یومِ تشکر: شکریہ وزیراعظم عمران خان۔۔۔رمشا تبسم

نیا پاکستان اس وقت دو ہی گروپ میں تقسیم ہے. جبکہ پرانے پاکستان کا ایک ہی گروپ ہے۔ ادب کا دائرہ چھوڑ کر بات کی جائے تو نئے پاکستان کا ایک گروپ بغضِ نواز شریف اور دوسرا بغضِ پاکستان ہے ۔بُغض نواز شریف والا گروپ آج ہر صورت یومِ تشکر منانا چاہتا ہے تاکہ وہ نواز شریف سے اپنی نفرت کا اظہار کر سکے اور عمران خان سے اپنی محبت کا چرچا بھی۔لہذا عمران خان کی تصاویر ڈی۔پی پر لگا کر دلی سکون محسوس کرتے ہوئے خود کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ  آج یومِ  تشکر ہی ہے۔ کیونکہ”پٹیالے” (پٹواری+جیالے=پٹیالے) ان کو اب حقائق سامنے لا کر کافی حد تک یقین دلا چکے ہیں کہ  تبدیلی نہیں آئی۔

دوسرا گروپ بُغض پاکستان جو آج یومِ تشکر اس لیے نہیں منا رہے کیونکہ ان کے نزدیک ایک سال کے اندر عمران خان کی کارکردگی پر بات کرنا نہایت غلط حرکت ہے کیونکہ کم سے کم پانچ سال بعد (اگر پاکستان میں کچھ باقی رہا تو ) عمران خان کی کارکردگی کی بات کی جانی چاہیے۔انکی معصوم عقل میں اتنا ظالم سچ آج تک نہ سما پایا کہ  عمران خان ایک سالہ اقتدار نہیں بلکہ چھ سالہ اقتدار مکمل کر چکا ہے پانچ سالہ خیبر پختوانخوا  اور، ایک سالہ وفاق میں۔لہذا مجموعی کارکردگی کی بات کی جائے تو بھی صفر ہی ٹھہرتی ہے۔جو کہ  یہ دونوں گروپ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

پرانے پاکستان والا گروپ ہر صورت یوم سیاہ منا رہا ہے۔اس گروپ میں ہر طرح کے لوگ شامل ہیں۔ماضی کی تمام حکمران جماعتیں,غربت کی چکی میں پسِتا عام آدمی, کاروباری تباہ حالی کا شکار طبقہ,ٹیکسوں کی زیادتی کا شکار ہوئے لوگ وغیرہ وغیرہ۔

حکمران جماعت اور بالخصوص عمران خان متعدد بار پارلیمنٹ, ٹویٹر,ملکی اور غیر ملکی جلسوں میں اعلان کر چکے ہیں کہ  جس کو احتجاج کرنا ہے وہ شوق سے کرے کنٹینر سمیت تمام سہولیات فراہم کی جائیں  گی۔مگر جب کوئی احتجاج کا اشارہ دیتا ہے تو عمران خان سمیت تمام حکومتی ارکان کافی حد تک خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔چند دن پہلےبیرون ملک امریکہ میں بھی کیپیٹل ون میں جلسہ  کے دوران  عمران خان نے اندرونِ ملک والوں کو کنٹینر آفر کیا۔
مگر جب اپوزیشن نے آج جلسے  کا اعلان کیا تو انکے جلسے کی کوریج تک روک لی گئی ۔
عمران خان اور حکومتی ارکان دن رات میڈیا پر آ کر ایک بات چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ  تمام عوام ان کے ساتھ ہے۔عوام عمران خان پر اعتبار کرتی ہے۔اس بات کو چیخ کر کہنے والوں کو خود اس بات پر نجانے کیوں یقین نہیں ہے۔
کیونکہ اگر یقین ہوتا تو ان کو اپوزیشن کی میڈیا کوریج روکنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

کیا یہ  زیادہ بہتر اقدام نہیں ہوتا کہ عمران خان تمام میڈیا اور ریاستی مشینری کو اجازت دیتا کہ  ان کے جلسے اور ریلیوں میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے تا کہ عوام اپوزیشن کے جلسوں کی ناکامی خود لیں؟ کیا یہ بہتر نہیں ہوتا کہ  عمران خان آج سب کچھ میڈیا پر کھلے عام دکھانے دیتے  تاکہ عمران خان کا اپوزیشن کی ناکامی کا بیانیہ صحیح ثابت ہوتا؟

مگر نہیں۔۔ ایک طرف مکمل احتجاج کو ٹی۔وی سکرین سے چھپا دیا گیا اور دوسری طرف حکومتی ارکان ٹی۔وی اسکرین پر بیٹھ کر اپوزیشن کے جلسے کی ناکامی کا شور مچا رہے ہیں۔یہ تو وہی بات ہو گئی  جو 2018 کے الیکشن میں ہوئی تھی کہ تمام لیڈران کو قید کر کے عمران خان کو خالی میدان دے دیا گیا اور اس کے باوجود حکومت بنانے کے لئے عمران خان کو ہر چھوٹی بڑی جماعت کا سہارا لینا پڑا اور بالآخر اب مولانا فضل الرحمن کی مدد کی بھی ضرورت پڑ گئی۔

عوام کو یاد ہے 2014میں ڈی۔چوک کی طرف جاتا ایک احتجاجی ٹولہ جو نہ عوام کے لیے نکلا تھا نہ غربت کے خاتمے کے لیے، بلکہ وہ نکلا تھا اپنی اقتدار کی ہوس پوری کرنے  کے لیے اور چار حلقوں کے لیے۔ہر تقریر میں ملک میں آگ لگاؤ کا پیغام تھا۔ محترم عارف علوی صاحب سڑک کے درمیان میں کھڑے ہو کر شہر میں آگ لگوا رہے تھے۔پی۔ٹی۔وی کی خواتین  پر حملے کیے  گئے۔پولیس والوں پر ڈنڈے برسائے گئے۔شاہ محمود قریشی لوگوں کو ہر رکاوٹ توڑ کر حملہ کرنے کی ترغیب دیتے رہے اور عمران خان اور ان کے سیاسی کزن ڈاکٹر طاہر القادری یہ اعلان کرتے رہے کہ  جو آپ کے راستے میں آئے مار دو گرا دو۔ یوٹیلیٹی بل جلا دئیے گئے۔پارلیمینٹ پر لعنتیں بھیجی گئیں ۔جلسوں میں عورتوں کی  بے حرمتی کی گئی ۔شہر کا شہر برباد کر دیا گیا۔اور یہ سب کچھ ہم نے کسی سے سنا نہیں بلکہ گھروں میں بیٹھ کر آزاد میڈیا پر دیکھا۔ملک میں آگ لگانے تک کے بیانات دکھائے گئے۔مگر نواز شریف نے کسی قسم کی میڈیا پر پابندی نہ لگائی اور نہ ہی عمران خان کا کوئی بیان روکا۔شاید اچھا ہی کیا تھا تاکہ مجھ جیسے کئی  لوگ آنکھوں سے دیکھ کر فیصلہ کریں کہ  ملک دشمن کون اور ملک دوست کون۔۔

اب اگر عمران خان کو اپنی کارکردگی پر اتنا بھروسہ ہے تو اسی طرح اپوزیشن کے احتجاج کو کوریج دینے کی اجازت دے تاکہ اب بھی مجھ جیسے کئی لوگ آنکھوں سے دیکھ لیں کہ  عمران خان واقعی حقیقی کامیاب ہیں اور اپوزیشن ناکام جلسے کر رہی ہے ۔مگر نہ جانے کیوں ایک خوف سا حکومت کو گھیرے ہوئے ہے۔جس کی بنا پر اپوزیشن کی کوریج روک کر تمام حکومتی ارکان میڈیا پر آ کر یقین دلا رہے ہیں کہ  سڑکوں پر کوئی نہیں نکلا۔جن کی زبان  یوٹرن کی ماہر ہو اب ان کی بات پر اعتبار نئے پاکستان والے دو گروپ ہی کر سکتے ہیں۔عام آدمی نہیں۔

بہر حال میں عمران خان کامندرجہ ذیل اقدامات پر شکریہ ادا کرتی ہوں۔
میڈیا بلیک آؤٹ دکھانے پر, اسٹاک مارکیٹ تباہ کرنے پر۔فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ خسارہ پر ۔ڈیم بنانے پر ووٹ لے کر ڈیم کو عوام کے ذہنوں سے نکال کر۔ملک ملک جا کر پاکستان کی ناکامیاں گنوانے پر۔ملی و غیر ملکی جلسوں میں خود کو انتہائی مغرور اور بد اخلاق ثابت کرنے پر۔غریب سے چھت چھیننے پر۔میگا پروجیکٹس تباہ کرنے پر۔نواز شریف کے لگائے تمام پروجیکٹس کا اپنے نام سے افتتاح کرنے پر ۔کرکٹ کی تباہی پر۔ریلوے کی تباہی پر۔اپنی ناکام کارکردگی کو چھپانے کے لیے بار بار کارکردگی کی تقریبات پر عوام کا پیسہ ضائع کرنے پر۔صحافیوں پر تھپڑ برسانے پر۔صحافت کو قید کرنے پر۔مرغیوں,کٹوں پر،کسی قسم کا کوئی میگا پروجیکٹس خود شروع نہ کرنے پر۔غریب آدمی سے جینے کا حق چھیننے پر۔بے تحاشا  قرضہ لے کر اسکا الزام دوسروں پر ڈالنے پر۔۔اور تمام معیشت کو تباہ کرنے پر وغیرہ وغیرہ۔مزید ناکامیاں لکھتے وقت میرا قلم لڑکھڑا رہا ہے،باقی باتیں مورکھ کبھی ضرور لکھے گا ۔

شکریہ عمران خان قوم کو اور خاص کر میڈیا کو یومِ  تشکر مبارک ہو۔

نوٹ۔ پٹیالے کی اصطلاح   پی۔ٹی۔آئی  کے ایک مہذب  سپورٹر نے ایجاد کی تھی، جب وہ مجھے تمیز اور تہذیب کا سبق دے رہے تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *