے تھے ، سردی کی وجہ سے ہم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر بے ساختہ ہنسنا شروع کر دیا کہ اب کیا کریں ؟
لیکن آخر واپس بھی تو آنا تھا تو پھر دوبارہ ہمت کر کے پانی میں کود گیا اور اب ٹھنڈ کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھتا رہا لیکن آدھے حصے میں پہنچ کر اب کوئی پتھر تلاش کرنا شروع کر دیا کہ اس پر کھڑا ہو کر ٹانگوں کو کچھ سکون ملے ، آخر ایک پتھر پر کچھ سیکنڈ کے لئے چڑھ گیا ، دوبارہ پانی میں اترا ، پانی کی گہرائی کا اندازہ مشکل تھا ، اس کے لئے میں پہلے چھڑی سے اندازہ لگاتا اور پھر اگلا قدم رکھتا ، چلتے چلتے ایک جگہ پر تھوڑی سی گہرائی اور تیز بہاؤ آگیا ، میں نے چھڑی سے ٹٹولنے کی کوشش کی تو چھڑی نیچے جاتے ہوئے ہاتھ سے چھوٹ گئی ( گہرائی کی وجہ سے ) میں نے تھوڑا سا راستہ بدلا اور قریب ایک پتھر نظر آگیا لیکن اس پر کائی جم چکی تھی اور پھسلنے کا خطرہ تھا ، اب فوری فیصلے کی ضرورت تھی اور یہ صرف کچھ سیکنڈز کا کام تھا صحیح فیصلہ پار کروا دیتا اور غلط فیصلہ پانی میں بہنے کی صورت پیدا کر دیتا ، اللہ کا نام لے کر پتھر پر پاؤں رکھا ،پاؤں تھوڑا سا پھسلا اور پھر جَم گیا بس پھر دو قدم کے بعد دوسرا کنارہ آگیا جہاں ایک بڑا پتھر تھا ، جوگرز بھیگ چکے تھے ،شلوار بھیگ چکی تھی اور آدھی جیکٹ بھی بھیگ چکی تھی ، جوگرز کو پتھروں پر پھینکا اور اسی بڑے پتھر کے ساتھ ٹیک لگا کر لمبے لمبے سانس لینا شروع کر دئیے ، دوسرے کنارے پر اجمل خان صاحب کھڑے تھے ان کو دیکھ کر ایک نعرہ لگایا اور اپنے پاس آنے کا کہا ،وہ میری ویڈیو بنا رہے تھے اور اب میری باری تھی ویڈیو بنانے کی !
خان صاحب نے جوگر کے تسمے آپس میں نہیں باندھے تھے جس کی وجہ سے ایک جوگر ایک ہاتھ میں اور دوسرا دوسرے ہاتھ میں تھا ، پہلے ان کو جوگر باندھنے کا کہا تاکہ ایک ہاتھ ایمرجنسی کی صورت میں فارغ رہے ، خان صاحب دلیر آدمی ہیں ، انہوں نے میرے سے زیادہ جلدی دریا کراس کیا لیکن ایک جگہ جہاں میری چھڑی گِر گئی تھی وہاں پھسل گئے اور تقریباً آدھے سے زیادہ دریا میں چلے گئے لیکن بچت ہو گئی اور پتھر کو ہاتھ پڑ گیا ، خان صاحب بھی دو سیکنڈ کے بعد میرے پاس تھے اور وہ بھی ایک ٹوٹے ہوئے درخت کے تنے کے ساتھ لگ کر سستانے لگے ،ہم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر اونچا اونچا ہنسنا شروع کر دیا اور دیر تک ہنستے رہے ، ہمارے جوگرز اور جرابیں بھی گیلی ہو چکی تھیں لیکن سوکھنے کا انتظار نہیں کر سکتے تھے
اب دوسری طرف تھوڑی سی چڑھائی تھی ، اس چڑھائی کے بعد ایک پر سکون بل کھاتا دریا نظر آیا جس کے ارد گرد سر سبز گھاس اُگی ہوئی تھی ، جنگلی پھولوں نے ماحول کو تروتازہ کر دیا تھا ، دریا کے دونوں جانب پہاڑ تھے جن پر چیڑھ اور دیار کے درخت تھے اور سامنے برف پوش پہاڑ اپنی آب وتاب کے ساتھ کھڑے تھے
اس منظر نے سب کچھ بھلا دیا !
عصر کی نماز کا وقت تنگ تھا ، دریا سےجلدی سے وضو کیا اور ایک بڑا پتھر ڈھونڈ کر اس پر چادر بچھا کر نماز پڑھی ، یہ نماز ساری زندگی یاد رہےگی۔

اب ہم نے آبشار کو قریب سے دیکھنا تھا اس لئے دوبارہ آبشار کی طرف بڑھے ، تھوڑی سی چڑھائی کے بعد ہم آبشار کے پاس تھے ، جاز بانڈہ کا ٹریک کرتے ہوئے لاہور کے دو تین لڑکے بھی ہمارے ساتھ ہی اوپر آ رہے تھے جن سے تھوڑی ہیلو ہائے بھی ہوئی تھی اور حال احوال بھی پوچھے تھے ، یہ لاہور جوہر ٹاؤن کے تھے ، ایک لڑکے نے بتایا کہ ہم پچیس لوگوں کا گروپ ہے اور ہم صرف تین لوگ اوپر جلدی پہنچ گئے ہیں جبکہ باقی آرام آرام سے آ رہے ہیں
ابھی آبشار کے قریب جاتے ہوئے وہی لڑکے اپنے گروپ کے ساتھ ملے ، ہم نے جب گروپ دیکھا تو حیران رہ گئے کہ ان میں سات آٹھ لڑکیاں بھی شامل تھیں ( ہم ان کے یہاں تک آنے کے لئے حوصلے پر حیران تھے ) اور پھر ان کی وجہ سے کچھ رونق بھی بڑھ گئی تھی
آبشار بہت خوبصورت تھی اور اس کی آواز اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی پھوار بھی روح کو تسکین دے رہی تھی ، ہم شہر میں رہنے والوں کے لیے ایسی جگہیں بہت پر کشش ہوتی ہیں ، ہم نے دس منٹ وہاں گزارے ،تصاویر اور ویڈیوز بنائیں ، ٹریک والا لڑکا بھی ملا اور پھر کچھ باتیں بھی ہوئیں ، اب لڑکیاں ساتھ ہونے کی وجہ سے ہم کچھ ہچکچا رہے تھے اسی لئے جلدی جلدی واپسی کی راہ لی
اب واپسی کا اصلی راستہ نظر آ رہا تھا لیکن یہ بھی عمودی پہاڑ تھا اور ساری چڑھائی تھی ،آکسیجن کی بھی کمی تھی اور صبح کے ٹریک کی تھکاوٹ اور پچھلے ایڈونچر کی تھکاوٹ تو اب دل کر رہا تھا کہ یہ اوپر چڑھنا جھوٹ ہو جائے،
آنکھیں بند کروں اور ہوٹل پہنچ جاؤں لیکن ہم کوئی جادوگر تو نہیں تھے !
اب پھر چڑھائی شروع کی ، اس وقت یہ چڑھائی بہت مشکل لگ رہی تھی ، میں ایک منٹ چلتا اور تین منٹ آرام کرتا اور کسی پتھر پر بیٹھ کر نیچے وادی اور درختوں کو دیکھتا ، یہاں مجھے ایک احساس پیدا ہوا کہ بے بسی کیا ہوتی ہے ، میں اپنے آپ کو محسوس نہیں کر پا رہا تھا ، خالی دماغ کے ساتھ ان سو فٹ تک کے درختوں کو دیکھ رہا تھا ، ان درختوں کی شاخیں ہوا کی وجہ سے بار بار میرے چہرے کو مس کر رہی تھیں ، مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں اس دنیا میں ایگزیسٹ ہی نہیں کرتا ، میرا کوئی وجود نہیں ہے ، میں کون ہوں ؟


پھر مجھے اپنی فیملی اور دوست یاد آئے ، وہ سب میری آنکھوں کے سامنے تھے اور مجھے حوصلہ دے رہے تھے ،مجھے زندگی کا احساس دلا رہے تھے ،
آسمان کی طرف دیکھا تو اندھیرا ہونے کے آثار شروع ہو چکے تھے ، اب آرام کا دورانیہ کم کر کے اوپر بڑھنا شروع کیا ، یہ ایک گھنٹے کا سفر میرے لئے بہت مشکل اور بھاری تھا لیکن اوپر پہنچ ہی گیا !
وہاں ایک چھوٹا سا میدان تھا جہاں دیر یونیورسٹی کے لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے ، کرکٹ ہو رہی ہو اور میں اپنا حصہ نہ ڈالوں یہ کیسے ہو سکتا تھا ، دو بالز کھیلنے کی اجازت لی جو کہ پٹھان لڑکوں نے خوشدلی سے دے دی ، میرا سانس بہت پھولا ہوا تھا ، لیکن جب گیند کھیلی تو پتا چلا کہ یہ تو گیند کی جگہ پتھر سے کھیل رہے تھے ، گول پتھر کے اوپر کپڑے چڑھا کر اوپر ٹیپ کر دی گئی تھی ، آخر ہم پاکستانی جگاڑ کے ماہر  ہیں۔
واپسی کا سفر لمبا تھا ، اب ہم نے ایک دریا اور پار کرنا تھا جس کے لئے لمبا چکر کاٹنا پڑتا تھا کیونکہ دریا کا پل دور تھا ، جہاں سے ہم اترے تھے وہ شارٹ کٹ تھا لیکن راستہ اور پل نہ ہونے کی وجہ سے خطرناک تھا ، ہم نے بعد میں مقامی شخص  سے اس بارے تفصیل سے بات بھی کی تھی کہ ٹورسٹ کی سہولت کے لیے آپ مل کر کچھ اقدام کریں جس میں آبشار کا راستہ اور پل بنانے کا بھی کہا
سورج ڈھل چکا تھا اور ہم آہستہ آہستہ گھر ( ہوٹل ) کی طرف بڑھ رہے تھے ، آخر ہوٹل پہنچ ہی گئے لیکن مجھے تیز بخار چڑھ چکا تھا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *