ہماری ادھوری کہانی۔۔۔۔عارف خٹک

ماں کے مسلسل فون آرہے تھے۔تین ماہ ہوگئے ماں سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔
جب اپنی بے بہامصروفیات سے چھٹیاں ملیں  تو سوچا یار دوستوں کے پاس جایا جائے۔ ہفتہ دس دن کے بعد پھر ماں کو سلام کرنے پہاڑوں کے بیچ اپنے گاؤں کا چکر لگا لوں گا۔اور دو ماہ ماں کی آغوش میں گزار لوں گا۔میرا علاقہ جو چاروں طرف سے پہاڑوں میں ِگرا ہوا ہے۔ وہاں کی زندگی بھی ایک قید جیسی محسوس ہوتی ہے۔ جہاں آج بھی مرد عورت پر راج کرتا ہے۔مردوں کی اس دنیا میں عورت آج بھی بیٹوں کے سامنے جاتی ہے،تو سر پر دوپٹہ ٹھیک کرکے اور بیٹے کو خود کھانا کھلا کر اُس سے ڈرتے ڈرتے اُس کی طبیعت پوچھتی ہے۔میں اپنی ماں کا واحد دوست اور بیٹی نُما بیٹا ہوں۔ جس میں ماں کی پوری زندگی سموئی ہے۔ماں نے تین سال کی عمر میں مُجھے خود سے الگ کرکے پڑھنے واسطے دُور بھیج دیا۔ تاکہ خاندانی دُشمنیوں میں کوئی میرے قتل پر ڈھول بجاکر خوشیاں نہ منائے،کہ آج ہم نے دُشمن کے جوان جہان بندے کو مار گرایا ہے۔

بڑے بھائی کو 25 سال پیشتر روس بھیجاگیا،کہ وہاں کم از کم محفوظ تو رہے گا۔ پچیس سال ماں اپنے بیٹے کا انتظار کرتی رہی،کہ ایک دن وہ آئے گا۔مگر آج تک پلٹ کر وہ واپس نہیں آیا۔ میں جب بھی ماں کو کہتا،کہ بھیا کو واپس بُلوا لو۔ وہ فوراً ہی میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیتی،کہ پاگل ہوگئے ہو؟روس میں ٹھیک ہے ناں۔ میرا کیا ہے آج زندہ ہوں،کل مروں گی،مگر یہاں وہ کسی کی گولی سے تو نہیں مرےگا ناں؟رہنے دے اُسے وہاں پر اپنی سانسیں جینے کے لیے۔اور اگلے دن میرا بیگ پکڑا کر وہ مُجھے گاؤں سے مُنہ اندھیرے رخصت کردیتی۔کہ دن کی روشنی میں دُشمن کا وار کبھی خالی نہیں جاتا۔

میں کبھی کبھار ماں سے گلہ کرتا ہوں کہ آپ نے مُجھے کبھی مامتا دی ہی نہیں۔آگے سے وہ بولتیں،کہ میری جان تم بس زندہ رہو۔میرے لیے  یہ بھی کافی ہے۔ اگر کبھی میں ماں کو اپنے پاس شہر آنے کا کہتا،کہ آ کر کچھ دن رہیں میرے پاس۔۔تو وہ یہ کہہ کر لاجواب کردیتیں،کہ یہاں تیرے بُوڑھے باپ کو بھی تو دیکھنا پڑتا ہے۔
دو ماہ کی چھٹی منظور ہوئی تو لاہور اور اسلام آباد اپنے دوستوں کے پاس چلا گیا۔ اماں نے تو دو دن بھی گاؤں نہیں رہنے دینا تھا۔ سوچا دس بارہ دن ایسے ہی آوارہ گردی میں گزار لوں گا۔ دو دن بعد اماں جب دوبارہ گاؤں سے چلتا کریں گی تو تب کی تب پھر دیکھی جائےگی۔

رات دس بجے اماں کا فون آیا کہ کہاں ہو؟میں پریشان ہوگیا کہ اللہ خیر کرے۔ گاؤں میں اس وقت سب سو رہے ہوتے ہیں۔ اماں نے اس ٹائم فون کیسے کیا؟ڈرتے ڈرتے فون اُٹھایا،اماں بولیں کہ بیٹا دل گھبرا رہا ہے۔ سوچا تم سے باتیں کرلوں۔ میں نے بہتیرا پوچھا کہ ہٹلر نے کچھ اُلٹا سیدھا بولا ہے کیا؟اماں کی آواز رُندھ سی گئی۔بولیں،نہیں بیٹا بس ایسے ہی تیری یاد آرہی تھی،اچھا سو جاؤ۔ میراماتھا ٹھنکا،پوچھا،اماں کیا ہوا ہے؟کہنے لگیں  بس جلدی سے آ، تجھے دیکھ لوں۔ میں نےہنس کر فون بند کردیا کہ کل جاؤں گا تو پھر دو دن بعد گاؤں سے چلتا کریں گی۔ سوچا دو تین دن بعد چلا جاؤں گا۔
صبح دوستوں کے ساتھ پھر سے مصروف ہوگیا۔ دوپہر کو پھر اماں کا فون آگیا۔بیٹا تم ٹھیک تو ہو ناں؟ میں نے جواب دیا اماں آپ بھی فضول میں پریشان ہوجاتی ہیں۔ مجھے کیا ہونا ہے۔ اماں معذرت خواہانہ سے لہجے میں بولیں۔بیٹا آجاؤ ناں،بڑی یاد آرہی ہے تیری۔ یہ کہتے ہوئے وہ سسک پڑیں۔ میں نے پریشان ہوکر پوچھا اماں آپ کا ہٹلر شوہر کہاں ہے؟جواب دیا وہ کہیں گیا ہے۔ خیر چھوڑو اُسے ،تم بتاؤ،کب آرہے ہو؟میں نے تذبذب کے عالم میں جواب دیا۔اماں آجاؤں گا کون سا آپ نے مجھے  دو ماہ اپنے پاس رکھنا ہے۔اماں نے فون بند کردیا۔

اگلے دن دوستوں کےساتھ مری جانے کا پروگرام بنایا،کہ ٹھیک نو بجے اماں کا فون آگیا۔ فون اُٹھاتے ہی میں نے پوچھا،اماں خیر تو ہے بڑی یاد آرہی ہے آج کل میری۔ایکدم سے بولیں،تم ٹھیک تو ہو ناں۔ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ الحمداللہ دوستوں کےساتھ مری جارہا ہوں۔ یہ سُننا تھا کہ ماں زخمی شیرنی کی طرح دھاڑی۔ ۔کہ تم بھی اپنے بھائی کی طرح بے حس ہوگئے ہو۔ کب سے بُلا رہی ہوں۔تم آ کیوں نہیں رہےمیرے پاس؟تھک گئی ہوں تم لوگوں کو روتے روتے۔میں دم سادھے اُن کو سُنتا چلا گیا۔
میں نے ماں کو کبھی بھی اتنا کمزور اور بکھرا ہوا نہیں دیکھا تھا۔
دھڑکتے دل کےساتھ اماں سے پوچھا اماں سب خیریت تو ہے ناں؟روتے ہوئے بولیں۔تیری یاد آرہی ہے بے غیرت،تو سمجھتا کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔

اماں کے آنسو جیسے میرے دل پر بہے جارہے تھے۔دوستوں سے اجازت لی اور اپنے گاؤں روانہ ہوگیا۔ آنسو تھے کہ تھم نہیں رہے تھے۔اماں نے ہم دونوں بھائیوں پر بہت ظلم کیے۔ خود سے ہمیشہ الگ رکھا۔ اماں کو ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا تھا کہ شاید وہ بھی اپنی دیورانیوں کی طرح خون میں لت پت بیٹوں کو دیکھنے کاحوصلہ نہیں رکھتی تھیں۔ مگر میرے خاندان میں آج بھی تیس چالیس نوجوان ہیں جو زندہ ہیں۔ ان کی ماؤں نے تو کبھی بھی ان کو خود سے دُور نہیں رکھا۔ ہم دونوں بھائی بچپن سے ماں کی آغوش کےلیے ترستے رہے۔ بڑے بھیا تو یہ بھی بُھول گئے،کہ اس کی ایک ماں بھی ہے ۔جو خیبر پختونخوا   کے سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ ایک جیل نُما گاؤں میں اس کا رستہ دیکھتے دیکھتے تھک گئی ہے۔ بھیا نے شادی کرلی۔ اب تو اس کے   بچے بھی جوان ہونے لگے ہیں۔ مگر پلٹ کر اُس نے کبھی ماں کی خبر نہیں لی۔ شاید وہ ماں کو یہی سزا دینے پر تُلا ہوا تھا کہ جب اس کو ماں کی ضرورت پڑتی تھی تو تکیے میں مُنہ چھپا کر رو لیتا تھا۔ مگر میں ہمیشہ چھ ماہ بعد چُپکے سے ماں کا دیدار کرکے آجاتا۔ ابا بڑے سخت مزاج تھے۔ ہماری کبھی ان سے بات کرنے کی ہمت تک نہیں ہوئی۔
یہ سب سوچتے ہوئے رات کے اندھیرے میں کب گاؤں پہنچا۔ پتہ ہی نہیں چلا۔۔

ماں دروازے کےساتھ لگی میرا راستہ تک رہی تھی۔جیسے ہی مُجھے دیکھا تو میرے سینے سے لگ گئی۔ اور خاموش آنسوؤں سے رونے لگی۔ میں نے بھیگتے ہوئے لہجے میں ماں سے پوچھا۔ سب خیریت تو ہے۔ تو ماں آنسوؤں کے بیچ مسکرا کر بولی۔۔ کیا میں اب اپنے بیٹے کو بُلا بھی نہیں سکتی؟کیا اتنا بھی حق نہیں ہے مجھے؟کمرے میں بیٹھے ہم ماں بیٹا باتیں کررہے تھے،کہ ماں کے فون کی سکرین پر ایک نمبر جھلملانے لگا۔ نمبر طویل تھا۔۔ میں نے فوراً فون اُٹھایا کہ ماسکو سے کون اماں کو فون کرسکتا ہے۔ہیلو بولتے ہی آگے سے ابا کی لرزتی ہوئی آواز آئی،کہ پرسوں میں تمہارے بیٹے کو لےکر آرہا ہوں۔ دوسرا بیٹا گھر پہنچ گیا ہے؟مزید بولے کہ،ڈاکٹروں نے جواب دےدیا ہے۔ بس دعا کرنا آصف کو تم بس ایک بار زندہ دیکھ سکو۔اس کے بچے بھی ساتھ میں آرہے ہیں۔

فون میرے ہاتھ سے گر گیا۔ ہم ماں بیٹے ایک دوسرے کو خاموشی سے تک رہے تھے۔ وقت اپنی جگہ ساکت ہوچکا تھا، کہ اچانک ماں کی سرگوشی نما آواز کمرے میں گونجنے لگی۔ تیرے بھیا کا ٹیومر دماغ کے نچلے والے حصے میں ہے۔لہٰذا ناقابل علاج ہے۔تیرے ابا کو وہاں بھیجا ہے کہ وہ میرے آصف کو اپنے ساتھ لےکر آجائیں۔ کم از کم بیٹے کو دیکھ تو لوں گی۔ تجھے اپنی بیٹی سمجھتی ہوں۔ تم مجھے سنبھال سکوگے ناں؟۔ ماں کو کیسے بتاتا کہ اماں میرا تو کوئی بڑا بھائی بھی نہیں ہے۔ جو مجھے سنبھالیں ۔ میں نے مسکرا کر کہا اماں میں ہوں ناں۔ اماں نے سرہلایا اور اس کی کی جھلمل آنکھوں سے بہتے دو آنسو اُن کے کانپتے ہونٹوں میں کہیں جذب ہوگئے۔

ہم دونوں دیوار کیساتھ ٹیک لگا کر ایک دوسرے کو خالی نظروں سے دیکھتے رہے کہ اچانک ماحول میں جھینگروں کی ماتم زدہ آوازیں گونجنے لگی۔اور کمرے میں تیز ہوا کا جھونکا آیا اور لالٹین کی زرد روشنی بھی بجھ گئی۔
شاید ان کے ہاں بھی آج کوئی ماں بے اولاد ہوگئی تھی۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *