• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان میں شیعہ نسل کشی۔۔۔مصنف :عامر حسینی/تبصرہ:داؤد ظفر ندیم

پاکستان میں شیعہ نسل کشی۔۔۔مصنف :عامر حسینی/تبصرہ:داؤد ظفر ندیم

محمد عامر حسینی کی کتاب ‘پاکستان میں شیعہ نسل کشی’ سماجی روابط کی ویب سائٹ پر بہت زیادہ زیر بحث ہے۔
محمد عامر حسینی اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ خود سُنی پس منظر رکھنے والے گھرانے سے تعلق رکھنے والے ہیں جنہوں نے بعد میں مارکسی خیالات کو قبول کیا۔ انہوں نے بڑی تفصیل سے پاکستان میں شیعہ کے خلاف کاروائیوں کی تاریخ کا جائزہ لیا ہے۔
عامر حسینی نے پاکستان میں مختلف شیعہ دشمن گروہوں کا جائزہ لیا ہے انھوں نے ان گروہوں کا تعلق افغان جنگ، جہاد کشمیر پروجیکٹ، سعودی عرب کی فنڈنگ اور ایک خاص حد تک ایران-سعودی کشمکش،سے بھی جوڑ کر ان کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے مگر اس کے ساتھ پاکستان کے ریاستی اداروں کی افغانستان و بھارت کے حوالے سے تزویراتی اور سکیورٹی پالیسیاں اور پھر سیاسی جمہوری عمل میں غیرمنتخب اداروں کی مداخلت اور تکفیری نیٹ ورک کو استعمال کرنے کے طریقے سے بھی قائم کیا ہے۔ عامر حسینی نے اس سلسلے میں مدرسہ دارالعلوم دیوبند اور اس کے الحاق مدارس اور وابستگان کے اندر شیعہ دشمنی کے رجحان کی تشکیل کا مفصل جائزہ لیا ہے۔

حسینی صاحب کا تجزیہ ہے کہ پاکستان کے دیوبند اور سلفی فرقوں کے ماننے والوں کے اندر ایک قدیم عقیدہ “ناصبیت” کا عمل دخل بہت زیادہ ہو گیا ہے اور یہ عقیدہ مختلف عوامل اور وجوہات کے سبب اتنا طاقتور ہوا کہ بریلوی کہلوانے والے فرقے کے اندر بھی محدود جڑیں بن چکی ہیں اور اس وجہ سے پاکستان کے اندر غیر شیعہ مسلمانوں کے اندر شیعہ مخالف کے خلاف کوئی بہت بڑی مزاحمت دیکھنے کو نہیں ملی۔ مگر وہ اس کے ساتھ اس بات کا جائزہ نہیں لے پائے کہ خود شیعہ گروہوں نے بھی غیر مسلم اقلیتوں خصوصا ً احمدیوں کے خلاف کسی امتیازی سلوک پر کبھی آواز نہیں اٹھائی یہ عدم برداشت کی ثقافت ہے، جسے فروغ دیا گیا ہے اور یہ عدم برداشت کی ثقافت خود اہل تشیع میں بھی موجود ہے۔

مضمون نگار:داؤد ظفر ندیم

انہوں نے ایک جگہ کچھ ایسے بھی لکھا ہے کہ پاکستان میں سیکولر، لبرل اور مارکسی اشرافیہ کی بھاری اکثریت بھی شیعہ مخالف کارروائیوں کے خلاف تکفیری نیٹ ورک کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کسی بہت بڑے نظریاتی ڈسکورس اور اس عمل کے خلاف کوئی بہت بڑی سول سوسائٹی تحریک کو جنم دینے میں ناکام رہی۔ مگر حقیقت میں یوں کہنا چاہیے  تھا کہ پاکستان میں یہ سارے گروپ عدم برداشت کی ثقافت کے خلاف ایک موثر آواز بننے میں ناکام رہے ہیں۔

میری جناب عامر حسینی سے کوئی بالمشافہ ملاقات نہیں ہے میں ان کو فیس بک کے حوالے سے ہی جانتا ہوں۔ کیونکہ مجھے پاکستان میں شناخت کے مختلف مسائل پر تحقیقی کا شوق ہے اور میں پاکستان کی سیاسی اور سماجی تحریکوں اور مذہبی اور مسلکی مسائل کے بارے میں کھوج لگانے کا شوق رکھتا ہوں اس لیے عامر حسینی میری توجہ کا باعث بنے، عامر حسینی نے ان باتوں کو تحقیق کا موضوع بنایا ہے جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، عامر حسینی سے میری کوئی دوستی نہیں اور شاید اپنے مارکسی نظریات کے تحت ان کے پیمانے کے مطابق میں کوئی ترقی پسند بھی نہ گردانا جاؤں مگر میں یہاں ان سے کوئی نظریاتی مکالمہ نہیں کرنا چارہا۔ یہاں پہلے میں ان کی محنت کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ اُنھوں نے شیعہ کے خلاف کارروائیوں ترتیب وار جائزہ لیا ہے انہوں نے اپنے دلائل سے یہ بتلانے کی کوشش کی ہے کہ ان سب کارروائیوں کو ہم فرقہ واریت کے زمرے میں ڈال کر معاملہ ختم نہیں کر سکتے۔ عامر حسینی نے شیعہ مخالف کارروائیوں کی مکمل تاریخ ، انٹرنیشنل رپورٹس سے لے کر مقامی اعدادو شمار تک سب بیان کی ہے ۔

میں یہاں عامر حسینی کی محنت کا اعتراف کرتے ہرئے پہلا اختلاف یہ کروں گا کہ اگرچہ پاکستان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اسے صرف شیعہ تک محدود کرنا  کچھ نا انصافی ہے۔
پاکستان میں جو گروہ شیعہ کے خلاف متحرک ہیں وہ فاشسٹ گروہ ہیں وہ کسی بھی مخالف فکر کے فرد کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ان کے زندہ رہنے کا حق تسلیم کرتے ہیں۔
ان گروہوں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں مختلف مذہبی اقلیتوں کو کونے سے لگانے اور دوسرے درجے کے شہری بنانے میں ان کی کوششیں کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ یہ لوگ مسیحی اور ہندو کیمونٹی کے خلاف مختلف شر انگیز کارروائیوں کے مرتکب رہے ہیں ،احمدیوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ دوسرے درجے کے شہری بن کر رہیں یا ملک چھوڑ جائیں۔ یہ لوگ بریلویوں کے خلاف کئی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور صوفی ازم کو یہ اسلام کا حصہ نہیں مانتے چنانچہ صوفی درگاہوں پر دھماکوں اور قتل کا ارتکاب کر چکے ہیں۔
اگر وہ ’میڈیا کے حوالے سے شیعہ افراد کے قتل کے بارے میں اس کے کردار پر تنقید کرنے کی بجائے یہ بتاتے کہ پاکستان میں عدم برداشت اور عدم رواداری کے خلاف میڈیا نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو اس کو کرنا چاہیے  تھا تو زیادہ بہتر ہوتا۔

شیعہ افراد کی شکایات درست ہیں، شیعہ افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے صرف فرقہ وارانہ رنگ دینا درست نہیں ہے۔ مگر یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ ریاست ان کے خلاف کارروائی میں فریق ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ریاست بعض اوقات اور بعض اہم مواقع پر بہت آگے جا کر شیعہ افراد کی حفاظت کے لیے انتظامات کرتی ہے اس لیے ریاست کا اصل جرم یہ نہیں کہ وہ شیعہ افراد کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں موثر طور پر کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اصل ناکامی یہ ہے کہ وہ ایسی پالیسی نہیں بنا سکتی جس سے پاکستان میں برداشت اور روداری کو فروغ مل سکتا۔

اثناء عشری شیعہ پاکستان کی آبادی کا کم و بیش بیس فی صد ہیں جو 22 ملین کے قریب بنتے ہیں۔ایران، عراق، اور بھارت کی طرح یہ اثناء عشری اہل تشیع کی سب سے بڑی آبادیوں میں سے ایک ہیں۔ دنیا میں جب اثناء عشری شیعہ مسلمانوں کا ذکر ہوتا ہے تو بیشتر لوگ ایرانی شیعوں اور ایرانی انقلاب بارے میں سوچتے اوربات کرتے ہیں حالانکہ پاکستان کی اثناء عشری شیعہ آبادی بھی تمام ترسیاسی اورسماجی حوالوں سے ایک متحرک کمیونٹی ہے اور پاکستان کی سیاست اورسماج میں ایک انتہائی اہم رول کی حامل ہے۔ یہ اتنے اہم کردار کی مالک ہے کہ کوشش کے باوجود اسے دوسرے درجے کی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کو پاکستان سے بھاگنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ پاکستان کے اکثریت مسلک میں نفرت، عدم برداشت اور عدم روداری کا رویہ ہے جسے فروغ دیا جا سکتا ہے مگر یہ رویہ اس کے ساتھ ساتھ غیر مسلم اقلیتوں کے لیے بھی جاری ہے اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں برداشت اور رواداری کی ثقافت کو ازسرنو استوار کیا جائے جو صوفیوں نے یہاں پھیلائی تھی لطف کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں میں اہل تشیع کا آغاز ایک صوفی مسلک کے طور پر ہوا تھا ۔

پاکستان میں جن افراد نے شیعہ فکر کو پھیلایا، پاکستان کے سنی مسلمان بھی ان بزرگوں کی عزت کرتے ہیں اور ان کو صوفیا کرام میں شمار کرتے۔۔اس سلسلے میں ملتان اور اچ شریف کے گردیزی اور نقوی پیروں اور جھنگ کے شاہ جیونہ کے نام لیے جا سکتے ہیں جہاں آج بھی شیعہ مسلمانوں سے زیادہ سُنی مسلمان حاضری دیتے ہیں۔پاکستان میں پختہ صوفی روایات کی وجہ سے شیعہ سنی تعلقات مثالی رہے ہیں۔

پاکستان کے موجودہ علاقوں میں شیعہ اور سنی دونوں صوفی لوگوں کی وجہ سے مسلمان ہوئے تھے برصغیر میں تکفیری اور شدت پسندی کے آغاز نے اس رواداری اور صلح کل کی روایت کو سخت نقصان پہنچایا۔

اہل بیت سے محبت تمام مسلمانوں کا مشترکہ شعار تھی سُنی بھی اپنے طور پر محرم میں نوحے پڑھتے تھے اور اہل بیت کی مطلومیت پر روتے ہوئے نظر آتے تھے۔
برصغیر میں عبدالوہاب نجدی کے پیروکاروں کا ظہور برداشت اور رواداری کی اس فضا کے خلاف ایک شروعات ثابت ہوا۔ جس کا ارتقا اہل حدیث اور دیو بند مکتبہ فکر کی صورت میں ہوا مگر اس کے ساتھ بریلوی مکتہ فکر کا ظہور بھی ایک الگ فرقے کے طور پر ہوا جس کا مقصد صوفیوں کی برداشت اور رواداری کا فروغ نہیں تھا بلکہ اپنے فرقے کا تحفظ اور دوسرے فرقوں کے بارے میں عدم برداشت کو فروغ دینا تھا۔
ان تمام کوششوں سے سُنی تضاد اور تناؤ کا ظہور ہوا۔ پہلے کچھ الگ الگ واقعات تاریخ میں موجود تھے جب شیعہ سُنی تناؤ کا پتہ چلتا ہو مگر ایسی عدم برداشت کی باقاعدہ روایت موجود نہیں تھی۔ ویسے تو مغل دور میں مجموعی طور پر شیعہ سنی دشمنی کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ بابر نے اپنے ولی عہد ہمایوں کے لیے وصیت کی تھی کہ: ۔
٭ تم مذہبی تعصب کو اپنے دل میں ہرگز جگہ نہ دو اور لوگوں کے مذہبی جذبات اور مذہبی رسوم کا خیال رکھتے ہوئے اور رعایت کے بغیر سب لوگوں کے ساتھ پورا انصاف کرنا۔
٭ شیعہ سنی اختلافات کو ہمیشہ نظر انداز کرتے رہو، کیونکہ ان سے اسلام کمزور ہوجائے گا۔

بابر سے لے کر شاہ جہاں تک مغلوں کا طرزِ حکومت کم و بیش اسی حکمت عملی کے محور پر رہا۔  جب اورنگ زیب نے اس  حکمت عملی سے روگردانی کی تو نتیجہ شورش اور ٹوٹ پھوٹ کی شکل میں نکلا۔ یہ حقیقت ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر نہ صرف غیر مسلم لوگوں کے بارے میں سخت گیر موقف رکھتا تھا بلکہ وہ شیعہ فرقے کے خلاف بھی سختی کا قائل تھا۔ اس تضاد کی وجہ سے رد عمل کے طور پر 1920کی دہائی میں آل انڈیا شیعہ کانفرنس قائم ہوئی اور شیعہ سنی تناو میں اس کا بھی ایک کردار ہے۔

پاکستان کے بعد ابھرنے والی شیعہ مذہبی قیادت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور خاص طور پر پنجاب میں شیعہ مذہبی قیادت علمی اور فکری طور پر کم زور رہی ہے اور اس کمی کو بالعموم لکھنو سے تعلق رکھنے والی شیعہ مذہبی قیادت پورا کیا کرتی تھی۔ پنجاب میں قیام پاکستان کے وقت صرف دو شیعہ دینی مدارس۔۔۔ سرگودھا اور ملتان میں قائم تھے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد بالعموم اورایرانی انقلاب کے نتیجے میں بالخصوص اس صورت حال میں کیفیتی تبدیلی آگئی اور 2004 میں شیعہ مسلک سے وابستہ لڑکوں کے 374 اورلڑکیوں کے84 دینی مدارس قائم ہوچکے تھے۔ ان مدارس میں لڑکوں کے218 اور لڑکیوں کے55 مدارس پنجاب میں تھے۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت میں اگر شیعہ رد عمل کا جائزہ لیا جائے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی شیعت پر ایرانی انقلاب کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔ ایرانی انقلاب کی بدولت پاکستان میں شیعت اسلام کی مقامی صوفیانہ اورثقافتی روایت کو بہت نقصان پہنچا اور وہ ’وہابیت کے رد عمل میں شدت پسندی‘ کی راہ پر گامز ن ہوئی۔ ایرانی انقلاب کے زیر اثرنہ صرف نئی شیعہ سیاسی قیادت ابھری بلکہ فکری اور نظری طورپر بھی صدیوں پر محیط شیعہ عقائد و روایات میں تبدیلی کے رنگ نمایاں ہوئے۔یہ ایرانی انقلاب کا ہی اثر تھا کہ قبل ازیں شیعہ ملک کی کم و بیش سبھی مین سٹریم سیاسی جماعتوں میں موجود تھے لیکن نئی قیادت نے انھیں ایک علیحدہ فرقہ ورانہ تنظیموں میں منظم و متحد کرنے کے کام کاآغاز کیا۔ اہل تشیع کی سیاسی تنظیم میں امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، عارف الحسینی اور مفتی جعفر حسین نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کے اہل تشیع کی نچلی سماجی پرتیں آج بھی صدیوں پرمحیط روادار، صوفیانہ اور ثقافتی شیعت پر قائم ہیں ایرانی انقلاب کے زیر اثر ابھرنے والی ’شیعہ ردعمل‘ اقتداری سیاست سے وابستہ درمیانے اوراپرمڈل کلاس اہل تشیع کا فکری اور نظریاتی اثاثہ بن چکا ہے۔

پاکستان میں جہادی اور تکفیری گروہوں کی طاقت میں اضافہ افغان جہاد کے ساتھ ہوا۔ تکفیری فتاوی کے بعد پنجاب اور سندھ میں متشدد مدارس نے مسلح ہونے کا عمل شروع کر دیا۔
پاکستان میں بننے والے یہ گروہ حقیقت میں شیعہ مخالف گروہوں کے طور پر نہیں ہوئی تھی یہ گروہ اصل میں امریکی پشت پناہی سے تشکیل پائے تھے جن کا مقصد روس کو شکست دے کر امریکہ کو دنیا کی واحد سپر پاور بنانا تھا کیونکہ اس تمام فنڈنگ میں سعودی عرب کی حکومت اور دنیا بھر میں عرب مذہبی لوگ شامل تھے اس لیے ان گروپوں کی ایک اہم پہچان تکفیری اور شدت پسند گروہوں کے طور پر ہوئی جو کسی دوسرے مذہب اور مسلک کو نہیں مانتے تھے۔ ان کے نزدیک دوسرے گروہوں کا اسلام کا تصور ہی سرے سے ٹھیک نہیں تھا۔ جبکہ غیر مسلم لوگوں کو دوسرے درجے کے شہریوں کی حیثیث سے زندگی گزارنا چاہیے۔ احمدیوں سے یہ نمٹ چکے تھے اس لئے ان کا دوسرا ٹارگٹ شیعہ تھے جس کے بعد بریلویوں کی باری تھی۔ یہ عدم برداشت اور عدم رواداری کی ثقافت کا آغاز تھا۔

مصنف کتاب:عامر حسینی

پاکستان میں یہ منظم پروسس 1980 سے سپاہ صحابہ پاکستان نے شروع کیا اور پھر یہ مائنڈ سیٹ پھیلتا ہی چلا گیا۔ میں مطالعے، مشاہدے، دستیاب شواہد و واقعات سے اس نتیجے  پہ پہنچا کہ یہ جو شیعہ کلنگ اور شیعہ کے خلاف منافرت انگیز مہم ہے یہ صرف پراکسی نہیں ہے۔ نہ ہی یہ محض کسی ریاست کی تزویراتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے بلکہ اس کی مضبوط جڑیں تکفیری فاشزم کے اندر پیوست ہیں جسے بہرحال سرد جنگ کے دوران جہاد افغانستان، ایرانی انقلاب کے دوران شیعی ولایت فقیہ کے سیاسی مذہبی تعبیر کی فتح مندی، مڈل ایسٹ میں مخلف عالمی و علاقائی قوتوں کی غلبے کی لڑائی، پاکستان میں عوامی حمایت سے محروم ضیاء الحق کی آمریت کا اپنے خلاف جمہوری سیاسی حقوق کی تحریک کو تقسیم اور بے اثر بنانے کے لیے ہمارے سماج میں پہلے سے موجود مذہبی و نسلی تضادات کو گہرا کرنے کا عمل اور مخصوص حالات واقعات میں افغانستان اور پھر کشمیر میں عسکریت پسندی کے لیے پیدل سپاہیوں سے لیکر نظریہ ساز ریڈیکل دیوبندی ۔سلفی حلقوں سے ایک مضبوط جہادی۔تکفیری نیٹ ورک کی تعمیر اور اسے پھلنے پھولنے دینے کا موقع  اور بعد ازاں معاشی کمزوریوں سے پیدا بحران سے بچنے کے لیے سعودی و قطری و دیگر مڈل ایسٹ کے پٹرو ڈالر کے حصول کے لیے ملک میں ریڈیکل دیوبندئزیشن کی راہ ہموار کرنا اور اس کے ردعمل میں دیگر فرقوں کے اندر سے پیدا ہونے والی ریڈیکل ازم کو سپیس دینے نے تکفیری فاشزم کو عفریت بننے کا موقع  فراہم کردیا اور یہ عفریت ریاستی اداروں کو بلیک میل کرنے تک کی پوزیشن کے حامل ہوگئے۔

ایسے میں پاکستان میں عملی طور پہ مجھے لگتا تھا کہ شیعہ نسل کشی کے خلاف ایک بڑے پیمانے پہ سول رائٹس نیٹ ورک تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو شیعہ نسل کشی کے خلاف ہمارے معاشرے میں عوامی مزاحمت کو سامنے لائے اور اس نیٹ ورک کا سب سے بڑا حصہ خود اس ملک کی سُنی عوام کے اندر سے لوگ بنے ۔ اور شیعہ ہیومن رائٹس ڈیفنڈر کی ایک بڑی چین پورے پاکستان کے اندر سامنے آئے جو شیعہ نسل کشی کو فرقہ وارانہ جنگ، مذھبی تنازعوں کی لڑائی یا اسے اسلام کے 14 سو سال کی تاریخ کے مذہبی نزاعات کا شاخسانہ بتانے یا اسے ایران۔سعودی فریم ورک میں بٹھا کر دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے سماج کو شیعہ نسل کشی پہ خاموش کردینے والے لوگوں کو بے نقاب کرے۔”

پاکستان میں یہ سوشل موومنٹ کے طور پہ ابھرنے کا پوٹینشل رکھ سکتی تھی۔
میں یہاں بڑے ادب سے عامر حسینی کے اس تجزیئے کو محدود اور ایک فرقہ پرستانہ رویہ سمجھتا ہوں اصل میں پاکستان میں ایک برداشت اور روداری پر مبنی معاشرے کی تعمیر کی ضرورت تھی جس میں لوگ کسی فرقے یا مذہب کی بجائے صرف پاکستانی ہونے کی بنا پر شرکت کرتے اور جو صرف شیعہ لوگوں کے تحفظ کی بات نہیں کرتی بلکہ یہ پاکستان میں رہنے والے تمام لوگوں کے مذہبی عقائد کے تحفظ کی بات کرتی۔
اس سلسلے میں شیعہ افراد کو یہ سمجھانے کی ضرورت تھی کہ یہ کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا ایک مسئلہ ہے جیسا کہ عامر حسینی نے بھی لکھا ہے کہ کئی ایک شیعہ گروپ ایران کے سیاسی مذہبی رجیم کو اپنا سب کچھ خیال کرتے تھے۔جیسا کہ انھوں نے کہا کہ ایک گروپ جو سول سوسائٹی کے نام پہ اپنے آپ کو سامنے لیکر آتا تھا وہ اپنے چھوٹے اور باقی ماندہ آبادی سے کٹے احتجاج اور مارچ میں مذھبی مناظرانہ ٹرمنالوجی استعمال کرتا اور سپاہ صحابہ سے باقاعدہ مذھبی مناظرے بھی کرتا تھا۔

یہی اصل کمزوری تھی انسانی حقوق تنظیموں میں کام کرنے کی وجہ سے مجھے ذاتی اندازہ ہے کہ یہ لوگ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں پر اس لیے شبہ کرتے ہیں کہ ایرانی حکومت انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو پسند نہیں کرتی بلکہ انھیں مغرب کا اور امریکہ کا ایجنٹ خیال کرتی ہے یہ لوگ اگر انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کے ساتھ اشتراک بھی کرتے ہیں تو یہ صرف وقتی اور عارضی ہوتا ہے اس کا مقصد کوئی مستقل بنیادوں پر انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنا نہیں ہوتا بلکہ ان میں سے بیشتر لوگ غیر مسلموں کے خلاف کارروائی کو درست خیال کرتے ہیں اور اس مسئلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں کا ساتھ دنے سے صاف انکار کر دیتے ہیں۔

اس اختلاف کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ  عامر حسینی کی کتاب بہت معلوماتی اور زبردست ہے، اس کا مطالعہ آپ کو بہت سے حقائق سے آگاہی دیتا ہے!

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
برداشت اور محبت میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *