• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • محبت کے قبرستان سے لکھا گیا خط۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت کا اقتباس”

محبت کے قبرستان سے لکھا گیا خط۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت کا اقتباس”

SHOPPING
SHOPPING

اے جانِ جاں!

میرے حُسن کو گلابوں سے ملانے والے, میرے وُجود کو چاندنی سا روشن کہنے والے, میری ذات کو شبنم سا پاکیزہ کہنے والے میری ویرانی کو کس سے ملاؤ گے؟۔ میرے دل کی اجڑی دنیا کو کس سے تشبیہ دو گے؟میرے جسم میں مردہ ہوئے وصل کی بدبو کو کس سے تشبیہ دو گے ؟میرے حصے میں آئے ہجر کے کانٹوں سے رستے خون سے اٹھتے تعفن کو کیا نام دو گے؟۔اُس سرد شام خشک پتوں پر کھڑے , تمہارے وجود کا سایہ نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ کر لمحہ بھر میں میری حسرتیں , آرزوئیں, تمنائیں اورتمام خواب مردہ ہو کر میرے قدموں میں آ گرے تھے اس ہجر زدہ ویران زندگی کو اب کس سے تشبہہ دو گے؟ ہے کوئی مہتاب, کوئی گلاب, کوئی چاندنی, کوئی بہار جو اس خزاں سے تشبیہ دی جا سکے ؟

میری ویرانی اب کسی قبرستان کی سی ہے۔ویرانی سب سے زیادہ قبرستانوں میں ہی تو محسوس کی جاتی ہے۔ قبرستان کی طرف بڑھتے قدم لمحہ بہ لمحہ دل میں عجیب سا خوف پیدا کرتے ہیں۔ قبرستان کی ویرانی , خاموشی اس خوف میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ ایسی ویرانی کے اتنے لوگ ذمین میں دفن ہونے کے بعد بھی وہاں کوئی ہلچل , کوئی سرگوشی نہیں ہوتی۔ قبروں کو دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ انسان کا دل سنبھل جاتا ہے اور انسان قبرستان میں کھڑے ہوتے ہوئے گھبراتا نہیں۔ پھر کسی اپنے کی قبر پہ بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کرتا ہے۔ یوں محسوس کرتا ہے کہ قبر کے اندر کا انسان سن رہا ہے۔ سمجھ رہا ہے۔ کسی لمحہ دل کرتا ہے کہ قبر کُھل جائے اور ہمارا اپنا صحیح سلامت قبر سے باہر آجائے اور ہمیں گلے لگا لے۔ مگر پھر سوچ آتی ہے کہ جو اتنے عرصے سے قبر میں تھا اب اچانک اٹھ بھی گیا۔ باہر آ بھی جائے تو کیا اسے گلے لگا سکیں گے؟ قدم اسکی طرف بڑھ بھی سکیں گے یا نہیں؟۔ پھر یہ سوچ مزید گہری ہوتی جاتی ہے۔ اور انسان قبرستان کے ویران اور سنسان ماحول میں واپس آ جاتا ہے اور گھبرانے لگتا ہے۔ ارد گرد دیکھتا ہے ڈھیروں قبریں ڈھیروں مُردے اور اگر یہ سب اٹھ گئے یا باہر آگئے تو؟ یہ سوچتا ہوا انسان قبرستان کی ویرانی میں خوف محسوس کرتا ہوا قبرستان سے باہر چل پڑتا ہے۔ باہر کی طرف آتا ہر قدم کسی نہ کسی قبر کے پاس سے گزرتا ہے اور ہر قبر سے دل میں عجیب سا خوف پیدا ہوتا ہے اور آخر کار انسان باہر آ کر سکون کا سانس لیتا ہے۔ اور اس عمل سے وہ انسان ہر بار گزرے گا جتنی بار وہ کسی اپنے کی قبر پر جانے کے لیے قبرستان کا رخ کرے گا۔

محبت کرنے والے بھی تو ایک ایسے ہی قبرستان کے مالک ہوا کرتے ہیں میں بھی ایک ایسے ہی محبت کے آسیب زدہ قبرستان کی مسافر ہوں ۔ جہاں دن بہ دن ارمانوں کی, جذباتوں کی, قبریں بناتی جا رہی ہوں۔ ہر نئی قبر پچھلی قبر سے زیادہ وحشت اور اذیت ناک مرحلے سے گزر کر بنا رہی ہوں۔۔ہر قبر میں کوئی احساس, کوئی ارمان, کوئی خواہش , کوئی یاد , کوئی لمحہ, کوئی درد, کوئی آنسو, کوئی فریاد اور میرے ہجر کا وجود دفن کرتی ہوں۔بھلا یہ مُردہ وجود کہیں سجا کر رکھے تھوڑی جاسکتے ہیں ورنہ ان سے اٹھتا تعفن میری تڑپتی زندگی کو مزید بدبودار کر دے گا۔کوئی اس محبت کے مردہ وجود سے اٹھتے تعفن کی فضا میں زندہ نہیں رہ سکے گا۔اس لیے ان کو دفناتی جاتی ہوں۔ہر روز کئی قبریں کھودتی ہوں۔

جانتے ہو ایسے قبرستانوں کا رخ محبت کرنے والے دن کے اجالے میں نہیں بلکہ رات کی پھلیتی تاریکی میں کرتے ہیں۔اس ویران قبرستان کا رخ ہر رات کرتے ہوئے اذیت اور خوف سے میں پل پل مرتی ہوں۔۔مردہ محبت کے قبرستان کی طرف بڑھتا ہوا ہر قدم مجھے خوف میں مبتلا کرتا ہے  کہ کہیں کسی قبر سے کوئی ارمان نکل کر میرے قدموں کو نہ جکڑ لے۔ کسی قبر سے کوئی یاد, کوئی خواہش, کوئی لمحہ نکل کر کہیں مجھ سے گلے نہ آ ملے۔ کسی قبر سے کوئی آنسو , کوئی آہ , کوئی یاد, کوئی فریاد , کوئی درد نکل کر میرے سامنے نہ آ کھڑا ہو۔ اس خوف سے لڑتے لڑتے محبت کے آسیب زدہ قبرستان میں میرا وجود آہستہ آہستہ سکون میں آجاتا ہے۔ اور اپنی ہی بنائی گئ قبروں پہ آنسو بہانا شروع کرتی ہوں ۔ کبھی کسی لمحہ کی یاد میں ہنستی ہوں۔ کسی درد پہ روتی ہوں۔ کسی خواہش پہ افسردہ ہوتی ہوں تو کسی ارمان پہ قہقہہ لگاتی ہوں۔ کسی یاد پہ چیخ اٹھتی ہوں اور ہجر کے لمحوں کی تکلیف کو ہر رات اس قبرستان میں بیٹھ کر محسوس کرتے ہوئے پل پل گھٹن سے اپنی روح کو پرواز کرتا محسوس کرتی ہوں۔ ہر قبر کو اس خوف سے دیکھتی ہوں کہ یہ مردہ ارمان زندہ نہ ہوجائے اور پھر سے مُردہ محبت میری روح کو جکڑ نہ لے۔ کہیں پھر سے کوئی دفن خواہش اٹھ کر میرے پاؤں کی بیڑی نہ بن جائے ۔ اس محبت کے قبرستان میں تمہاری ذات کی اسیر یہ خاک نشین وہاں سے چیختی بھاگتی, دوڑتی, تڑپتی باہر کی طرف دیوانوں کی طرح بھاگتی ہے۔ یونہی دیوانہ وار بھاگتی ہوئی جب میں باہر آتی ہوں تو صبح کا سورج طلوع ہونے کو ہوتا ہے۔ آسمان سے روشنی نکلنے کو ہوتی ہے۔ اسی طرح محبت کے قبرستان میں اذیت میں ہر رات ان قبروں کہ ساتھ گزر جاتی ہے۔ جانتی ہوں کہ میں اس وقت تک ہی قبرستان سے باہر ہوں۔جب تک آسمان روشن ہے۔ جیسے جیسےتاریکی چھا جائے گی میرے قدم خود بہ خود اس آسیب زدہ قبرستان کی طرف چل پڑیں گے۔ پھر ہر رات ہی اس تکلیف سے گزرتی ہوں اس سوچ کے ساتھ کہ آخر ایک دن اس محبت کے قبرستان سے دنیاوی قبرستان کی طرف منتقل ہو ہی جاؤں گی۔ فرق صرف اتنا ہو گا کہ اب کی بار مٹی کہ اوپر نہیں نیچے ہونگی۔ محبت کے قبرستان رکھنے والے اکثر جب دنیاوی قبرستانوں کا رخ کرتے ہیں تو ان سے رُوٹھے اور بچھڑے پلٹ آتے ہیں۔

سنو۔۔۔
جب کبھی تم پلٹ کے آؤ۔میری تڑپ کے نشان تمہیں مجھ تک لےآئیں۔تم جب رُکو تو تمہارے سامنے میں موجود نہ ہوں۔تم مجھے دیکھ نہ سکو صرف پڑھ سکو۔پڑھ سکو کہ میرا نام قبر کے کتبہ پر گرد آلود ہو کر بھی تمہاری آنکھوں کی چمک سے چمک رہا ہو۔تم وہ گرد ہٹاؤ ۔۔۔وہ نام کے ہجے تم اس ترتیب میں پڑھ کر جُھٹلانا چاہو گے۔
یہ ہجے تمہیں ہواؤں میں اڑتے ہوئے محسوس نہ ہونگے۔بلکہ تمہاری روح میں آگ کی طرح اترتے جائیں گے۔تم جان کر بھی انجان بننا چاہو گے۔
چاہو گےکہ یہ گرد جو لمحوں پر چھا کر سب گرد آلود کر گئی کاش ایسا نہ ہوتا۔تم اس گردکو جھٹلانا چاہو گے۔
تم اس کتبہ کی تحریر پڑھتے میری آواز سنو گے۔۔ تم سنو گے ہر طرف صرف میری صدا, میری آواز میری تڑپ چیختی ملے گی۔ تمہارے قدم اسی جگہ جکڑ لیے جائیں گے۔

تم واپس بھی نہ جا سکو گے رُک بھی نہ سکو گے۔ تم اُسی لمحے ,اُسی جگہ, اُسی زمین میں اپنی انا کے سنگ زمین بوس ہو جاؤ گے۔
میری قبر اور اسکا کتبہ کبھی تمہیں بہت رلائے گا۔ جب اس پہ لکھا دیکھو گے نام میرا یہ پل پل تم کو تڑپائے گا۔
تب تم یوں بھی سوچو گے یہ کتبے پہ نام غلط لکھا ہے یا یوں بھی سوچو گے یہ قبر کسی اور کی ہے۔ مگر تم جو بھی سوچو گے اتنا تمہیں معلوم تو ہوگا یہ قبر اور اسکا کتبہ میری ہی آخری نشانی ہے۔ اس آخری نشانی کو بھی تم ایسے ہی جھٹلاتے جاؤگے۔ جیسے کبھی مجھ کو میری محبت سمیت جھٹلاتے آئے تھے۔ اُس وقت کا جھٹلانا میں سہہ گئی تھی مگر یہ قبر اور اسکے کتبے کا جھٹلانا تم کو بار بار رلائے گا۔ جھٹلا کر بھی تم میری قبر اور اس کہ کتبے کو جھٹلا نہ پاؤگے۔ آخر ایک دن رو رو کہ تم مجھ کو مٹی میں ڈھونڈو گے۔
ہاں۔
اس مٹی میں محبت دفن ہو گی۔
ﺳﻨﻮ ! ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺟﺎٶﮞ۔
ﻣﯿﺮﯼ ﻗﺒﺮ کی مٹی ﭘﺮ
ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺮﺩ ﭘﺸﺎﻧﯽ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻓﻘﻂ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺘﺎﺩﯾﻨﺎ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺗﮭﯽ؟۔
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ہے؟۔

SHOPPING

فقط
خاک نشین

SHOPPING
SALE OFFER

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”محبت کے قبرستان سے لکھا گیا خط۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت کا اقتباس”

  1. بہت اچھی تحریر ھے لیکن ھے بھت اداس کرنے والا۔ شائد محبت اداسی ھی کا دوسرا نام ھے کیونکہ بنا ھجر کاٹے محبت کی تکمیل کہاں ھوتی ھے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *