محمد عامر کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ ۔۔۔۔شہزاد فاروق

سین نمبر 1: 2009 ورلڈ ٹی ٹونٹی, سری لنکن نوجوان اوپنر تلکارتنے دلشان, 6 میچز میں 63 کی اوسط اور 148 کے سٹرائک ریٹ اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے 317 رنز بنا چکے ہیں- فائنل میں سری لنکا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرتا ہے اور دلشان سٹرائک پر ہیں, پاکستان پچھلے ٹی ٹونٹی کا فائنل ہار چکا ہے, وہ بھی ایک ایشین ٹیم سے, لیکن فائنل کے پہلے اوور کی پہلی پانچ گیندوں میں ہی شاید پاکستان کے چمپئن بننے کا فیصلہ ہو جاتا ہے- جب نوجوان پاکستانی باؤلر محمد عامر جنہیں اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار ٹیم میں شامل کیا گیا ہے, پہلی چار گیندوں پر ٹورنامنٹ کے ٹاپ سکورر کو زچ کرنے کے بعد پانچویں گیند پر عامر دلشان کو آؤٹ کر دیتا ہے- عامر نے اس میچ میں کوئی اور وکٹ حاصل نہیں کی, آفریدی ایک اچھی اننگ کھیل کر مین آف دی میچ بن گیا اور پاکستان چمپئن, عامر نے سات میچز میں صرف چھ وکٹیں حاصل کیں لیکن ان پانچ پہلی گیندوں نے شائقین اور مبصرین سب کو بتا دیا کہ پاکستان کو ایک بہترین فاسٹ باؤلر مل چکا ہے-

سین نمبر 2: اسی سال ابو ظہبی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلا جا رہا ہے- 212 رنز کے تعاقب میں پاکستان کا سکور 101/9 ہو چکا ہے- لیکن اس کے بعد کچھ عجیب سا ہوتا ہے, دسویں نمبر پر آنے والا محمد عامر تین چھکوں اور سات چوکوں کی مدد سے 73 رنز بناتا ہے, سعید اجمل کے ساتھ مل کر میچ کو جیت کے پاس لے جاتا ہے- پاکستان یہ میچ سعید اجمل کے پچاسویں اوور کی پہلی گیند پر آؤٹ ہونے کی وجہ سے صرف سات رن سے ہار گیا لیکن اس دن بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ پاکستان کو ایک اور وسیم اکرم مل سکتا ہے-

سین نمبر تین: وہی سال ہے, ملبورن, باکسنگ ڈے ٹیسٹ, دوسری اننگ, رکی پونٹنگ, مائیک ہسی, مائیکل کلارک, مارکس نارتھ اور بریڈ ہیڈن یہ وہ بیٹسمین تھے جو 79 رنز کے عوض عامر نے آؤٹ کیے- میچ آسٹریلیا پہلی اننگ کی بڑی لیڈ کی وجہ سے آرام سے جیت گیا لیکن ایک بار پھر لگا کہ جیسے وسیم اکرم واپس آ گیا ہے-

سین نمبر 4: 2010, ہیڈنگلے, پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا, پاکستان پندرہ سال سے آسٹریلیا سے نہیں جیت سکا-اسی سال میں جیت کے دو مواقع پہلے سڈنی اور پھر لارڈز میں گنوائے جا چکے ہیں- لگتا ہے کہ پاکستان کو آسٹریلیا سے جیت کے لیے شاید چند سال اور انتظار کرنا ہو گا- لیکن نوجوان محمد عامر کے ارادے کچھ اور ہی تھے- جس نے پہلی اننگ میں 20/3 کے بعد دوسری اننگ میں 86/4 کے بعد آسٹریلیا کو شکست پر مجبور کر دیا- اب لگ رہا تھا کہ شاید واقعی وسیم اکرم واپس آ گیا-

لیکن اس ٹیسٹ کے صرف چار ٹیسٹ بعد پاکستان انگلینڈ سیریز کا چوتھا ٹیسٹ چل رہا ہے- انگلینڈ سیریز میں 2-1 سے آگے تھا اور پاکستانی شائقین کو توقع تھی کہ پاکستان ٹیم یہ سیریز برابر کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی- عامر کے ایک اور جادوئی سپیل نے انگلینڈ کو پہلی اننگ میں 102/7 تک محدود کر دیا تھا لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ ایک ڈراؤنا خواب ہی تھا- نہ صرف انگلینڈ یہ ٹیسٹ ایک بڑے مارجن سے اور سیریز 3-1 سے جیت گیا بلکہ اس میچ اور سیریز کے ساتھ پاکستان نے اپنا کپتان اور دو بہترین فاسٹ باؤلر بھی کھو دئیے- محمد عامر جس نے وسیم اکرم کے نقش پا پر چلنا تھا, جیل اور پابندیوں کا شکار ہو گیا-

2015 کے آخر میں محمد عامر پابندی سے باہر آیا, 2016 میں انگلینڈ کے خلاف ہی ٹیسٹ کیریئر کا دوبارہ سے آغاز کیا- لوٹا ہوا عامر ایک اچھا باؤلر تھا لیکن وہ جو وسیم اکرم بن سکتا تھا, جو امر ہو سکتا تھا وہ کہیں گم ہو گیا- پابندی سے پہلے 14 ٹیسٹ میچز میں 29 کی اوسط سے 51 وکٹیں حاصل کرنے والا عامر واپسی پر 22 میچز میں 31 کی اوسط سے 68 وکٹیں لیتا ہے یہ بری کارکردگی تو نہیں ہے لیکن آج جب عامر ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوتا ہے تو ذہن میں یہی سوال آتا ہے کہ کیا عامر بس یہیں تک پہنچ سکتا تھا؟
محمد عامر اگر سلمان بٹ اور محمد آصف کے ساتھ مظہر مجید سے نہ ملا ہوتا تو آج محمد عامر کا کیریئر کہاں ہوتا؟
اگر پاکستان کرکٹ بورڈ نوجوان ہیروز کی کونسلنگ کا انتظام کرتی تو کیا عامر بچ سکتا تھا؟
مختلف مسائل میں پھنسنے والے محمد آصف کو ان کی عمدہ کارکردگی کے باوجود اگر ٹیم سے دور رکھا جاتا تو کیا پاکستان کرکٹ اس دھبے سے بچ سکتی تھی؟

ان میں سے کسی بھی سوال کا یقینی جواب دینا ناممکن ہے لیکن آج محمد عامر کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ سے دل دکھی ضرور ہوا کہ ایک ایسا ستارہ ٹیسٹ کرکٹ سے دور ہو گیا جو چمکنے سے پہلے ہی مدھم ہو گیا تھا-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *