تبدیلی کی جنگ۔۔۔۔ذیشان چانڈیا

پاکستان کو بنے سات دہائیاں بیت گئیں مگر آج تک ہم تبدیلی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ آج سے ستر سال پہلے ہی یہ جنگ شروع ہو گئی تھی لیکن یہ  شروع کیوں ہوئی اور ابھی تک ختم کیوں نہیں ہوئی؟۔۔۔۔ قائد اعظم کے وفات پاتے ہی پاکستان میں تبدیلی کی جنگ چھڑ گئی اور اس جنگ کے پہلے شہید لیاقت علی خان تھے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا اور حکومت میں تبدیلیاں ہوتی رہیں ۔ کچھ سال بعد جنرل ایوب خان اقتدار میں آئے اور کافی عرصہ تک اس ملک کی باگ ڈور سنبھالی ۔ جنرل ایوب خان اپنے دور میں کافی تبدیلیاں لائے جن میں سر فہرست ۱۹۶۲ کا آئین ہے ۔ اس کے بعد صدارتی انتخابات اور سنہ ۱۹۶۵ کی جنگ بھی اسی تبدیلی کا حصہ تھی ۔ ملک میں سیاسی صورتحال تبدیل ہو رہی تھی اور اسی دوران ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ اور بھی سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئیں۔

سنہ ۱۹۷۱ میں جنرل انتخابات ہوئے جس میں دو بڑی جماعتیں سامنے آئیں ۔ مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ اور مغربی پاکستان سے پاکستان پیپلز پارٹی نے میدان مارا۔ یہ انتخابات تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی لائے اور پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔ اس کے بعد سنہ ۱۹۸۳ میں پاکستان کے  آئین میں تبدیلیاں کی گئیں اور نئے سرے سے بنایا گیا۔ ابھی جمہوری دور کو کچھ ہی سال ہوئے تھے کہ جنرل ضیاءالحق کی آمد ہوئی۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا اور ساتھ ہی نئی تبدیلی لائے جس میں ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔ اسی دور میں طلباء تنظیموں پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ جنرل ضیاءالحق کا جہاز بھی بہاولپور کے قریب تباہ ہو جاتا ہے جس میں وہ شہید ہو جاتے ہیں ۔ سیاسی حلقوں میں ہلچل مچی رہی اور روز بروز نئی تبدیلیاں ہوتی رہیں۔

اب تک کی سب سے بہترین تبدیلی بینظیر بھٹو کا وزیراعظم بننا تھا ، لیکن یہ زیادہ دیر تک نہیں رہی ۔ اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان نے اسمبلی تحلیل کر دی اور  اس تبدیلی کا قصہ بھی یہی ختم ہوا۔ حکومتی حلقوں میں یہ آنکھ مچولی چلتی رہی کبھی ڈکٹیٹرشپ تو کبھی جمہوریت ۔ نواز شریف کی حکومت آئی تو جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاء لگا دیا۔ ۱۹۹۹ سے لے کر ۲۰۰۸ تک جنرل مشرف کی حکومت رہی ۔ ۲۰۰۸ کے بعد ایک نئی تبدیلی آئی جو آج تک قائم ودائم ہے اور وہ جمہوریت ہے۔ ۲۰۰۸ سے ۲۰۱۳ تک پہلی بار صدر آصف علی زرداری نے جمہوریت کے پانچ سال پورے کیے ۔ اسی طرح جمہوریت کا سلسلہ چل پڑا اور آج تک چل رہا ہے ۔ اب تک پاکستان میں سینکڑوں سیاسی جماعتیں آئیں لیکن ان میں سے ایک جماعت تبدیلی کا نعرہ لے کر آئی جو باقی سیاسی جماعتوں سے بالکل مختلف تھا۔ وہ اب کی موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف ہے جس کے چئیرمین عمران خان اب پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ عمران خان نے جس تبدیلی کا نعرہ لگایا وہ باقی تبدیلیوں سے مختلف ہے اس لیے  اس کو تھوڑا تفصیل سے بتاتا چلوں گا۔ اس تبدیلی میں سب کو آڑے ہاتھوں لیا گیا جس میں فوج ، عدلیہ اور سابقہ حکومتوں کی پالیسیز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ہر معاشی و اقتصادی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی گئی ، ہالینڈ کے وزیراعظم کا موازنہ کیا گیا اور یہاں تک کہا گیا کہ کسی دوسری سیاسی جماعت یا آزاد حیثیت سے الیکشن جیتنے والے ممبران اسمبلی کو اپنی جماعت میں شامل نہیں کریں گے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ نہ  لینا، کرپشن کا خاتمہ اور منی لانڈرنگ کو روکنا بھی پی ٹی آئی کے ایجنڈے  کا حصہ تھی ۔ بالآخر تبدیلی کا یہی موقف لے کر پاکستان تحریک انصاف ۲۰۱۸ کے انتخابات اکثریت سے جیت گئی جس میں آزاد امید وار دوسری جماعتوں کے ممبرز بھی شامل تھے ۔ عوام عمران خان کو ایک مسیحا سمجھنے لگی تھی کہ بس اب یہی تبدیلی لائے گا لیکن اقتدار میں آتے ہی عوام کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ مہنگائی کا ایک طوفان آگیا ہے اور لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے  مجبور ہوگئے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ تبدیلی کہاں گئی جس کے دعوے کیا کرتے تھے۔ اس تبدیلی اور پچھلی سات دہائیوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر میرا یہ کہنے کو دل کر رہا ہے ۔ مجھے انتظار ہے اس تبدیلی کا جب پاکستان کا ہر بچہ اسکول جائے گا۔ مجھے انتظار ہے اس تبدیلی کا جب غریب کا بچہ بھوکا پیاسا نہیں سوئے گا ۔ مجھے انتظار ہے اس تبدیلی کا جب نوجوانوں کو روزگار ملے گا ۔ مجھے انتظار ہے اس تبدیلی کا جب میں بغیر خوف کے گھر سے باہر نکلوں گا۔ مجھے انتظار ہے اس تبدیلی کا جب ہسپتالوں میں مریض کم اور سہولیات زیادہ ہوں گی ۔ اور مجھے انتظار ہے اس تبدیلی کا جب میرا حکمران بھی سائیکل پر دفتر جائےگا ۔ اس تبدیلی کا انتظار کرتے کرتے میرے دادا ابو فوت ہوگئے ، میرے والد صاحب ساٹھ سال کے ہوگئے اور میں بائیس سال کا ہونے والا ہوں مگر تبدیلی نہیں آئی ۔ اب یہ بات قابل غور ہے کہ تبدیلی آئی تو آئی کہاں ۔ سات دہائیوں سے جس جس تبدیلی کا انتظار ہو رہاہے ،وہ آئی بھی تو صرف اقتدار بدلنے میں ۔ یہ تبدیلی نہ تو عوام کے لیے  آئی نہ پاکستان کے لیے ، یہ صرف حکمران بدلنے کے لیے آئی ۔ عدلیہ ہو، فوج ہو یا سیاسی جماعتیں سب نے حسبِ  توفیق اس تبدیلی میں حصہ ڈالا ہے ۔ تبدیلی کا نعرہ محض ایک نعرہ ہی رہا جو ہمیشہ اقتدار کی جنگ میں استعمال ہوا اور نہ جانے آگے کب تک ہوگا۔ جس طرح تاریخی ادوار میں تبدیلی  کے نام پر عوام کو گھسیٹا گیا ہے اب وہ تبدیلی لائی جائے ۔ میری موجودہ حکومت سے التجا ہے کہ کوئی ایسی تبدیلی بھی لائے جو عوام کے اور پاکستان کے حق میں ہو۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!

Zeeshan Chandia
Zeeshan Chandia
Zeeshan Chandia is the student of IR from Muslim Youth University Islamabad Zeeshanchandia05@gmail.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تبدیلی کی جنگ۔۔۔۔ذیشان چانڈیا

  1. ماشااللہ.. بہت اچھی تحریر ہے. درست کہا آپ نے اور ان تبدیلی زدہ نعروں کی مسلسل ناکامیوں کا بدترین نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عوام میں سیاسی نظام کو منفی سرگرمی کے طور پہ لیا جانے لگا ہے. آپ جیسے نوجوانوں میں اس کا درست ادراک ایک مثبت عنصر ہے..

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *