قصّہ ء ایام۔۔۔۔ناصر خان ناصر/حصہ دوم

ہماری پیدائش تو بہاولپور کی ہے مگر بچپن کوئٹہ میں گزرا۔ سردی اور برفباری کی بنا پر ہمیں کئی بار ڈبل نمونیہ ہوا۔ کئی بار مرتے مرتے بچے۔ بہت نازک اور کمزور سے تھے۔ کوئٹہ کا فوجی اسپتال ہمارا دوسرا گھر تھا جہاں ہم ہر ہفتے پہنچ جاتے تھے۔ وہاں کے تمام ڈاکٹرز اور نرسیں وغیرہ بھی ہمیں پہچاننے لگے تھے کیونکہ وہاں کا ایک کمرہ اور بیڈ ہمہ وقت ہمارے مصرف ہی میں رہتا تھا۔
ہم نے بمشکل چلنا سیکھا تھا۔ ایک بار ہمیں اس عمر میں اسپتال سے بھاگ کر باہر سڑک تک آ جانا یاد ہے۔ اس واقعے کے بعد ہم پر نرسوں کا کڑا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا۔

کوئٹہ کا فوجی اسپتال، ہنہ جھیل اور اڑک جھیل ہمیں یاد ہیں اور اپنا پہلا پالتو خرگوش بھی، جس کے مرنے پر ہم نے رو رو کر خود کو ہلکان کر لیا۔ اس کی قبر بنائی گئی  تب جا کر چین پڑا۔ کوئٹہ سے ہم خاندان کی کسی تقریب میں شرکت کے لیے بہاولپور گئے تو گویا جنت سے جہنم کی گرمی میں پہنچ گئے۔ سارے جسم پر گرمی دانے اور پھوڑے پھنسیاں نکل آئے۔ ہمارے والدین کو ہمیں ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھنا پڑا۔ ان دنوں میں ائیر کنڈیشنڈ کمرے تو ہوتے نہیں تھے، ہمیں اپنے بڑے ماموں سردار ذاکر خان صاحب کے ماڈل ٹاون اے کے شاندار گھر کے تہہ خانے میں چھپر کھٹ پر یوں شاہانہ انداز میں لیٹنا یاد ہے کہ سامنے برقی پنکھے اور پنکھے کے آگے ٹب میں برف کی سِل دھری تھی۔ دو خانہ زاد اصیلیں مور چھل سے ہوا جھل رہی تھیں اور کمرے سے باہر بیٹھا ملازم مکھیاں مار رہا تھا۔

گرمی دانوں، پھوڑے پھنسیوں اور کیل مہاسوں سے ہمارا بُرا حال تھا۔ جسم پر ہر جگہ خارش رہتی۔ آنکھیں الگ سرخ رہتیں۔ ہماری جنت مکانی، خلد آشیانی والدہ محترمہ سچ مچ کی نیم حکیم تھیں۔ انھوں نے ہمیں صبح شام پانی میں بھگو کر چرائتہ کرائتہ پلانا شروع کیا جو اتنا کڑوا ہوتا ہے کہ منہ عرصہ دراز تک کڑوا رہتا ہے۔ بہاولپور میں چند ہی ماہ رہے اور پھر سیالکوٹ چلے گئے۔
بہاولپور دوبارہ واپسی چند سال بعد ہوئی۔ تب تک ہم لڑکپن میں پہنچ چکے تھے۔ یہ قصہ تفصیل سے بعد میں دوبارہ  آئے گا مگر تمہید  ابھی سن لیں۔۔

ادب کا زہر بھی انہی دنوں ہم پر چڑھا۔ ہمارے دونوں بڑے بھائی لاہور میں پڑھتے تھے، والد محترم فوج کی نوکری  پر آزاد کشمیر میں تعینات تھے۔
والدہ محترمہ کو ڈر تھا کہ بڑے بھائیوں اور والد کی غیر موجوگی کی بنا پر ہم آوارہ بچوں کی صحبت میں خراب ہو جائیں گے۔ لہذا ہمیں بھورے میں بند کر دیا گیا۔ ملازم صبح سکول چھوڑ آتا، دوپہر کو واپس لے آتا تھا۔ ہمیں باہر بچوں کے ساتھ کھیلنے کی بالکل اجازت نہیں تھی۔ خالی بنیا کیا کرے، اس کوٹھڑی کا مال ادھر رکھے۔ گھر میں والد صاحب کی اور نانا جان کی کتابوں کے ڈھیر تھے۔ لائبریری بھری پڑی تھی۔ گھر کے ساتھ ماموں جان سردار ذاکر علی خان صاحب کے تین گھر ایک ہی لائن میں تھے جہاں ہماری تینوں ممانیاں رہائش پذیر تھیں۔ ماموں حضرت کی نایاب کتابوں سے بھری لائبریری پہ ہمارا تصرف تھا۔ آنکھیں کھلیں تو کھلتی چلی گئیں۔ ہم نے ٹیگور، عصمت چغتائی اور دیگر بڑے رائٹرز کو بچپن لڑکپن سے پڑھنا شروع کیا۔ والدہ کو کیا خبر تھی کہ گھر میں مقید رکھ کر وہ ہمیں اور کسی کام کا نہ چھوڑیں گی۔

ہمارا بچپن کوئٹہ، فورٹ سنڈیمان (موجودہ ژوب)، کوہاٹ، بہاولپور، سیالکوٹ، ٹل، کوٹلی اور آزاد کشمیر کے دوسرے علاقوں میں گزرا۔ نوجوانی پنڈی اسلام آباد، ہری پور ہزارہ، ایبٹ آباد وغیرہ میں گزری۔ کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں سیاحت کا جنون ہوا تو ہم نے کراچی سے لے کر چین کے بارڈر تلک سارے علاقے چھان مارے۔ گلگت، ہنزہ، سوات، کاغان، چترال، دِیر وغیرہ ہم نے اس زمانے میں دیکھے۔۔۔۔ تب وہاں اتنی ترقی نہیں تھی۔ ہوٹل خال خال تھے اور جو تھے وہ بھی جدید آسائشوں سے عاری تھے۔ شاہراہ قراقرم ان دنوں ہی مکمل ہوئی تھی اور بے حد خطرناک تھی۔ اس پر لینڈ سلائیڈنگ روزانہ کا معمول تھا۔

وہ سستے زمانے تھے۔ عام لوگوں میں سادگی، اخلاص اور اخلاق کوٹ کوٹ کر بھرے ہوتے تھے۔ تب سارے لوگ بہت مہمان نواز بھی ہوتے تھے۔ مسافروں سے حسنِ سلوک لوگوں کی گھٹی میں پڑا ہوتا تھا۔
ہمارے بچپن کے زمانے میں تو چونی کی چار چیزیں آرام سے کھائی  جا سکتی تھیں۔ برف کے گولے ایک آنے کے، آنے کی چار ٹافیاں یا کھٹی مٹھی گولیاں۔ آنے کے مٹھی بھر چنے اور آنے کی کھٹی املی۔۔۔

جب کبھی ایک روپیہ عیدی کا ملتا تھا تو ہمارے لیے اسے ایک دن میں خرچ کرنا دوبھر ہو جاتا تھا۔ ان دنوں عمدہ لٹھا ڈیڑھ روپے گز، چھینٹ اور ململ بارہ آنے گز عام مل جاتی تھی۔ بارہ آنے درجن انڈے اور سوا روپے سیر دودھ ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے خریدا ہوا ہے۔ گندم کا بھاو ہمیں یاد نہیں کہ وہ اچھے دنوں میں گاوں سے بوریاں بھر بھر کر آ جاتی تھی۔ بڑا گوشت ڈیڑھ روپے سیر تھا۔ مرغیاں چھوٹے گوشت سے بھی زیادہ مہنگی تھیں۔
بچپن کی چند یادیں ہمیں کبھی نہیں بھولتیں۔

ہمارا بچپن سیالکوٹ میں گزرا۔ والد صاحب آرمی میں تھے۔ ہم لوگ سیالکوٹ چھاونی میں رہتے تھے۔ بارہ پتھر، پرانا قلعہ، پورن بھگت کا کنواں، ہیڈ مرالہ اور شیروں کے مجسموں سے سجا مرے کالج آج بھی ہمارے تصور میں موجود ہے۔ ہم نے پہلی چند جماعتیں آر سی مشن سکول مونا گرجا میں پڑھیں۔ ہماری ٹیچر کا نام مس شیلا تھا اور پرنسپل کا نام مس ریٹا۔ ہمارے دوستوں میں ایگنس ٹامس، بنی یامین جسے ہم چھیڑتے تھے بنیامین بجائے بین، گھڑی میں دیکھو پونے تین۔۔۔

چند سال بعد والد صاحب کا تبادلہ آزاد کشمیر کوٹلی ہو گیا۔ بھائی  مرے کالج میں پڑھتے تھے۔ ان کا سال ضائع ہونے سے بچانے کے لیے والدہ محترمہ اور ہم سب نے سیالکوٹ کے نواح میں نالہ پلکھو کے پاس کسی گاوں میں گھر کرائے پر لے لیا۔ اسی سال نالہ پلکھو میں زبردست سیلاب آیا اور ہم لوگ چھت پر چارپائیاں ڈال کر تین دن بیٹھے رہے۔ سیالکوٹ کی مُنجی یعنی لمبے چاول کون کافر بھول سکتا ہے؟
جب ہم لوگ سیالکوٹ میں رہتے تھے تو غربت نے گھر کے باہر ڈیرے ڈالے ہوئے تھے مگر ہماری والدہ محترمہ کے سلیقے اور دن رات کی محنت کے سبب اسے گھر کے اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ والد صاحب کی ساری تنخواہ بڑے بھائی صاحب کے میڈیکل کالج کی تعلیم کے خرچے اور فیس کی مد میں چلی جاتی تھی۔ والدہ دن رات محلے کے لوگوں کے کپڑے مشین پر سیتیں اور گھر کے تمام اخراجات اسی آمدنی سے اس سلیقے سے پورے کرتیں کہ ستو باندھ کر پیچھے پڑنے کی کہاوت زندہ ہو جائے۔ دادا جان سے ورثے میں ملی وسیع آبائی  زمینوں پر چچا جان قابض تھے اور ان سے کوئی آمدنی نہیں تھی۔ والدہ صاحبہ نے بھی متمول نانا جان کی وراثت کے سارے مکانات، جائیدادوں اور زمینوں سے اپنا حق لیے بنا اسے اپنے بھائیوں کو بخش دیا تھا۔ ان نامسائد حالات میں بھی ہر عید پر نجانے کس طرح ہمارے نئے کپڑے بن جاتے اور چار آٹھ آنے ہر بچے کو عیدی بھی مل جاتی۔ بہت زیادہ تنگی ہوتی تو امی کے چاندی کے زیوروں میں سے ایک آدھ بک جاتا مگر ہمیں سکول کے لیے کاپی پینسل کی کبھی تنگی ہوئی نہ جیب خرچ کی۔

مجھے ان کے وہ انتہائی قدیم اور بے حد خوبصورت زیورات ابھی تک یاد ہیں۔ سونے کے نقشیں چھوٹے چھوٹے بُندے، لاکھ کے رنگوں میں جڑے جگ مگ کرتے نگینے والے ہار، چاندی کا چندن ہار، جڑاو پوپے، بینی، پازیبیں، بولے۔ چھن چھن کرتے موتی جیسے باریک گھنگھرو لگی چوڑیاں، ٹکڑیوں والے ہار، سونے کی کٹھ مالا۔۔۔۔ وہ سارے زیور اندھیرے میں جب قہقہہ مار کر ہنستے تھے تو عجب سی روشنی سی ہو جاتی تھی۔ یہاں یہ باور کروانا مقصود نہیں کہ ہماری دادی نے گھی کھایا، ہمارا ہاتھ سونگھو۔۔۔

زندگی میں ہم نے بے حد غریبی بھی دیکھی ہے اور الحمد للہ بے حد تونگری بھی مگر کسی حالت میں رب کا شکر ادا کرنا نہیں بھولے۔ صبر اور محنت کی گھٹی ہمیں اپنے ماں اور باپ دونوں سے ملی۔ القصہ کسی نے پیا دودھ، کسی نے پانی۔ سب کو ایک رین گنوانی۔ اچھے بھلے اور برے ہر طرح کے وقت سب کے گزر جاتے ہیں۔ یادوں کے جھلملاتے ستاروں کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑتی۔

بھائی نے کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔ ادھر 65 کی جنگ میں والد صاحب کے نزدیک دشمن کا ایک گولہ آن پھٹا۔ انھیں بہادری سے لڑنے پر کئی  تمغے عطا کیے گئے مگر دھماکے کی بنا پر کان کا پردہ پھٹ جانے کی وجہ سے انھیں وقت سے پہلے اعزازی طور پر ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ بھائی جان کا داخلہ اعلی تعلیم کے لیے امریکن یونیورسٹی میں ہو گیا تھا اور انھیں اچھے نمبروں و اپنے عزم بالجزم کی بدولت سکالر شپ بھی مل گیا تھا۔ بئیے کے گھر جگنو چراغ۔

ان دنوں امریکہ جانے کا کرایہ بہت زیادہ نہیں تھا مگر ہمارے محنت کش غریب اور از حد خوددار ماں باپ کے لیے وہ ایک بہت بڑی رقم تھی۔ بر وقت اس کا مہیا کرنا جوئے شیر لانا تھا۔
انہی دنوں شومئی قسمت سے فوج کے اس محکمے میں آگ لگ گئی جو پنشن کا ذمہ دار تھا اور اس میں والد صاحب کے سارے ریکارڈ، درخواستیں اور کاغذات بھی جل گئے۔
ان کی پنشن کا معاملہ سرخ فیتے کی نظر ہو گیا۔ نہ کوئی سفارش، نہ رشوت۔ اللہ توکل پر بھاگ دوڑ کرنے لگے۔ ادھر بھائی کا مستقبل داو پر لگا تھا۔ میری والدہ نے پہلے تو جھولی میں بھر کر اپنے سارے گہنے فروخت کر دیے۔ اس کے بعد اثات البیت اسباب خانہ داری کا نمبر آیا۔ چھن چھن کرتے جگمگاتے کندن کے بیراگڑے، چاندی کے بولے پرنانی کے وقتوں سے بچائے چھپائے سونا چاندی کے قدیم انوکھے زیورات۔۔۔ روہی کے راجواڑوں کی باقیات ایک چاندی کی سرمہ دانی تھی جس پر قیمتی نگینے اور موتی جیسے گھنگھرو لگے ہوئے تھے۔ بچپن میں امی جب اپنا زیوروں کا صندوقچہ کھولتیں تو وہ سرمہ دانی ہمیں بے حد فیسی نیٹ کرتی۔ اب کئی  بار اس قسم کے قدیم زیورات پاکستان میں ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر ویسے گہنے اور پرانی چیزیں اب نایاب و ناپید ہیں۔ خیر بیچتے ہوئے نئے نو دام، پرانے چھ دام کے مصداق ان سب سے بھی مل ملا کر کرائے کی رقم نہیں بنی۔
مجبوراً والد صاحب سارے رشتہ داروں اور دوستوں سے ادھار مانگنے لگے۔۔۔
سار پرائی پیڑ کی کیا جانے انجان۔۔۔
جیسے شاخ خظل سے انگور ملنا ناممکن ہے ویسے ہی برے وقت میں سب سے پہلے اپنے ہی منہ موڑتے ہیں۔
ہمارے خاندانی کاغذات کا رجسٹر جسے بندی بھی کہا جاتا ہے، والد صاحب نے چھوٹا ہونے کے باوجود ہمیں عطا کر دیا تھا۔ اس میں ان تمام مہربان لوگوں کے نام اور ان سے لیے قرضے کی تفصیلات درج ہیں جو اس کڑے وقت میں ہمارے کام آئے تھے۔
قسمت کی دیوی ہر شخص کی تقدیر سے کھیلتی ہے۔ غریبی امیری، دکھ درد، خوشی و غمی، صحت و تندرستی دھوپ چھاوں اور دن رات کی طرح ہر انسان کے حصے میں آتی ہے۔ جوار بھاٹا، اتار چڑھاو، عزل و نصب، صعود و نزول، ترقی و تنزلی زندگی کی وہ سیڑھیاں ہیں جن پر سدا لڈو کی گیم کی  طرح ہرقدم، ہر خانے پر خوشیوں کو ڈس کر نیچے لے آنے والے زہریلے سانپ چھپے بیٹھے رہتے ہیں۔ گھڑی میں تولہ ، گھڑی میں ماشا تقدیر کی دیبی ہنستی رہتی ہے۔ مسیا کی راتوں میں قمر کا محاق میں آنا اور پھر دھیرے دھیرے چودھویں کا پورا چاند بن جانا بھلا کس سے پوشیدہ ہے؟
سائیں جس کو راکھ لے، مارن مارا کون، بھوت، دیو، کیا آگ ہو، کیا پانی کیا پون۔۔

امریکہ جا کر بھائی نے بھی دن رات محنت کی۔ انھیں اپنے ماں باپ کی قربانیوں کا مکمل احساس تھا۔ انھوں نے فوراً پیسے بچا بچا کر پاکستان بھیجنا شروع کیے۔ ہمارے سارے قرضے اور دلدر دور ہو گئے۔ دولت ہن کی طرح برسنے لگی تو رشتہ داروں نے بیچ میں پڑ کر والد صاحب کو ان کا وراثت کا حصہ بھی واپس دلوا دیا۔ پینشن کا حق بھی بحال ہو گیا۔
اس خانماں گلی میں بھٹکتا ہے آج تک
ٹوٹے ہوئے مکان کو دل ڈھونڈتا رہا
ویسے بھی مل سکی نہ دوائے طلب کوئی
اجڑی ہوئی دوکان کو دل ڈھونڈتا رہا
پاوں تلے زمین بھی رہنے نہ دی گئی
جب اپنے آسمان کو دل ڈھونڈتا رہا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *