اماں, ایک عظیم خاتون۔۔۔سلمان نسیم شاد

1984 میں بہت کم عمری میں ہم کاسموس شفٹ ہوئے۔ فلیٹ خریدنے سے پہلے ہم بلاک C میں کرائے پر رہا کرتے تھے۔ اور اسی  زینے پر ہمارے اوپری فلیٹ میں ایک خاتون رہا کرتی تھیں جن سے ہماری سب سے پہلے دعا سلام ہوئی۔غالباً  وہ بھی 84 یا اس سے ایک آدھ سال پہلے کاسموس شفٹ ہوئے تھے۔

ویسے ان کا نام تو زیب النساء تھا مگر پیار سے سب ان کو اماں کہا کرتے تھے۔ساڑھی میں ملبوس دبلی پتلی دراز قد وہ خاتون جن کو پورا محلہ اماں کے نام سے ہی جانتا تھا۔ محلے کی سب سے مقبول ہستی تھیں۔ان کی نیک نامی اور ہر دلعزیزی بہت مقبول تھی۔ہم نے بچپن سے ہی ماشاللہ اماں کو بہت باہمت اور ایکٹیو دیکھا۔ پورے گھر کی  ذمہ داری و سودا سلف  وغیرہ لانا ،اماں نے ہمیشہ سے ہی خود پر  لے رکھی تھی۔ اس کے علاوہ محلے دار ہوں یا عزیز و اقارب یا کوئی انجان ہی کیوں نہ  ہو ہم نے اماں کو ہر ایک انسان کی  خدمت کرتے دیکھا۔

کسی بھی پہر کوئی پڑوسی یا رشتے دار اماں کے گھر آجائے تو اماں اس کو کھانا کھلائے بغیر کسی صورت روانہ ہونے کی اجازت نہیں دیا کرتی تھیں۔ اس کے لیے  فوری طور پر خود بہترین و لزیز کھانے تیار کیا کرتی تھیں۔ اور پھر اس کی بھرپور مہمان نوازی کرنے کے  بعد ہی اس کو روانگی کی اجازت دیا کرتی تھیں۔محلے میں کوئی بیمار ہو کسی کی شادی ہو یا کسی کا انتقال ہو، غرض پورے محلے کے دکھ سکھ کی گھڑی میں اماں ہی تھیں جو سب سے پہلے متاثرہ شخص کے دروازے پر دستک دیا کرتی تھیں۔ ان کی شخصیت میں نجانے کیا جادو تھا کہ ان کے پہنچنے سے ایک دم اپنا آپ بہت مضبوط لگنے لگتا تھا۔

مجھے یاد ہے میرے پپا کو جب فالج کا اٹیک ہوا تھا تو ہم بہن بھائی بہت چھوٹے تھے پریشانی اور دکھ کی اس گھڑی میں ،محلے سے سب سے پہلے اماں ہی لیاقت نیشنل ہسپتال پہنچی تھیں۔ اور اس وقت ان کی موجودگی سے ہمیں بہت حوصلہ ملا اور یہ احساس ہوا کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔اماں ہم سب کو اپنے سگے بچوں کی طرح پیار کیا کرتی تھیں۔ ہم کوئی شرارت کردیں یا  ہم سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے اور اماں کو علم ہوجائے تو ہماری شامت آجاتی تھی۔ اس وقت ہماری کوشش ہوا کرتی تھی کہ ہمارا سامنا اماں سے نہ  ہو   مگر جوں ہی ہم اماں کی نظروں میں آتے اماں لپک کر ہمیں دبوچ لیا کرتی تھیں۔اور پھر وہ بولنا شروع ہوتی تھیں تو گھنٹوں گزر جاتے تھے۔وہ بولتی جاتیں تھیں اور ہماری نظریں نیچے جھکی ہوتی تھیں۔۔ یہ وہ وقت تھا جب بچے بڑے نہیں ہوا کرتے تھے۔ وہ بچے ہی رہا کرتے تھے۔ اس وقت والدین محلے کے بڑوں کو بولا کرتے تھے ہمارا بچہ کوئی شیطانی یا کوئی برا فعل کرتے ہوئے نظر آئے تو اس کو دو چماٹ رسید کرنا۔ ۔ مگر آج  ہمارے بچے وقت سے پہلے بڑے ہوچکے ہیں۔۔بعض اوقات اماں نیچے ہماری کلاس لینے کے بعد اوپر ہمارے گھر بھی چلی جایا کرتی تھیں اور ہمارے والدین سے ہماری شکایت کیا کرتی تھیں۔ مگر وہ سب ہمیں اچھا لگتا تھا۔ ہمیں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہمارے سر پر بہت مضبوط سایہ ہے جو ہماری حفاظت کرتا ہے۔ اور ہمارے لیے فکر مند رہتا ہے۔

عید ین  پر ہم سب محلے کے دوست نماز کے  بعد سب سے پہلے صبح اماں کے گھر سلام کرنے حاظر ہوا کرتے تھے۔اماں اپنے ہاتھ کا بنا  شِیر خورمہ،شامی کباب،کلیجی اور پراٹھے  لاکر ہمارے سامنے رکھ دیا کرتی تھیں۔محلے میں کبھی کسی بچے یا بڑے کو بخار بھی ہوگیا تو اماں تیمارداری کرنے ان کے گھروں میں پہنچ جایا کرتی تھیں ۔اماں دیسی ٹوٹکے بھی بتایا کرتی تھیں جن سے آج کل کی خواتین آشنا ہی نہیں ہیں۔اماں سب کی اماں تھیں بھلے رشتے دار ہوں یا محلے دار۔ شیعہ سنی بریلوی،جو ہوں اماں بلا تعصب سب کی رفیق تھیں۔ ہمارے پلازہ کے پرانے مکین سب اماں کی ہر دلعزیزی سے اچھی طرح واقف ہیں ،جب تک اماں کاسموس میں رہیں ہمارا پیارا محلہ ان کی محبت کی خوشبو سے مہکتا رہا۔ آج اماں اس دنیا  میں نہیں ہیں مگر ان کی یادیں، ان کی کی ہوئی نصیحتیں، انکی ڈانٹ، ان کا پیار و محبت آج بھی ہمارے دلوں زندہ ہیں۔اللہ پاک ہماری اماں کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین۔

ہر ایک صبح کو وہ مکتب کے نام کرتی تھی
ردا ورق کی تھی قوس وقزح کے رنگوں میں
قدم اٹھاتی تھی مکتب کی جائے احسن تک
سبق وہ پڑھتی تھی ممتا کی آیتوں کی طرح

سلمان نسیم شاد
سلمان نسیم شاد
سلمان نسیم شاد کراچی فری لانس جرنلٹس رائٹر و بلاگر بائیں بازو کی سوچ اور ترقی پسند خیالات رکھنے والی شخصیت ہیں ایک علمی و ادبی گھرانے سے وابستگی رکھتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اماں, ایک عظیم خاتون۔۔۔سلمان نسیم شاد

  1. واہ!
    ماشاءاللہ ،سلمان بهائی بہترین دلگداز طرزِ تحریر اسی طرح لکھتے رہیے اور ہم سب کے دل موہتے رہیے. …

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *