گلیاں خوں سے بھر جائیں گی۔۔۔۔۔ایڈووکیٹ محمد علی

گلیاں خون سے بھر جائیں گی،
تم اعلان یہ مت کرنا کہ
تم میری شاملِ  حال رہی ہو،
ایک دوجے سے لڑ جائیں گے
سب ،جب ان کو پتہ چلے گا۔۔۔۔
تم یہ وعدے کر کے پیاری۔۔
چھوڑ کے جانے کہاں سدھاری
سنتی ہو ناں راج دلاری؟
آج یہ عالم ،ھُوکا عالم
سجنا تو ہے،پَر نہیں بالم
خود ترسی کے چھائے بادل
جس کا جاناں، نہیں کوئی حل،
سگریٹ پی لوں،
پھر مجمعے کا
خوں گرماؤں گا واں جا کر،
میری خاطر، جانِ جاناں وعدہ وفا وہ کرجائیں گی،
پھر تم دیکھتی جانا،جاناں
گلیاں خوں سے بھر جائیں گی!!

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *