رحمان خاور صاحب کی کتاب ’’دوہے، دوہا رنگ‘‘۔۔۔۔۔ فیصل عظیم

پِرتھم دوہے کبیرؔ کے، اَنتِم میرے گیت

میری سانچی بات سن، جگ کی جھوٹی ریت

’’دوہے، دوہا رنگ‘‘ پڑھی اور جھوم کے پڑھی۔ گیت کی طرح، دوہا ایک نغمہ صفت صنف ہے۔ ہیٔت یا آہنگ کا معاملہ اپنی جگہ لیکن دوہے کی زبان، مضامین اور سادگی، وہ فضا بناتے ہیں جو گیت   سا مزہ دیتی ہے۔ پھر اگر اسے کوئی مغنّی مل جائے تو کیا دھمّال ہوگی، وہ اس کتاب کو پڑھ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ دوہا ایک میٹھی اور غزل کی طرح بڑی ہمہ گیر صنف ہے۔ غزل کی طرح دو مصرعے اور گویا کوزے میں دریا والا معاملہ۔ پھر کچّی مٹی کے سے مضامین، سادہ بیانی، دانش کے وہ موتی جو دانشور کے بجائے مجذوب کی زبان سے ادا ہوں اور معصوم جذبوں کا کومل اظہار۔ یہی وجہ ہے کہ رحمان خاور صاحب کی طبیعت دوہے سے فطری لگاؤ رکھتی ہے۔ خاور صاحب کا مزاج رنگین بھی ہے اور سادہ بھی۔ وہ جتنے رنگین مزاج ہیں، اتنے ہی سنجیدہ بھی ہیں اور ظاہر ہے کہ ہر فنکار چاہے کتنا ہی خوش مزاج، ہنس مکھ یا رنگین مزاج ہو، سنجیدگی اس کے مزاج کا لازمی جزو ہوتا ہی ہے مگر ہم اکثر دھوکہ کھا جاتے ہیں اور منظر کی آوازیں اور آوازوں کے چہرے دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ البتہ یہ سب چیزیں ہمیں فنکار کی تحریر بالآخر دکھا کر ہی رہتی ہے۔ سو خاور صاحب کا کلام بھی ہمیں ان کے اندر کا وہ بسیط جہاں دکھاتا ہے جس پہ ان کی فقرے بازی، حسِّ مزاح اور قلندرانہ چھیڑ چھاڑ کا پردہ پڑا رہتا ہے۔
اس کتاب میں دو طرح کے دوہے ہیں۔ پہلے حصّے میں وہ دوہے ہیں جو دوہے کے اصلی وزن میں لکھے گئے ہیں جو ہندی کے عروض ’’پنگل‘‘ میں ’’دوہا چَھند‘‘ یعنی دوہے کی بحر کہلاتی ہیں۔ یعنی وہی بحر جس میں ہر مصرعے کے دو حصّے ہوتے ہیں اور پہلے حصّے کے بعد ایک وقفہ آتا ہے جسے اردو کے عروض کے مطابق (جی ہاں اردو کا عروض) مصرع دولخت ہوجانا کہتے ہیں۔ حالانکہ اردو عروض کے لحاظ سے یہ ایک عیب ہے اور کسی اور صنف میں اچھا بھی نہیں لگتا لیکن پنگل میں یا یوں کہہ لیں کہ دوہے میں یہی وقفہ ایک الگ مزہ دیتا ہے اور یہ اس کا حسن ہی ہے کہ آپ کو مصرع دو لخت ہونے کا احساس ہونے کے بجائے اس سے مصرعے میں موسیقیت کا احساس ہوتا ہے۔ اس کتاب میں کتابت کے لحاظ سے ایک اچھی بات یہ ہے کہ پہلے حصّے کے دوہوں میں ہر مصرعے میں دو ٹکڑوں کے درمیان وقفے کی علامت (،) یعنی ’’کوما‘‘ لگایا گیا ہے جس سے مصرعوں کے دونوں ٹکڑوں کو بآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے کسی جگہ یہ کوما نہ بھی ہو جس پہ میرا دھیان نہ گیا ہو، مگر مجھے یہ تقریباً ہر جگہ نظر آیا۔ مثلاً:
کیسی رُتو یہ آئی ہے، اُڑتی ہے جو دھُول

کہیں نہ کوئی پات ہے، کہیں نہ کوئی پھُول

نیچی دھرا مہان ہے، اونچا گگن وشال

ان دونوں کے بیچ میں، آوازوں کا جال

تو پہلے حصّے میں جو دوہے ہیں انہیں تو دوہے ہی کا عنوان دیا گیا ہے اور کتاب کے دوسرے حصّے میں وہ دوہے ہیں جو اردو کی مروجّہ بحر میں لکھے گئے ہیں جس میں وقفہ نہیں آتا اور اسے ہندی پنگل میں ’سرسی چھند‘‘ کہا جاتا ہے جسے بعض لوگ عالی چال بھی کہتے ہیں۔ سو یہ دوہے جو سرسی چھند (یا اردو کی بحر) میں ہیں، انہیں خاور صاحب نے ’’دوہا رنگ‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ دوہے کی عروضی یا ہیئت کی بحث خاصی پرانی ہے، سو وہ ایک الگ موضوع ہے، لیکن یہ دو حصّوں کا التزام اس لحاظ سے بھی اچھا ہے کہ کتاب کے ان دو حصّوں کے ذریعے قاری کو ان دونوں شکلوں کو دیکھنے، پرکھنے اور ان کی ہیئت کے مطابق انہیں سراہنے کا موقع ملے گا، یعنی ساتھ ساتھ پڑھنے والے کی تربیت کا سامان بھی ہوجاتا جائے گا۔ اس رنگ کی ایک مثال دیکھیے:
آؤ اس سے چل کر پوچھیں اس دھرتی کا حال

تانبے جیسا مکھڑا جس کا چاندی جیسے بال

وزن یا ہیئت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سرسی چھند یا اردو کی بحر میں لکھے دوہے متفرّق اشعار بھی کہلاسکتے ہیں، غزل کے مطلعے بھی، گیت کے اشعار بھی اور پابند نظم کے ٹکڑے بھی۔ یعنی اگر آپ عنوان بدل دیں، تو یہ دوہے اپنی ہیٔت کی وجہ سے ان اصناف میں ملائے اور چُھپائے جا سکتے ہیں۔ سو اس مقام پر دوہے کی اصلی یا بنیادی شکل عموماً بازی لے جاتی ہے۔ کتاب میں آدھے سے کچھ کم میں دوہے اور باقی میں ’’دوہا رنگ‘‘ کے اشعار ہیں۔ مجھے دوہے کا اصل لطف اس کی اصل بحر یعنی ’’دوہا چھند‘‘ میں زیادہ آتا ہے، جس کی وجہ سے دوہے کو عروضی صنف بھی کہا جاتا ہے۔ ویسے ذوق اپنا اپنا اور مزاج اپنا اپنا، سو میری نظر میں آہنگ کی انفرادیت اور شناخت جو دوہے کی ہندی بحر میں نظر آتی ہے، اس کی وجہ سے خالص دوہے کا مزہ بھی اسی میں آتا ہے اور اس میں دوہا، اپنے آہنگ کی انفرادیت کے ساتھ جو رنگ جماتا ہے، وہ ہندی کی عام بول چال کے قریب بھی ہے اور اس میں ایک جذب، ایک رقص، ایک جست کی کیفیت بھی ہے جو خیال کو اپنے ساتھ اُڑا کر لے جاتی ہے۔ البتّہ آہنگ سے ہٹ کر اگر دیکھیں تو مضامین اور کیفیت کے اعتبار سے اس کتاب میں دوہا رنگ کے اشعار میں بھی وہی فضا اور لطف ہے جو پہلے حصّے کے دوہوں میں ہے اور اس کی ایک مثال وہ شعر ہے جو میں نے اوپر درج کیا گیا ہے، وہی گیانی رنگ۔ دو مثالیں اور:
میں کیسا لیکھک ہوں تیرا اور تو کیسا لیکھ

اک دن میری آنکھوں سے تو خود کو پڑھ کر دیکھ

تجھ کو بھائے ناچ اپنا اور چھائی گھٹا گھنگھور

مجھ کو تو اچھے لگتے ہیں پاؤں بھی تیرے مور

رحمان خاور صاحب نے یوں تو کئی صنفوں سے انصاف کیا ہے مگر غزل، گیت اور دوہے میں ان کا رنگ زیادہ واضح ہوتا ہے۔ یہ اصناف ان کے مزاج سے زیادہ مطابقت رکھتی ہیں۔ غزل کے کتنے ہی اشعار اور قطعات ان کے ہاں سے منتخب کیے جا سکتے ہیں۔ مگر جب وہ گیت یا دوہا لکھتے ہیں تو اس میں ان کا رنگ کھُل کر جلوے دکھاتا ہے۔ وہ بڑے محبّت کے آدمی ہیں۔ سب سے پیار اور سب کے لیے دعا، ان کی شخصیت کا بھی جزو ہے اور شاعری کا بھی۔ وہ انسان اور انسانیت سے محبّت کا اظہار کہیں براہِ راست کرتے ہیں تو کہیں مضامین میں گوندھ کرکرتے ہیں مگر ان کے کلام میں جا بجا یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ کسی انسان دوست، فقیری طبیعت والے، خوشبو لٹاتے، دعاؤں کے پھول بکھیرتے شخص کی آواز سن رہے ہیں۔ حسن اور محبّت، فنکار کو فنکار بناتی ہے لیکن اندر کا حسن جب کھل کر شعر میں اپنا اعلان کرے تو ایسے دوہے سننے کو ملتے ہیں:
آؤ تم کو پیار کی، سچّائی بتلائیں

سب اس کی پرچھائیں ہیں، جیون لوک کتھائیں

ساری اچھی مورتیں، پریم کا ہیں آدھار

من دیپک کی جوت ہے، کیا کنواری کیا نار

کتاب کا انتساب، ہمارے شہر کے دو پیارے انسانوں، عامرسیّد اور نسرین سیّد کے نام ہے، نسرین سیّد جو شاعرہ ہیں اور عامر سیّد جو ان کا دیوان ہیں یا شاید ان کے دیوانے ہیں۔ اس انتساب سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاور صاحب بھی دوستوں اور مخلصوں کی کتنی قدر کرتے ہیں۔ یہ انتساب صاحبِ کتاب اور صاحبانِ انتساب، تینوں کے خلوص اور محبتوں کا مظہر ہے۔ میں نے خاور صاحب کے انسانیت سے پیار اور قلندرانہ طبیعت کا جو ذکر اوپر کیا، انھیں قریب سے جاننے والے اس بات کی گواہی دیں گے۔ مگر یہ وہ رنگ ہے جس کی بہت مثالیں تو اس کتاب میں بھی مل جائیں گی، جیسے:
ہو ہی نہیں سکتا کوئی، اس سے بڑا اُپ کار

انسانوں سے پیار ہے، میرا اَنتِم پیار

میٹھی گہری نیند سُن، دھیان سے میری بات

سارے جگ کو بانٹنا، سپنوں کی سوغات

لوگ مرے سنسار کے، یُگ یُگ کے ہیں میت

من نَینَن سے دیکھنا، میری ان کی پریت

بھانت بھانت کی بولیاں، ایک یَدی ہوجائیں

ہم سارے سنسار کو، ایک کا ارتھ سُجھائیں

انسانوں سے پیار اپنی جگہ مگر خاور صاحب بھرپور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ، بھرپور حسن کے رازدار اور پرستار بھی ہیں۔ وہ حسن، جو ان کے دل میں بھی ہے اور آنکھ میں بھی۔ شاعر حسن پرست نہ ہو، یہ کیسے ہو سکتا ہے، ہاں اس حسن کی شکل کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن خاور صاحب باہر سے جیسے بھی نظر آئیں، اندر سے وہ ہیں جوانِ رعنا اور ان کی شاعری میں حسن اور عشق کے معاملات اور مضامین، ان کی حسن پرستی اور عاشق مزاجی کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔
میرے سوا اے پریتما، کوئی جان نہ پائے

تاروں نے آکاش پر، کس سے نَین چُرائے

اے خوشبو کی راگنی، اے رنگوں کی بات

جس میں تیرا ساتھ ہو، ایسی بھی اک رات

برکھا رُت یوں آئی ہے، بکھرے سارے پات

سجنی کو یاد آئے ہے، سجن کا اپنے ساتھ

او برکھا برسات کی، اپنی بَجَریا دیکھ

مالک نے آکاش پر، کیا لکھا ہے لیکھ

رحمان خاور صاحب کی نظر انسانی زندگی، زمین اور اس سے جڑی خوشیوں اور دکھوں پر رہتی ہے۔ وہ آسمان میں کھوجانے کے بجائے اپنے پیروں تلے کی زمین سے باتیں کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ہی نہیں، حالات کو بھی للکارتے ہیں اور جب جو کہنا ہو، بس کہ دیتے ہیں، چاہے اس سے سننے والے کے چہرے کا نقاب ہی کیوں نہ ہل جائے یا ہمارے اندر کے اپنے اپنے چور کی تصویر ہی کیوں نہ اُبھر آئے۔ بلکہ ان کے دوہوں میں کہیں کہیں تو ترقی پسند رنگ بھی جھلک اٹھتا ہے، یہ دیکھیے:
رات کی ناگن ڈس گئی، کوئی منکا لاؤ

تن کے بھیتر دیر سے، بھڑکے اگن الاؤ

دوش نہیں آکاش کا، آندھی باڑھ اکال

دھرتی تیری دین ہیں، یہ سارے بھونچال

دھرتی بھیتر چھپے ہوئے، پتھر کے انگار

دھرتی پر آجائیں تو، جل جائے سنسار

یہی تو وہ اظہار ہے، کردے جو بے چین

ہلا نہ دیں سنسار کو، گوری تیرے نین

کس نِروئی کا حکم تھا، کوئی ہمیں بتائے

سپنوں کے سنسار کو، آگ لگا دی جائے

شترو کھیلے رات دن، آگ پون کا کھیل

مندھ چڑھی نا آج تک، اپنے امن کی بیل

پیاسے پنچھی بانورے، پانی کو کیوں روئے

کاگا تیری چونچ میں، کنکر ناہیں کوئے

جھوٹے جگ سے پیار کی، اپنی سچّی مانگ

جیون منچ پہ بیٹھ کر، لوگ رچائیں سوانگ

سارے ہی سنسار میں، پھیلی ہے جب آگ

چھیڑ رہی ہے بانسری کیوں یہ دیپک راگ

بلکہ آخری دوہا تو جیسے’’شاعر نہیں ہے وہ جو غزل خواں ہے آج کل‘‘ کو آگے بڑھا رہا ہو۔ عصری آگاہی، ابتلا، معاشرے کا خلفشار اور سماجی المیے، خاور صاحب کے ہاں یہ سب داخلی کیفیات کی صورت میں نظر آتا ہے۔ تنہائی، رشتوں اور سماج کی شکست و ریخت، یہ سب ان کے ہاں ذاتی تجربے کی شکل میں اظہار پاتا ہے۔
سپنوں کے اس دیس میں، بسے بسائے شہر

دھیرے دھیرے پی گئے، تنہائی کا زہر

جیون سے جو بھاگ کر، اپنے میں چھُپ جائے

خاور ایسے پُرش کو، کوئی ڈھونڈ نہ پائے

چلتے چلتے پاؤں میں، آئی ایسی موچ

پَتھ کا پتھر بن گئی، منزل کی ہر سوچ

یادوں کے سنسار میں، رہتا ہوں میں یوں

کیوں کہ اس سنسار کا، مالک میں ہی ہوں

موہ مایا کے جال میں، پھنسے یہ میرے میت

کیسے ان کو مُکت کرائے، میری کلا اور پریت

خاور صاحب کے ہاں آپ کو دنیا سے سامنے سے گزرتا، دکھیارا مسافر بھی نظر آئے گا، محبت کا ’’اک تارا‘‘ بجاتا جوگی بھی اور ان سب کے جلو میں حسن سے بے پناہ عشق کرتا رنگین مزاج شاعر بھی۔ آخر میں دوہا رنگ کی کچھ اور مثالیں دیکھیے:
اے میری ان دیکھی منزل تجھ تک کیسے آؤں

رستے کی دیوار بنی ہے پیڑ کی ٹھنڈی چھاؤں

تو کیا جانے، تو کیا سمجھے اے رستے کی دُھول

دیکھ رہی ہیں میری آنکھیں کیسے کیسے پھول

میری تو سجنی بھی نکلی جنموں کی ہرجائی

رات کی رانی دن میں مہکی تم کو خوشبو آئی؟

کتنا شور وہاں رہتا ہے یہاں کسے بتلائیں

تیاگ کا کارن پوچھنے والے بستی سے بن آئیں

اندر کے بونے ہم نے باہر سے ایسے پائے

صبح کے سورج سے لمبے جیسے پیڑوں کے سائے

رنگ تو لا کر رہے گی اک دن جلے سَپَن کی راکھ

سامنے آکر رہو گی سجنی خود کو چھپاؤ لاکھ!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *