انصاف کی پکار۔۔۔۔ سید ممتاز علی بخاری

فہیم اللہ جتوئی صاحب علاقے کے کرتا دھرتا تھے۔ ان کی مرضی کے سوا کوئی ان کے علاقے میں قدم نہیں رکھ سکتا تھا۔ لوگ اپنے بچوں کی شادیاں ان سے اجازت لے کر طے کرتے تھے، آپس کے جھگڑے ہوں یا کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ۔۔۔سب کا حل جتوئی صاحب کی حویلی سے ہوتا تھا۔پارلیمانی سیاست پاکستان میں اپنا رنگ دکھانے لگی تو جتوئی صاحب نے سیاست میں قدم رکھا ۔ حسب روایت اس میدان میں بھی کسی نے ان کے خلاف کھڑے ہونے کی کوشش نہیں کی۔ یوں وہ بنا کسی زحمت اور تردد کے ممبر اسمبلی بن گئے۔ ان کے قدم یہی پر نہیں رُکے۔ انہوں نے ملک کے چوٹی کے سیاستدانوں سے راہ و رسم بڑھانے شروع کر دیے۔ بات دوستیوں اور رشتہ داریوں تک جا پہنچی تو صِلے میں انہیں وزارت بھی مل گئی اور پھر وہ ایک طاقت ور سیاست دان بن گئے جن کے خلاف اٹھنے والی کوئی آواز نہ تھی۔ جو کوئی کبھی ہمت دکھانے کی کوشش کرتا اس کو خاموش کروا دیا جاتا ۔

جتوئی صاحب کا بڑابیٹارحیم جتوئی جو ملک کے وزیر اعظم کا داماد بھی تھا صوبائی اسمبلی کا ممبر اورصوبائی وزیر تھا۔ اس سے چھوٹا بیٹاارسل جتوئی خاندانی کاروبار کو سنبھالتا تھا۔ تیسرا بیٹا وقاص جتوئی ابھی بیس برس کا تھا۔ دولت، طاقت ، شہرت کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ گھر والوں کے لاڈ اور خاندانی روایات نے اس سے انسانیت تقریباً مکمل ہی چھین لی تھی۔ بات بات پر اپنے مزارعوں کو بے عزت کرنا، اپنے ملازموں کو گالیاں دینا ، ان سے برا سلوک کرنا اس کی عادت تھی۔ ایک دن کسی معاملے پر اس کی اپنے بھائی رحیم جتوئی سے بول چال ہو گئی غصے میں وہ اول فول بکتا گھر سے نکل گیا۔ گیراج سے گاڑی نکالی اور شہر کی طرف چل پڑا۔ غصے اور دکھ کی کیفیت میں وہ اپنے حواس میں نہیں تھا۔ تیز رفتار ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس کی گاڑی اس کے کنٹرول سے نکل گئی اور اس نے فٹ پاتھ پر چڑھا دی۔ فٹ پاتھ پر اشرف نامی یک آدمی گزر رہا تھا اور وہ گاڑی کے نیچے کچل کر مر گیا۔ لوگوں نے گاڑی کو گھیر لیا۔ ایک شور مچ گیا۔ ایک دم پولیس آگئی اور یوں وقاص کو بھاگنے کا موقع نہ مل سکا۔ بپھری عوام میں اس نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرنے میں ہی غنیمت جانی۔

عدالت میں کیس شروع ہو گیا۔جتوئی خاندان کی طرف سے مقتول کے لواحقین کو خریدنے، دھمکانے کی بہت کوششیں کیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ غریب تھے لیکن خوددار اور غیرت مند تھے۔ عدل و انصاف پر مکمل بھروسہ رکھتے تھے۔اس طرف سے ناکامی ]پر جتوئی صاحب نے کیس کے بہت سے گواہ خرید لیے گئے ۔بہت سوں کو ،جو بکنے کو تیار نہ تھے دوسرے طریقوں سے راستے سے ہٹایا گیا۔ جب کام پھر بھی نہ بن پڑا تو جج ہی کو خرید لیا گیا۔ نتیجہ وہی ہوا جو ہمارے معاشرے میں ایسے معاملات میں ہوتا ہے۔ ملزم وقاص کو باعزت بری کر دیا گیا۔
بری ہونے کے بعد جب وقاص اور اس کا بڑا بھا ئی رحیم ایک لینڈکروزر میں سفر کر رہے تھے۔ دوسری کار میں اس کی ماں، ارسل اور اس کے باپ فہیم جتوئی صاحب سفر کر رہے تھے۔
ہائی وے سے گزرتے ہوئے جتوئی صاحب کو یاد آیا کہ فارم ہاؤس کی زمینوں کے معاملات کافی عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔ انہوں نے وقاص اور رحیم سے گھر جانے کا کہا اور خود زمینوں کی طرف چلے گئے انہیں کچھ حساب کرنا تھا جو کافی وقت سے تاخیر کا شکار تھا۔ فارم ہاؤس پہنچ کر انہوں نے ٹی وی لگایا  ۔ نیوز کاسٹر جو بریکنگ نیوز دے رہا تھا اس نے تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی کھینچ لی۔

ہائی وے پر ایک کنٹینر کی بریکیں فیل ہو جانے کی وجہ سے لینڈ کروزر کےساتھ تصادم۔۔۔!! لینڈکروزر میں موجود دونوں سوارموقع پر دم توڑ گئے۔ کنٹینر کا ڈرائیور بھی بچ نہ سکا۔ کہا جاتا ہے کہ لینڈ کروزر میں فہیم اللہ جتوئی صاحب کے دو صاحبزادے سوار تھے جن میں صوبائی وزیر رحیم جتوئی کے علاوہ وقاص جتوئی بھی شامل ہیں ، جو ایک قتل کے کیس سے آج ہی بری ہوئے تھے۔وقاص جتوئی کی موت کی خبر ٹی وی پر سُن کراشرف کی ماں نے آنسو بھری آنکھوں سے نیلے آسمان کو دیکھا اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

ممتاز علی بخاری
ممتاز علی بخاری
موصوف جامعہ کشمیر سے ارضیات میں ایم فل کر چکے ہیں۔ ادب سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عرصہ دس سال سےطنز و مزاح، افسانہ نگاری اور کالم نگاری کرتےہیں۔ طنز و مزاح پر مشتمل کتاب خیالی پلاؤ جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی سازش کو بے نقاب کرتی ایک تحقیقاتی کتاب" عصمت رسول پر حملے" شائع ہو چکی ہے۔ بچوں کے ادب سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ مختلف اوقات میں بچوں کے دو مجلے سحر اور چراغ بھی ان کے زیر ادارت شائع ہوئےہیں۔ آج کل ایک آن لائن میگزین رنگ برنگ کےچیف ایڈیٹر ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *