• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • پہلے منگلیان، پھر چندریان اور اب گگن یان۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

پہلے منگلیان، پھر چندریان اور اب گگن یان۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

اس داستان کا آغاز 12 سال پہلے ہوتا ہے جب بھارت نے اکتوبر 2008ء میں “چندریان 1” لانچ کیا ، جس نے چاند کے گرد چکر لگاتے ہوئے چاند پہ موجود معدنیات کا جائزہ لیا، بعدازاں اسی ڈیٹا کی مدد سے ناسا کے ماہرین نے چاند کے قطبین پہ موجود گڑھوں میں پانی برف کی شکل میں دریافت کیا۔ چاند پہ پانی کا مل جانا ایک بہت بڑی دریافت تھی، جس نے فلکیاتی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ چاند پہ پانی ملنے کے بعد انسان کا چاند پہ کالونیاں بنانے کا خواب حقیقت دکھائی دینا شروع ہوگیا۔

اسی دریافت نے بھارت کے چندریان مشن کو دُنیا بھر سے بھی متعارف کروایا۔ 22 جولائی 2019ء کو بھارت نے چندریان سیریز کا دوسرا مشن لانچ کیا جسے “چندریان 2” نام دیا گیا۔140 ملین ڈالر کی لاگت سے بھیجےجانے والا یہ مشن 7 ستمبر 2019ء کو چاند کے جنوبی قطب کے اُس حصے پہ لینڈ کرے گا جہاں پانی کی موجودگی کے شواہدات ملے ہیں، اگر بھارتی مشن چاند کی سطح پہ لینڈ کرجاتا ہے تو امریکا، روس اور چین کے بعد بھارت چاند پہ لینڈ نگ کرنے والا چوتھا ملک بن جائے گا، چند ماہ پہلے اسرائیل بھی چاند پہ لینڈنگ کی ناکام کوشش کر چکا ہے۔ “چندریان2” خلائی راکٹ تین حصوں پہ مشتمل ہے، ایک حصہ لونر آربٹر (Lunar orbitor) کہلاتا ہے، جو چاند کے گرد چکر لگاتا رہے گا، دوسرا حصہ لونر لینڈر (Lunar Lander) ہے جس کے ذریعے چاند پہ لینڈ کیا جائے گا، جبکہ تیسرا حصہ لونر روور (Lunar Rover) یعنی چاند گاڑی ہے جو چاند کی سطح پہ چل کر مختلف مقامات سے مٹی کے نمونے اکٹھے کرے گی جس کے ذریعے چاند پہ پانی کی موجودگی کے متعلق اہم معلومات ملیں گی۔

کائناتی اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ چاند زمین کے انتہائی نزدیک ہے ، جس وجہ سے زمین کی شدید کشش ثقل کے باعث یہ زمین کے ساتھ tidally lockہے یعنی زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے چاند کا ایک ہی حصہ زمین کی جانب رہتا ہے، اسی وجہ سے چاند کے زمین کی جانب رہنے والے حصہ کو روشن حصہ (Light side) جبکہ دوسری جانب رہنے والے حصے کو تاریک حصہ (Dark side)بھی کہتے ہیں، یہ مشن چاند کے تاریک حصے پہ لینڈ کرے گا، اس سے پہلے چین وہ واحد ملک ہے جو چاند کے تاریک حصے پہ لینڈ کرسکا ہے، جیساکہ ہم نے اوپر سمجھا کہ چاند کے تاریک حصے کا رُخ زمین کی جانب نہیں ہوتا ، جس وجہ سے تاریک حصے پہ موجود خلائی گاڑی براہ راست زمین کی جانب سگنلز نہیں بھیج پائے گی، اسی خاطر Lunar roverڈیٹا کو چاند کے گرد چکر لگاتی بھارتی سیٹلائیٹ یعنی Lunar orbiterکو بھیجے گا ، بعدازاں Lunar Orbiterاس ڈیٹا کو زمین کی جانب بھیجے گا۔مستقبل میں انسان جب چاند پہ کالونیاں بنائے گا تو اندازہ ہےکہ چاندکے اُسی حصے پہ ڈیرے ڈالے گا جہاں چندریان 2 تحقیقات کی غرض سے لینڈ کرے گا۔

یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ 50 سال پہلے جب انسان نے چاند پہ قدم رکھے تو اس دوران اپولو مشنز محض دو سے تین دنوں میں چاند پہ پہنچ جاتے تھے تو بھارتی مشن کو چاند پہ پہنچنے کے لئے ڈیڑھ مہینہ کیوں لگے گا؟ اس کا سادہ سا جواب ہے “بچت”، اپولو مشنز انسانی مشن تھے جس کے لئے Saturn-V راکٹ استعمال کیا گیا جس کی رفتار تیز تو تھی مگر فیول بھی بہت زیادہ کھاتا تھا، جبکہ بھارت کی جانب سے لانچ کیا جانے والا مشن زمین کی کشش ثقل کو استعمال کرتے ہوئے اپنی رفتار بڑھائے گا او رکم سے کم فیول استعمال کرتے ہوئے چاند پہ پہنچنے کی کوشش کرے گا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے 2014ء میں بھارتی خلائی ادارہ ISRO مریخ کی جانب منگلیان نامی مشن انتہائی کم خرچے پہ بھیج چکا ہےجو آج بھی چاند کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ ناسا کی جانب سے مریخ کی طرف لانچ کیے جانے والے مشن کی لاگت 671 ملین امریکی ڈالر تک ہوتی ہے جبکہ بھارت نے یہی مشن 74ملین امریکی ڈالر میں لانچ کیا، لہٰذا بھارت اسی “بچت پالیسی” کو اپناتے ہوئے چاند کی جانب گامزن ہے۔

یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے 2022ء میں چاند زمین کےمدار میں اپنا خلائی اسٹیشن “گگن یان” چھوڑنے کا بھی ارادہ رکھتا ہےجو ایک ہفتے تک زمین کے گرد چکر لگائے گا اور اس میں تین بھارتی خلاء باز سوار ہونگے ، جو اس دوران کئی سائنسی تجربات انجام دیں گے۔اگر بھارت یہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو امریکا، روس اور چین کے بعد بھارت وہ چوتھا ملک بن جائے گا جو خلاء میں اپنے خلاء بازوں کو بھیج دے گا۔اس کے علاوہ بھارت کا 2020ء میں سورج کی جانب اور 2023ء میں سیارہ زہرہ کی جانب بھی ایک غیرانسانی مشن بھیجنے کا ارادہ ہے۔

ہمارے لئے یقیناًسوچنے کا مقام ہے کہ ہمارا پڑوسی ملک، جس نے ہمارے ساتھ آزادی حاصل کی وہ پہلے منگلیان، پھر چندریان اور اب گگن یان کے ذریعے خلاء کو تسخیر کرنے میں مصروفِ عمل ہے جبکہ ہماری پاکستانی خلائی ایجنسی SUPARCOابھی تک چین کے تعاون سے اپنی دو موسمیاتی سیٹلائیٹس ہی خلاء میں بھیج سکی ہے اور بھارتی خلائی ایجنسی ISROاکیلے 104 سیٹلائیٹس لانچ کرچکی ہے۔ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہونگے، اپنے بنائے ہوئے خول سے باہر نکلنا ہوگا، دنیا چاند کے بعد مریخ اور سورج کو تسخیر کرنے کی جانب گامزن ہیں اور ہماری ترجیحات ابھی تک یہی ہیں کہ ہم نے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پِلانے، ہماری تعلیم کا یہ معیار ہے کہ آج ہمارا پڑھا لکھا نوجوان طبقہ بھی مون لینڈنگ جیسے واقعات کا انکار کرتا ہے۔اب وقت ہے فیصلہ کیا جائے کہ ہم نے کنویں کا مینڈک بننا ہے یا حقائق تسلیم کرنا ہے۔

ہمیں ماننا پڑے گا کہ دُنیا کو ہمارے خلاف سازشوں کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ دُنیا کو اس قوم سےکوئی خطرہ نہیں ہوتا جو ذہنی طور پہ ماؤف ہوچکی ہو۔دوسروں کی کامیابیوں اور اپنی ناکامیوں کو سازش کہہ کر آنکھیں بند کرلینے سے ہم کوئی کمال نہیں کررہے ، ہم کیوں ایسی قوم بن چکے ہیں جس کا موجودہ ترقی میں ایک فیصد حصہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود دوسروں کی کامیابی پہ تالیاں بجانے کی بجائے ہم کان بند کرلیتے ہیں ، ہم اس حد تک فرسٹیشن کا شکار کیوں ہوچکے ہیں؟ ہمیں یقیناً اپنی ترجیحات بدلنا ہوگی، وگرنہ ہمیں اپنے خاتمے کے لئے کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہے گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *