فکر ِاقبال کی بنیادیں (ڈاکٹر مبارک علی)۔۔۔۔حمزہ ابراہیم

اقبال کی شاعری نے ہمارے معاشرے پر گہرے اثرات ڈالے۔ ان  کی شاعری ایک ایسے دور میں تخلیق ہوئی کہ جب ہندوستانی معاشرہ مغل زوال کے بعد برطانوی اقتدار تک مایوسی اور نا امیدی کا شکار ہو کر پژمردہ ہو رہا تھا۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں حقیقت فہمی اور خود اعتمادی مفقود تھی۔ ایسا معاشرہ صرف وہی باتیں سننا چاہتا تھا جو اسے حقیقت سے دور خوابوں کی دنیا میں لے جائیں۔ اور وہ اپنی محرومیوں کو فراموش کر کے یوٹوپیائی تصورات میں مدہوش ہو جائے۔ اقبال کی شاعری نے مسلمان معاشرے کی ان خواہشات کو پورا کیا۔ اسی لیے ان کی شاعری نے جلد ہی مقبولیت حاصل کر لی۔ اس مختصر سے مطالعے میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ ان بنیادی افکار کا تجزیہ کیا جائے جن کی اساس اور بنیاد پر انہوں نے اپنے نظریات کی تشکیل کی۔

1.    ماضی کی عظمت

اقبال کی شاعری میں مسلمانوں کی سابقہ عظمت و بڑائی اور شان و شوکت کا ذکر بڑے فخر کے ساتھ ملتا ہے۔ انہوں نے ماضی کی عظمت کا جو نظریہ پیش کیا اس کی جڑیں ہندوستانی معاشرے میں پہلے سے موجود تھیں۔ تاریخ کی یہ روایت رہی ہے کہ جب کوئی قوم سیاسی طور پر طاقتور ہوتی ہے تو وہ طاقت اور اقتدار کے نشے میں دوسری قوموں کو ذلیل سمجھتی ہے ، اور اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات کو برتر و افضل گردانتی ہے۔ اس کی مثال ہندوستان میں عہد مغلیہ سے دی جا سکتی ہے۔ بابر سے لے کر اورنگزیب عالمگیر کے عہد تک جو سیاسی عروج کا زمانہ تھا، مسلمان حکمران طبقہ طاقت و قوت کے ذریعے ہندوستان پر حکومت کرتا رہا۔ لیکن جب زوال کا عمل شروع ہوا اور اقتدار ان کے ہاتھوں سے نکلنے لگا، تو اس وقت انہیں بابر، اکبر اور اورنگزیب کا زمانہ یاد آنے لگا۔ ماضی کی شاندار روایات سے یہ لگاؤ اور محبت حکمران طبقے میں زیادہ ہوتی ہے۔کیوں کہ یہی طبقہ عروج کے زمانے میں سب سے زیادہ مراعات حاصل کرتا ہے اور زوال کے زمانے میں اسی طبقے کی مراعات سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔اس لیے ماضی کی عظمت کا احساس، اس کے تذکرے اور اس پر فخر کرنا، زوال کے دور کی پیداوار ہوتی ہے۔ جب معاشرہ زوال کے عمل سے متاثر ہو کر فرار چاہتا ہے تو اس وقت وہ ماضی کی یادوں میں پناہ لیتا ہے۔

ہندوستان میں جب برطانوی اقتدار قائم ہوا اور مسلمان حکمران طبقے کو مکمل شکست ہو گئی، تو احساسِ شکست نے انہیں زبردست احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا۔ کیوں کہ نہ تو وہ برطانوی طاقت کا عسکری لحاظ سے کوئی مقابلہ کر سکے اور نہ ہی ان کی تہذیبی اور ثقافتی روایات و اقدار اور ادارے ان کے آگے ٹھہر سکے۔ یہ ایک ایسی شکست و پسپائی تھی جس نے مسلمان معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس لیے اس کا رد عمل کئی شکلوں میں ظاہر ہوا:۔

اول: عملی زندگی سے فرار اور مذہب و تصوف میں پناہ

دوم: برطانوی اقتدار کی مخالفت اور مزاحمت کی ہمت نہ ہونے کے سبب اس کی ہر چیز سے نفرت اور اپنے ماضی کی روایات پر فخر

چنانچہ اس جذبے کے تحت ماضی کی عظمت کو اجاگر کرنے اور شاندار روایات کی یادیں تازہ کرنے کیلئے تاریخ سے مدد لی گئی۔ اس تحریک کے سب سے فعال رکن شبلی نعمانی تھے۔ جنہوں نے ”ہیروز آف اسلام“ پر تاریخی کتابیں لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ جس میں بادشاہوں، علماء اور فقہا کی سوانح حیات لکھنے کا منصوبہ تھا۔ ان میں سے کچھ کتابیں شائع بھی ہوئیں، جیسے الفاروق، المامون اور النعمان وغیرہ۔ مسلمان تعلیم یافتہ طبقے نے ان کتابوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور ذوق و شوق سے مطالعہ کیا۔ اس تحریک کو عوامی حیثیت سے مقبول بنانے کا سہرا عبد الحلیم شرر کے سر ہے۔ جنہوں نے تاریخی ناول لکھ کر ان میں مسلمانوں کی عظمت اور برتری کو پیش کیا۔ ان کے یہ ناول بہت جلد عوامی سطح پر پھیل گئے۔ اور تعلیم یافتہ طبقے اور عوام، دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔ کیوں کہ ایک شکست خوردہ معاشرہ اس وقت ایسی ہی تحریریں پڑھنا چاہتا تھا۔ جن میں مسلمانوں کی فتوحات ہوں، دشمن کی تذلیل و شکست ہو اور مسلمانوں کی کامیابی ہو۔ چنانچہ اس دور میں اسلامی تاریخی ناولوں اور اسلامی تاریخ کی شخصیتوں اور ان کے کارناموں پر ایک وسیع ادب تخلیق ہوا جس نے مقبولیت کا درجہ حاصل کیا۔

ماضی کی عظمت کی یہی روایات تھیں جنھیں اقبال نے بھی اپنی شاعری میں استعمال کیا۔ ان کے ہاں بھی ”یہ غازی، یہ تیرے پر اسرار بندے“ والی گھن گرج اور احساس ِتفاخر ہے۔ وہ اس بات پر جذبات کو ابھارتے ہیں کہ ”دشت تو دشت تھے، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے“۔ ان کے ہاں مسلمانوں کی فتوحات، ان کی بہادری و شجاعت اور ان کے شاندار کارناموں کی تفصیلات بڑے جذباتی اور موٴثر انداز میں ملتی ہیں۔اس موقع پر یہ بات قابل غور ہے کہ یہ آواز ایک ایسی قوم اور معاشرے کی آواز تھی جو شکست خوردہ، زوال پذیر، بے جان اور بے حس تھا۔ اور جسے ایک دوسری قوم نے اپنے استعمال اور استحصال کے پنجے میں جکڑ رکھا تھا۔ اس وقت برطانیہ کی سیاسی طاقت پورے عروج پر تھی۔ ایشیا، افریقہ اور امریکا کے بر اعظموں میں ان کی حکومت قائم تھی۔ اس وقت ان کے ہاں بھی ادیبوں، شاعروں اور مورخوں کا ایک طبقہ برطانوی سامراجیت پر نازاں، ”سفید آدمی کا بوجھ (The White Man’s Burden)“کے نظریے کی تبلیغ کر رہا تھا۔ اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اقبال کیوں اپنی سامراجیت پر تو نازاں تھے اور برطانوی استعمار کے خلاف؟ وہ مسلمانوں کی فتوحات کو تو جائز سمجھتے تھے اور برطانوی فتوحات کو لائق تنقید؟ کسی بھی قوم کا دوسرے ملکوں پر قبضہ کر کے اس کی زمینوں اور ذارئع پیداوار پر قبضہ کرنا انصاف کے خلاف ہے۔ چاہے ہسپانیہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہو یا نائجیریا پر برطانیہ کا۔ ہمارے دانش ور اس  بات  کو نہیں سمجھ سکتے۔ اور اسی لیے مسلمان بادشاہوں کی فتوحات اور جنگوں کی تفصیلات اور ان کی شاندار کامیابیوں کے ذکر کے ذریعے ایک زوال پذیر معاشرے کے لوگوں کے جذبات کو مشتعل کرتے رہے۔

ماضی کی عظمت اور شان و شوکت کے تذکروں کا اثر یہ ہوا کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹی انا اور بے جا فخر کے احساسات پیدا ہوئے۔ اقبال کی شاعری نے ان احساسات کو پیدا کرنے میں بڑا حصہ لیا۔ اقبال یہ باتیں اس وقت کر رہے تھے جب دنیائے اسلام اور مسلمان انتہائی کس مپرسی اور ذلت کے عالم میں تھے۔ اکثر اسلامی ممالک یورپی نوآبادیاتی نظام کے تحت تھے۔ اور قدیم فرسودہ روایات کے زیر اثر، جہالت اور ناواقفیت کی زندگی گزار رہے تھے۔ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ انہیں ماضی کے اندھیروں سے اور پژمردہ روایات سے نکال کر جدید دنیا اور جدید روایات و اقدار سے روشناس کرایا جاتا۔ تاکہ وہ اعلیٰ ذہنی شعور کے ساتھ سامراج کا مقابلہ کرتے۔ لیکن اقبال کے ہاں تو ضربِ کلیم کے صفحۂ اول پر درج ہے کہ ”دورِ حاضر کے خلاف اعلانِ جنگ“۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا معاشرہ ماضی کی عظمت میں گم رہا اور اپنی موجودہ حالت کو بدلنے کی کوششیں بہت کم ہوئیں۔

2.    مغرب کی مخالفت

ہندوستان یا عالمِ اسلام کے مسلمانوں میں شعور پیدا کرنے کیلئے ضروری تھا کہ انہیں جدید تہذیب سےروشناس کرایا جاتا۔ یورپ میں بادشاہت کے نظام کے خلاف  جمہوری تحریکوں کو کامیابی ملی تھی، تحریک اصلاحِ  مذہب نے عیسائی مذہب پر کاری ضرب لگا کر جدید روایات کی تخلیق کی تھی، صنعتی انقلاب نے یورپ کو فنی و تکنیکی میدان میں آگے بڑھا کر اسکی معاشی زندگی میں انقلاب برپا کیا تھا۔سوشلزم، لبرل  ازم کی تحریکوں نے سماجی و معاشی تبدیلیاں پیدا کی تھیں۔ یورپ کی اس ترقی سے واقفیت جدید دنیا کے انسان کیلئے ضروری تھی۔ یورپی اقوام نے جب ایشیا و افریقہ کے ملکوں پر قبضہ کیا تو اس شکست کے نتیجے میں ان ملکوں کے عوام میں دو طرح کا رد عمل ہوا:۔

اول: مغربی تہذیب اور اسکی روایات سے نفرت

دوم: آزادی اور ترقی کیلئے مغربی تہذیب اور اس کے اوزاروں کو اختیار کرنے کی کوشش

چونکہ مغرب سے نفرت وہ حربہ تھا جسے استعمال کر کے آزادی کے بعد ہمارا حکمران طبقہ اپنے اقتدار کو مستحکم کر سکتا تھا، اس لئے اسی نظریے کی تبلیغ زور و شور سے کی گئی۔

مغربی تہذیب کی مخالفت میں جو پُر زور دلیل دی گئی وہ یہ تھی کہ اگرچہ مغرب نے سائنس، صنعت و حرفت اور فنی علوم میں زبردست ترقی کی، مگر روحانیت میں وہ مشرق سے پیچھے ہے۔ ہندو بھی یہ بات کہتے رہے کہ ہندو مت نے روحانیت میں بڑا مقام حاصل کیا اور فلسفیاتی تصوف میں انہوں نے سب سے زیادہ ترقی کی۔ چینیوں کا بھی یہی دعویٰ تھا کہ انسان کے بنیادی مسائل کا حل وہ سمجھتے ہیں۔ مشرق میں عام طور پر یہ تاثر دیا گیا کہ مغربی علوم و فنون صرف عملی حل کیلئے ہیں، اور ان سے انسان کو آسودگی نہیں ملتی۔ مسلمانوں کو بھی اس بات کا اصرار تھا ، اور اب بھی ہے، کہ صرف ان کے مذہب و روایات و اقدار میں انسان کو سکون ملے گا۔ ان کے نزدیک مغربی تہذیب انسان کو مادیت کی طرف لے جا رہی ہے۔ اور مغرب کی ترقی، دولت کی فراوانی، فنی مہارت اور سائنس کی ترقی کے باوجود مغرب کا انسان روحانی سکون کی تلاش میں ہے۔ یہ روحانی سکون اسے صرف مذہب میں ملے گا۔ یہی بات اقبال بھی کہتے رہے اور اس بات پر افسوس کرتے رہے کہ اگر مجذوب فرنگی (نطشے) ان کے زمانے میں ہوتا تو وہ اسے مقام کبریا کے بارے میں بتاتے۔ مغرب کی سائنس اور صنعتی ترقی کو مغرب کیلئے موت کا باعث سمجھتے رہے اور اسی لیے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ: ”تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خودکشی کرے گی“۔ نوآبادیاتی نظام میں اس نظریہ کو بڑا فروغ ملا۔ کیونکہ یہ مغربی اقوام کے مفاد میں تھا کہ مشرقی اقوام اپنے روحانی درجے بلند کرتی رہیں اور وہ ذارئع پیداوار اور انتظامی اداروں پر قابض رہ کر ان پر حکومت کرتے رہیں۔مغرب کی اس مخالفت میں ہماری شکست خوردہ ذہنیت اور احساسِ کمتری کا بھی بڑا دخل ہے۔ جب ہم ذہنی طور پر خود کو مغرب کا اسیر پاتے ہیں اور مغرب کے بارے میں بے دست و پا ہو جاتے ہیں تو اس دلیل سے خوشی و مسرت ملتی ہے کہ مغرب کی یہ ترقی صرف مادی ہے۔ اور وہ روحانیت میں ہم سے بہت پیچھے ہے۔ ظاہر ہے یہ دلیل تیسری دنیا کے پس ماندہ، غریب اور جاہل عوام کو مطمئن کر دیتی ہے۔ چنانچہ تیسری دنیا کا حکمران طبقہ اپنے عوام کی روحانی زندگی کو بہتر بنانے کی خاطر انہیں موجودہ دنیا کی مادی آسائشوں سے محروم رکھتا ہے۔ کلام اقبال عوام کوذہنی طور پر مطمئن رکھنے اور مغرب کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا کرنے میں بڑا موٴثر ثابت ہوا ہے۔

3.    جمہوریت کی مخالفت

مغرب کی ترقی میں جمہوریت کا بڑا حصہ ہے۔ جس نے بادشاہت کے قدیم نظام اور اس کے استبدادی اداروں کو ختم کر کے اقتدار میں دوسرے طبقوں کو شریک کیا۔ مغربی جمہوریت نے ارتقائی طور پر ترقی کی۔ ابتداء میں جاگیردار اور سرمایہ دار طبقوں نے اس سے فائدہ اٹھایا مگر آہستہ آہستہ اس میں عوام کا اثر آتا گیا۔ خصوصیت سے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یورپ میں بالغ رائے دہی کے اصول پر جمہوریت قائم ہوئی۔

ہندوستان میں جب برطانوی اقتدار قائم ہوا تو ہندوستان نے ترقی کی جانب قدم بڑھایا۔ برطانوی حکومت نے جدید روایات و اقدار کی بنیادوں پر سیاسی و انتظامی ادارے قائم کیے۔ مغربی تعلیم اور افکار کے نتیجے میں ہندوستان میں تحریکِ آزادی پروان چڑھی۔ اس لیے تحریک ِآزادی کے قائدین کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ یہاں سے برطانوی اقتدار ختم ہو اور برطانوی طرز کی جمہوریت قائم ہو۔ جمہوریت کے تصور نے ہندوستان کے زمیندار اور جاگیردار طبقے کو بری طرح ڈرایا۔ کیونکہ یہ طبقہ مراعات یافتہ تھا۔  اور اپنی نسلی اور خاندانی برتری کا قائل تھا۔ خصوصیت سے مسلمان جاگیردار طبقے، جنھیں اپنے بخاری، خراسانی اور ایرانی  وغیرہ ہونے پر فخر تھا۔ یہ خواص اور عوام میں فرق کے قائل تھے۔ مساوات کا سماجی و معاشی و سیاسی تصور ان کیلئے قطعی قابل ِقبول نہ تھا۔ اس لیے جمہوریت، جس میں ترقی کا معیار خاندان کے بجائے قابلیت پر ہو اور جس میں قانون کا استعمال امیر و غریب سب کیلئے ایک سا ہو، انہیں منظور نہ تھی۔اس لئے جمہوریت اور جمہوری طرز انتخاب و نمائندگی کی مخالفت سب سے پہلے سر سید احمد خان نے کی۔ انہوں نےیہ  دلیل دی کہ جمہوری طریقۂ نمائندگی سے مسلمان اقلیت میں رہ جائیں گے اور ہندو ، جو اکثریت میں ہیں، ہمیشہ ان پر حکومت کریں گے۔ آگے چل کر یہی بات محمد علی جوہر نے کہی کہ مسلمان تعداد  میں تھوڑے ہیں۔ جاہل و نا واقف ہیں۔ اس لیے وہ جمہوریت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ اور اس کا فائدہ ہندوؤں کو ہو گا، جو تعلیم یافتہ اور اکثریت میں ہیں۔ لہذا مسلمان جاگیردار طبقے کے مفاد میں یہ تھا کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ برطانوی حکومت سے کوٹہ سسٹم اور دیگر مراعات لے کر کریں۔ اس وجہ سے ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ تاثر دیا گیا کہ جمہوریت ان کے حق میں مضر ہے کیوں کہ وہ ہندوستان میں اقلیت میں ہیں۔ جمہوری طرز حکومت کے بعد ہندو اکثریت انہیں غلام بنا کر رکھے گی۔

اس پس منظر میں اقبال نے بھی جمہوریت کی مخالفت کی۔ اور ان کی مخالفت کی بنیاد بھی اعلیٰ و ادنیٰ اور عوام و خواص کے فرق پر تھی۔ کیوں کہ ان کے نزدیک جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے جس میں انسانوں کو گنا جاتا ہے، تُولا نہیں جاتا۔ اقبال کی اس جمہور دشمنی نے مسلمان خواص کے طبقے کو بڑا سہارا دیا اور اقبال کی ذات میں انہیں اپنا حقیقی ترجمان مل گیا۔

4.    ملتِ اسلامیہ کا تصور

ہندوستان کے مسلمان اپنے آپ کو ملتِ اسلامیہ کا ایک حصہ سمجھتے ہوئے عالم ِاسلام کی ہر تحریک کا ساتھ دیتے رہے۔ اس وابستگی کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے ہندوستان میں اپنی جڑیں پیوست نہیں کیں۔ ہندوستانی مسلمان دانش ور اور سیاست دان ، عالمِ اسلام کے مسائل کا ہندوستان میں زور و شور سے پرچار کرتے رہے۔ اور یہاں کے مسائل پر گہری نظر ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں تھے۔ جب تک یہ سیاسی اعتبار سے طاقت ور اور صاحبِ اقتدار رہے، اس وقت تک انہوں نے عالم ِاسلام اور اس کے مسائل پر توجہ نہیں دی۔ لیکن جب ان کے سیاسی اقتدار کو زوال ہوا، اور طاقت ان کے ہاتھوں سے نکل کر انگریزوں کے پاس گئی، تو انہوں نے خود کو اچانک بے یار و مددگار پایا۔ اس موقعے پر دو قسم کے رد عمل کی توقع کی جا سکتی تھی:۔

اول: ہندوستان کی دوسری اقوام سے تعاون کر کے اس سرزمین سے رشتہ جوڑا جاتا

دوم: عالمِ اسلام سے تعلقات استوار کیے جاتے

اقبال نے بھی باقی مسلمان خواص کی طرح  دوسرے نظریہ کو اختیار کیا اور ہندوستان سے باہر اپنی  تلاش شروع کی۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو یہی مشورہ دیا کہ ان کے مسائل کا حل عالمِ اسلام کے اتحاد میں ہے۔ مولانا عبید الله سندھی نے اقبال کی شخصیت کے اس پہلو پر بڑی فکر انگیز بات کہی ہے:۔

”اقبال بھی  ہندوستانی مسلمانوں کے علیحدہ قوم ہونے سے انکار کرتے رہے اور خود کو عالمگیری اسلامی برادری کا ایک حصہ سمجھتے رہے، حالانکہ عراقی، حجازی اور شامی الگ الگ قومیں ہیں“۔

اس کے بعد مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:۔

”اقبال نے ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے ملتِ اسلامیہ کی ایک سیاسی شخصیت رکھی۔ جس کا دنیا میں کہیں وجود نہ تھا۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ اگر اقبال کو ہندو مسلم متحدہ قومیت سے انکار تھا تو اس برِ اعظم کے گزشتہ آٹھ سو سال کی ہندی اسلامی فکر پر نظر ڈالتا اور اس کا احصاء اور تجزیہ کرتا۔ اس کی اساس پر اس سر زمین میں ہندی مسلم قومیت کی عمارت اٹھاتا۔ لیکن وہ دوسرے مسلمان ملکوں کے شاندار ماضی کے راگ الاپتا رہا۔ اور اسلامی ہند کی تاریخی عظمتوں میں خال خال اسے کوئی پر کشش موضوع سخن ملا“۔

آگے چل کر وہ مزید کہتے ہیں کہ اقبال ایک روایت پرست یہودی کی طرح مسلمانوں کی موہوم جماعت کو پوجتے رہے۔ مولانا کو اس بات کا افسوس ہے کہ اقبال ہندوستان کے مسلمانوں کی قربانیوں اور ان کے کردار کو بھی پوری طرح نہیں سمجھ سکے۔ جنگِ عظیم اول کے بعد آزادی کی خاطر ہندوستانی مسلمانوں نے جو صعوبتیں برداشت کیں اور ہند کے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی جو کوششیں کیں، ان میں ریشمی رومال تحریک، جلیانوالہ باغ المیہ، تحریکِ خلافت، تحریکِ عدم تعاون اور سول نافرمانی کی تحریک شامل ہیں۔ ان تحریکوں میں ہندو اور مسلمانوں، دونوں نے قربانیاں دیں۔ اقبال کی” پیام ِمشرق“ اسی زمانہ میں شائع ہوئی۔ اقبال نے ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں کہا کہ:۔

مسلمِ ہندی، شکم را بندہ ای

خود فروشی،  دل ز دین بر کندہ ای

(ترجمہ: اے ہندوستانی مسلمان، تو پیٹ کا غلام ہے۔ تو خود فروش اور دین سے بیزار ہے۔)

افغانستان کے بادشاہ امیر حبیب الله خان کو مخاطب کرتے ہوئے افغانوں کیلئے کہا:۔

ملتِ آوارۂ کوہ و دمن

در ر گِ او خونِ شیران موجزن

زیرک و روئین تن و روشن جبین

چشمِ او چون  جرّہ بازان تیز بین

(ترجمہ: پہاڑوں اور وادیوں کی آزاد منش قوم، جس کی رگوں میں شیروں کا خون دوڑ رہا ہے۔ ذہین، طاقتور بدن والی اور روشن ماتھے والی قوم، جس کی نگاہیں  شاہین کی طرح تیز ہوتی ہیں۔)

جبکہ اس وقت افغانستان میں قرون وسطیٰ کا بادشاہی نظام نافذ تھا۔ جہاں وہ بہادری کے جوہر کا استعمال آپس کی لڑائیوں اور انتقامی کاروائیوں میں کررہے تھے۔  اسلامی تاریخ کے سلسلے میں بھی اقبال نے ہندوستان کے علماء کا سا رویہ اختیار کیا۔ گویا  اسلامی تاریخ  میں سنہرا دور عربوں کا دور حکومت ہے اور اسلامی تعلیمات میں خرابی اس وقت آئی جب ان  میں عجمی اثرات آ ئے۔مولانا عبید الله سندھی نے اس موضوع پر بڑی عمدگی سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ:۔

”اقبال نے عجم اور قومیت کی مخالفت کی۔ یہ اسلامی تاریخ سے بے خبری ہے۔ عباسی عہد میں ایرانی و یونانی اثرات آ ئے۔عجمیوں نے اسلام کی خدمت کی۔ ہندوستانی ہندی فکر نے اسلام کے تصوراتِ ثقافت  کو جلا بخشی۔ تاریخِ اسلام میں عربوں کے دور کو مقدس سمجھا گیا۔ ایرانیوں، ترکوں اور ہندوستانیوں کے عہد کو زوال مانا گیا۔ حالانکہ یہ عہد اپنے رنگ میں اسلامی کی ترقی کا باعث تھے۔ بدقسمتی سے اقبال نے  اسلامی تاریخ کے ارتقاء اور اس کے قدرتی مظاہر کو نہیں سمجھا۔ اور ساری عمر عجم و عجمیت کی مذمت اورعرب و عربیت کی تعریف کرتا  رہا“۔

5.    جدیدیت

اقبال دور ِحاضر اور جدیدیت کے بھی مخالف ہیں۔جن میں آرٹ، موسیقی، سینما اور تھیٹر شامل ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فنونِ لطیفہ نے اس عہد میں انسانی شعور کو بیدار کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ فنونِ لطیفہ کی اس لئے بڑی اہمیت ہوتی ہے کہ یہ معاشرے میں لطافت اور بالیدگی کو پروان چڑھاتے ہیں۔ انسان کے حساس اور نازک جذبات اس عمل کے ذریعے نشو و نما پاتے ہیں۔ اور انسان میں جو سختی ، کھردرا پن اور وحشت و درندگی ہوتی ہے، وہ ختم ہو جاتی ہے۔ مگر اقبال، بقولِ مجنون گورکھپوری، مردِ مومن میں عقاب، شاہین، شہباز اور چیتے جیسے سفاک جانوروں کی خوبیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔

6.    عورت

اسی طرح اقبال دورِ حاضر کی تبدیلیوں میں عورت کے صحیح مقام کا تعین نہیں کر سکے۔ ان کے نزدیک عورت کا صحیح مقام گھر ہے۔ جہاں پردے میں رہ کر روایتی انداز میں شوہر اور بچوں کی خدمت کرے۔ ان کے ہاں قطعی اس کی گنجائش نہیں کہ عورت معاشرے میں مرد کے برابر، آزادانہ اور خودمختار مقام حاصل کر سکے۔

اس لئے اقبال کی شاعری کوئی مثبت پیغام دینے میں ناکام رہی۔ کبھی تو وہ ”در قرون رفتہ پنہان می شوم“ کہہ کرماضی میں پناہ لیتے رہے۔ کبھی مسائل سے گھبرا کر ”دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت“کہہ کر خاموش ہو گئے۔ اقبال کی شاعری کی بنیاد جن افکار پر ہے، وہ معاشرے کو ترقی دینے ا ور شعور کو بیدار کرنے میں قطعی ناکام رہے۔

ماٴخذ: ڈاکٹر مبارک علی، ”المیہٴ تاریخ“،باب 17، صفحات 165۔173، فکشن ہاؤس لاہور، (2012ء).

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *