فرزندِ زمین۔۔۔سلیم احسن نقوی

آج کل فیس بک پر کچھ  حضرات کراچی اور حیدرآباد میں بسنے والے اردو سپیکنگ لوگوں کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ چوں کہ وہ صوبۂ سندھ کے مستقل باشندے ہونے کے باوجود سندھی زبان نہیں جانتے اس لیے وہ زمین سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ میں اس کے متعلق کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔

حضرات، کسی بھی علاقے کی زبان وہاں کی پہچان اور وہاں بسنے والے لوگوں کا مان ہوتی ہے۔ اگر کسی اجنبی کو اس علاقے کی زبان آتی ہو تو اس کے لیے وہ زمین اور اس کے باسی اپنی بانہیں کھول دیتے ہیں، اور اگر اسے اس علاقے کی زبان نہیں آتی تو وہ بھوکا مر جائے گا۔

یہ سب تسلیم کر لینے کےبعد میں کہوں گا کہ کچھ زبانیں رابطے کی زبانیں ہوتی ہیں۔ ان کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ وسیع علاقوں میں سمجھی اور بولی جاتی ہیں جہاں مختلف مادری زبانیں بولنے والے بستے ہیں۔ لہٰذا، اگر کسی اجنبی کو اپنے خطے کی رابطے کی زبان آتی ہو تو اس کا کام ہر اس جگہ چل سکتا ہے جہاں وہ رابطے کی زبان سمجھی اور بولی جاتی ہو، چاہے اسے مقامی زبان نہ بھی آتی ہو۔

یہ تو بات ہوئی اجنبیوں کی۔ اب ہم آ جاتے ہیں کسی ملک کے شہریوں کی طرف۔ فرض کریں کہ کوئی شخص کہیں سے آ کر کسی ملک میں بس جاتا ہے اور وہاں کی شہریت لے لیتا ہے۔ اب اسے اس ملک کی کسی انتظامی اکائی میں ہی رہنا پڑے گا۔ اسے اپنا کاروبار زندگی چلانے کے لیے اس علاقے کی زبان آنی چاہیے۔ چنانچہ اسے اس اکائی کی زبان سیکھنی پڑے گی۔ لیکن اگر اسے اس ملک کے رابطے کی زبان آتی ہے جو اس اکائی کی اکثریت جانتی ہو تو اس کا اور اس کی آنے والی نسلوں کا کام اس اکائی میں وہاں کی زبان جانے بغیر بھی چل جائے گا۔ اور پھر اگر وہ رابطے کی زبان خود اس کی مادری زبان بھی ہو اور اس ملک کی قومی زبان بھی تو معاملہ دوسرا ہو جاتا ہے۔

لہٰذا اصولاً تو اسے اس اکائی کی زبان آنی چاہیے، اور زبان کسی علاقے سے جڑے ہونے کی بنیادی شرط ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ زمین سے جڑے ہونے کی واحد شرط ہے؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے اور کسی علاقے سے جڑا ہونا کچھ دوسرے  عوامل کے سبب بھی ہو سکتا ہے۔

ہم نے یہ تو مان لیا کہ اردو اسپیک لوگ سندھی زبان نہیں جانتے، مگر دیکھ لیتے ہیں کہ زمین سے جڑے ہونے کی کوئی دوسری شرط تو ایسی نہیں جسے وہ پورا کر لیتے ہوں؟

سندھ میں مستقل آباد اردو اسپنکنگ لوگ سندھ کے کسی ہسپتال میں پیدا ہوتے ہیں (کراچی سندھ کا حصہ اور دارالحکومت ہے)، سندھ کے کسی سکول میں تعلیم پاتے ہیں (کراچی سندھ کا حصہ اور دارالحکومت ہے)، سندھ کے کسی کالج میں پڑھتے ہیں (کراچی سندھ کا حصہ اور دارالحکومت ہے)، سندھ میں نوکری یا کاروبار کرتے ہیں (کراچی سندھ کا حصہ اور دارالحکومت ہے)، ان کی جائز معاشی سرگرمیوں سے سندھ کو فائدہ پہنچتا ہے، اور ان کی بدعنوانی سے سندھ کو براہ راست نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے بعد وہ سندھ میں واقع کسی شادی ہول میں شادی کرتے ہیں (کراچی سندھ کا حصہ اور دارالحکومت ہے)، سندھ میں بچے پیدا کرتے ہیں، سندھ میں نانا دادا بنتے ہیں، بیمار ہو کر سندھ کے ہسپتالوں میں علاج کرواتے ہیں اور مرنے کے بعد سندھ میں کسی قبرستان میں سندھ کی مٹی میں دفن ہوتے ہیں (کراچی سندھ کا حصہ اور دارالحکومت ہے)۔ نہ ان کا پیسہ سندھ سے باہر بھیجا جاتاہے، نہ تدفین کے لیے ان کی میت سندھ سے باہر لے جائی جاتی ہے۔ ان ساری باتوں میں جن چیزوں کے بارے میں میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا وہ یہ  ہیں کہ ان کے ماں باپ کے درمیان جماع کا عمل اور ان کا حمل ٹھہرانا بھی سندھ کے اندر ہی ہوتا ہے، مگر بچے کی پیدائش بہرحال سندھ میں ہی ہوتی ہے۔ ان باتوں سے تو وہ ہر طرح سے زمین سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں اور انکار وطن کے مرتکب ہرگز نہیں ہیں، چاہے صوبے کے سیاسی حالات اور لسانی و نسلی محاذ آرائی کی وجہ سے اس بات کا اقرار نہ  کرنا چاہتے ہوں۔

تو جناب اس سے ثابت ہوا کہ چاہے وہ زبان جاننے کی بنیادی شرط نہ پوری کرتے ہوں لیکن اس کو چھوڑ کر ان کی پوری کی پوری زندگی سندھ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، چاہے وہ صوبے کے سیاسی حالات اور لسانی و نسلی محاذ آرائی کی وجہ سے اس بات کا اقرار نہ کرنا چاہتے ہوں۔ ہاتھی بہت بڑا ہوتا ہے اور چیونٹی بہت چھوٹی چیز ہوتی ہے، لیکن اگر بہت ساری چیونٹیاں ایک ہاتھی پر حملہ کر دیں تو وہ اجتماعی طور پر ہاتھی کو مار سکتی ہیں۔ اسی طرح زبان جاننا ہاتھی جتنی بڑی شرط ضرور ہو سکتی ہے، لیکن باقی تمام زمین سے جڑے ہونے کے عوامل مل کر اس کی تلافی کر دیتے ہیں اور ان پر زمین سے جڑے نہ ہونے کا الزام لگا دینا زیادتی ہے۔

میں نے یہ تفصیل بیان تو کر دی لیکن میرے ذہن میں یہ سوال بھی آ رہا ہے کہ کسی کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ خدائی فوجدار بن کر اپنے ہم وطنوں سے سوال کرے کہ وہ کون سی زبان بولتے ہیں کون سی نہیں؟ کیا انہیں یہ حق آئین پاکستان نے دیا ہے یا تعزیرات پاکستان نے؟ اور اگر انہیں یہ طے کرنے کا کہ ان کا کون سا ہم وطن زمین سے جڑا ہوا ہے اور کون سا نہیں، کوئی قانونی حق حاصل ہے تو میں وہ قانون جاننا چاہوں گا تاکہ اسے پڑھ کر یقین کر لینے کے بعد ان لوگوں سے معذرت کر سکوں کہ میں نے ان کے قانونی حق میں مداخلت کی ہے۔ لیکن اگر ان کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں ہے تو میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وہ قوم پرستی کے نام پر فاشسٹ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، جو قابل مذمت بات ہے۔

بہر حال اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں: ان سب وجوہات کی وجہ سے وہ ہر طرح سے

Son of the soil
ہیں۔ انہیں اس کے لیے کسی سے سرٹیفیکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ انہیں فرزند زمین نہ مانے اور جو نہیں مانتا اس کے نہ ماننے کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی افغانستان کی پاک افغان سرحد یعنی ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد نہ ماننے کی۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 4 تبصرے برائے تحریر ”فرزندِ زمین۔۔۔سلیم احسن نقوی

    1. بر صغیر کی تقسیم سے پہلے کراچی میں رہنے والے تمام لوگ سندھی زبان بولتے تھے؟ کراچی ہمیشہ کثیرالقومی شہر رہا ہے اس لئے یہاں پر رہنے والوں کی زبان اردو ہی رہی ہے جو کہ اس زبان کی ایک شاخ ہے جسے ہندستانی کہا جاتا تھا

    2. حمزہ صاحب، آپ کی بات سے اتفاق تو کر لیا، لیکن اگر وہ سندھی نہیں بولتے تو اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اس سے کسی دوسرے کا کیا نقصان، یا اگر وہ سندھی بولنے لگیں تو کسی کو کتنی رکعات کا ثواب ملے گا؟

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *