وہ جنس نہیں ایماں جسے لے آئیں دکان فلسفہ سے

. ممتاز فارسی شاعر عرفی نعت گوئی سے متعلق کہتے ہیں کہ
عرفی شتاب ایں رہ نعت است نہ صحرا است
آہستہ کہ رہ ہر دم تیغ است قلم را
ترجمہ
“اے عرفی! اتنی تیزی نہ دکھا. یہ نعت کا راستہ ہے ..کوئی صحرا نہیں کہ آنکھیں بند کر کے دوڑتا چلا جائے گا …یہ راستہ بہت کٹھن ہے اور اس کی کیفیت تلوار کی دھار پر چلنے کا نام ہے ..”
مجموعی طور سے نعت کی پیشکش میں ادبی محاسن اور لوازمات سے مزین ہونا چاہئے …جن کی نعت متقاضی ہے …مثلا موزوں زبان و بیان، الفاظ کی عمدہ تراش خراش، تشبیہ و استعارہ وغیرہ
نعت خوان کے لئے یہ کمال احتیاط اور آداب کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی مدح و ثنا میں غلو اور شرک سے بچتے ہوئے عقیدت کے ساتھ عشق رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی بارگاہ میں نذرانہ بہ حسن و خوبی پیش کریں…..

تو ہے احرامِ انوار باندھے ہوئے میں درودوں کی دستار باندھے ہوئے
کعبۂ عشق تو، میں ترے چار سو
تو اثر میں دعا، تو کجا من کجا

تو امیرِ حرم، میں فقیرِ عجم
تیرے گن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب
تو عطا ہی عطا، میں خطا ہی خطا
تو کجا من کجا،تو کجا من کجا

مظفر وارثی

عرب و عجم میں یکساں طور سے نعت گوئی اور نعت خوانی کو ممتاز حیثیت حاصل رہی …..تاہم سب سے زیادہ نعت خوانی کی محافل پاکستان میں سجتی ہیں ….اور سب سے زیادہ نعت اردو زبان میں کہی گئی ہے ……..پاکستان میں نعت خوانی آغاز سے ہی باوقار
روایات کی حامل رہی ہے … صدیق اسماعیل عبدالرؤف روفی اویس رضا قادری، خورشید انور ، ام حبیبہ، منیبہ شیخ، قاری وحید ظفر قاسمی وغیرہ کے بعد ایک توانا لب و لہجہ. -جذبوں سے سرشار جنید جمشید مرحوم ….جن کو نعت خوان کے طور پر عام مرد و خواتین بالخصوص نوجوان طبقے میں بے حد پزیرائی ملی …
بلکہ اسے غلو کی حد تک نہ سمجھا جاٰئے تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ
.درویش کیا ہوتے ہیں ……نہیں دیکھا …پڑھا ہے یا سنا ہے ….بایزد بسطامی رح کون تھے ….پڑھا یا سنا ہی ہے فقط ….مگر جنید جمشید مرحوم تو ہمارے اسی زمانے کے رہے …ہمارے اور آپ کے سامنے کے ……براہ کرم کوئی شدید معنوں میں نہ لے کہ ہم ان جو درویشوں میں شامل کر رہےہیں ….ایسا ہرگز نہیں …ہم صرف نعت گوئی کے حوالے سے مرحوم کی زندگی کا وہ پہلو دکھانا چاہ رہے ہیں ….کہ کیسے ایک ہمارے جیسے ماڈرن زمانے کے نوجوان نے …..شہرت کی بلندیوں پر ہوتے ہوئے …..اپنا آپ بدل ڈالا….اپنے دل کے گداز سے سب دل والوں کو بدلنے کا ارادہ ٹھان لیا …وہ ملی نغمے اور رومانوی گیت جن کی وجہ سے ہن برس رہا تھا ماضی کا باب بن گئے …موسیقی کی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی ..اور
…..زندگی کا مکمل منظر نامہ ہی بدل لیا …تعلیم اور معاش کی جس دوڑ دھوپ کو ہم صبح و شام زندگی میں کافی و شافی سمجھتے ہیں. جنید جمشید نے ان سب سے نبھا کرتے ہوئے ….اور
…..اصلاح و تبلیغ کی الگ راہ اختیار کی

…….پاکستان کے کونے کونے میں گونجتی آواز دل دل پاکستان. ..جب قصیدہء نعت کی چوکھٹ چوم کر آئی تو سرفراز ہوئی …..
…میٹھا میٹھا ..پیارا پیارا میرے محمد کا نام..
جلد ہی ان کا شمار پاکستان کے نامور نعت خوانوں میں ہونے لگا

..عشق رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے مہکتے کون کون سے کلام ہیں جو چار وانگ عالم میں درود و سلام بھیج رہے ہیں ….
کون کون سی خوب صورت نعت شریف ہیں ..جن کو شرف باریابی ملا ..پاکستان کے ایک وسیع حلقے کو اپنی مسحور کن آواز اور متاثر کن شخصیت کے بل پر زندگی میں کچھ کرنے اور اسلامی شعائر اختیار کرنے کی طرف متوجہ کیا ……ی. . 52 سالہ جنید جمشید نے 2004 میں موسیقی کی دنیا کو مکمل خیر باد کہنے کے بعد بارہ سال میں

بے شمار حمد و نعتیہ کلام پڑھا، متعدد مناجات اور ترانے پیش کئے ….قومی زبان اردو کے سوا علاقائی اور انگریزی زبان میں بھی حمد و نعت پیش کی ….
مقبول عام نعتیں اور کلام یہ رہے …
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے …
محمد کا روضہ
یہ صبح مدینہ،یہ شام مدینہ، ، الہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں ……
جبکہ ریکارڈ کے مطابق
حمدیہ اور نعتیہ کلام کی مکمل فہرست حسب ذیل ہے:

اے رسول امیں خاتم المرسلین ص،—
اے طیبہ امت کا سفینہ….
– بدر الدجی —
تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت—-
-جلوہء جاناں —-
جگہ جی لگانے کی دنیا نہین ہے —–
— حبیبی رسولی —
– دو عالم تمہارا ہوا کملی والے —-
– طلع البدر علینا —–
– قصیدہء بردہء شریف —-
مجھے زندگی میں یارب —–
– محبت کیا ہے —-
– محمد کا روضہ قریب آرہا ہے —-
–مدد اے میرے اللہ —
میرے اللہ تو کریم ہے —-
– میٹھا میٹھا ہے میرے محمد کا نام —–
یہ صبح مدینہ یہ شام مدینہ ——
الہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں مدینے کو جائیں

مکہ یاد آتا ہے —-
_آج سک متراں دی _
_رہ کشی مکو ..پشتو__
_____Allah Make Me Bold
_____Habibi Rasooli
____Oh Merciful

…….مختلف ادوار میں ریلیز ہونے والے کیسیٹ کی تفصیل کچھ یوں ہے ….
2005 میں ریلیز ہوا جلوہء جاناں
2006 میں محبوب یزداں
2008 میں بدر الدجی
2009 میں بدیع الزماں
2016 میں امتی
جنید جمشید کو 2007 میں صدر پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ….
عطا اور کرم کیسے ہوتی ہے ……پہلے تو شرط ہی لگن کی ہے …..پھر اتباع کی ہوئی …اور یہ راہ عشق نہیں آسان ……آپ کے دل بدلنے کا کام مالک حقیقی کا ہی ہے ….بس کوئی چاہے بھی تو….کوئی مانے بھی تو …فرمایا گیا کہ
” وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے ..جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے ”
القران
….افسوس اس امر کا ہے کہ جنید جمشید کی زندگی جہاں خود ان کے لئے ایک الگ انتخاب بنی وہاں ہمارے ملک میں رائج گروہی مفادات نے بھی مرحوم کو متنازعہ ثابت کرنا چاہا .. …..ان نیلے پیلے، کالے اور سبز رنگا رنگ اسلام کے پیروکاروں نے
… ثنا خوان نعت رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر گستاخ رسول صلعم ہونے کا بھی الزام لگایا … اور ان کو کچھ عرصے کے لئے روپوش بھی ہونا پڑا……معافی مانگ لینے اور علماء کرام کے فتاوی کے باوجود ان کے کئے راہ عشق پر خار بنی رہی ……بالاخر جنید جمشید سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت سے سرفراز ہوئے ….سات دسمبر کو چترال سے تبلیغی دورے سے واپسی پر فضائی حادثے میں دیگر سینتالیس کے قریب مسافروں کے ساتھ اب ان تمام الزامات اور جھگڑوں سے دور جا چکے ہیں …

ہری چند اختر کے نعتیہ شعر پر اختتام کرتے ہیں کہ
زندہ ہو جاتے ہیں، جو مرتے ہیں ان کے نام پر
اللہ اللہ– کس نے— موت کو مسیحا کر دیا

صلی اللہ علیہ و الہ وسلم
——–

Avatar
حبیبہ طلعت
تجزیہ نگار، نقاد اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *