• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اعلیٰ تعلیم کا مجوزہ نظام اور نیو لبرل ازم حکمت عملی۔۔۔ شاہ برہمن

اعلیٰ تعلیم کا مجوزہ نظام اور نیو لبرل ازم حکمت عملی۔۔۔ شاہ برہمن

برطانیہ میں صنعتی انقلاب کے زمانہ سے لیکر1980 کی دہائی تک یونیورسٹی اور اعلیٰ تعلیم پر امیر اور اونچے متوسط طبقے کی ایک طرح سے اجارہ داری رہی اور اسکی وجہ سے سرکاری و نجی تمام بہتر اور انتظامی عہدوں پر ان طبقات کا غلبہ رہا۔
اس صورتحال کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ 1950 کے بعد سے غریب طبقات کے بچوں کو سکول کی تعلیم کے بعد فوری طور پر کسی نہ کسی فیکٹری/کارخانے یا ادارے میں نچلے درجہ کی نوکری مل جاتی تھی اور وہ نوکری ایک طرح سے زندگی بھر کیلئے مستقل سمجھی جاتی تھی، اس لیے  غریب طبقات کیلئے چار چھ سال اعلیٰ تعلیم میں صَرف کرنے کے بعد نوکری کا حصول کبھی بھی پرکشش نہ تھا اور ویسے بھی ایک ایسے ماحول میں جہاں ماں باپ، اور دیگر قریبی رشتہ دار ، بڑے بھائی بہن دوست   کو سکول کی تعلیم کے بعد فیکٹری میں نوکری کرتے دیکھا ہو وہاں زندگی میں یہی بڑی امید اور کامیابی سمجھی جاتی تھی ، اس طرح کی زندگی میں کبھی بھی بڑے عہدوں کی آرزو اور امنگ پیدا نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی اسکا کوئی حقیقی موقع۔۔

1980  کی دہائی سے برطانیہ میں مارگریٹ تھیچر کی کنزرویٹوپارٹی کی حکومت نے برطانیہ کی اقتصادیات کو مینوفیکچرنگ کی بنیاد سے خدمات یعنی سروسز کی بنیاد والی اقتصادیات کی طرف منتقل کرنا شروع کردیا، اس حکومتی پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ برطانیہ میں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں شدید کمی آئی اور آئے دن بڑے کارخانوں اور انڈسٹریل یونٹ کے بند ہونے سے شدید بیروزگاری آئی،
یہ سب کام نیو لبرل سرمایہ داری کا برطانیہ و امریکہ میں بالخصوص اور یورپ میں بالعموم آغاز تھا، مارگریٹ تھیچر اور رونالڈ ریگن کو ہی اصل میں نیو لبرل سرمایہ داری کی سیاسی قیادت و ریاستی نفاذ کنندگان سمجھا جاتا ہے کہ انہی  کے دور میں عوامی خدمات میں کٹوتی اور سرکاری اداروں کی دھڑا دھڑ نجکاری شروع کی گئی تھی۔

غریب و نچلے طبقات کیلئے مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں نوکریوں کی کمی اور اس دور میں نئی ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے ظہور کی وجہ سے ان طبقات کے بچوں میں یونیورسٹی اور اعلیٰ تعلیم کا شوق و شعور پیدا ہوا۔ چونکہ سروس انڈسٹری کی بنیاد ہی کمپیوٹنگ اور آئی ٹی انڈسٹری پر تھی اور امیر و اپر مڈل کلاس کا ان شعبوں میں کوئی رجحان نہ تھا تو غریب اور نچلے طبقات کی ایک کثیر تعداد نئی ٹیکنالوجی ، جس میں آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلقہ شعبے تھے میں چلی گئی اور نہ صرف اچھی تنخواہیں لینے لگی بلکہ مڈل مینجمنٹ میں بھی پہنچنے لگی،اس کے علاوہ اس مفت اعلیٰ تعلیم کے مواقع کی وجہ سے نچلے طبقات (ورکنگ کلاس ) کے لوگ ان شعبوں میں بھی جانا شروع ہوگئے جو کہ روایتی طور پر امیر اور اعلیٰ طبقات کیلئے مخصوص تھے ، یعنی قانون ، طب، سماجی علوم، فنانس، بینکنگ اور معاشیات۔۔نیو لبرل سرمایہ داری کا ایک اہم جزو، آزاد منڈی کی معیشت (فرو مارکیٹ اکانومی)، سرمائے اور لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت بھی تھی تو اس مجبوری کی وجہ سے غریب اور نچلے طبقات کو نئی ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبوں کی مینجمنٹ میں برداشت کرنا پڑا، نئی ٹیکنالوجی صرف آئی ٹی اور ٹیلی کام تک ہی محدود نہ رہی بلکہ ہر طرح کی مینوفیکچرنگ میں خود کاری یعنی آٹومیشن اور روبوٹس در آئے جن کی بنیاد بھی آئی ٹی کے ہی ذیلی شعبے تھے۔

اس سے دولتمندوں کا ایک نیا طبقہ پیدا ہوا جس کا تعلق پرانے امیر یا اپر مڈل کلاس کی بجائے غریب و نچلے طبقات سے تھا (یورپ امریکہ میں پاکستانی بھارتی و چینی لوگوں کی دوسری نسل کے اچانک امیر ہونے کے پیچھے بھی یہی عوامل اور شعبہ جات ہیں)۔ اس نئے امیر طبقہ نے اپنے بچوں، بھائی بندوں کو دھڑا دھڑ یونیورسٹی بھیجنا اور اعلیٰ تعلیم دلوانی شروع کردی، برطانیہ میں 1997تک ہر طرح کی یونیورسٹی کی تعلیم مفت تھی تو اس بات کا غریب و نچلے طبقات نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

نوے کی دہائی کے وسط میں ہی نیولبرل سرمایہ داروں کو یہ احساس ہونے لگ گیا کہ مفت کی اعلیٰ تعلیم سے ان کی معاشی اجارہ داری کو خطرہ و چیلنج درپیش ہے تو اس بارے کچھ کرنا ہوگا تاکہ غریب اور نچلے طبقات کے لوگ معاشی آزادی کی بنا پر انکے تسلط و غلبہ کو ختم نہ کردیں۔ برطانیہ جہاں پر نیولبرل سرمایہ داری کا کامیابی سے نفاذ کیا گیا تھا میں اس بات پر کمیشن بنایا گیا کہ جائزہ لے کہ مفت کی اعلیٰ تعلیم کی فراہمی سے حکومتی خزانے پر کتنا بوجھ پڑ رہا ہے اور اس عوامی خرچ کو کم اور پھر ختم کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ ، لیبر پارٹی جو نظریاتی طور پر سوشلسٹ ، نظریہ، پس منظر اور حکمت عملی رکھتی تھی میں نقب لگا کر ان لوگوں (ٹونی بلئیر ) کو پروموٹ کیا گیا جی نیو لبرل سرمایہ داری کے ایجنڈے کے ساتھ بالکل متفق تھے اور لیبر کی جگہ نیو لیبر پارٹی کا تصور رائج کیا گیا اور پھر ٹونی بلیئر  کی وہی نیو لیبر پارٹی تھی جس نے 1997 میں اقتدار میں آ کر یونیورسٹی میں مفت تعلیم کا خاتمہ کرتے ہوئے طلباء کیلئے پڑھائی کے اخراجات ادا کرنے لازمی کردئیے۔

تعلیمی نظام میں اس نیو لبرل سرمایہ دارانہ پالیسی کا یہ نتیجہ نکلا کہ غریب اور نچلا طبقہ جو کہ ورکنگ کلاس کہلاتا تھا کے بچوں  پر  ایک بار پھر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہونا شروع ہوگئے کہ اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کی ادائیگی بتدریج اس ورکنگ کلاس کے بس سے باہر ہوتی گئی اور بیس سال بعد اب یہ صورتحال ہے کہ ورکنگ کلاس کے لوگوں کا اعلیٰ تعلیم میں تناسب کم ہونا شروع ہوگیا ہے اور اگر وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے جاتے بھی ہیں تو جب ڈگری لیکر نکلتے ہیں تو ان پر پچاس ساٹھ ہزار پاونڈز کا قرض چڑھا ہوتا ہے۔ وہ جب نوکری حاصل کرتے ہیں تو اس قرض کی ادائیگی کی وجہ سے کسی بھی سیاسی جدوجہد کا حصہ بننے سے قاصر ہوجاتے ہیں کہ اس سیاسی جدوجہد کی وجہ سے اگر نوکری چھن گئی تو قرض کیسے ادا ہوگا۔

یعنی تعلیم کی نجکاری کی نیو لبرل پالیسی سے کثیر جہتی مفاد حاصل کیے گئے، ورکنگ کلاس طبقہ کو اعلیٰ تعلیم سے ایک بار پھر محدود کردیا گیا، ان پر تعلیم کے حصول کی بنیاد پر قرض کا انبار کھڑا کردیا گیا، ورکنگ کلاس کے دل میں ڈر و خوف پیدا کردیا گیا کہ اگر انہوں نے کسی بھی قسم کی عوامی حقوق و عوامی برابری کی کسی سیاسی جدوجہد میں حصہ بننے کی کوشش کی تو نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور قرض کی ادائیگی نہ کر پائیں گے۔ مزید یہ کہ تعلیم کے اعتبار سے بھی انہیں ان شعبوں میں محدود کردیا گیا جو کہ صرف اور صرف ٹیکنالوجی سے متعلقہ ہیں کہ آزاد منڈی کی معیشت اور نیو لبرل سرمایہ داری کو اچھے ملازموں کیلئے  صرف ان شعبوں کے “ماہرین” کی ضرورت ہے اور سماجی علوم ، فلسفہ ،قانون، سیاسیات،فنانس، بینکنگ، اقتصادیات جیسے نان ٹیکنیکل مضامین وغیرہ میں جانے اور پڑھنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ۔ حالانکہ یہی مضامین ہیں جن میں مہارت کسی بھی معاشرے کو چلانے ، ترتیب دینے اور آگے لیجانے کیلئے اشد ضرورت ہوتی ہے۔

اگر پاکستان کے حالات کو دیکھا جائے تو اعلیٰ تعلیم کے نجی تعلیمی اداروں کا قیام بھی نوے کی دہائی میں شروع ہوا جو کہ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ تعلیم کی  اس تقسیم کا نتیجہ یہ نکلا کہ اعلیٰ تعلیم کے سرکاری ادارے اپنا معیار کھو بیٹھے اور ان سے فارغ التحصیل طلباء کے اعلیٰ عہدوں اور اہم شعبوں میں جانے کے مواقع ناممکن ہی ہوگئے اور اب وہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے سرکاری اداروں میں تعلیمی اخراجات اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ غریب کو تو چھوڑیں، متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کیلئے اپنے دو تین بچوں کو یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم دلوانا تقریبا ً ناممکن ہی ہے۔

تعلیم کی نجکاری اور مخصوص شعبوں کی ہی تعلیم جو منڈی کی معیشت کیلئے تابعدار اور اچھے ملازم پیدا کرے ، نیو لبرل سرمایہ داری کا ایجنڈہ و حکمت عملی ہے جس پر عمران خان کی حکومت مکمل یکسوئی کے ساتھ کاربند ہے اور آئندہ چند سالوں میں موجودہ تعلیمی نظام کو بدل کر اسکی جگہ تجویز کردہ نظام کا نفاذ مقصود ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *