بوسے عارضِ گلفام کے۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

پچھلے دنوں ایک”ایتھے۔ چُمّی۔ اوتھے۔ ٹھا“ قسم کی ایک نیب زدہ ویڈیو ریلیز ہوئی تو ایک شعر ہر قسم کی وردی، بے وردی،عدالتی اور انتظامی بیوروکریسی کے ممبرکے حوالے سے بہت یاد آیا۔یہ سب ۔یہ سب کم بخت مردوے ایسے اللہ لوگ ہیں کہ جس بےحیائی اور ڈھٹائی سے سیٹھوں اور سائلین بے بساط،سے بے دھڑک رشوت  اور بخشش مانگتے ہیں ویسے ہی عفت مآب بیبیوں سے چمیاں بھی مانگ لیتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کوئی شرم ہوتی ہے،کوئی حیا ہوتی ہے۔ چمیاں دینے کا ایک ماحول، ایک موسم ،ایک رومانی واسطہ ہوتا۔

گانٹھ کے پورے ہوس کے پجاری یہ نہیں دھیان کرتے کہ اداکارہ شلپا سیٹھی اگر مشہور اداکار رچرڈ گیر کے اچانک  بوسے پر شرم کے مارے سرخ ہوکر بیر بہوٹی ( Red Velvet Mite Trombidiidae) اور ہندوستان کی وینا ملک ان کی راکھی ساونت اگر دلیر مہندی کے بھائی میکا سنگھ کے بوسے سے اُبلا ہوا چقندر بن جاتی ہے تو نیب کے چنگل سے سہاگ کی بریت کی بھیک مانگنے والیوں کا کیا حال ہوتا ہوگا۔

شلپا سیٹھی اور رچرڈ گیر ذرا بعد کا منظر
بیر بہوٹی/بیر بہوٹی کا تیل جو جنسی تقویت کی دوا ہے
میکا سنگھ اور راکھی ساونت بوسے کے بعد کا منظر

بوسے کی طلب کا سرکار کے ان جنرل، جج،سیکرٹری قسم کے افسران کا جو منترہ ہے وہ دراصل مضطر خیرآبادی کے شعر جیسا ہے۔وہ شبانہ اعظمی کے شوہر جاوید اختر کے دادا تھے۔کہتے تھے ع
بوسے اپنے عارضِ گلفام کے
لا مجھے دے دے تیرے کس کام کے

ان کا ایک شعر اور بھی پاکستان میں برپا میڈیا کی حالیہ شورشوں کے حوالے سے بہت حسب ِ حال ہے کہ ع
وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں
ایک ترے آنے سے پہلے، ایک ترے جانے کے بعد

سو آپ  اس شعر کا دوسرے مصرعہ    اس تضمین سے پڑھ سکتے ہیں کہ ع
ایک تری ویڈیو سے پہلے ،ایک تری ویڈیو کے بعد۔۔

6 جولائی کی پریس کانفرنس
ویڈءیو کے اہم کردار۔ رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
ناصر بٹ اور جج ملک ارشد۔۔ رنج کی جب گفتگو ہونے گی
طارق ملک تحویل
سورۃ الانعام ،آیت نمبر 20

پہلی ویڈیو ریلیز ہوئی تو شنید ہے ایوان اقتدار میں بھونچال آگیا۔فوراً عمر و عیار کی زنبیل میں ہات ڈالا گیا۔ آرکایوز کھنگالے گئے۔سب اہلیان اقتدار کی کئی کئی ویڈیوز تھیں۔ایک ویڈیو کوجھاڑ پونچھ کر ایڈیٹ بھی کرلیا گیا تھا۔اس میں مشرف دور میں ٹی وی پر آنے والی ایک بیگم کے لمحات بے خودی کے عکس کسی خوبرو کے ساتھ ویڈیوز
میں آہوں کا دھواں بن کر تیرتےتھے ۔ میڈیا کے اسپن ڈاکٹروں ڈیم۔ ایج کنٹرولرز سیانوں نے کہا کہ دھیرج رکھو۔ابھی بیٹی باپ ہی کے گھر پرہے۔ جلدی کاہے کی ہے۔تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو۔ہمارے پاس تو اس ٹولے کے خلاف اتنا کچھ ہے کہ ذرا اور کولہے ہلائے تو سیاسی طور پر اس کا نمدہ بندھوادیں گے(نمدہ بندھوانا۔بمعنی بستر گول کردینا یا قلاش کردینا)۔

پہلے گروپ کو علم ہوگیا کہ اس  سازش کا کُھرا دوبئی کے ایک منی چینجر کے ذریعے خلائی مخلوق کو مل گیاہے۔ سو زیادہ اوکھے نہ ہو۔۔ دھیرے بہو ندیا، معاملہ گھمبیر ہے۔ برباد محبت کی جو راکھ دبی ہوئی ہے ،بارہا اس کو جو چھیڑا تو بکھر جائے گی۔جنون کو گدگدی کردی ہے تو دم سادھ کے بیٹھ جب  جن جواباً گد گدی کریں گے تو مُنی ایسی بدنام ہوگی کہ جھنڈو بام سے بھی افاقہ نہ   ہوگا۔ سو یہ سُن گُن ملتے ہی یہ ٹولہ تو کلاس کے کونے میں پیلے اسکول کے شریر بچوں کی طرح چپ چاپ مرغا بن گیا ۔

دوسرے گروپ کا معاملہ مغل بادشاہ شاہجہاں کی اولاد کا سا پیچیدہ تھا۔تخت کے دعوے دار بہت۔معاملہ یہ تھا کہ یہاں جہاں آرا بیگم نے فیصلہ کیا کہ ناصر بٹ اور ناصر جنجوعہ کی مدد سے رضیہ سلطان بن کر ذرا سا جھوم لوں میں۔ اے دلِ ناداں موج کب تک اپنے دریا میں پیاسی رہے گی۔کب تک امرا ء جاتی سے کوٹ لکھ پت کے صحرا میں کلنک اور باڈی شاپ کا میک اپ ضائع کرتی رہے گی۔سو جولائی کے پہلے ہفتے میں شام ِ الزام برپا ہوئی۔6جولائی کی اس پریس  کانفرنس میں چچا کو ہم خطا کار جفا اور شریک ِجُرم یوں سمجھتے ہیں کہ ان کے تعارف میں لفظ ویڈیو باقاعدہ استعمال ہوا ہے۔ان کے ساتھ جو سینئر قیادت موجود تھی، اس میں پرویز رشید،احسن اقبال،شاہد خاقان عباسی بھی چچا جان کے ہم نشست تھے۔اب یہ کہنا کہ وہ اس بات سے ناواقف تھے کہ ماڈل ٹاؤن لاہور کے اس عقوبت خانے میں 6 جولائی کی سہ پہر ان کی نائب صدر،آئندہ چند لمحات میں کیا خود کش دھماکہ کرے گی۔

مقبرہ انارکلی

یہ تو ناواقفیت کی انتہا ہے۔اتنے معصومین تو چمپینزی بندروں کی نسل میں بھی نہیں ہوتے جب کہ ڈارون کے حساب سے انسان تو بندر کی بہت ترقی یافتہ اور سیاست دان ان ہی کی عیار ترین شکل ہیں ،
ناواقفیت یوں بھی ارتکابِ جرم سے استثنا فراہم نہیں کرتی، پاکستان کی تعزیرات کی دفعہ ایک سو سات کی ذیلی شق دو اور تین کہتی ہے:
’ ”کہ اگر کوئی شخص ایک یا ایک سے زائد فرد یا افراد کے ساتھ کسی ارادتاً یا عدم واقفیت کی بنیاد پر کسی ایسی سازش میں شرکت کرتا   ہے جو براہ راست ارتکاب جرم میں معاونت کا باعث بنے تو وہ بھی شریک ِ جرم گردانا جائے گا“۔

ان افراد کے رد ِمعصومیت اور عدم واقفیت کو ان کی چالاکی،تعلق  اور ان کی ریشہ دوانی کے سابقہ ریکارڈ کو سامنے رکھ کر سوچا جاۓ تو اپنے فہم و ادارک کو سمجھنے کے لیے ہم سورہ الانعام کی آیت نمبر بیس کا سہارا لے سکتے ہیں ،کیوں کہ اس میں آیت تقویت میں سوچی سمجھی ناواقفیت کے مظاہرے کو ریزہ ریزہ کرنے کے لیے ہمارے نبی محترمﷺ کو اللہ سبحانہ تعالی نے ایک ایسی عمدہ مثال سے بات سمجھائی ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے”وہ آپﷺ کو ایسے ہی پہچانتے ہیں جیسے اپنی پُشت کی اولاد کو۔لیکن اُنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال لیا ہے اور وہ ایمان نہیں لاتے۔

جج صاحب کی اس ویڈیو سے آپ رنجور ہیں تو دل اتنا چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔
عدلیہ بھی ایک انسانی ادارہ ہے۔جسے انسان ہی چلاتے ہیں۔شرافت،شجاعت،ذہانت اور حسن کسی ایک گروہ یا ادارے کی میراثِ کُل نہیں۔مجسٹریٹ سے سیشن جج بننے والے افسران کی تربیت اور کردار کی تشکیل میں بہت سی رکاوٹیں ہیں جن میں تعلیم تجربہ اور Exposure سبھی ہی کچھ شامل ہے۔اپنے منصب کے دباؤ میں وہ بہت کم ایسے تجربات سے دوچار ہوتے ہیں جن سے ان میں وسعت اور معنی آفرینی، ذہنی کشادگی،Communication اورInterpersonal Skills فروغ نہیں پاتے ہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان کا مطالعہ اور دل چسپیاں بھی بہت محدود بھی ہوتی ہیں۔کسی مقدمے میں اگر آپ نے پچھلے  بینچ پر بیٹھ عدالتی افسران کے رویے کا جائزہ لیا ہو تو کمرہء عدالت سے باہر نکل کر آپ کو لگتا ہے کہ سارا تنگی ء  وقت سماعت،وکلاء کی چرب زبانی اور غیر مستند شہادتوں کے بکھیڑ ے میں انصاف مصالحت و دروغ گوئی کے گندے نالے میں ڈوب کے مرگیا ہے۔ سو صحرا میں کبھی سایہء دیوار نہ مانگو۔ عدلیہ کا معاملہ اب یوں ہے کہ اس میں حکومتِ  وقت وکلاء کے گروپس میں برادری، سیاسی روابط، رشوت اور خاندانی تعلقات کی بنیاد پر ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو منتخب کرتی ہے۔ یہ کیس اگر سیاسی اور اپنی کرپشن کی نوعیت کی بنیاد پر بہت اہمیت کا  شکار نہ ہوتا تو شاید کسی کو ویڈیو بنانے اور ریلیز کرنے کی نہ سُوجھتی۔سیاست کی جوڑ توڑ سے پیوستہ محکمہء خباثت(Department of Dirty Tricks )شاید اتنا سرگرم نہ ہوتا۔

ہر دور میں بڑے لوگوں سے سیکس اسکینڈل جڑے رہتے ہیں۔ ٹھنڈے دل سے سوچیں رومانوی فلمیں نہ بنی ہوتیں تو انارکلی اور جہانگیر کا   قصّہ سیکس اسکینڈل نہیں تو اور کیا تھا۔ہندوستان کے کئی مورخ انارکلی کودراصل شہنشاہ اکبر کی منظورِ نظر کہتے ہیں۔اس کا ذکر سب سے پہلے ولیم فنچ نامی ایک سیاح کے سفر نامے میں 1612 میں آیا تھا اور وہ اسے دھڑلے سے اکبر بادشاہ کی (حریم) ملکہ کہتا ہے۔عبدالطیف صاحب کتاب ’تاریخ۔ لاہور(1892)میں درج ہے کہ نادرہ بیگم المعروف بہ شرف النساء اکبر کی من پسند داشتہ تھی۔
گو انارکلی اس کے اپنے سنگ مزار پر سلیم اکبر کی جانب سے یہ شعر کندہ ہے کہ
تا قیامت شکر گویم کرد گر خواہش را
تا قیامت شکر مانوں یہ ہے میری آرزو
ٓآہ گر من باز بینم روئے یار خواہش را
ہو اگر اک بار مجھ کو ملنا   یار سے نصیب
(مجنون سلیم اکبر)
یقین مانیں ناصر بٹ اور خرم یوسف، اس زمانے میں ہوتے تو وہ یقینا ً انارکلی اور شہزادہ سلیم کی کوئی گندی ویڈیو بنا  کر اکبر کے حوالے کرکے اس سے اپنے نام مالوہ اور بنگال کی راج دھانیاں لکھواچکے ہوتے۔

کرسٹن کیلر/کرسٹن کیلر کی کتاب
آنجہانی کرسٹن کیلر کے ایام جوانی اور ایام ہلاکت
لارڈ پروفمو اور بیگم
کلائی ڈن ہاؤس کا سوئمنگ پول
پارٹی کی رات آئی
حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ

سن1960کی اولیں دہائی میں ویڈیوز اور سوشل میڈیا نہ تھا۔لے دے کر ملک پر جنگ اخبار اردو میں اور ڈان اور پاکستان ٹائمز انگریزی میں راج کرتے تھے۔انہی  دنوں امروز  انجام اور حریت اور نوائے وقت بھی سر اٹھاچکے تھے مگر انہیں پڑھنے والے کم اور پکوڑے والے زیادہ خریدتے تھے۔ سو بریکنگ نیوز کے عذاب سے گھر کا سکون محفوظ تھا۔

انہی  دنوں جنگ اخبار نے بہت جسم و جاں بچا کر ایک اسکینڈل بریک کیا تھا۔صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے برطانوی سوسائٹی گرل کرسٹن کیلر کے ساتھ لندن سے دور بکھنگم شائر میں لارڈ ایسٹر کا  کاٹیج جسے پنجاب، اسلام آباد میں فارم ہاؤس کہاجاتا ہے وہاں تالاب میں ننگا نہانے اور اٹھکھیلیاں کرنے کا قصہ بہت مشہور ہوا۔ House Cliveden- نامی اس کاٹیج میں  اس رات کا قصہ وہ اپنی کتاب  Secrets and Lies میں بیان کرتی ہے۔ وہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے حوالے سے کسی جنسی فعل یا عسکری مداخلت کی شرح نہیں کرتی سوائے اس کے کہ اس تالاب کےغسل کامل عریانی میں سپہ سالار اعظم بھی برابر کے شریک تھے۔

کتاب پڑھ کر آپ کو برطانوی اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ کا کچھ کچھ اندازہ ہوتا ہے۔ یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ مادر ِجمہوریت برطانیہ جس کی کوکھ سے جدید فوج اور ٹوٹی پَجّی جمہوریت کے عالمی تصور نے جنم لیا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کوئیMoral Institutionنہیں بلکہ Power Group of Detailed Interests ہے۔

اس اسٹیبلشمنٹ کو آپ ہرگز ہلکا نہ لیں۔اس کے انداز بڑے نرالے ہیں۔معاف کرنے پر آئے تو انتھونی بلنٹ،گائے برجس، جیسے مشہور غدار جاسوس(جو برطانیہ کی اشرافیہ سے متعلق تھے اور جنہوں نے امریکہ اوربرطانیہ کے راز روس کو فراہم کرکے وہاں فرار اورپناہ حاصل کی) سے ان سے چشم پوشی کرلے۔ساٹھ کی دہائی میں ایک اہم سیکس اسکینڈل میں ملوث(آپ بلاوجہ لارڈ راجر ہولس(ایم آئی فائی کے سربراہ) لارڈ پروفمو اور ہیرلڈ میکملن جیسے اہم اور ذمہ دار مجرمان کو معاف کردیں (آپ بلاوجہ ہی دو ر جنرل مشرفی کے این۔ آر۔ او کی کشادہ دلی اور جرائم پروری پر رنجیدہ ہوتے ہیں)۔

نواب سلار جنگ اول
سالار جنگ میوزیم -حیدرآباد دکن/حیدرآباد دکن کا 1880شہر سن
نظام محبوب علی خان آف حیدرآباد.

اسٹیبلشمنٹ اگر الزام دینے پر آئے تو سارا بارِ ملامت اپنی گھوڑی Ambiguity (ابہام) کی کمر پر لاد دے لارڈ ایسٹر جیسے سہولت کار کے بیٹے ویلیم ایسٹر کی گھوڑی نے ریس جیت کر لمبا مال بنایا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ سارا فتنہ ان کی ریس کی گھوڑی کا تھا ،نہ کم بخت ریس جیتتی، نہ گھر میں فالتو پیسے آتے،نہ ان کی خاندانی جاگیر House Cliveden والا سوئمننگ پول گرم رکھنے کا سسٹم لگا کر پول کا پانی گرم ہوتا۔

جولائی1961 کی اس امگی ہوئی، جذبات کو ہوا دیتی رات کو برطانیہ کے وزیر جنگ اور مستقبل کے ممکنہ وزیر اعظم لارڈ پروفمو اپنے دوست صدر ایوب خان کے ساتھ اس Heated Swimming Pool اتر گئے جہان یہ جل پریاں پہلے سے لب اس کی قید سے آزاد اٹھکھیلیاں کرتی تھیں ۔پارٹی رات دیر تک چلی۔ اگلی صبح لارڈ ایسٹر کی  دوست ڈاکٹر اسٹیفن وارڈ ان کے گھر کی لائبریری سے وزیر جنگ لارڈ پروفمو کےبریف کیس سے وہ اہم دستاویزات چرا کر لے گیا ۔اور اس رات پارٹی میں شریک روسی نیول اتاشی کو فروخت کردیں۔ان دستایزات میں ان مقامات اور تاریخوں کی تفصیل تھی جہاں برطانیہ کی مدد سے امریکہ نے روس کے خلاف ایٹمی میزائل نصب کرنے تھے۔یہ اہم دستاویزات لارڈ پروفمو جن کے کسی بھی وقت برطانیہ کے کمسن ترین وزیر اعظم بننے کے امکانات تھے ہر وقت ساتھ لیے گھومتے تھے کہ مبادا بطو ر وزیرِ جنگ انہیں اچانک کہیں میٹنگ میں جانا پڑے۔

ایلن ڈونلی،بیگم مہدی حسن/مہدی حسن اور ان کی بیگم ڈونلی
نامہ ء رسوائی
آسکر وائلڈ
ماکیس آف کوئنس بری کے بیٹے الفرڈ اور آسکر واءلڈ
مارکیس آف کوئنز بری
مارکیز کا کارڈ بنام وائلڈ
عمران خان وکلا کے ہمراہ/عمران خان اور اہلیہ بعد از مقدمہ
کپتان آئن بوتھم بعد از زشکست
بیرسٹر کارسن

بیس برس کی معصومہ کرسٹین کیلر یہ بھی شکوہ بے جا کرتی رہی کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس اسکینڈل میں ملوث اپنے چہیتوں کی ایسی اندھی مدد کی کہ جو محبت نامے اسے اس دوران وزیر موصوف لارڈ جان پروفمو نے  وزارتِ دفاع کے سرکاری لیٹر پیڈ پر   لکھے تھے وہ جب بھی عدالتی کمیشن کو اور پریس کے مختلف صحافیوں کو بطور ثبوت فراہم کیے گئے تو وہ سب کے سب  وزیر موصوف کو بحفاظت لوٹا دیے گئے۔

حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کے اوراق دل  دریدہ جنرل رانی اور دوسری تھل تھل کرتی بدکار خواتین کے ذکر سے رنگین ہیں ،ان کا کیا ذکر۔ یہ سب آج ہوتا تو پیمرا ٹی وی چینلوں کو نوٹس جاری   کرکے اور ٹوئیٹر پر اکاؤنٹس بلاک کرتے کرتے ہلاک ہوجاتا۔یاد رکھیں جہاں طاقت، دولت اور حُسن کے اظہار کی سہولت کے مواقع میسر ہوں گے وہاں بدکاری اور جرم کے گھس بیٹھیے بھی موجود ہوں گے۔

برائی رفاقت آمیز ہوتی ہے اور اچھائی تنہائی پسند۔ آئیں آپ کو ماضی کی سیر کرائیں۔۔۔۔

پچھلے دنوں سنگاپور کے اخبار میں ایک عجب داستاں چھپی ،یہ بھی کسی کتاب کے تذکرے کے حوالے سے ہے کتاب کا نام تھا
An Appeal to the Ladies of Hyderabad: Scandal in the Raj, by۔
Benjamin B. Cohen
حیدرآباد کی ریاست کے وزیر اعظم، نواب سالار جنگ اول،وزیراعظم علی گڑھ کے دورے پر آئے تو ان کی ملاقات سر سید احمد خان سے ہوئی جنہوں  نے ایک ہینڈسم ،بہت پڑھے لکھے اور باصلاحیت لکھنوی وکیل کی بہت تعریف کی۔نواب سالار جنگ نے انہیں یعنی مہدی حسن کو بطور سول سرونٹ بھرتی کرلیا ۔ وہ ترقی کرتے کرتے وہاں ہوم سیکرٹری بن گئے تھے۔ان کی اہلیہ ایک گوری خاتون تھیں۔نام تھا ایلن ڈونلی( Ellen Donnelly)۔ایلن، آئرش نسل کی تھیں،خوبصورت،خوش اندام اور جان ِمحفل طبیعت کی مالکن۔ہندوستان میں پیدا ہوئی تھیں مگر مالدار گھرانے سے تعلق نہ تھا۔مہدی حسن سے پیار ہوا تو دین اسلام   اختیار کیا اور پردہ بھی ہوگیا۔کہنے والوں کا کہنا ہے کہ اسلام وہ شادی سے پہلے ہی لاچکی تھیں۔لباس بھی زیادہ تر مقامی ہی زیب تن کرتی تھیں۔والد برطانوی فوج میں ایک جونئیر افسر تھے۔بہنیں بھی تھیں۔یہ قدرے آزاد خیال گھرانہ تھا۔مہدی حسن  سے شادی کے بعد پردہ کھینچ لیا تھا مگر بعد میں انہی  کی اجازت سے پردہ نشینی ترک کردی۔ سن تھا1883 ریاست حیدرآباد میں ہوم سیکرٹری کی پوزیشن وزیر اعظم نواب سالار جنگ سے کچھ کم تھی مگر پھر بھی بہت اہم۔اس کی وجہ سے ان کی دشمنوں کی تعداد بھی کچھ کم نہ تھی۔تھے بھی لکھنو کے شُدھ حیدرآبادی نسبت نہ تھی۔باہر تھے اس کارن جلد ہی Soft Target کے طور پر اسکینڈل کی زد میں آگئے۔ایک گمنام کتابچہ(جسے ایک چینل پر کُتا بچہ کہا گیا جس طرح گندی چال کو ہندی میں کُت چال کہتے ہیں) “An Appeal to the Ladies of Hyderabad منظر عام پر آگیا۔اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایلن ڈونلی نے نہ تو اسلام قبول کیا ہے نہ شادی کی ہے۔وہ محض مہدی حسن کی رکھیل ہیں۔لکھنؤ میں ان کی شہرت داغ دار تھی وہ ایک بدکار خاتون کے طور پر جانی مانی جاتی تھیں۔ اس سے  اسکینڈل سے وہ شعلے اٹھے کہ انگلستان میں ہندوستان کے معاملات کے انچارج مارٹی مر۔ ڈیورینڈ جن کے نام سے افغانستان اور غیر منقسم ہندوستان کی سرحد محض کاغذ کے نقشے پر 1897 میں ڈیورینڈ لائن سے کھینچی گئی ہے۔انہوں نے کوئی بے فیض جے آئی ٹی تو نہ بنائی مگر عثمان جاہ وزیر اعظم حیدرآباد سے جواب ضرور طلب کیا کہ اس اسکینڈل کی حقیقت کیا ہے اور کیا ان دونوں کی شادی ہوئی بھی ہے کہ نہیں؟۔انگریز خواتین کے مقامی باشندوں سے تعلقات گو عام نہ تھے مگر یہ اتنی اَن ہونی بات بھی نہ تھے۔

اس کے برعکس ہر اس جگہ جہاں گورا افسر ڈپٹی کمشنر لگتا تھا وہاں اسے مقامی سردار اور جاگیر دار اپنی طرف کی سجل،جواں بدن خواتین تحفے کے طور پر اس پیکج میں جس میں مویشی،غلہ اور نذرانہ شامل ہوتی تھیں ،پیش کرتے تھے۔اسے ڈالی کہا جاتا تھا اور اس نذرانہء نسواں کا تذکرہ قدرت اللہ شہاب نے بھی کیا ہے۔ اب ایلن ڈونلی کے حسب نسب کی کھدیڑ شروع ہوئی۔ بات یہاں تک پہنچی کہ یہ پلنگ زادی نجیب الطرفین گوری آئرش بھی ہے کہ کوئی نطفہء بے تحقیق ہے۔مسلمان بھی بے چاری کے پیچھے پڑگئے کہ ٹھیک سے اسلام قبول کیا ۔ اس ناہنجار کی شادی میں صیغے بھی درست پڑھے گئے کہ نہیں۔الزامات کا ایک طومار لگ گیا۔مہدی حسن پر تو یہ گھناؤنا الزام بھی لگا کہ بیگم کے اہل معاملہ سے جنسی روابط کے ذریعے موصوف نے اس قدر سرعت سے اپنا مقام،ریاست حیدرآباد کی سیاست میں بنایا ہے۔

مہدی حسن کا قصہ یہاں سے آسکر وائلڈجیسا ہوجاتا ہے۔آسکر وائلڈ انگیزی ادب کے مشہور کہانی کار اور ڈرامہ نگار تھے۔ بہت وجیہ اور خاندانی آدمی تھے۔اولڈ بیلی کی عدالت میں ان کا مقدمہ سن 1895 میں چلا تھا۔ان پر جان ڈگلس جوکوئینس بیری کے نویں مارکیس تھے۔مارکیس برطانوی اشرافیہ میں ڈیوک کے بعد دوسرے نمبر کا ٹائٹل ہے۔ارل، وسکاؤنٹ اور بیرن بالترتیب اس کے بعد آتے ہیں۔بڑے آدمیوں کے لڑنے کے انداز بھی عجب۔مارکیس آف کوئنز بری کے بیٹے الفرڈکے مصنف آسکر وائلڈ سے تعلقات کچھ اس نوعیت کے تھے کہ وہ والد بزرگوار کو شدید ناپسند تھے۔ایک دن اس کلب میں جہاں آسکروائلڈ روز جاتے تھے۔ جان ڈگلس ایک کارڈ بقلم و زیر دستخط چھوڑ گئے جس پر ’Wilde’”For Oscar
posing as Somdomiteدرج تھا۔(انگریزی میں لفظ sodomy مرد کے مرد سے جنسی تعلقات کے معنی میں استعمال ہوتا ہے)۔آپ کو حیرت ہوگی یہ کارڈ برطانیہ کے قومی دستاویزات کے بیوروThe National Archives میں CRIM1/41/6تا حال محفوظ ہے۔آسکر وائلڈ نے اس بنیاد پر ہتک عزت کا ایک مجرمانہ دعویٰ کوئنز بیری کے نویں مارکیس پر کردیا جو ان کے کم سن رفیق الفرڈ کے والد تھے۔اس کا نتیجہ مارکیس کی گرفتاری کی  صورت میں نکلا۔بیرسٹر ایڈورڈ کارسن نے جب اپنے موکل جان ڈگلس کے دفاع میں یہ نکتہ اٹھایا کہ ان کے رابطے میں کئی ایسے کم سن نوجوان ہیں جن سے مصنف آسکر وائلڈ نے اغلام بازی کی اور ان میں سے اکثر جنسی پیشہ ور مرد ہیں۔اس جوابی دعوے سے معاملہ گھمبیر ہوگیا۔۔

برطانیہ کے ہتک عزت کے قانون the Libel Act 1843 کی رو سے اگر الزام کی نفی میں مفاد عامہ کی خاطر ایسے لوگ بطور گواہ سامنے آجائیں جو دعویٰ  ہتک کی نفی کرتے ہوں اور مدعی کے افعال کی تصدیق و تردید بہ لحاظ دعوی کرتے ہوں تو الزام خود بہ خود جوابی دعویٰ کا روپ اختیار کرلیتا ہے۔ ایسا ہی کچھ عمران خان اور انگلش کرکٹ کپتان آئن بوتھم کے معاملے میں ہوا تھا۔عمران خان نے اگست1996 میں کرکٹ کی تاریخ کا مہنگا ترین دعویٰ  آئن بوتھم کے خلاف جیتا تھا جس کی مالیت پانچ لاکھ پاؤنڈ تھی، جس کے نتیجے میں بوتھم کا گھر بھی بک گیا اور بیوی بھی اسے چھوڑ گئی اور بعد میں وہ کہیں دکھائی بھی نہیں دیے، حالانکہ پہلے وہ سر آئن بوتھم کہلاتے تھے۔

دعویٰ الٹا پڑنے کے نتیجے میں آسکر وائلڈ کی ساری جائیداد بھی بِک گئی اور Criminal Law Amendment Act 1885 کی رو سے مرد طوائفوں کی شہادت کی بنیاد پر آسکر وائلڈ کو دو سال کی قید بامشقت ہوئی اور انہوں نے عمر کا آخری حصہ کس مہ پُرسی کی حالت میں فرانس میں گزارا۔

آئیں ہندوستان چلیں۔۔۔۔۔۔

ایلن ڈونلی کے میاں مہدی حسن بھی تاؤ کھاگئے۔انہوں نے پتہ چلایا کہAn Appeal to the Ladies of Hyderabad نامی کُتابچہ کس حرام الدہر نے چھاپہ  ہے جس میں یہ دعویٰ  بھی
کیا گیا کہ اہلِ  معاملہ کے پاس ایلن ڈونلی کی ایک عدد عریاں فوٹو بھی ہے ۔ جس بھائی کو بھی شوق ہو وہ دیکھ سکتا ہے۔کوئی ایس۔ ایم۔ مہتہ صاحب تھے جنہوں نے یہ کتابچہ چھاپنے کی  غلیظ جسارت کی تھی۔مصنف کا تاحال علم نہیں ہوسکا۔گورے مجسٹریٹ او۔وی۔ باسنکو کی عدالت میں مقدمہ چلا۔مقدمہ میں مہتا جی گواہوں نے خوب جھوٹ بولا اور طاقتور گورے ایلن ڈونلی کی موافقت میں گواہی بھی دینے نہیں آئے۔وہ تمام افراد البتہ عدالت لازماً پہنچے جن کا اصرار تھا کہ ایلن ڈونلی نے ان کا بستر کئی بار گرم کیا ہے۔کئی ایک نے تو اس کی ولدیت پر بھی انگلیاں اٹھائیں۔جج او۔وی۔ باسنکو نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ایلن کی مہدی حسن سے شادی میں کوئی سقم اور شبہ نہیں مگر ایلن ماضی میں اس حد تک جنسی بے راہ روی کا شکار رہی کہ  اس کے جنسی تعلقات مہدی حسن سے شادی سے پہلے اس کے اپنے والد سے بھی تھے۔۔مہتہ جی پر اس سچ کو عام کرنے کے حوالے سے کوئی الزام نہیں۔
دکھ کی اس داستان کا ایک حسین اور بے حد قابلِ  تحسین پہلو یہ بھی ہے کہ اس پورے عرصہء دشنام و الزام تراشی میں یہ ایک دوسرے کے میاں بیوی اور رفیق حیات بن کر شانہ بہ شانہ یہ جنگ لڑتے رہے۔ دونوں کے مالی حالات آسکر وائلڈ اور آئن بوتھم کی طرح اس مقدمے کے بعدبہت مخدوش ہوگئے تھے۔بمشکل گزارا ہوتا تھا۔ایلن ڈونلی خود کو تادم مرگ بیگم مہدی حسن ہی پکارے جانے پر بضد رہیں۔1904 میں مہدی حسن نے اس جہان فانی سے کوچ کیا اور آٹھ سال بعد ایلن ڈونلی یعنی بیگم مہدی حسن نے ۔۔۔
ایلن ڈونلی زندہ ہوتی توہمارے کشادہ دل، حق پرست اینکر دوست رؤف کلاسرہ اس سے ضرور کہتے
تو کون ہے تیرا نام ہے کیا
سیتا بھی یہاں بدنام ہوئی
اور ہمارے محسن و مربی سی۔ ایس۔ پی ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم جنہیں چھوٹے انگریزی جملوں میں بڑی بات کرنے میں بہت لطف آتا تو وہ اس روداد کو پڑھ کر کہتے
Her conduct was in question before marriage and theirs for all these times

(ایلن ڈونلی کا کردار اس مقدمے میں شادی سے پہلے معتوب تھا اور ان سب کا ہمہ وقت لائق تحقیر)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *