وجب الشكر علينا

طلع البدر علينا
من ثنيات الوداع
وجب الشكر علينا
ما دعي لله داع
أيها المبعوث فينا
جئت بالأمر المطاع
جئت شرفت المدينه
مرحباً يا خير داع
طلع البدر علينا
سادہ ترجمہ: ہم پر چودہویں کا چاند ثنیات الوداع کی طرف سے طلوع ہوا۔ ہم پہ شکر واجب ہے کہ بلانے والے نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا۔ آپﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے اور آپ ایسی بات لائے ہیں جو قابل اطاعت ہے (یاجسکی اطاعت کی جائے گی)۔آپﷺ نے مدینہ کو شرف بخشا، اے خیر کی دعوت دینے والے خوش آمدید!ہم پر چودھویں کا چاند طلوع ہوا ہے۔
توضیح: ثنیات الوداع وہ جگہ تھی جہاں سے اہل مدینہ مکہ جانے والوں کو رخصت کیا کرتے تھے۔
دنیا میں سائنسدان، فلسفی، شاعر، نثر نگار، سیاست دان، بادشاہ اور معلم اتنے بڑے بڑے لوگ گذرے ہیں۔ لیکن کسی کی بھی دعوت دوام نہ پاسکی، کوئی بڑے سے بڑا عقلی مسلمہ بھی ایک صدی سے زائد عمر نہ پاسکا، اور پھر یہ لوگ کبھی اپنی زندگی میں توازن پیدا نہ کرسکے، آپ دنیا کی بہترین شخصیات کی لسٹ بنائیے اور پھر ایک طرف سے انکی سوانح پڑھنا شروع کردیجئے کسی ایک شخص کی زندگی میں بھی توازن ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔ کہیں نہ کہیں وہ شخصیت آپکو غیر متوازن ضرور ملے گی۔
نبیﷺ کی سوانح اپنی نوعیت کی واحد سوانح ہے کہ اسمیں کہیں بھی معمولی سا بھی عدم توازن نظر نہیں آئے گا۔ آپ پیمانہ لے کر بیٹھ جائیں اور رطب یابس کو چھوڑ کر مستند چیزوں سے نبیﷺ کی زندگی کا جائزہ لیں تو یہ اپنی نوعیت کی ایک واحد سوانح ہے جہاں عدم توازن جیسی چیز موجود نہیں، چاہے آپ زندگی کے اس حصے کا مطالعہ کر رہے ہوں جہاں آپ بھیڑ بکریاں چراتے تھے یا اس حصے پہ ہوں جہاں آپ مکہ فتح کرچکے تھے۔
میری اوقات تو یہ بھی نہیں کہ آپکے نام کی م بھی لکھ سکوں لیکن بڑی باادب کوشش کر رہا ہوں نبیﷺ کی زندگی کا ایک پہلو سامنے لانے کی، افسوس کی بات ہے وہ پہلو بہت کم بیان ہوتا ہے۔ لوگوں کو اطاعت ہردم یاد ہے لیکن نجانے کیوں ہماری زندگیاں اتنی بھیانک اور خونخوار ہوتی جارہی ہیں۔ نجانے کیوں ہمارے ہاتھوں اور جبڑوں سے دوسروں کے خون کی رالیں ٹپک ٹپک کر ہماری داڑھیوں کو بھی خون آلود کر رہی ہیں۔
فارسی شاعر نے بہت خوبصورت بات کہی ہے:
گر نہ داری از محمد رنگ و بو
از زبان خود میسا لا نام او
ترجمہ : اگر تمہاری سیرت و کردار محمد ﷺ کے رنگ و بو سے بہرہ ور نہیں تو ہمیں قطعاً یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنی ناپاک زبان سے آپﷺ کا پاک نام لیں۔
ہم نام سے، نعروں سے اور باتوں سے سچے پکے عاشق رسول ہیں۔ نبیﷺ ہمیں اپنے ماں باپ سے بھی عزیز ہیں۔یہاں خون سے مراد اپنے نفس کا خون ہے۔ آپ مجھے حکم کیجئے میں نبیﷺ کے لئے کسی کاگلا کاٹ دونگا یا اپنا تو کٹوا لونگا ۔ مجھے یہ تو علم ہے کہ آپ اعلیٰ اخلاق تھے، لیکن وہ اخلاق کیا تھے؟ میری بلا سے، مجھے کیا؟ میرا ہمسایہ بھوکا سو جائے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن جس پر گستاخی کا الزام ہے اسے آج میں چوک میں لٹکا کر دم لونگا۔ میری زبان کے شر کی وجہ سے لوگ مجھ سے چاہے جتنا دور مرضی بھاگتے ہوں لیکن میں آج دفاع دین اور دفاع اسلاف کے علم کو ہمالیہ تک چھوڑ کر ہی آؤنگا۔ میں کیا کروں میری مجبوری ہے، مجھے پھر دوبارہ فرنود بھائی کی وہ سونے سے لکھے جانے والی بات یاد آ جاتی ہے۔ کہتے ہیں "جو لوگ دین کے معاملے میں حساس واقع ہوئے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ لہجہ بھی پیغمبر اسلام سے مستعار لیں"
خیر چھوڑئیے نبیﷺ کے اخلاق عالیہ سے چند باتیں نقل کرکے اجازت چاہونگا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نجد کے غزوہ سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں دوپہر کا وقت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھوڑی دیر آرام کرلیں۔ آقا علیہ السلام خود بھی ایک درخت کے نیچے آرام فرما ہوگئے۔ اتنے میں غورث بن حارث نامی ایک شخص آیا اور اس نے درخت کے ساتھ لٹکتی ہوئی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار اتار لی اور پوچھا کہ
من یمنعک منی۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو اب مجھ سے کون بچا سکتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی استقامت، جرات اور شجاعت و بہادری کا اس لمحہ بھی یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے تین بار کہا : ’’اللہ‘‘۔ اس پر وہ کانپ اٹھا اور اس کے ہاتھوں سے تلوار گرگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تلوار اٹھالی۔ وہ کانپنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکرا کر اس کو معاف کردیا۔
(البخاری ،الصحيح، کتاب الجهاد، باب، من علق سيفه، بالشجر فی السفر عند القائلة 3 : 1065، رقم : 2753)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں آقا علیہ السلام ایک مقام پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گلے میں ایک کھردری سی سخت قسم کی چادر لپیٹی ہوئی تھی۔ ایک اعرابی آیا، اسے کچھ طلب تھی۔ اس نے اپنی نادانی و جہالت کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادرکو پکڑ کر اس شدت سے کھینچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن مبارک پر اس کا زخم آگیا، چادر کھینچ کر کہنے لگا! یامحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں محتاج ہوں۔ میرے گھر والے بھی بھوکے ہیں، پریشان ہیں، میں دو اونٹ لایا ہوں، میرے دونوں اونٹوں کو غلے اور اناج سے بھرکر مجھے واپس بھیجئے۔ اُس کے اس اندازِ طلب کے باوجود آقا علیہ السلام کے چہرہ انور پر ملال اور رنجیدگی کے اثرات نہیں آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے بندے سب مال اللہ کا ہے اور میں اس کا بندہ ہوں۔
فَضَحِکَ ثُمَّ اَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.
’’اور مسکرا پڑے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مال عطا کرنے کا حکم فرمایا‘‘۔
(البخاری، الصحيح، کتاب الوضوء، باب صب الماء علی البول فی المسجد، 1 / 89، رقم : 219)
اس کی حاجت پوری کرنے کے بعد اس سے سوال کیا کہ یہ بتا:
ويقاد منک يااعرابی مافعلت بی.
جو کچھ تم نے میرے ساتھ کیا ہے؟ کیا خیال ہے اس کا بدلہ لیا جانا چاہئے یا نہیں؟ اس نے کہا : نہیں ہونا چاہئے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا : کیوں نہیں ہونا چاہئے؟ اس نے کہا :
لانک لا تکافی بالسيئة السيئة .(کتاب الشفاء، 1 : 86)
اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اور اخلاق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے کاموں کا بدلہ برے کاموں سے نہیں دیتے۔
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حالات جتنے بھی غصہ دلانے والےہی کیوں نہ ہوں مگر میں نے پوری عمر یہ نہیں دیکھا کہ ہر کیفیت میں آقا علیہ السلام نے عفو و درگزر اور بردباری کا اظہار فرمایا حتی کہ
ماضرب بيده شيئا قط الا ان يحاهد فی سبيل الله وما ضرب خادما قط ولا امراة.
(صحيح مسلم، 4 : 1814، الرقم : 2328)
کبھی بھی کسی کو ہاتھ سے نہیں مارا، سوائے جہاد کی صورت میں اپنے دفاع پر اور نہ عمر بھر کسی خادم اور نہ ہی کسی زوجہ کو مارا۔

مولانا طارق جمیلؒ فرمایا کرتے ہیں۔ کہ دین میں اگر پانچ فیصد عبادات ہیں تو پچانوے فیصد اخلاقیات ہیں۔ اور نبیﷺ نے ایک بڑھیا جو تہجد گذار تھی، نوافل کا اہتمام کرنے والی تھی، اسے جہنم کی بشارت دی تھی کیونکہ اسکی زبان درازی سے ہمسائے تنگ تھے۔
اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا
کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔۔۔(ابوداؤد ٤٦٨٦، ترمذی ١١٦٢)

ان المؤمن لیدرک بحسن خلقہ درجہ الصائم القائم۔
مومن اپنے حسن اخلاق سے دن میں روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کا درجہ پالیتا ہے۔(ابوداؤد ٤٧٩٨)

وہ فاتح بھی کیا فاتح ہوگا جو دل ہی فتح نہ کرسکا۔ افسوس صد افسوس کہ ہماری ساری امت، قلعہ فتح کرنے کے خواب میں دل توڑتی جارہی ہے۔ ربیع الاول کا یہی پیغام ہے،اس پہلی بہار سے اپنے دلوں میں بھی اخلاقیات سے اور نرمی سے بہاروں کو جگہ دیجئے ورنہ ہم گلیاں سجاتے رہینگے اور دل کے کونے ویران پڑے رہینگے۔ دل صاف کیجئے اور پھر تیرا نبی ﷺبھی خوش ہوگا۔ بس اتنا خیال رکھئیے اگر آپ اس ربیع الاول کا تحفہ کسی غریب کی بیٹی پر چنری ڈال دیں اور اسکے ہاتھ پیلے کردیں تو روضہ انور میں نبیﷺ کا دل بہت خوش ہوگا۔ اس درد بھرے پیغام کے ساتھ اجازت چاہونگا کہ گلیاں سجائیے لیکن خیال رکھئے کہ تھر میں پینے کا میٹھا پانی نہیں ملتا، اسکے ساتھ ساتھ اسکی بھی کوئی سبیل کردیجئے۔

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *