جاہلیت کا زمانہ ۔۔۔۔۔انعام الرؤف

جاہلیت کیا ہے اس کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹرمحمود احمد غازی صاحب کی لکھی ہوئی تحریر سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

فرماتے ہیں ۔۔”عموما ًیہ خیال کیا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت سے مراد کوئی ایسا دور ہے جب بے علمی اور جہالت ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔چہار سو جاہل ہی جاہل نظر آتے تھے۔علم وفن،لکھنے پڑھنے اور سیکھنے سکھانے کا کچھ ذکر مذکور نہ تھا۔آج کل جس قدر بھی علوم وفنون  دنیا میں رائج ہیں وہ سب کے سب اس وقت عرب میں بالکل معدوم تھے۔کتاب علم دوات،مکتب،استاد،کتب خانہ اور اس طرح کے دوسرے علمی لوازمات سے اہل عرب قطعاً نا آشنا تھے۔مدارس کا ان میں بالکل رواج نہ تھا۔بلکہ اسلام کے ابتدائی دور میں مدرسہ کی اصطلاح موجود نہ تھی اور مدرسہ پانچویں صدی سے قبل وجود میں نہیں آیا تھا۔

یہ اس طرح کے بہت سے دوسرے بے بنیادی  خیالات ہیں جو اسلام سے قبل عربوں کی  علمی حالت کے متعلق عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں،درحقیقت یہ غلط فہمی ”جاہلیت“ کے مفہوم کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوتی ہے۔اور یہ غلط فہمی آگے جا کر بہت سی دوسری غلط فہمیوں کی موجب بنتی ہے۔“آگے مزید بحث کرنے کے بعد یہ واضح کرتے ہیں کہ”جاہلیت سے مراد وہ زمانہ یا وہ حالت ہے جس میں لوگ حسن اخلاق کے پابند نہ ہوں۔شریعت نے جن  اخلاقِ فاضلہ کی تعلیم دی وہ ان میں موجود نہ ہو یا ان کی طرف سے عمومی عدم مبالات(عدم توجہ)کا برتاو کیا جاتا ہو۔“
”یعنی جاہلیت زمانہ کی کسی معین مدت کا نام نہیں ہے،یہ ایک مخصوص اجتماعی حالت کا نام ہے جس میں زندگی کے چند مخصوص تصورات ہوتے ہیں،ہو سکتا ہے کہ یہ حالت یا یہ تصورات کسی بھی زمانہ یا کسی بھی جگہ میں پائے جائیں،اگر ایسا ہو تو یہ وہاں کی جاہلیت کی علامت ہو گا۔“
”جاہلیت کا مفہوم علوم وفنوں اور تعلیم وتعلم سے بیگاہگی قطعا نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ عربوں میں مختلف عقلی ونقلی علوم موجود تھے،گو یہ علوم تہذیب وتدوین  کی ستھری شکل میں نہ تھے جو بعد میں انھوں کے اختیار کی۔لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ تمام علوم وفنون  اہل عرب میں نا صرف موجود تھے بلکہ اپنی طبعی رفتار سے ترقی کی منازل بھی طے کر رہے تھے۔اس طرح لفظ”جاہلیت“دو مختلف اصطلاحیں قرار پایا،ایک قرآنی اصطلاح جس کی وضاحت کی گئی دوسری تاریخ کی اصطلاح جس سے مراد زمانہ عرب قبل اسلام ہے۔ “ عرب جاہلیت اولی کے ادبی آثار پر ایک نظر۔ڈاکٹر محمود احمد غازی جاہلیت کے مفہوم سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیوں میں سے ایک خواتین کے متعلق ہے۔جو عموماً ہمارے ہاں ان الفاظ میں بیان  کیا جاتا ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں عورتوں کو کوئی مقام حاصل نہیں تھا ان کو زندہ درگور کیا جاتا تھاوغیرہ وغیرہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کا عورتوں کو حق دینے کے بعد مسلمان  معاشروں میں عورتوں کو کوئی مسئلہ نہیں۔اسلام اور موجودہ مسلمان معاشروں کا کوئی تقابل پیش نہیں کیا جاتا ہے۔اگر جاہلیت کا تصور ٹھیک ہوتا تو قبل از اسلام کے معاشرے کی مثال دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔بلکہ موجودہ نام نہاد مسلمان معاشرے کو ہی جاہلیت کی  مثال میں پیش کیا جاتا۔اس لیے ضرورت اسلام اور موجودہ مسلم معاشرے  کا موازنہ کرنے کی ہے ،نہ کہ گزرے ہوئے زمانے کی تاکہ معلوم ہو جائے کہ ہمارے معاشرے میں کیا کیا پہلو موجود جوہیں،اور اسلام کے خلاف ہیں۔ان کے خلاف نفرت پیدا کر کے اپنی اصلاح کی راہ کو ہموار کیا جاتا۔
مکہ کے معاشرے میں قبل از اسلام عورت کا کیا مقام تھا اس پر ہمارے ہاں بالکل غلط تصویر کھینچی گئی ہے اسلام کی  عظمت کو بیان کرنے کے لیے ایسے جھوٹ اور غلط تصویر کشی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اس طرح کی تصویر کشی کا مقصد خود اپنے معاشرے کو جاہلیت کی تعریف سے بچانا ہے خود اپنے معاشرے کی  برائیوں کو کم دکھا کر اصلاح کے راستے مسدود کرنے کے  مترادف ہے۔
قبل از اسلام عورت کا کیا مقام تھا اس پر شیخ محمد غزالی فرماتے ہیں ”چند قبائل کے شازو نادر لوگوں کے ذریعے بچی کو درگور کرنے کے واقعات کو چھوڑ دیجیے،اور عورت کے عام ذہنی ستوی،اس کی شخصیت کی پختگی،صلح وجنگ میں اس کی شرکت اور عظیم ترین تاریخی واقعات میں اس کی نہایت سرگرم شرکت کے پہلو سے دیکھیے،تو نہایت قابل ذکر صورت حال سامنے آتی ہے۔
بیعت عقبہ دوم اور بیعت رضوان  میں خواتین  شریک تھیں،اس موقع پر یہ بات ذہن میں رکھیے کہ قریبی زمانہ میں عورتوں کو ان جیسی بیعتوں میں شرکت سے روک دیا گیا اور کہا گیا ”اپنے گھروں میں رہو“ شیخ غزالی کی کتاب۔خواتین کے سلسلے میں راہ اعتدال صفحہ نمبر ۲۸
دوسری طرف حضرت خدیجہ کو تجارت اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کا حق بھی قبل از اسلام کے معاشرہ نے دیا تھا۔وہ ایک بیوہ بھی تھیں، اس کے باوجود ان کو شادی کی اجازت جاہلیت کے معاشرے نے دی تھی۔سوال یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانے نے جو حقوق حضرت خدیجہؓ کو دیے تھے  ،کیاآج کے مسلمان علماء عورتوں کو یہ حق دیتے ہیں؟ کفار مکہ کی خواتین بھی میدان جنگ میں آتی تھیں۔یہی خواتین اسلام قبول کر کے اپنے مردوں کے قبول اسلام کا سبب بنیں۔
اس پوری  بحث   کا مقصد یہ ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، یہ اسلامی نہیں بلکہ جاہلیت کا معاشرہ ہے بلکہ کہنے دیجئے کہ جاہلیت کے زمانے سے بھی بدتر ہے کیونکہ وہاں بھی عورتوں کو حقوق حاصل تھے۔ اس لیے وقت کی ضرورت موجودہ جاہلیت کے خلاف لڑنے کی ہے جس میں عورتوں کے بارے میں غیر اسلامی تصورات پائے جاتے ہیں۔جہان آج بھی جبر کی شادیاں، میراث سے محرومی،تعلیم سے محرومی،پردے کے نام پر غیر ضروری پابندیاں،عزت کے نام پر قتل،فتنہ کے زمانے کے نام پر اسلام کے دئیے گئے حقوق کو عملاً معطل کرنا غیرہ وغیرہ۔۔۔جیسی  قبیح رسومات پائی جاتی  ہیں۔آپ مغرب پر علمی انداز سے تنقید کریں بھی،تو اپنے معاشرے کی یہ حالت ہوتے ہوئے آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ آپ
کی بات کو قبولیت حاصل ہو جائے گی؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *