ماں جیسی ہستی دنیا میں ہے کہاں ؟۔۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

انسان جب عالم ارواح سے عالم فانی میں وارد ہوتا ہے تو اس کے ارد گرد بہت سے رشتے موجود ہوتے ہیں۔ یہ رشتے کسی بھی انسان کی زندگی کو معنویت اور رنگ عطا کرتے ہیں۔ انہی رشتوں کی بدولت کوئی بھی فرد اس زندگی میں اپنے معاملات کی بنیاد رکھتا ہے یہ رشتے کسی بھی فرد کی پیدائش کے بعد اس کے ایک آزاد اور خودمختار انسان بننے تک سب سے بڑا support system ہوتے ہیں۔ ان سب رشتوں میں بلا شک و شبہ سب سے عظیم اور سب سے خوبصورت رشتہ والدین اور اولاد کا ہے

بچہ چاہے کسی بھی جانور کا ہو، اسے پیدائش کے فوراً بعد ماں باپ کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ سہارا محض چند مہینوں یا بعض اوقات چند ہفتوں پر محیط ہوتا ہے۔ انسان واحد جاندار ہے جو زندگی کے پہلے تین سے چار سال تو مکمل طور پر ماں باپ کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ اس کا کھانا، پینا، پہننا، اوڑھنا، نہانا، دھونا غرضیکہ ہر کام ماں باپ اور خاص طور پر ماں کے ذمہ ہوتا ہے۔ یہ تین چار سال ان تکلیف دہ اور درد سے لبریز 9ماہ کے علاوہ ہیں، جب بچہ شکم مادر میں ہوتا ہے۔ پھر زچگی کی تکلیف الفاظ میں بیان کرنا ناممکنات میں سے ایک ہے۔

ان تین، چار سالوں کے مکمل انحصار کے بعد بھی بچہ 14، 15 سال مزید معاشی لحاظ سے مکمل طور پر والدین پر انحصار کرتا ہے۔ اتنی لمبی تپسیا اور کاوشوں کے بعد انسان کا بچہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ خود مختار زندگی گزار سکے اور پھر یوں ہوتا ہے کہ وہی ماں باپ اس بیٹے اور بیٹی کو بیاہ کے اس کے جملہ حقوق کسی اور (داماد اور بہو) کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر ایسے ایسے دلخراش واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے، دل شق ہوجاتا ہے، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کوئی بھی انسان اپنے ایسے محسنین کے ساتھ بدسلوکی کے بارے میں سوچ بھی کیسے سکتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ بروز منگل لاہور میں پیش آیا جہاں ایک 35سالہ بدبخت، شقی القلب بیٹے نے اپنی ضعیفہ ماں کو کلہاڑی کے پے درپے وار کر کے زخمی کردیا اور وہ خاتون لہو لہان ہوگئیں۔ پھر زمانے نے ممتا کا ایسا مظاہرہ دیکھا کہ شاید ہی چشمِ فلک نے کبھی یہ منظر دیکھا ہو۔ وہ بد بخت جب ماں پر حملہ کر رہا تھا تو چیخ و پکار سن کے کسی ہمسائی نے پولیس کو بلا لیا اور پولیس نے آکے اس بدبخت کو گرفتار کرلیا۔ پولیس اسے لے کے گھر سے نکلی اور ہمسایوں نے اس خاتون کو ہسپتال لے جانا چاہا کہ ان کی مرہم پٹی کی جاسکے لیکن آفرین ہے اس ماں کی ممتا پر، اس نے ہسپتال جانے سے دو ٹوک انکار کردیا اور پولیس سٹیشن جانے پر اصرار کرنے لگیں۔ ہمسایوں نے بہت سمجھایا لیکن وہ بضد رہیں۔ اور بالآخر اسی خون آلود حالت میں وہ ضعیفہ ماں پولیس سٹیشن پہنچ گئیں اور اس وقت تک علاج کے لیے اسپتال جانے کے لیے راضی نہیں ہوئیں جب تک اس بدبخت بیٹے کو پولیس کی حراست سے چھڑوا نہیں لیا۔

میں یہ خبر پڑھنے کے بعد اپنے دل میں پیدا ہونے والے جذبات کو الفاظ کا جامہ پہنانے سے قاصر ہوں۔ میرے الفاظ کھو گئے ہیں اور قلم بنجر ہو چکا ہے۔ ایسی عظیم ماں کی عظمت کی ایسی داستان کے بیان کے بعد قلم کو جذبات لکھنے کا یارا نہیں، دل قابو میں نہیں، آنکھیں ہیں کہ چھلکنے کو بے تاب ہیں۔
اسی اثنا میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک کاایک واقعہ نظر سے گزرا، ایک دفعہ مسجد نبوی میں ایک بلی نے بچے دیے صحابہ کرام اس سے تنگ تھے اور اسے مسجدکی حدود سے نکالنا چاہتے تھے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اپنے بچوں کے ساتھ گند پھیلاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مت مارو یہ ماں ہوگئی ہے۔۔۔۔!!!!

اے بدبخت انسان اگر تجھے علم ہو کہ تو نے اپنی ماں پہ ہاتھ اٹھا کے اپنے نصیبوں میں کتنی سیاہی لکھ ڈالی ہے تو تو اپنی باقی زندگی صرف اور صرف اس پر ماتم کرتے ہوئے گزارے۔
خدارا۔۔۔!!! جوبھی میری یہ تحریر پڑھ رہا ہے اپنی ماؤں، اپنے باپوں کی قدر کریں یہ وہ نعمتیں ہیں جن کا دنیا میں کبھی بھی، کوئی بھی نعم البدل نہیں ہو سکتا جب یہ نعمتیں خدانخواستہ چھن جائیں اس وقت ہاتھ ملنے اور پچھتانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ان انمول نگینوں کی قدر کریں۔ یہ آپ کے ماں باپ ہیں یا ساس سسر ہر دو رشتوں میں انمول، نایاب اور عظیم تحفہء ربی ہیں اس نعمت کی قدر کریں اس سے پہلے کہ کارکنان قضا و قدر آپ سے اس نعمت کو چھین لیں۔

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *