بدبو دار نظام اور ہم عوام۔۔۔عزیز خان

پچھلے کُچھ دنوں سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے حوالے سے جو باتیں سُننے کو مل رہی ہیں ،سن کر  انصاف سے اعتبار ہی اُٹھ گیا ہے ،مُنہ کھُلے کے کھُلے رہ گئے کہ جج بھی ایسا کر سکتے ہیں ؟

مُلتان کے رہائشی ہونے کے ناطے  میں میاں طارق کو اچھی طرح جانتا ہوں ،پر تھوڑے سے مزے کے لیے ایک جج بھی ایسا کر سکتا ہے ؟

جن ججز کے فیصلوں کو ہم چوم کے آنکھوں سے لگاتے ہیں، زندگی اور موت کے فیصلے یہ کرتے ہیں اور بعد میں معلوم ہو کہ جج صاحب ایک ویڈیو سے بلیک میل ہو گئے تھے ،تو کہاں جائیں گے سائل اور عوام؟۔۔۔

مُلتان میں ایک ملزم نے عدالت میں جج کو جوتا دے مارا کُچھ دن پہلے ایک وکیل نے ایک جج کو کُرسی دے ماری پھر راولپنڈی میں ایک جج نے وکیل کو پیپر ویٹ دے مارا۔۔یہ ایک تلخ حقیقت ہےمگر یہ خبریں پڑھ کہ مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی، یہ تو ہونا تھا اورآگے بھی ہوگا ۔

میرے ساتھ بھی پولیس سروس میں ایسا واقعہ ہو چکا ہے۔ ایک سیشن جج صاحب کے غلط فیصلے کے  جو بعد میں عدالت عالیہ نے set aside کر دیا تھا اس لیے  مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہے۔عدالت کے سامنے بولنا یا توہین کرنا غلط ہے، مگر سب کے لیے قانون ایک جیسا ہونا چاہیے، عدالت میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی نعرہ بازی یا وکلاء  کی نعرہ بازی پر آج تک توہین عدالت کا قانون حرکت میں آتا نہ دیکھا گیا جبکہ کسی بھی سرکاری ملازم یا عام آدمی کو رگڑ دیا جاتا ہے۔

اکثر دوستوں کو لوئر کورٹس میں پیش ہونے کا اتفاق ہوا ہو گا۔ آپ کو عدالت میں اکثر جج صاحبان ڈرے سہمے نظر آئیں گے ۔۔پتہ نہیں اس کی کیا وجہ ہے!مجھے اکثر جج صاحبان میں قوتِ  فیصلہ  کا فقدان نظر آیا ،خصوصاً ضمانت کے کیسز میں جج صاحبان   99فیصد ضمانتیں خارج کر دیتے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے ؟جج صاحبان کو خود پہ اعتماد نہیں یا ان کے سینئرز کو ان پر اعتماد نہیں اور وہ ڈرتے ہیں کہ اُن پر کرپشن کا الزام نہ لگ جائے کیونکہ کسی بھی جج کے خلاف دی گی درخواست پر عدالت عالیہ کا ایکشن شدید ہوتا ہے، چاہے وہ درخواست جھوٹی پہ  کیوں نہ ہو۔

تمام کیسز میں ایک پیرا میٹر بنا دیا گیا ہے کہ ایسا ہو گا تو ضمانت ہو گی، ایسا نہیں ہو گا تو ضمانت نہیں ہو گی اور ایسے کیسز جن میں ضمانت ہونے والی ہوتی ہے، نہیں ہوتی۔۔۔ تو پھر وکلاء اور عدالت میں تلخی ہوتی ہے۔۔اسی طرح وکلا کی غیر ضروری ہڑتال ،جج صاحبان کی غیر ضروری پیشیاں ،ملزمان میں اضطراب پیدا کرتی ہیں اور ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ عہدے  کی عزت تھی ،جرائم پیشہ افراد پولیس اور عدالتوں سے ڈرتے تھے اور عزت کرتے تھے مگر یہ ڈر اور خوف سیاستدانوں اور حکمرانوں نے ختم کر دیا ،عدلیہ کے کُچھ ججز کو زیربار کیا اور پھر پولیس تو ان کے  دَر کی لونڈی تھی ،ہے اور رہے گی۔۔۔۔
میں نے اپنی سروس کے دوران ہمیشہ عدلیہ کے سامنے صرف پولیس کو ملزمان اور عوام کے سامنے بےعزت اور ذلیل ہوتے دیکھا اور یہی وجہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد میں پولیس کا ڈر  ختم ہو گیا ہے۔

کُچھ پولیس کے اعلی افسران ،ججز اور حکمران لوگوں کے سامنے پولیس ملازمین کی تذلیل کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے اُن کی شہرت ہو رہی ہے اور لوگوں میں ڈر اور خوف پیدا  ہوتا ہے جس سے شاید وہ اپنی نا اہلی اور کرپشن چھپا سکتے ہیں۔
مگر ایسا نہیں ہے ، اس سے اُنہیں فوری خوشی تو مل جاتی ہے مگر آئندہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ہمارا عدالتی نظام ایسا ہے جو انگریز کا بنایا ہوا ہے ppc crpc جو کہ اٹھارویں صدی کا ہے آج بھی لاگو ہے۔ہمارے MPA اور MNA سوائے ایک دوسرے کی کردار کشی کے کوئی قانون سازی نہیں کر رہے، صرف تُو چور ،تُو چور کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔۔

لوئر کورٹس کے جج صاحبان کیسز میں صرف تاریخیں دیتے ہیں یا اپر کورٹس کوبھجوا دیتے ہیں اور اُن کا کوئی کام نہیں ہے۔اسی وجہ سے کام کا سارا بوجھ اپرکورٹس اور ہائیکورٹس پر پڑتا ہے اور عوام انصاف کی خاطر دربدر ہوتے ہیں۔۔۔

پچھلے دنوں چیف جسٹس صاحب بہاولپور تشریف لائے دو دن کسی عدالت میں کوئی کام نہیں ہوا۔۔اور تمام کیسز میں  آئندہ تاریخیں دی گئیں ۔ اور پتہ نہیں کتنے لوگ پریشان ہوئے۔اور یہ انصاف کتنا مہنگا ہے اس کا پتہ نواز شریف صاحب کو بھی اب چلا ہے، جب وہ حکومت میں نہیں رہے، کاش جب وہ حکومت میں تھے اُن کو پتہ چلتا مگر اُس وقت تو یہ فرعون ہوتے ہیں۔

ایسے ملزمان جو کسی جرم میں سزا  وار ہوتے ہیں، خاص طور پر قتل کے مقدمات جن میں موت کی سزا ہو جاتی ہے۔۔اور پھر وہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ سے بری ہو جاتے ہیں تو وہ اور اُن کی فیملی کس سے اپنے اُن گزرے دنوں کا حساب مانگے ؟؟
پولیس سے جس نے چالان کیا یا اُس عدالت سے جس نے غلط سزا دی؟۔۔۔ مگر ایسا کوئی قانون نہیں اگر کوئی ایسا قانون ہو تو پولیس والے بھی ڈریں اور جج صاحبان بھی سوچنے پر مجبور ہوں۔

ہم بطور قوم بےحس ہو چکے ہیں اخلاقی اقدار ختم ہو چکی  ہیں۔ رمضان میں جہاں پوری دنیا میں کھانے پینے کی اشیا سستی ہو جاتی ہیں، ہمارے پیارے پاکستان کے پیارے باسی ہر چیز کو مہنگا کرنا اور ناجائز منافع لینا عین عبادت سمجھتے ہیں۔

ماتھے پہ مہراب ،ہاتھ میں تسبیح  ۔۔انہیں معلوم ہے کہ لولہ لنگڑا قانون اور انصاف اُن کا کُچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ لوگوں کو لوٹتے ہیں ان سے بہتر تو وہ غیر مُسلم ہیں جو رمضان میں کھانے پینے کی تمام اشیاء  سستی کر دیتے ہیں۔

جس مُلک کے حکمران عوام کو قانون نہ دے سکیں عدالت انصاف نہ سکے پولیس فرینڈلی نہ ہو، ہر ادارے میں رشوت کا بازار گرم ہو،   چوربازاری  عام ہو اور جھوٹ بیچا جائے تو وہاں کی بےبس عوام کیا کرے؟ کہاں جائے؟
سابقہ چیف جیسٹس افتخار  چوہدری کی بحالی انصاف تحریک کے دوران اعتزاز احسن ایڈوکیٹ ایک شعر پڑھا کرتے تھے

“”ریاست ہو گی ماں کے جیسی””

پر مجھے تو لگتا ہے ہماری ماں سوتیلی ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *