محبت۔۔۔۔اجمل صدیقی

محبت کو اکثر فلسفیوں نے موضوع نہیں بنایا۔۔بالخصوص تاریخ اور عمرانیات کے ماہرین نے۔۔ اکثر لوگ اسے پاگل پن اور شرمناک سمجھتے ہیں ۔اسے ناولوں کا موضوع سمجھتے ہیں،شاعروں کی بَڑ ۔ اسے فحاشی اور عیاشی کے القاب بھی دیے گئے ہیں،لیکن ہیر رانجھا ،رو میو جولیٹ کی داستانوں کو سارے لوگ شوق سے سنتے ہیں ۔
محبت اکثر لوگ کرتے ہیں ،عموماً  جو لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ،وہی اس سے بے نیازی کا بہانہ کرتے ہیں ۔محبت اور علم دونوں صبر اور جرات کے طلب گار ہوتے ہیں جو عام لوگوں  میں کم ہوتی ہے۔۔
دنیا میں rape اور جنگ کی سب سے بڑی وجہ محبت کے بارے میں غلط تصورات ہیں ۔
domestic violence
drug addiction
acid throwing
میں محبت کے بارے غلط تصورات ہیں جو گھٹیا ناولوں اور فلموں سے ماخوذ ہیں ۔دنیا سے دہشت گردی اور جنگوں کے خاتمے کیلئے محبت کے درست تصور سے آشنا ئی ضروری ہے۔عیسائیت میں محبت کو سیکس کے مترادف اور سیکس کو فساد آدمیت کہا گیا ہے۔محبت کیلئے آزادی اور مساوات بنیادی شرائط ہیں ۔لہذا انسانی  محبت کا مطلب ہی مساوات ہے۔ دو افراد کی وحدت محبت ، نوع انسانی کی  وحدت کی علامت ہے۔تجارت، سیاست ، بنیادی طور  پر انسانی نزاع سے پرورش پاتے ہیں ۔۔اس لیے  مرکزی اور عسکری اشرافیہ محبت کو زنانہ اور بچگانہ کام سمجھتے ہیں ۔

چنگیز اور نپولین اسے بالکل بے کار سمجھتے تھے۔ عسکری معاشروں میں محبت نمو نہیں پاتی ۔۔ سیکس کرنا محبت سے بہت آسان عمل ہے۔اگرچہ یہ محبت سے یکسر جدا نہیں ،کیونکہ اس میں برابری کا تصور مقفود ہوتا ہے۔اس میں یہ غلط تصور ہے جو گرائمر سے لیا گیا ہے  کہ مرد active voice اور عورت passive voiceہے۔۔انا کا خول جتنا پکا ہوتا ہے اندر سے انا اتنی ہی کھوکھلی ہوتی ہے۔۔۔انا ایک جن ہے نہایت خطر ناک۔۔۔

tripako tours pakistan

یہ محبت کے رشتے اور راستے میں رکاوٹ ہے اس کی جڑیں عام طور  پر مرد کی کمائی اور سٹیٹس میں پیوست ہوتی ہیں اور عورت کے حسن  میں ۔۔طلاق کی اکثر وجہ اناوؤں کا تصادم ہے۔ انا کا تعلق امیری غریبی سے نہیں   بلکہ غریبوں میں یہ کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے، بے بس انا کا آخری راستہ خود کشی یا schizophreniaہوتی ہے۔
انا کمزوریوں پر سخت پہرہ بٹھانے سے جوان ہوتی ہے اپنی کمزوری کو ماننے سے اور حقائق کو تسلیم کرنے سے اس کا خاتمہ ہو جاتا ۔
جاگیر داری طرزِ  احساس میں سارے ادارے ہی انا کی پرروش کرتے ہیں ۔۔
غیرت ،وفا ،عورت پاؤں کی جوتی ،عورت کو سمجھنا مشکل ہے،عورت جذباتی ہوتی ہے،زن زر زمین،مجازی خدا ۔۔۔۔یہ سب افسانے جاگیردار ی معاشرے کے گھڑے  ہوئے ہیں ،اور اسی سے خاندان کا ادارہ ہے۔ اس ادارے میں فرد جگہ جگہ جواب دہ ہوتا ہے اور طبقاتی نظام    سب انسانوں کے مابین محبت کے سارے جذبے مار دیتے ہیں ۔۔اوپر سےcaste systemجیسا مکروہ ادارہ  انسانوں کو تنگ نظر اور انسانی محبت سے خالی کردیتا ہے۔

یورپ میں نشاط ثانیہ اور جنگ عظیم کے بعد لوگوں نے محبت کو انسانوں کیلئے ایک سیاسی ضرورت محسوس کیا ہے۔ رسل اس کا سب سے بڑا موید تھا۔انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر تو ہر وقت نفرت  کے شعلے بھڑکتے رہتے ہیں ۔
اب جنگ رومانوی نہیں ۔۔۔۔اب محبت ایک سیاسی ضرورت بن چکی ہے۔۔ورنہ
پہلے پیکر جلے تھے اب پر چھایاں بھی جل جائیں گی۔۔

قو میں شاعروں کے دل میں پیدا ہوتی ہیں ۔سیاست دانوں کے ہاتھوں فنا ہوجاتی ہیں ۔محبت کی کمی وجہ سے انسان غریب ،ایک دوسرے سے بیگانہ ۔۔ commodities کی مریضانہ لذت میں کھویا ہوا ہے۔
سادیت ۔۔ sadism,masochismاور نرگسیت انتہائی خطر ناک جذبے جس میں تباہی سے انسان لذت لیتا ہے۔ان سے محبت ہی ہمیں بچا سکتی ہے۔خبط عظمت سے ہی ہٹلر پیدا ہوتا ہے فاشزم پیدا ہوتا ہے ۔محبت ہارمون سے لیکر مابعد الطبیعات تک ہمارا تصور زندگی بدل دیتی ہے۔یہ وحشت اور بربریت کیلئے شفا ہے۔ شاید یہ ہمارے وجود کا غایت عظمی ہے۔ محبت کے نتیجے میں انسانی اقدار اور ترقی پر اعتماد قائم ہوتا ہے۔محبت ہمارے آدرش بلند کرتی ہے۔
earth is best place to love
loveاور live میں صرف”I “کا فرق ہے ۔یہ ” I “سب کچھ بدل دیتی ہے۔.

ابو بن ادھم درست کہتا تھا۔۔میرا نام ان میں لکھ لو جو انسانوں سے محبت کرتے ہیں ۔
محبت ایک LEARNT BEHAVIOR ہے۔ایک ریاضت اور نظم وضبط کانام ہے۔ یہ شراب ہے جو جذبات کی آنچ سے اور علم کی چھلنی سے پُن کر نکلتی ہے۔اس میں انسان خود بھی مست ہوجاتا ہے اور اس کے ہم سفر بھی ۔۔۔یہ LONG DRIVE پر جاتے ہوئے ایک شیریں نغمہ ہے۔یہ زندگی کے بوجھل سفر کے کٹھن مراحل میں جینے کا حوصلہ ہے۔یہ وجود کی اتھاہ خاموشی میں وائلن کا سُر ہیں ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *