سلیم صاحب۔۔۔ جاویدخان

سلیم صاحب کو مَیں نے ہمیشہ جوان دیکھا۔ایک سدا بہار جوان کا روپ ان سے کبھی نہ اُترسکا۔پانچ فٹ کے قریب قریب قد،گول چہرہ،سیاہ آنکھیں اور چھوٹی چھوٹی کالی داڑھی۔جو ان کے چہرے پر خوب جچتی تھی۔لڑکپن میں وہ زیادہ چست بدن ہوتے ہوں گے۔تنہا بیٹھے ہوتے توٹانگ پر ٹانگ دھرے،گھنی مونچھوں کو تاؤ دیتے رہتے۔یہ ایک طرح سے ان کی تنہا ئی کا شغل تھا۔ٹوپہ بازار کے نکڑ پر ایک غیر سرکاری سکول ”اقراپبلک سکول“کے نام سے چل رہا تھا۔سلیم صاحب ا س ادارے کے ابتدائی معلمین میں سے تھے۔ایک عرصے تک وہ دبستان سردار بہادر علی خان سکول کھڑک میں بطور ایڈمن فرائض انجام دیتے رہے۔ریڈ فاونڈیشن   اپنا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے بہت سے نجی سکولوں کو اپنے نظام میں لایا، تو اقرا پیلک سکول سون ٹوپہ،ریڈ فاونڈیشن سکو ل سون ٹوپہ ہو گیا۔چھوٹے سے قصبے میں یہ اچھی خاصی تعداد والا سکول تھا۔سلیم صاحب یہاں مڈل تک کی جماعتوں کو پڑھاتے تھے۔2003ء میں،مَیں نے ریڈ میں پڑھانا شروع کیا تو ان سے ملنا ملانا معمول بن گیا۔اس دوران بے شمار لطیفے ہوتے،ایک عرصے میں طے پایا کہ د وران وقفہ (بریک) تمام اساتذہ آپس میں انگریزی میں گفتگو کریں گے۔صرف یس،نو تک بات نہیں ہو گی بلکہ کوئی ایک موضوع چنا جائے گا۔اس پر سب اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے۔سوالات ہوں گے جواب دیے جائیں گے۔مقصد انگریزی میں روانی پیدا کرنااور کچھ موضوعات کا مطالعہ تھا۔یوں دوران وقفہ ”ڈے ٹیچر“ کو چھوڑ کر باقی اساتذہ کی محفل جمتی۔اس دوران پہاڑی یا اردو میں بات کرنے کی سخت ممانعت تھی۔ہم میں سے کچھ اساتذہ انگریزی روانی سے بول لیتے تھے۔کچھ گزاراکرتے،کچھ بہت اٹکتے تھے۔یوں کچھ چہرے گفتگو کرتے کرتے،سرخ ہو جاتے۔خاص کر جب جملوں کا بے جوڑ استعمال ہوتا،محفل زعفران زار بن جاتی۔ان قہقہوں میں موضوع پر بولنے والا مزید سر خ ہو جاتا۔قصبے کے اس سکول میں ہمارے بے شمار دوست جو کبھی یہاں پڑھا چکے تھے۔اب سرکاری عہدوں پر فائزہیں،بھی شام کو آجاتے۔یوں چھٹی کے بعد مغرب کی اذان تک محفل جمی رہتی۔ہمارے انہی دوستوں میں ایک دوست بلاکے لطیفہ گو ہیں۔مَیں ان کے مسالے دار لطیفوں سے چڑتا تھا۔سلیم صاحب سمیت سب کو میری اس کمزوری کا اندازا تھا۔ساتھ لطیفہ گو دوست کو بھی۔لِہٰذاجب بھی محفل جمتی باقی کے دوست آنکھ مارتے،اور لطیفوں کی بارش ہونے لگتی۔بمعہ سلیم صاحب سب لطف اٹھاتے۔ان کی طبعیت میں بلا کی سادگی تھی۔سنا ہے کہ ان کے والد ایک سماجی راہنما تھے۔بے باک،نڈر شخصیت۔سلیم صاحب ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔لیکن پے درپے حادثوں نے اس گھرانے کو سخٹ چوٹیں لگائیں تھیں۔ایک نوجوان اور پھر باروزگار بھائی کی آناًفاناً موت،اس کے ساتھ ہی سماجی باپ کاسایہ سر سے اٹھ جانا۔ابھی ان چوٹوں سے سنبھل نہ پائے تھے کہ جوان تعلیم یافتہ بہن کی اچانک موت کاصدمہ،سلیم صاحب صدموں میں پلے بڑھے اور جوان ہوئے۔2005ء میں ان کا گھر مکمل تباہ ہو گیا تھا۔فلاحی اداروں کی طرف سے مہیا کردہ خیموں میں ایک لمبا عرصہ انھوں نے گزارا۔2008ء میں،مَیں دبستان سردار بہادرعلی خان سکول میں چلاگیا۔وہ 2011ء تک ٹوپہ ریڈ میں رہے پھر چھوڑ کراسلام آباد چلے گئے۔اسی عرصے میں انھوں نے شادی کی۔فیملی اپنے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔اللہ نے انھیں ایک پیاری سی بیٹی سے نوازا تھا۔اس عرصے میں بھی وہ اسلام آباد ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے۔19 جولائی بروز جمعہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے گھر سے نکلے۔فیکٹری کے سامنے اترکرسڑک پار کررہے تھے کہ ایک تیز رفتار کار نے انھیں ٹکر ماردی۔ڈرائیور گاڑی سے اترا اور ان کی نازک حالت دیکھ کر بھاگ گیا۔ایک دوسری گاڑی نے ہسپتال پہنچایا۔چوٹ سر میں آئی تھی، بے ہوشی کی حالت میں ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔تدریسی عمل کے دوران وہ بچوں سے خاص شفقت برتتے تھے۔علی سرور ایک بچہ جو نرسری میں ہوتا تھا۔اس وقت تک کلاس میں نہ جاتا،جب تک سلیم صاحب کلاس میں اس کے ساتھ نہ جاتے۔زمانے کی بے گانگی کاسلیم صاحب نے کوئی خاص اثر نہیں لیا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انھوں نے اس سے سمجھوتا کرلیا ہو۔ایسا سمجھوتا جو زمانے کی بے گانہ آنکھ سے اوجھل ہو۔ان کے قریبی ساتھی کہتے ہیں کہ وہ پچاس سے اوپر تھے۔مگر سلیم صاحب کو دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ وہ پچپن میں جارہے ہیں۔ان کے شاگرد ان سے عمررسیدہ لگتے تھے۔ان کی نماز جنازہ پر ان کے تمام پرانے ساتھی اور طلبا موجود تھے۔سفید کفن میں لپٹے گول چہرے پر وہی چھوٹی سیاہ داڑھی تھی۔بال بھی سیاہ،ہاں آنکھیں بند تھیں۔جیسے کہتی ہوں۔ چھوڑو اس زمانے کو بہت دیکھ لیا۔

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *