یہ دیو قامت بونے کون بناتا ہے ۔۔؟سید عارف مصطفیٰ

SHOPPING
SHOPPING

جج ارشد ملک کا معاملہ کیا رُخ اختیار کرے گا اس سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ آخر یہ قحط الرجال کب رکے گا اور کہاں جاکے تھمے گا ، آج کا اور لمحہء موجود کا بڑا اہم سوال یہ ہے کہ اس جیسے ایسے سطحی اور گھٹیا لوگ اتنے بڑے منصب پہ کیسے بیٹھ جاتے ہیں ۔۔۔ آخر کیوں ان جیسے ارذل و اسفل دیوقامت بونوں کا ایک بڑا قافلہ ہماری 71 سالہ  وطنی تاریخ کے ہر باب میں رواں دواں نظر آتا ہے ، کیونکہ اس تمام عرصے میں کوئی شعبہ ان سے خالی نہیں رہا ، با اعتبار اہمیت ، بیوروکریسی کے علاوہ جن دو شعبوں میں ان دو نمبریوں کے ہاتھوں ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ،ان میں فوج اور عدلیہ کے ادارے سب سے نمایاں رہے جنرل اکبر سے لے کر جنرل ایوب خان اور جنرل ٹکا خان و جنرل نیازی سے لے کر جنرل یحییٰ و جنرل مشرف تک فوج کے نام پہ ان چند اوباش بزدل اور عیاش جنرلوں نے اس ملک کے وسائل کو اپنے باپ کا مال سمجھ کر اسکے اختیار و انتظام کو بغل کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بنائے رکھا اورادھر عدل کے ایوانوں میں جسٹس منیر ، انوار الحق ، نسیم حسن شاہ ، ارشاد حسن خان ۔ ایس اے نصرت ۔ عبدالحمید ڈوگر جیسے نابکاروں نے انصاف کے نام پہ آئین و قانون کے ساتھ کھلی بدکاریاں و فاش سیاہ کاریاں کیں۔

SHOPPING

سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب دیو قامت افراد ایک ہی بار میں لغزش کا شکار ہوکے اچانک بونے بن گئے تھے اور اچانک ہی ان سب کی مت ماری گئی تھی ۔۔۔؟ میرا خیال بلکہ یقین ہے کہ ایسا ہرگز نہیں قطعی نہیں ہے ۔۔۔ درحقیقت یہ سب لوگ میدان عمل میں آنے کے ساتھ ہی اپنے گھٹیا پن کے ساتھ پہچانے جانے لگے تھے اور اسے چھپائے رکھنے سے بھی طبعی طور پہ معذور تھے کیونکہ کوئی بھی ایسا آدمی ایک ہی روز میں گھٹیا پن کا اتنا بڑا سفر طے نہیں کرتا ۔۔۔ اور انسان کا کردار اسکی شہرت بننے میں دیر نہیں لگاتا اور یہ خوشبو یا بدبو بہت جلد ہی بلکہ آغاز سفر ہی میں اسکا تعارف بن جایا کرتی ہے ۔۔۔ تو کیا انکے حسن ِانتخاب کے ذمہ داران بھی کسی درجے میں ارذل اور گھٹیا پن کی انہی خصلتوں کے حامل نہیں ہوتے ۔۔۔ اور کیا ا بھی وقت نہیں کہ انکی شناخت نہیں کی جانی چاہیے ۔۔۔ اور کیا انہوں نے جس طرح کے معیار انتخاب سے ابتک بونوں کو دیو بنانے میں کامیابی برقرار رکھی ہوئی ہے تو کیا اب اس معیار انتخاب اور سلسلہ انتظام کو اٹھا کر پھینک دینے کا وقت نہیں آگیا ہے ۔۔؟؟؟

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *