• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ اور اس سے وابستہ بلند و بالاتوقعات۔ ۔۔ غیور شاہ ترمذی

وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ اور اس سے وابستہ بلند و بالاتوقعات۔ ۔۔ غیور شاہ ترمذی

ہر وقت خواب دیکھنے اور بلند و بانگ دعوے کرنے والے وفاقی وزراء کی سمجھ بوجھ کے لئے عرض ہے کہ امریکہ پاکستان کو افغانستان کے تناظر میں دیکھتا ہے اور کم از کم صدر ٹرمپ کے دورِ صدارت میں یہ تاثر نہیں بدلے گا۔ لہذا یہ سوچنا کہ وزیراعظم عمران خان  کا دورہ امریکہ نہایت دوررس اور خاطرخواہ نتائج برآمد کرے گا، بالکل درست نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ صدر ٹرمپ کی خواہش پر ہونے والا یہ عمران خان کے پاس ایک موقع ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ اسے وہ کس طرح استعمال کرتے ہیں؟۔ امریکہ میں مقتدر حلقوں پر وہ اپنا کیا نقش چھوڑتے ہیں، پاکستان کا مقدمہ کس طرح لڑتے ہیں اور امریکہ کو یہ باور کروانے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے کہ پاکستان کو صرف ایک مخصوص زوایہ یعنی افغانستان کے حوالے  سےنہ دیکھا جائے۔عمران خان اور جنرل باجوہ کا اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد یہ پہلا دورہ امریکہ ہے۔ مسئلہ افغانستان کے حل میں پیش رفت سے پاکستان کو یقیناً یہ موقع ملا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لانے کی عملی کوششیں کر سکے۔ اس دورہ امریکہ کے دوران ایک سال پہلے والی صورتحال سے اب معاملات بہت مختلف ہیں۔ وہ بہت کڑا وقت تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کے خلاف ٹویٹ پر ٹویٹ کر رہے تھے۔ اُس وقت نوشتہ دیوار یہ تھا کہ امریکہ نے انڈیا کو اپنا نے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے کارپردازان بھی بہت خوش تھے کہ اب انہیں افغانستان، انڈیا، امریکہ اتحاد کی بجائے چین، روس اور پاکستان کا مضبوط بلاک بنانے کا موقع ملے گا۔ واشنگٹن  میں ایک عام تاثر یہ ہے کہ سی پیک سے وابستہ پاکستانی توقعات پورا نہ ہو سکنے اور امریکی امداد کی بندش سے دگرگوں حالات اور کمزور ہوتی پاکستانی معیشت نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کیا ہے کہ وہ امریکہ سے قطع تعلقی کی پالیسی پر نظرثانی کرے۔

یہ بھی قسمت کی ستم ظریفی ہی ہے کہ عمران خان اُسی امریکہ کے 3 روزہ سرکاری دورہ پر پہنچ چکے ہیں جس کی ریاست کیلی فورنیا کی ایک عدالت سے اپنے خلاف فیصلہ آنے کے بعد سے امریکہ کو پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے رہے اور تب کے حکمرانوں پر الزام لگاتے تھے کہ وہ پیسوں کے لئے امریکی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عمران خان کے پاس بہت بڑا مشن یہ ہے کہ وہ ان گرمجوشی والے پاک امریکہ تعلقات کی بحالی کے لئے کوشش کریں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سنہ 2016ء میں حلف اٹھاتے ہی معدوم ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے زمرے میں ملنے والی پاکستان کی اربوں ڈالر کی نقد سالانہ امداد بند کر دی تھی اور الزام لگایا تھا کہ پاکستان امریکی امداد لینے کے باوجود خاطرخواہ نتائج نہیں دے رہا۔ اس دوران امریکہ کی طرف سے ”ڈو مور“ کا مطالبہ اور پاکستان کی طرف سے ”نو مور“ کا اعلان کیا جاتا رہا۔ واقفانِ حال کہتے ہیں کہ اگرچہ عمران خان  اپنے تئیں اس معاملے  کو حل کرنے کی کوشش ضرور کریں گے مگر اس معاملہ پر اصلی اور نتیجہ خیز بات چیت اُس وقت شروع ہو گی جب عمران خان  اپنا دورہ مکمل کر کے امریکہ سے روانہ ہو چکے ہوں گے۔اس دورہ سے ٹرمپ اور عمران خان  کے سیاسی مقاصد پورے کرنے کی کوشش کسی حد تک کامیاب رہے کیونکہ امریکی صدر کو اگلے سال ہونے والے الیکشن میں جیتنے کے لئے اپنی عوام کو یہ باور کروانا نہایت ضروری ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی افواج کی جلد از جلد واپسی کے لئے نہایت تندہی سے کوشش کر رہے ہیں جس کے لئے پاکستان کا تعاون اشد ضروری ہے۔ دوسری طرف عمران خان  کو بھی اپنے ملک میں لوگوں کے سامنے خود کو اصلی فیصلہ ساز حکمران ثابت کروانے کی اشد ضرورت ہے۔

عمران خان  کےاس دورہ کا بنیادی مقصد یہی ہو گا کہ وہ اپنی عوام کو مطمئن کرنے کے لئے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کرپشن کے خاتمہ کا عزم دہرائیں اور نیا پاکستان بنانے کے وعدہ کو ایفاء کرنے کے وعدے وعید کریں۔ یہ دونوں وہی نعرے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کی پسندیدگی میں سب سے ترجیحی فہرست پر ہیں۔ اس دورہ پر جانے سے پہلے ہی خان کی سیاسی ٹیم نے پروپیگنڈہ شروع کر دیا تھا کہ دورہ امریکہ کے دوران وزیر اعظم کسی عام سے سستے ہوٹل یا پاکستانی ایمبیسی میں قیام کریں گے۔ تجزیہ نگاران البتہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب دورہ امریکہ کے دوران امریکہ میں قیام، طعام اور سفری اخراجات تو میزبان ملک امریکہ نے برداشت کرنے ہیں تو وزیراعظم عمران خان  کو کیا ضرورت ہے کہ وہ پاکستانی سفارت خانہ یا کسی سستے ہوٹل میں قیام فرمائیں۔ یقیناً ایسی سیاسی چالوں کے پیچھے جو مقاصد ہو سکتے ہیں اُن میں کیلی فورنیا عدالت کے سالوں پرانے فیصلے کے نتیجے میں ہونے والی ممکنہ بدمزگی سے بچاؤ اور پاکستان میں عوام کے سامنے سادگی کی عظیم مثال قائم کرنے کے ڈونگرے برسانے کا موقع حاصل کرنا ہی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان  کے دورہ امریکہ کے دوران کچھ بھی زیادہ قابل ذکر نہیں ہے ماسوائے یہ جاننے کے کہ عمران ٹرمپ ملاقات میں معاملات کیسے چلتے ہیں کیونکہ دونوں کے بارے مشہور ہے کہ دونوں سخت جذباتی ہیں، دونوں کا دماغ ایک ہی طرح کام کرتا ہے لہذا دونوں ایک ہی طرح کا ردِعمل دے سکتے ہیں۔

عمران خان  کے ساتھ اس دورہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، تجارت اور انویسٹمنٹ کے مشیر سیٹھ رزاق داؤد، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا اور اُن کی حکومت کے کچھ دوسرے ممبران بھی ہوں گے مگر اس وفد میں سب سے اہم ممبر آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور اُن کے سب سے بااعتماد دو ساتھی جرنیل یعنی دائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور ڈائریکٹر جنرل شعبہ تعلقات عامہ میجر جنرل آصف غفور ہی ہیں۔ پاکستان کے کچھ مخصوس حلقوں میں یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ سی پیک منصوبہ اپنے مقاصد کھو چکا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ پاکستان سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی پاک۔چین دوستی کو ختم کرنے جا رہا ہے مگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اپنے بیش قیمت گوادر پراجیکٹ کو چین کو سونپنے کی بجائے دوبارہ مارکیٹ میں لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ آرمی چیف اس دورہ کے دوران امریکی انتظامیہ کو یہ بھی باور کروانے کی کوشش کریں گے کہ ایران۔امریکہ تعلقات میں شدت کی وجہ سے ایرنی بندرگاہ چاہ بہار کو جنوبی اور وسط ایشیاء میں لنک بنانے کی بجائے گوادر نہایت موزوں اور سٹریٹیجک انویسٹمنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق جنرل باجوہ پچھلے6 مہینوں سے زیادہ عرصہ سے دنیا کو اشارے دے رہے ہیں کہ پاکستان مغرب کے مقابلہ میں چین کو ترجیح دینے والی پالیسی پر نظرثانی کر کے اسے چین اور مغرب دونوں کے لئے قابل قبول بنانے پر غور کر سکتے ہیں۔ جنرل باجوہ اور اُن کی ٹیم پوری کوشش کریں گے کہ پاکستان اپنے تعلقات کو امریکہ کے ساتھ اس حد تک توانا ضرور کر دے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کو مکمل نظرانداز کرکے انڈیا کی جھولی میں نہ جا بیٹھے۔عمران خان کے دورے  کے دوران اگر اس طرف مثبت اشارے ملتے ہیں تو شنید ہے کہ عمران خان  کی واپسی کے بعد بھی ملٹری جرنیلوں اور اسٹیبلشمنٹ کے نامزد کردہ ایک دو وزراء اور مشیران اصلی اور مزید بات چیت کے لئے امریکہ میں ہی قیام کریں گے۔

لاکھوں پاکستانیوں کی ہلاکتوں، کھربوں ڈالرز کے نقصانات، معاشرتی اقدار کی تباہی و بربادی اور وطن عزیز کو انتہا پسندی، جرائم، دہشت گردی، فرقہ وارانہ منافرت اور عدم برداشت کا گہوارہ بنا دینے کے ناقابل تلافی نقصانات کے بعد پاکستانی اسٹیبلسمنٹ کی نہایت پیچیدہ افغان جنگی ڈاکٹرائین کو بلاآخر کامیاب قرار دیا جا رہا ہے جبکہ انڈیا کی حمایتی افغان اسٹیبلشمنٹ کو مسئلہ افغانستان کے حل میں نظر انداز کرکے انڈیا کی دو دہائیوں سے جاری افغانستان میں انویسٹمنٹ بھی ضائع ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس دورہ امریکہ کے دوران آرمی چیف جنرل قمر باجوہ امریکی انتظامیہ کو مسئلہ افغانستان کے حل میں پاکستان کے حمایتی افغان طالبان کو بنیادی فریق تسلیم کروانے کی پوری کوشش کریں گے جس کے بعد یہ تقریباًطے ہو جائے گا کہ افغانستان مکمل طور پر طالبان کے حوالے ہوچکا ہے۔ اس مرحلہ کے بعد سی پیک میں روس کی شمولیت پر جنرل باجوہ امریکی انتظامیہ کو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے اور انہیں سمجھائیں گے سی پیک میں روس اور وسطی ایشیائی ممالک کی شمولیت سے خطہ میں امن و امان اور خوحشحالی کا نیا دور آئے گا۔ جنرل باجوہ اور اُن کی ٹیم کا فوکس اس بات پر ہوگا کہ امریکہ کو تفصیلی بریفنگ دے کر سمجھایا جائے کہ پاکستان کی ملٹری نے بے پناہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ جیتی ہے اور پھر بے پناہ قوت برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم پرستی کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں کو غیر موثر کر دیا ہے۔ اس دورہ کے دوران جنرل فیض حمید کچھ دستاویزی ثبوتوں کے ذریعہ امریکی انتظامیہ کو بتائیں گے کہ کس طرح سی آئی اے کے ذریعہ قوم پرست تحریک خصوصاًپی۔ٹی۔ایم کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر پاکستانی ایجنسیوں نے امریکی ایجنسیوں کو پی ٹی ایم کو ہینڈل کرنے والی سی آئی اے ڈیسک کی انچارج خاتون کا نام تک بتایا ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس دورہ کے دوران صدر اوبامہ کے دور میں پاکستان کی ایف-16بلاک52طیارے اور دنیا کے جدید ترین اے ایچ-1وائپر لڑاکا ہیلی کاپٹرزکی منسوخ شدہ ڈیل کو بحال کروانے کی بھی کوشش کریں گے۔ واضح رہے کہ یہ ڈیل اُس وقت منسوخ کر دی گئی تھی جبکہ پاکستان ان ہیلی کاپٹرز اور لڑاکا طیاروں کی ادائیگی تک کر چکا تھا۔ ان مشینوں کے ساتھ پاکستان کو جدید میزائل(hellfire) بھی  ملنے تھے لیکن یہ سودا بھی ملتوی ہو گیا تھا۔ آرمی چیف کی کوشش ہو گی کہ افغانستان مسئلہ میں پاکستان کی بنیادی حیثیت  کو منوانے کے بعد اس ڈیل کو بحال کروا لیا جائے۔ ان ہیلی کاپٹرز اور طیاروں کے ملنے کے بعد پاکستان آرمی ایوی ایشن خطے کی سب سے جدید ایوی ایشن فورس بن جائے گی اور مستقبل میں بھارت کے نئے آنے والے رافیل طیاروں کے خلاف بھی پاکستان کے پاس ایک بہترین طیارہ آ جائے گا۔ بالفرض یہ طیارے اور ہیلی کاپٹرز پاکستان کو فراہم نہیں کئے جاتے تو یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان وقتی طور پر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے چین سے جے-10سی طیاروں کا ایک سکواڈرن خرید لے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستانی مطالبات منظور نہ ہونے پر یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان امریکہ کے خلاف افغانستان میں رویہ سخت کر دے جو کہ امریکہ کبھی نہیں چاہے گا۔

افغانستان اس وقت امریکہ کے لئے ایک ایسا رستا ہوا زخم بن چکا ہے کہ امریکہ کو کسی بھی طرح اس سے چھٹکارا پانا ہی ہے۔ بیجنگ میں ہونے والی کانفرنس میں مسئلہ افغانستان کا ممکنہ حل ہی پاکستان کے ٹارگٹس کی قریب ترین منزل ہے جس کے لئے ملک کی اسٹیبلشمنٹ جنرل ضیاء کے زمانہ سے سخت کوششیں کر رہی تھی۔ شروع میں اس ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لئے آئی ایس آئی نے گلبدین حکمت یار اور جماعت اسلامی پر انویسٹمنٹ کی مگر1990ء کی دہائی سے پاکستانی سرپرستی کا رخ اُس وقت کے ایک آنکھ والے طالبان امیر مُلا عمر کی طرف مُڑ چکا ہے۔ طالبان کی غالب ترین اکثریت پاکستان کے مدارس اور پہاڑوں میں دینی و جنگی تربیت حاصل کرتی رہی ہے۔ آج بھی مختلف طالبان دھڑے پاکستان کے کئی علاقوں میں اپنی تربیت اور نئی بھرتی کے مراکز چلا رہے ہیں۔ پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس صورتحال کا مکمل ادراک ہے کہ اگلے سال 2020ء میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے امریکی افواج کی افغانستان سے بحفاظت واپسی کا کنفرم ٹائم شیڈول حاصل کرنے کے لئے انہیں صدر ٹرمپ کی ٹیم سے تعاون کرنا پڑے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے ملنے والے کولیشن سپورٹ فنڈ کی بحالی کے لئے پاکستان کو امریکہ کی اس خواہش کو عملہ جامہ پہنانے کے لئے ہرممکنہ تعاون کرنا ہی پڑے گا۔ جنرل باجوہ کو امسال جون میں لندن میں دئیے گئے اپنے اُس بیان کو دہرانے سے امریکی خواہش اور مطالبہ کو پورا کرنا ممکن نہیں ہو گا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کوئٹہ شوریٰ پاکستان میں قیام نہیں کرتی بلکہ صرف ان کے خاندان کے کچھ لوگ ہی یہاں رہائش رکھتے ہیں۔

پاکستان کو امریکہ، روس اور چین کی طرف سے افغان مسئلہ کے حل کے عمل میں مدد دینے کے لئے 12 جولائی کو شاباش مل چکی ہے۔یہ تینوں عالمی طاقتیں مسئلہ افغانستان کے حل کے لئے اب ایک پیج پر آ چکی ہیں اور افغانستان کا مسئلہ حل کرنے کے لئے پاکستان کی کوششوں سے بیجنگ میں 10-11 جولائی کو ہونے والی سہ طاقتی کانفرنس میں تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اگر افغانستان میں مسئلہ کے حل کے لئے اگر طالبان کو بھی آئندہ سیاسی سیٹ اپ میں شامل کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہ کیا جائے۔ ممکن ہے کہ اس دورہ امریکہ کے دوران بیجنگ میں ہونے والی سہ طاقتی کانفرنس میں ہوئے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے لائحہ عمل طے کیا جائے۔ اس دورہ امریکہ سے پہلے لشکر طیبہ کے امیر حافظ سعید کی گرفتاری سے پاکستان کی اگلی ممکنہ پالیسی کے خدوخال کسی حد تک واضح ہو رہے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ پاکستان کی تزاویراتی گہرائیوں والی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکے۔ دوسری طرف دورے سے قبل امریکہ نے بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دے کر پاکستان کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔بی ایل اے کی دہشت گرد تنظیم انڈیا کی بلوچستان میں سب سے بڑی پراکسی تھی جس پر انڈیا نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔ امریکہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دئیے جانے کے بعد بی ایل اے کی سرپرستی کرنا اب انڈیا یا کسی اور ملک کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ افغانستان مسئلہ کے حل کے لئے بیٹھ رہا ہے، انڈیا کو اس سارے مرحلہ سے باہر کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں یہ ہر کسی کے لئے ڈراؤنا خواب ہی ہے کہ انڈیا امریکہ تعلقات اس حد تک بڑھ جائیں کہ پاکستان کے لئے امریکی دلچسپی بالکل ہی صفر ہو کر رہ جائے۔ دہلی۔واشنگٹن تعلقات آج جس نہج پر ہیں اس کے پیچھے دونوں ممالک کے تھنک ٹینکس کی کم ازکم تین عشروں کی دانشوارانہ جدوجہد شامل ہے۔ اسلام آباد ہرگز ان تعلقات کو چیلنج نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس کے برعکس وہ پاک۔امریکہ تعلقات میں اس درجہ کا استحکام حاصل کرنا چاہتا ہے کہ بڑھتے ہوئے انڈیا۔امریکہ تعلقات سے پاکستان کے مفادات پر ضرب نہ پڑے۔ جنرل باجوہ اور اُن کی ٹیم امریکی انتظامیہ کو باور کروانے کی کوشش کریں گے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امریکی دوست کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے روس اور چین سے اقتصادی تعاون اور علاقائی امن و امان کے لئے روابط استوار کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ اس معاملہ کو مستقبل میں ایران کے ساتھ برھتی ہوئی کشیدگی کے ضمن میں قبول کر لے گی۔ امریکی چئیرمین جوائنٹ چیفس کی پوزیشن کے لئے نامزد جنرل مارک ملی کا کہنا ہے کہ ”اگرچہ ہم نے پاکستان کہ سیکورٹی امداد بند کر دی ہے اور بڑے دفاعی ڈائیلاگز بھی معطل ہیں مگر باہمی مفادات کی بنیاد پر ہمیں ملٹر ی ٹو ملٹری تعاون جاری رکھنا چاہیے“۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کو دوبارہ اپنے اتحادی کے طور پرفعال کرنا چاہتی ہے۔ اس تجدید تعلقات کی شرائط کا تعین بھی جنرل باجوہ کی میٹنگز پر منحصر ہوگا جو وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کے بعد ہی وقوع پذیر ہوسکیں گی۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لئے یہ نہایت مشکل فیصلہ ہوگا کہ وہ جنوبی ایشیاء کے لئے اعلان کردہ اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی کر سکیں جس میں پاکستان کا درجہ اتحادی ملک سے کم کر کے خطہ میں عدم استحکام پھیلانے والی ریاست کے طور پر کر دیا گیا تھا۔ تاہم جنرل باجوہ اور اُن کی ٹیم کی طرف سے امریکی انتظامیہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد پاکستان کم از کم وہ درجہ ضرور حاصل کر سکتا ہے کہ پاکستان آرمی اور امریکی افواج کے درمیان روابط بحال ہو جائیں اور پاکستان کو امریکی افواج کے ٹریننگ پروگرام سے فوائد حاصل ہو سکیں۔ اس طرح کی کسی بھی ڈیل سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اطمنیان حاصل ہوگا جو اپنے افسران کو تربیت کے لئے چین کی بجائے امریکہ بھجوانے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ اس طرح کی کسی بھی ڈیل کو حاصل کرنے کی قیمت جنرل باجوہ اور اسٹیبلشمنٹ کو ادا کرنی پڑے گی جس میں سب سے اہم امریکی مطالبہ پاکستانی جہادیوں کو سخت ترین کنٹرول میں رکھنے سے متعلق ہوگا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی پوری کوشش ہوگی کہ امریکی انتظامیہ کو باور کروایا جائے کہ جہادی پالیسی کو مکمل ختم کرنے کی بجائے جہادیوں کو مین سٹریم میں لا کر انہیں سیاست میں فعال کردیا جائے تاکہ مستقبل میں خطہ میں کسی بھی تصادم کی صورت میں ان جہادیوں کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔ انڈیا کے مطلوبہ جہادیوں پر سخت ایکشن لینے کے لئے جنرل باجوہ اور ان کی ٹیم اس وقت تک انتظار کرنا پسند کرے گی جب تک نئی دہلی کے ساتھ واشنگٹن کے ذریعہ بامقصد مذاکرات کی شروعات نہ ہو جائے۔ جہادی پالیسی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے امریکی انتظامیہ کارویہ اہم ترین ہوگا جو اب سے کچھ گھنٹوں بعد نہایت ضرورت مند پاکستانی وفد کی میزبانی کرنے والا ہے۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ یقیناًامریکہ سے طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ہتھیار خریدنے کو سب سے زیادہ ترجیح دے رہی ہے لیکن وہ امریکہ سے کچھ دیگر معاملات میں بھی اپنی مشکلات کے خاتمہ کے لئے مدد چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ثالثی کا کیس ہار دیا ہے جس میں بین الاقوامی عدالت نے پاکستان کو ٹیتھیان کاپر کمپنی کو 6 ارب ڈالرز ادا کرنے کا پابند کیا ہے۔ اگر پاکستان یہ رقم ادا نہیں کرتا تو پاکستان کے طیاروں کی امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں پروازیں معطل کر دی جائیں گی۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی کوشش ہوگی کہ امریکی انتظامیہ کی مدد سے پاکستان کو ایسی کسی بھی قسم کی شرمندگی والی صورتحال سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امریکی انتظامیہ پر زور دے گی کہ وہ ملک میں جاری بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غیر اعلانیہ میڈیا سنسرشپ پالیسی کے نفاذ پر اپنی آنکھیں بند رکھے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس دورہ امریکہ سے کیا حاصل ہوگا، شاباشی یا ”ڈومور“ کے مزید مطالبات لیکن اس دورہ سے پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال اور خطہ میں امن کے قیام کی کوششوں کو فوائد یا نقصانات دونوں طرح کے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ دیکھنا یہی ہوگا کہ اس دورہ کے دوران پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اپنے کارڈز کس طرح کھیلتی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *